مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

احتلام کے بعد پڑھی گئی نمازوں کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

ایک آدمی کو رات کو احتلام ہو جاتا ہے اور اُسے معلوم نہیں ہوتا ، وہ اُٹھتا ہے، وضو کرتا ہے ، نمازِ تہجد ادا کرتا ہے ۔ فرض نماز کے لیے مسجد میں چلا جاتا ہے ۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے ۔ نمازِ اشراق ادا کرتا ہے پھر اس کے بعد گھنٹہ دو گھنٹے بعد وہ اپنے کپڑوں پر نشان دیکھتا ہے تو اسے علم ہوتا ہے کہ اسے احتلام ہو گیا ۔ کیا اب وہ پھر نمازِ تہجد اور فرض نماز اور اشراق کی نماز ادا کرے یا نہیں؟

الجواب

دو قول ہیں بہتر ہے کہ وہ یہ نمازیں پھر سے ادا کر لے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔