مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اجماع کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اجماع کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اجماع حجت ہے، قرآن اور حدیث کے بعد یہ شریعت کا تیسرا ماخذ ہے۔ جس حکم پر اہل سنت والجماعت کے اہل علم و فقہا اتفاق کر لیں، وہ شرعی حکم بن جاتا ہے، امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجماع معصوم ہے، اس میں خطا کا امکان نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی دور کے اہل حق علما ایک گمراہی پر متفق ہو جائیں۔ یقینی اجماع کے منکر کا بھی وہی حکم ہے، جو کتاب و سنت کی نص کے منکر کا حکم ہے۔
❀ علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ (620ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف بيننا أن الإجماع حجة قاطعة فإذا اجتمعت الصحابة رضي الله عنهم على أمر ثم اتبعهم عليه أئمة التابعين واقتدى بهم من بعدهم من الأئمة فى كل عصر على التمسك به وحذروا أصحابهم من مخالفته فكيف يقال لمتبع ذلك أحمق مغتر إنما الأحمق المعتر المخطئ المبتدع هو المخالف لذلك الراغب عنه
ہمارے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اجماع امت قطعی دلیل ہے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی حکم پر جمع ہو جائیں، پھر ائمہ تابعین اس حکم پر صحابہ کی اقتدا کریں، پھر ان کے بعد والے ہر علاقے اور زمانے کے ائمہ ان کی اقتدا کریں، ایک دوسرے کو اس حکم کو اختیار کرنے پر ابھاریں اور اپنے اصحاب کو اس کی مخالفت سے ڈرائیں، تو اس حکم کا اتباع کرنے والے کو احمق اور گمراہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ بلکہ حقیقت میں احمق، گمراہ، خطا کار اور بدعتی وہ ہے، جو اس اجماع کی مخالفت کرنے والا ہے اور اس سے پہلو تہی کر رہا ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
(سورة النساء: 115)
جس کے لیے ہدایت واضح ہو جائے اور وہ اس کے باوجود رسول کی مخالفت کرے اور سبیل مومنین سے ہٹ جائے، تو ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے جہنم رسید کر دیں گے، وہ برا ٹھکانہ ہے۔
(تحريم النظر في كتب الكلام، ص 47)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔