سوال :
اجماع امت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب :
صحابہ کرام یا بعد والے علمائے حق جس حکم شرعی پر متفق ہو جائیں، وہ حق ہے، اس پر عمل کرنا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امت کو اس سے محفوظ فرمالیا ہے کہ وہ ساری کی ساری گمراہی پر جمع ہو جائے۔
اجماع امت حجت ہے، جس حکم پر اہل سنت والجماعت کے اہل علم وفقہا اتفاق کر لیں ، وہ شرعی حکم بن جاتا ہے، امت محمد یہ کا اجماع معصوم ہے، اس میں خطا کا امکان نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ کسی دور کے اہل حق علما ایک گمراہی پر متفق ہو جائیں۔ یقینی اجماع کے منکر کا بھی وہی حکم ہے، جو کتاب وسنت کی نص کے منکر کا حکم ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾
(النساء : 114)
”جس کے لئے ہدایت واضح ہو جائے اور وہ اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور سبیل مومنین سے ہٹ جائے ، تو ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے جہنم رسید کر دیں گے، وہ برا ٹھکانہ ہے۔“
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ( 728 ھ) فرماتے ہیں:
هذه الآية تدل على أن إجماع المؤمنين حجة من جهة أن مخالفتهم مستلزمة لمخالفة الرسول وأن كل ما أجمعوا عليه فلا بد أن يكون فيه نض عن الرسول؛ فكل مسألة يقطع فيها بالإجماع وبانتفاء المنازع من المؤمنين؛ فإنها مما بين الله فيه الهدى، ومخالف مثل هذا الإجماع يكفر كما يكفر مخالف النص البين .
”یہ آیت دلیل ہے کہ مؤمنوں کا اجماع حجت ہے، کیونکہ ان کی مخالفت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت لازم آتی ہے، ( نیز یہ آیت دلیل ہے کہ ) جس مسئلہ پر بھی مؤمنوں کا اجماع ہو ، اس میں لامحالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی نص موجود ہوگی، لہذا ہر وہ مسئلہ جس پر قطعی طور پر اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے اور مؤمنوں کے اختلاف کی نفی کی گئی ہے، تو وہ ان امور میں سے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو واضح کر دیا ہے، ایسے اجماع کا منکر اسی طرح کافر ہے، جیسے واضح ( قرآنی یا حدیثی ) نص کا منکر کافر ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 39/7)
❀ نیز فرماتے ہیں:
قال العلماء : من لم يكن متبعا سبيلهم كان متبعا غير سبيلهم فاستدلوا بذلك على أن اتباع سبيلهم واجب فليس لأحد أن يخرج عما أجمعوا عليه.
”اہل علم کہتے ہیں : جس نے مؤمنوں کے راستے کا اتباع نہیں کیا ، وہ مؤمنوں کے علاوہ کے راستے کا اتباع کرنے والا ٹھہرے گا، اسی آیت سے اہل علم نے استدلال کیا ہے کہ مؤمنوں کے راستے کا اتباع کرنا واجب ہے، کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ مؤمنوں کے اجماع واتفاق سے کنارہ کشی اختیار کرے۔“
(مجموع الفتاوى : 173/7)
❀ نیز فرماتے ہیں:
أما إذا أجمعوا على الشيء فلا يرتاب فى كونه حجة .
”تابعین اگر کسی مسئلہ پر اجماع کر لیں ، تو اس کے حجت ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔“
(مجموع الفتاوى : 370/13)
❀ نیز فرماتے ہیں:
الإجماع هو الأصل الثالث الذى يعتمد عليه فى العلم والدين .
”اجماع وہ تیسری اصل ہے، جس پر علمی اور دینی امور میں اعتماد کیا جاتا ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 157/3)
❀ نیز فرماتے ہیں:
إجماعهم معصوم من الخطأ كما أن إجماع الفقهاء على الأحكام معصوم من الخطأ ولو أجمع الفقهاء على حكم كان إجماعهم حجة وإن كان مستند أحدهم خبر واحد أو قياسا أو عموما فكذلك أهل العلم بالحديث إذا أجمعوا على صحة خبر أفاد العلم وإن كان الواحد منهم يجوز عليه الخطأ؛ لكن إجماعهم معصوم عن الخطأ.
”محمد ثین کا اجماع معصوم عن الخطا ہے، جیسے فقہا کا احکام پر اجماع کرنا معصوم عن الخطا ہے، اگر فقہا کسی حکم پر جمع ہو جائیں ، تو ان کا اجماع حجت ہے، چاہے ان کے اجماع کے بنیاد خبر واحد پر ہو یا قیاس پر ہو یا ( کسی نص کے ) عموم پر ہو ۔ بالکل اسی طرح محد ثین جب کسی حدیث کو صحیح قرار دینے پر اجماع کرلیں، تو وہ علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے، اگر چہ کسی محدث سے خطا بھی ہوسکتی ہے،مگران کا اجماع معصوم عن الخطا ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 49/18)