اجتماعی موت، رد، ذوی الارحام اور مطلقہ کی میراث احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، وراثت کے مسائل:جلد 02: صفحہ 233
مضمون کے اہم نکات

اجتماعی موت پر میراث کے احکام

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اجتماعی موت کے واقعات عموماً پیش آتے رہتے ہیں۔ جب دو یا دو سے زیادہ ایسے افراد، جو ایک دوسرے سے میراث لینے والے ہوں، ایک ہی وقت میں فوت ہو جائیں اور یہ معلوم نہ ہو سکے کہ پہلے کون مرا اور بعد میں کون، کہ کون وارث بنا اور کون موروث، مثلاً: دیوار کے نیچے دب گئے، پانی میں ڈوب گئے، آگ میں جل گئے، طاعون وغیرہ کی لپیٹ میں آگئے، معرکۂ جنگ میں مارے گئے، یا کار، بس، ہوائی جہاز، ریل گاڑی وغیرہ کے حادثے میں ہلاک ہو گئے، تو اجتماعی موت کے اس واقعے کی پانچ ممکنہ حالتیں ہیں۔

اجتماعی موت کی پانچ حالتیں

✔ ① متعدد افراد فوت ہو گئے، لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ پہلے کون مرا اور بعد میں کون۔ اس صورت میں فوت شدگان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے، بلکہ ہر ایک کا ترکہ اس کے زندہ ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا، کیونکہ کسی کو وارث بنانے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنے مورث کی وفات کے وقت زندہ ہو، جبکہ یہاں یہ شرط مفقود ہے۔

✔ ② اگر یہ معلوم ہو جائے کہ ایک شخص دوسرے سے پہلے فوت ہوا تھا، اور اس بارے میں کوئی بھول یا شک و شبہ نہ ہو، تو بعد میں فوت ہونے والا شخص پہلے فوت ہونے والے کا بالاجماع وارث ہوگا، کیونکہ مورث کی موت کے بعد وارث کا زندہ ہونا ضروری ہے، اور یہ شرط یہاں ثابت ہے۔

✔ ③ بعض افراد کی موت بعض سے بعد میں واقع ہوئی، لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کس کی موت پہلے ہوئی اور کس کی بعد میں۔

✔ ④ یہ تو معلوم تھا کہ فلاں پہلے فوت ہوا اور فلاں بعد میں، لیکن یہ ترتیب یاد نہ رہی۔

✔ ⑤ موت کے واقعے کا بروقت علم نہ ہو سکا، چنانچہ معلوم نہ ہو سکا کہ سب بیک وقت فوت ہوئے یا یکے بعد دیگرے۔

آخری تین حالتوں میں احتمال کی گنجائش ہے، اور ان میں نظر و فکر کے ساتھ اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس بارے میں علمائے کرام کے دو قول ہیں۔

علمائے کرام کے دو اقوال

❀ ① ان مذکورہ آخری تینوں صورتوں میں مرنے والے باہم ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔ یہ قول صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت سے منقول ہے، جن میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ شامل ہیں۔ ائمہ ثلاثہ، یعنی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ اور یہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے بھی مطابق ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وراثت پانے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مورث کی وفات کے بعد وارث زندہ ہو، اور یہ شرط یہاں یقینی طور پر ثابت نہیں، بلکہ مشکوک ہے، جبکہ شک کی بنیاد پر حقِ وراثت ثابت نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ جنگِ یمامہ، جنگِ صفین اور جنگِ حرہ کے مقتولوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا گیا تھا۔

❀ ② ہر ایک دوسرے کا وارث ہوگا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے قائل ہیں۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ظاہر مذہب بھی یہی ہے۔

اس قول کی بنیاد یہ ہے کہ ہر ایک کا زندہ ہونا یقین سے ثابت ہے، اور یہی اصل ہے۔ پس اصل یہ قرار دی جائے گی کہ وہ دوسرے کی موت کے بعد تک زندہ تھا۔ نیز سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں شام میں طاعون کی وبا پھیل گئی تو لوگ یکے بعد دیگرے مرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ایک دوسرے کا وارث بنایا جائے۔

ان کی توریث کے لیے یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ ورثاء اس قسم کی مشتبہ اموات میں اختلاف نہ کریں، یعنی ہر ایک یہ دعویٰ نہ کرے کہ ہمارا مورث بعد میں مرا ہے، جبکہ ان میں سے کوئی بھی اپنی بات پر دلیل نہ دے سکے۔ اگر اختلاف ہو جائے تو ورثاء قسمیں اٹھائیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔

اس قول کے مطابق تقسیمِ وراثت اس طرح ہوگی کہ ہر میت کا وہی مال تقسیم ہوگا جو اس کا ذاتی قدیم مال تھا، نہ کہ وہ مال جو اسے اس شخص کے ترکہ سے ملا ہو جو اس کے ساتھ فوت ہوا تھا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس اجتماعی موت میں ہر ایک کے بارے میں پہلے یہ فرض کیا جائے گا کہ وہ پہلے فوت ہوا تھا، لہٰذا اس کا ذاتی ترکہ، یعنی مالِ قدیم، اس کے زندہ ورثاء میں اور ان لوگوں میں تقسیم ہوگا جو اس کے ساتھ فوت ہوئے تھے۔ البتہ وہ مال جو اسے اپنے ساتھ فوت ہونے والوں کی طرف سے ملا ہو، وہ صرف زندہ ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا، تاکہ کوئی شخص اپنے ہی مال کا خود وارث نہ بن جائے۔ پھر یہی عمل دوبارہ کیا جائے گا، اس طرح کہ کسی شخص کو یہ فرض کیا جائے گا گویا وہ بعد میں فوت ہوا، اور اسے دوسری میت کے ترکہ سے بحیثیت وارث اسی طرح حصہ دیا جائے گا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔

راجح قول

اس مسئلے میں راجح قول پہلا ہی ہے، یعنی بیک وقت فوت ہونے والے یا ایسے زیادہ افراد جن کی تقدیم و تاخیر معلوم نہ ہو، وہ باہم ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے، کیونکہ احتمال اور شک کی بنیاد پر حقِ وراثت ثابت نہیں ہوتا۔ جبکہ اس واقعے میں کسی کی موت کو مقدم اور کسی کی موت کو مؤخر قرار دینا صرف لاعلمی کی بنیاد پر ہے، اور یہ بنیاد معتبر نہیں۔

نیز کسی زندہ شخص کو میراث اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ مورث کے بعد اس مال سے فائدہ اٹھائے، جبکہ یہاں یہ چیز مفقود ہے۔ اس کے علاوہ انہیں باہم وارث قرار دینے میں تناقض بھی لازم آتا ہے، اور وہ اس طرح کہ کسی کو وارث قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ وفات میں متاخر ہے، اور پھر اس کے ترکے کا کسی دوسری میت کو وارث قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ وفات میں مقدم ہے۔ ایک ہی شخص کو موت میں بیک وقت مقدم اور مؤخر قرار دینا تناقض ہے۔

الغرض راجح قول کے مطابق مالِ ترکہ صرف ان ورثاء کو ملے گا جو زندہ ہوں گے، اور جو اس کے ساتھ ہی فوت ہو چکے ہیں، انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ اس عمل کی بنیاد یقین پر ہے، نہ کہ شک و شبہ پر۔ واللہ اعلم۔

رد کا بیان

"رد” کے لغوی معنی پھیرنے اور لوٹانے کے ہیں۔ دینِ حق سے پھر جانے کو بھی "ارتداد” اسی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ جبکہ اصطلاحِ میراث میں "رد” سے مراد یہ ہے کہ اصحاب الفرائض کے حصص ادا کر دینے کے بعد جو سہام باقی بچ جائیں، اور کوئی عصبہ وارث موجود نہ ہو، تو ان باقی حصوں کو دوبارہ اصحاب الفرائض نسبیہ پر ان کے حصوں کے تناسب سے لوٹا دیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے بعض ورثاء کے حصے مقرر فرما دیے ہیں، جیسے نصف، چوتھائی، آٹھواں، دو تہائی اور چھٹا۔

اس کے علاوہ عصبات، خواہ مرد ہوں یا عورتیں، ان کے لیے بھی طریقۂ تقسیم بیان کر دیا گیا ہے۔ ارشادِ نبوی ہے:

"أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ”
"اصحاب الفروض کو ان کے حصے دو۔ پھر جو بچ جائے وہ قریبی مرد (عصبہ) کو دو۔” [صحیح البخاری،الفرائض باب میراث الولد ایہ وامہ حدیث6732۔وصحیح مسلم الفرائض باب الحفوالفرائض بالھلھا فما بقی فلاولیٰ رجل ذکر حدیث 1615]

یہ حدیث قرآن مجید کے حکم کی وضاحت کرتی ہے، اور ورثاء کی دونوں قسموں میں تقسیمِ ترکہ کی ترتیب بھی متعین کرتی ہے۔ لہٰذا جب اصحاب الفرائض اور عصبہ، دونوں قسم کے ورثاء موجود ہوں، تو مذکورہ حدیث کی روشنی میں حکم واضح ہے کہ پہلے اصحاب الفرائض کو ان کے مقررہ حصص دیے جائیں، اور پھر جو ترکہ باقی بچے وہ عصبہ کو دے دیا جائے۔ اگر کچھ باقی نہ بچے تو عصبہ محروم ہوگا۔ اور اگر صرف عصبات ہی وارث ہوں تو وہ سارا مال اپنی تعداد کے مطابق آپس میں تقسیم کر لیں گے۔

اشکال اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب اصحاب الفرائض کو ان کے مقررہ حصے دے دینے کے بعد بھی ترکہ کا کچھ حصہ بچ جائے، اور عصبہ میں سے بھی کوئی موجود نہ ہو جسے باقی ترکہ مل سکے۔ اس صورت میں حل یہ ہے کہ بچا ہوا ترکہ بھی اصحاب الفرائض پر ان کے سہام کے مطابق دوبارہ لوٹا دیا جائے گا، البتہ خاوند یا بیوی میں سے کوئی موجود ہو تو اس پر رد نہیں ہوگا۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَأُولُوا الأَرحامِ بَعضُهُم أَولىٰ بِبَعضٍ فى كِتـٰبِ اللَّهِ…﴿٦﴾… سورة الاحزاب
"اور اللہ کے حکم میں رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں۔” [الانفال:8/75]

چونکہ اصحاب الفرائض بھی میت کے رشتے دار ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس کے باقی ترکہ کے، عصبات کے سوا، دوسروں کی نسبت زیادہ حق دار ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ "
"جو شخص مال چھوڑ گیا وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔” [صحیح البخاری الکفالۃ باب الدین حدیث2298 وصحیح مسلم الفرائض باب من ترک مالا فلورثتۃ حدیث 1619 واللفظ لہ]

یہ حکمِ نبوی اس تمام مال کو شامل ہے جو میت چھوڑ جائے، یہاں تک کہ اصحاب الفرائض کو دینے کے بعد جو مال بچ جائے وہ بھی اسی حکم میں داخل ہے۔ لہٰذا جب عصبات نہ ہوں تو اصحاب الفرائض اپنے مورث کے مال کے زیادہ مستحق ہیں۔

حدیثِ شریف میں ہے کہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایامِ بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ترکہ کی وارث صرف میری ایک بیٹی ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اکیلی بیٹی کو کل ترکہ کا وارث قرار دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس بات کو غلط قرار نہیں دیا۔ اگر یہ بات غلط ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی تردید فرماتے۔ چنانچہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر صاحبِ فرض اپنا مقررہ حصہ وصول کر لے اور مالِ ترکہ باقی بچ جائے، اور کوئی عصبہ وارث بھی نہ ہو، تو صاحبِ فرض باقی مال بھی لے لے گا، اور یہی "رد” ہے۔

تمام اصحاب الفرائض پر رد ہوتا ہے سوائے زوجین کے، کیونکہ زوجین کبھی نسبی رشتے دار نہیں ہوتے، لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:

﴿وَأُولُوا الأَرحامِ بَعضُهُم أَولىٰ بِبَعضٍ فى كِتـٰبِ اللَّهِ…﴿٦﴾… سورة الاحزاب [الانفال:8/75]

کے عمومی حکم میں شامل نہیں۔

اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زوجین پر رد نہیں ہوتا۔ البتہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو روایت آتی ہے کہ انہوں نے خاوند پر رد کیا تھا، تو ممکن ہے کہ انہوں نے رد کے علاوہ کسی اور سبب سے دیا ہو، مثلاً: وہ عصبہ یا ذوی رحم بھی ہو۔

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

علمِ میراث کی اصطلاح میں "ذی رحم” ہر اس رشتے دار کو کہتے ہیں جو نہ صاحبِ فرض ہو اور نہ عصبہ ہو۔ ذوی الارحام کی اجمالاً چار قسمیں ہیں:

✔ ① وہ رشتے دار جو میت کی طرف منسوب ہوں، جیسے: بیٹیوں کی اولاد، پوتیوں کی اولاد، اور ان سے نیچے تک آنے والے۔

✔ ② وہ رشتے دار جن کی طرف میت منسوب ہو، جیسے: جد فاسد، یعنی ماں کا باپ، دادی کا باپ، اور جدہ فاسدہ، یعنی نانا کی ماں۔

✔ ③ وہ رشتے دار جو میت کے والدین کی طرف منسوب ہوں، جیسے: بہنوں کی اولاد، یعنی بھانجے اور بھانجیاں، بھائیوں کی بیٹیاں، یعنی بھتیجیاں، اخیافی بھائیوں کی اولاد، اور ان سے نیچے تک ہر وہ شخص جو اسی واسطے سے میت کے ساتھ نسبت رکھتا ہو۔

✔ ④ وہ رشتے دار جو میت کے دادا، نانا، دادی یا نانی کی طرف منسوب ہوں، مثلاً: اخیافی چچے، پھوپھیاں، چچوں کی بیٹیاں، ماموں، خالائیں، اگرچہ دور کے ہوں، اور ان کی اولاد۔

✿ تنبیہ: یہ تمام مذکورہ ورثاء، اور ان کے علاوہ بھی جو انہی واسطوں سے میت کے ساتھ قرابت رکھتے ہوں، سب ذوی الارحام میں شمار ہوں گے۔

ذوی الارحام اس وقت وارث ہوں گے جب زوجین کے سوا کوئی صاحبِ فرض اور کوئی عصبہ موجود نہ ہو۔ اس کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَأُولُوا الأَرحامِ بَعضُهُم أَولىٰ بِبَعضٍ فى كِتـٰبِ اللَّهِ…﴿٦﴾… سورة الاحزاب
"اور اللہ کے حکم میں رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں۔” [الانفال:8/75]

اللہ تعالیٰ کا ایک اور عمومی فرمان ہے:

﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الو‌ٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الو‌ٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ…﴿٧﴾… سورة النساء
"ماں باپ اور خویش و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی، جو مال ماں باپ اور خویش و اقارب چھوڑ کر مریں۔” [النساء:4/7]

ان آیات میں عام مردوں اور عورتوں کے لیے میراث کا ذکر ہے، خواہ وہ صاحبِ فرض ہوں، یا عصبہ ہوں، یا ذوی الارحام۔

آیت میں تخصیص کا دعویٰ کرنے والے کے ذمہ دلیل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ "
"جس شخص کا کوئی (صاحب فرض اور عصبہ) وارث نہ ہو، اس کا وارث ماموں ہے۔” [سنن ابی داؤد الفرائض باب فی میراث ذوی الاحارم حدیث2899وجامع الترمذی ،الفرائض باب ماجاء فی میراث الخال حدیث 2104]

وجہِ دلالت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میت کے ماموں کو، جس کا کوئی صاحبِ فرض یا عصبہ وارث نہ ہو، وارث قرار دیا، حالانکہ ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔ لہٰذا حدیثِ شریف کا اطلاق ماموں کی طرح دوسرے ذوی الارحام پر بھی ہوگا۔

درج بالا دلائل ان حضرات کے ہیں جو ذوی الارحام کو وارث بنانے کے قائل ہیں۔ یہی رائے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تھی، جن میں سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں۔ حنابلہ اور حنفیہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ مذہبِ شافعیہ کی جدید رائے بھی یہی ہے، بشرطیکہ بیت المال کا انتظام نہ ہو۔

ذوی الارحام میں تقسیمِ ترکہ کے دو مشہور طریقے

ذوی الارحام کو وارث بنانے کے قائلین نے آپس میں طریقۂ تقسیم میں اختلاف کیا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں اہلِ علم کے دو مشہور اقوال یہ ہیں:

✔ ① پہلا قول "بمنزلہ گرداننے” کا ہے۔ اس قول کے مطابق ذوی الارحام خود بلاواسطہ وارث نہیں ہوتے، بلکہ انہیں ان اصحاب الفرائض اور عصبات کے قائم مقام قرار دیا جاتا ہے جن کے واسطے سے ان کی میت کے ساتھ قرابت ہے، اور پھر انہی کا حصہ دیا جاتا ہے۔ مثلاً: بیٹیوں کی اولاد اور پوتیوں کی اولاد اپنی ماؤں کے قائم مقام ہوگی۔ اخیافی چچا اور پھوپھیاں باپ کے قائم مقام ہوں گے۔ اسی طرح ماموں، خالائیں اور نانا ماں کے قائم مقام ہوں گے۔ اور بھتیجیاں اور بھائیوں کی پوتیاں اپنے باپوں کے قائم مقام ہوں گی۔ علیٰ ہذا القیاس۔

✔ ② دوسرا قول یہ ہے کہ ذوی الارحام میں ترکہ کی تقسیم عصبات کی طرح ہوگی، اور اس کی بنیاد "الاقرب فالا قرب” پر ہوگی۔ واللہ اعلم۔

مطلقہ عورت کی میراث کا بیان

یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقدِ زوجیت کو وارث بننے کا ایک سبب قرار دیا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:

﴿وَلَكُم نِصفُ ما تَرَكَ أَزو‌ٰجُكُم إِن لَم يَكُن لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكنَ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصينَ بِها أَو دَينٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ فَإِن كانَ لَكُم وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمّا تَرَكتُم مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ توصونَ بِها أَو دَينٍ…﴿١٢﴾… سورةالنساء
"تمھاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو آدھا (نصف) تمھارا ہے۔ اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمھارے لیے چوتھائی حصہ ہے، اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لیے چوتھائی ہے اگر تمھاری اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمھاری اولاد ہو تو انھیں تمھارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔” [النساء:4۔12]

جب تک عقدِ زوجیت قائم رہتا ہے، حقِ میراث بھی باقی رہتا ہے، الا یہ کہ کوئی مانعِ ارث حائل ہو جائے۔

جب زوجیت کی گرہ مکمل طور پر کھل جائے، اور یہ صورت طلاقِ بائن کی ہو، تو حقِ میراث ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ جب سبب باقی نہ رہے تو مسبب بھی باقی نہیں رہتا۔ البتہ طلاقِ رجعی کی صورت میں عورت عدت کے دوران حقِ میراث سے محروم نہیں ہوگی۔ مطلقہ کی میراث کی توضیح کے لیے فقہائے کرام نے کتبِ میراث میں مستقل باب قائم کیا ہے۔ مطلقات کی اجمالاً تین قسمیں ہیں:

✔ ① مطلقہ رجعیہ: وہ عورت جسے رجعی طلاق دی گئی ہو۔ ایسی طلاق، خواہ طلاق دینے والے نے حالتِ صحت میں دی ہو یا حالتِ مرض الموت میں، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔

✔ ② مطلقہ بائنہ: وہ عورت جسے حالتِ صحت میں ایسی طلاق دی گئی ہو جس میں رجوع کا حق باقی نہ رہے۔

✔ ③ مطلقہ بائنہ: یعنی وہ عورت جسے حالتِ مرض الموت میں ایسی طلاق دی گئی ہو جس میں رجوع کا حق باقی نہ رہے۔

پہلی قسم کی عورت بالاجماع حقِ میراث رکھتی ہے، بشرطیکہ طلاق دینے والا فوت ہو جائے اور مطلقہ اپنی عدتِ طلاق کے اندر ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک مطلقہ عدت میں ہو، وہ طلاق دینے والے کی بیوی ہی شمار ہوتی ہے، لہٰذا اسے بیوی کے حقوق بھی حاصل ہوں گے۔

جس عورت کو شوہر نے حالتِ صحت میں طلاقِ بائن دی ہو، وہ بالاجماع وارث نہیں ہوگی، کیونکہ طلاقِ بائن سے زوجیت کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں شوہر پر یہ الزام بھی نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے بیوی کو میراث سے محروم کرنے کے لیے طلاق دی ہے۔ اسی طرح اگر مرد بیوی کو اپنی ایسی بیماری میں طلاقِ بائن دے جس میں موت کا اندیشہ نہ ہو، تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

جس عورت کو اس کے شوہر نے مرض الموت میں طلاقِ بائن دی ہو، اور اس پر بیوی کو بلاوجہ میراث سے محروم کرنے کا الزام بھی نہ لگایا جا سکتا ہو، تو ایسی عورت بھی وارث نہ ہوگی۔ لیکن اگر شوہر پر یہ الزام آتا ہو کہ اس نے مرض الموت میں اس لیے طلاقِ بائن دی کہ اسے میراث سے محروم کر دے، تو مطلقہ عورت، خواہ عدت میں ہو یا عدت پوری کر چکی ہو، وارث ہوگی، بشرطیکہ اس نے دوسری جگہ نکاح نہ کیا ہو یا مرتد نہ ہو چکی ہو۔

مرض الموت میں طلاقِ بائن کی صورت میں، جبکہ خاوند پر شک کیا جا سکتا ہو، مطلقہ کو وارث بنانے کی دلیل یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو وارث قرار دیا تھا، جب انہوں نے حالتِ مرض الموت میں طلاقِ بائن دی تھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی نے بھی اس مشہور فتوے کی مخالفت نہیں کی تھی۔ نیز اس سے فساد کا دروازہ بند ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص مرتے وقت بیوی کو اس کے حقِ میراث سے محروم کر جائے۔ اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ مطلقہ بائنہ صرف عدت کے دوران اپنے شوہر کی میراث کا حق رکھتی ہے، بعد از عدت نہیں۔ واللہ اعلم۔

انعقادِ نکاح کے بعد زوجین کی باہمی وراثت

انعقادِ نکاح کے بعد زوجین ایک دوسرے کے وارث بن جاتے ہیں، خواہ رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، اور خواہ خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، کیونکہ آیتِ کریمہ کے حکم میں عموم پایا جاتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:

﴿وَلَكُم نِصفُ ما تَرَكَ أَزو‌ٰجُكُم إِن لَم يَكُن لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكنَ مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ يوصينَ بِها أَو دَينٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمّا تَرَكتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ فَإِن كانَ لَكُم وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمّا تَرَكتُم مِن بَعدِ وَصِيَّةٍ توصونَ بِها أَو دَينٍ…﴿١٢﴾… سورةالنساء
"تمھاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو آدھا (نصف) تمھارا ہے۔ اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمھارے لیے چوتھائی حصہ ہے، اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لیے چوتھائی ہے اگر تمھاری اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمھاری اولاد ہو تو انھیں تمھارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔” [النساء:4۔12]

اس کی وجہ یہ ہے کہ زوجیت کا رشتہ نہایت اہم، بااعتماد اور مقدس ہے، جس پر بہت سے احکام مرتب ہوتے ہیں، اور اسی پر عظیم مصلحتوں کا دار و مدار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لیے دوسرے کے مال سے بعد از موت ایک حصہ مقرر فرما دیا ہے، جیسا کہ اس کے اقرباء کا حق ہے۔ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ ہر ایک دوسرے کو احترام اور توقیر کی نگاہ سے دیکھے۔

دینِ اسلام کے یہ تمام احکام خیر و برکت سے بھرپور ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی پر زندہ رکھے اور اسی پر موت دے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب