ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون اس دعوے کی تحقیق پیش کرتا ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو (معاذ اللہ) قبرِ نبوی ﷺ پر چہرہ/پیشانی رکھے ہوئے دیکھا گیا اور مروان بن حکم نے انہیں گردن سے پکڑ کر اٹھایا۔ ہمارا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اس قصے کی بنیاد بننے والی روایات سنداً و دلالۃً مضبوط نہیں: (۱) جس روایت کو “اصل” بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس کے الفاظ میں قبر پر چہرہ/پیشانی رکھنے کا ذکر ہی نہیں، (۲) اس کی سند میں کثیر بن زید جمہور کے نزدیک ضعیف/فیہ لین ہے، (۳) اس کے شیخ المطلب بن عبداللہ کے بارے میں کثرتِ ارسال/تدلیس کا کلام ہے اور صحابی سے اتصال ثابت کیے بغیر اس سے استدلال محلِ نظر رہتا ہے، (۴) جس دوسری سند میں “چہرہ قبر پر رکھنے” کی زیادت ہے اس میں داود بن ابی صالح مجہول/غیر معروف ہے، (۵) حاکم کی تصحیح اور تلخیصِ ذہبی کی موافقت کو جمہور کی جرح اور خود بعض ائمہ کے دوسرے مقامات پر نقد کی وجہ سے حتمی حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ نتیجۃً اس واقعے سے نہ “قبر پر چہرہ رکھنے” کا ثبوت قائم ہوتا ہے اور نہ مروان پر “روضۂ نبوی ﷺ کی بے ادبی” کا الزام سندِ صحیح سے ثابت ہوتا ہے۔

دعویٰ اور پیش کردہ روایت

① ابن ابی خیثمہ کی روایت (جسے دلیل بنایا گیا)

حدثنا إبراهيم بن المنذر، قال: حدثنا سفيان بن حمزة، عن كثير -يعني ابن زيد- عن المطلب، قال: جاء أبو أيوب الأنصاري يريد أن يسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء مروان وهو كذلك فأخذ برقبته، فقال: هل تدري ما تصنع؟ فقال: قد دريت أني لم آت الخدر ولا الحجر- ولكني جئت رسول الله، سمعت رسول الله عليه السلام يقول: لا تبكوا على الدين ما وليه أهله، ولكن ابكوا على الدين إذا وليه غير أهله

اردو ترجمہ:
ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا: سفیان بن حمزہ نے ہمیں بیان کیا، کثیر (یعنی ابن زید) سے، وہ مطلب سے نقل کرتا ہے، اس نے کہا: ابو ایوب انصاری (ؓ) رسول اللہ ﷺ کو سلام کرنے کے لیے آئے۔ اتنے میں مروان آیا، اور اسی حالت میں اس نے ابو ایوب کی گردن پکڑ لی اور کہا: کیا تم جانتے ہو تم کیا کر رہے ہو؟ ابو ایوبؓ نے کہا: مجھے خوب معلوم ہے، میں نہ پردے (کے پاس) آیا ہوں نہ پتھر کے پاس؛ بلکہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: “جب تک دین کے والی (حاکم/نگران) اہل لوگ ہوں دین پر مت روؤ؛ لیکن جب دین کے والی نااہل لوگ ہو جائیں تو دین پر روؤ۔”

التاریخ الکبیر – ابن ابی خیثمہ // جلد ۳ // صفحہ ۲۷ // رقم ۶۴۴۷ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

مختصر توضیح:
یہ وہ متن ہے جسے دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے؛ مگر قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس روایت کے اندر قبر پر چہرہ یا پیشانی رکھنے کا صریح ذکر موجود نہیں، صرف “سلام کرنے کے لیے آیا” اور مروان کے پکڑنے/سوال کرنے کا ذکر ہے۔

تحقیقی جواب: مرحلہ وار دلائل

② متنِ روایت سے پہلی حقیقت: “پیشانی/چہرہ قبر پر” کا ذکر ابن ابی خیثمہ میں نہیں

📌 دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ ابو ایوبؓ کو قبرِ نبوی ﷺ پر پیشانی رکھے دیکھا گیا۔
لیکن اوپر نقل کردہ روایت (ابن ابی خیثمہ) میں نہ “وضع وجهه” ہے، نہ “وضع جبهته”، نہ “سجد” اور نہ ہی “التصاق بالقبر” کی کوئی صراحت۔

✅ چنانچہ اسی متن سے “قبر پر چہرہ/پیشانی رکھنے” کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا؛ یہ بات زیادہ سے زیادہ بعد کی زیادت یا دیگر طریق پر موقوف ہے، جس کی جداگانہ تحقیق ضروری ہے۔

③ سند کا بنیادی مدار: کثیر بن زید (جمہور کے نزدیک ضعف/لین)

اس روایت کی سند میں مرکزی راوی: كثير بن زيد الأسلمي ہے۔ اسی راوی کے بارے میں خود پیش کرنے والے فریق نے بھی یہ نقل کیا:

كثير بن زيد الأسلمي أبو محمد المدني، عن المقبري، وطائفة، وعنه ابن أبي ذيك، وآخرون، قال أبو زرعة : صدوق فيه لين.

اردو ترجمہ:
کثیر بن زید اسلمی، ابو محمد مدنی… ابو زرعہ نے کہا: یہ صدوق ہے مگر اس میں لین (کمزوری) ہے۔

الکاشف – ذھبی // جلد ۲ // صفحہ ۲۰۳ // رقم ۴۶۳۱ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

مختصر توضیح:
“صدوق فیہ لین” خود اس امر کی دلیل ہے کہ راوی قوی درجے کا نہیں۔ مزید یہ کہ جمہورِ محدثین کی جروحات کی تفصیل سابقہ مضمون میں موجود ہے (وہی نتیجہ یہاں بھی کارفرما ہے)۔

✅ لہٰذا اس واقعے کو “حسن لذاتہ” کہنا جمہور کی جرح اور متعدد ائمہ کے احتیاطی منہج کے خلاف ہے، خصوصاً جب یہاں مزید علل بھی موجود ہوں (جیسا کہ آگے ہے)۔

④ سند کا دوسرا مدار: المطلب بن عبداللہ اور اتصال کا مسئلہ

پیش کرنے والے فریق نے خود “تقریب التہذیب” سے المطلب کے بارے میں یہ عبارت نقل کی:

المطلب بن عبد الله بن المطلب بن حنطب بن الحارث المخزومي صدوق كثير التدليس والإرسال

اردو ترجمہ:
المطلب بن عبداللہ بن المطلب… مخزومی: صدوق ہے، مگر کثرت سے تدلیس اور ارسال کرتا ہے۔

تقریب التہذیب – ابن حجر عسقلانی // صفحہ ۵۶۳ // رقم ۶۷۱۰ // طبع دار المنہاج ریاض سعودیہ۔

اور اسی کے حاشیہ میں یہ منقول ہے:

قلت : ما وصفه احد بالتدليس، ولا المصنف في جزئه عن المدلسين. انما قال ابن سعد : يرسل عن النبي ﷺ كثيراً و عامه اصحابه يدلسون.

اردو ترجمہ:
(حاشیہ نگار لکھتے ہیں:) میں کہتا ہوں: کسی نے اسے مدلس قرار نہیں دیا اور نہ مصنف نے اپنی مستقل تصنیف (عن المدلسین) میں اسے ذکر کیا؛ ابن سعد نے یہ کہا کہ یہ نبی ﷺ سے کثرت سے ارسال کرتا ہے اور (یہ بھی کہا) کہ اس کے اکثر اصحاب تدلیس کرتے ہیں۔

تقریب التہذیب – ابن حجر عسقلانی // صفحہ ۵۶۳ // رقم ۶۷۱۰ // طبع دار المنہاج ریاض سعودیہ۔

مختصر توضیح:
یہاں دو بنیادی نکات ہیں:

✅ (الف) خواہ “تدلیس” کی تعبیر پر کلام ہو، خود نصِّ تقریب میں “کثیر الإرسال” صراحتاً موجود ہے؛ اور “ارسال” کا معنی یہی ہے کہ روایت میں اتصال کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
✅ (ب) زیرِ بحث واقعہ میں المطلب ابو ایوبؓ سے بیان کر رہا ہے (“قال: جاء أبو أيوب…”)، تو اصولاً یہاں سماع/لقاء/اتصال ثابت ہونا ضروری ہے، ورنہ یہ خبر منقطع/مرسل المعنیٰ بننے کے شدید احتمال میں رہتی ہے۔

پس صرف “المطلب صدوق ہے” کہہ دینا کافی نہیں، جب تک اس خاص خبر میں اتصال ثابت نہ کیا جائے۔

⑤ “کثیر عن المطلب” کے محفوظ ہونے کا دعویٰ، اور اس کی علمی حد

یہ کہا گیا کہ بعض ائمہ علل کے نزدیک “کثیر بن زید عن المطلب” والا طریق زیادہ محفوظ ہے اور اس کے لیے یہ حوالہ دیا گیا:

کتاب العلل – ابن ابی حاتم // جلد ۱ // صفحہ ۳۰۹ // رقم ۱۰۲۹ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

مختصر توضیح:
علل کی کتابوں میں “محفوظ/أصح” کہنے کا مطلب بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ مختلف طریقوں میں یہ طریق نسبتاً کم خطا ہے؛ لیکن یہ لازم نہیں کہ وہ طریق صحیح یا حسن لذاتہ بھی ہو۔
یعنی اگر اصل سند میں (کثیر کے ضعف، یا المطلب کے ارسال/عدمِ اتصال) جیسے اشکالات باقی ہوں تو “محفوظ” کا لفظ ان اشکالات کو ختم نہیں کر دیتا۔

⑥ طبرانی کی روایت: نقلِ مزید، مگر علت باقی

معجم الکبیر – طبرانی // جلد ۳ // صفحہ ۵۱ // رقم ۳۹۰۱ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

مختصر توضیح:
طبرانیؒ کی تخریج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خبر کچھ مصادر میں موجود ہے؛ لیکن خبر کی کثرتِ مصادر بذاتِ خود صحت کی ضامن نہیں ہوتی، جب تک سند کی علت (بالخصوص راویوں کی کیفیت اور اتصال) حل نہ ہو۔

⑦ “چہرہ قبر پر رکھنے” کی زیادت اور داود بن ابی صالح کا اشکال

دعویٰ یہ کیا گیا کہ مستدرکِ حاکم میں یہ زیادت موجود ہے کہ ابو ایوبؓ نے اپنا چہرہ نبی ﷺ کی قبر پر رکھا، اور اس پر حاکم نے “صحیح السند” کہا اور ذہبی نے موافقت کی:

مستدرک علی صحیحین – حاکم نیساپوری // جلد ۴ // صفحہ ۵۶۰ // رقم ۸۵۷۱ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

لیکن اسی ساتھ یہ بھی نقل کیا گیا کہ حافظ ذہبیؒ نے دوسری جگہ داود بن ابی صالح کے بارے میں کہا کہ “میں اسے نہیں جانتا”:

میزان الاعتدال – ذھبی // جلد ۳ // صفحہ ۱۴ // رقم ۲۶۲۰ // طبع مکتبہ رحمانیہ لاہور پاکستان۔

مختصر توضیح:
📌 یہ نکتہ فیصلہ کن ہے کہ “چہرہ قبر پر رکھنے” والی زیادت ایک ایسے طریق سے آتی ہے جس میں راوی کے مجہول/غیر معروف ہونے کا مسئلہ موجود ہو۔
پس اگر داود بن ابی صالح غیر معروف/مجہول ہو تو اسی زیادت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، اور پھر یہ زیادت حجت نہیں رہتی۔

⑧ مسند احمد میں روایت اور محقق شعیب الارنؤوط کا حکم

آپ کے منقول متن کے مطابق:

مسند احمد بن حنبل – احمد بن حنبل // جلد ۳۸ // صفحہ ۵۵۸ // رقم ۲۳۵۸۵ // طبع الرسالہ العالمیہ بیروت لبنان۔

اور یہ بھی کہ محقق شعیب الارنؤوط نے اسے ضعیف قرار دیا، وجہ: داود بن ابی صالح کا مجہول ہونا اور کثیر بن زید پر بعض ائمہ کی جرح۔

مختصر توضیح:

✅ یہ محققانہ حکم دراصل اسی اصولی بات کو مضبوط کرتا ہے کہ “چہرہ قبر پر رکھنے” والی زیادت مجہول راوی کی وجہ سے قابلِ اعتماد نہیں۔
اور اگر کوئی مقام ایسا ہے جہاں اسی محقق نے کثیر بن زید عن المطلب والے کسی دوسرے مقام پر “اسناد حسن” کہا، تو یہ عمومی اصول سمجھا جاتا ہے کہ ایک راوی بعض قرائن/متابعات کے ساتھ قبول ہو سکتا ہے، مگر ہر جگہ بلا قید نہیں—خصوصاً جب یہاں اضافی علت (مجہول راوی) بھی موجود ہو۔

(آپ کے متن کے مطابق دوسرا حوالہ:)

مسند احمد بن حنبل – احمد بن حنبل // جلد ۳۵ // صفحہ ۴۵۷ // رقم ۲۱۵۸۰ // طبع الرسالہ العالمیہ بیروت لبنان۔

⑨ تاریخی و قرائنی اشکال: حجرۂ عائشہؓ اور واقعے کی صورت

منقول جواب میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ:

📌 حضرت ابو ایوبؓ کی وفات (52ھ) ام المؤمنین عائشہؓ (58ھ) سے پہلے ہے، اور قبرِ نبوی ﷺ کھلی جگہ/عام گزرگاہ نہ تھی بلکہ حجرۂ عائشہؓ کے اندر تھی؛ لہٰذا “لوگوں کے گزرنے” اور “دیکھنے” کی وہ کیفیت جو اس قصے کے بعض بیانیوں سے سمجھ میں آتی ہے، قرائن کے لحاظ سے مشکل ہے۔
اسی بنا پر یہ دعویٰ کہ “صحابہ کو عائشہؓ کی حیات میں قبر پر اس طرح حاضر ہوتے دیکھا گیا” صحیح سند کے مضبوط ثبوت کا محتاج ہے، جو یہاں پیش کردہ طرق کی کمزوری کی وجہ سے پورا نہیں ہوتا۔

مختصر توضیح:
یہ دلیل بطورِ مستقل “قطعی فیصلہ” نہیں، مگر بطورِ قرینہ بہت مضبوط ہے: جب سند بھی کمزور ہو اور قرائن بھی غیر موافق ہوں تو خبر کے قبول میں احتیاط مزید بڑھ جاتی ہے۔

⑩ نتیجۂ دلالت: ابو ایوبؓ کے کلام سے زیادہ سے زیادہ “سلام” ثابت ہوتا ہے، “قبر پر چہرہ رکھنا” نہیں

روایت کے الفاظ میں ابو ایوبؓ کہتے ہیں:

قد دريت أني لم آت الخدر ولا الحجر- ولكني جئت رسول الله

اردو ترجمہ:
“مجھے معلوم ہے، میں نہ پردے کے پاس آیا ہوں نہ پتھر کے پاس؛ بلکہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ہوں۔”

مختصر توضیح:
یہ جملہ اگر صحیح بھی مان لیا جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ابو ایوبؓ سلام/زیارت کے قصد سے آئے تھے اور انہوں نے بت پرستی/جمادات والی نیت کی نفی کی۔
لیکن اس سے “قبر پر پیشانی/چہرہ رکھنے” کا عمل لازماً ثابت نہیں ہوتا—خصوصاً جبکہ وہ زیادت (چہرہ رکھنے کی) دوسری سند پر موقوف ہے اور وہ سند محلِ کلام ہے۔

خلاصۂ فیصلہ

🧾 مجموعی طور پر اس واقعے کے بارے میں درج ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:

✅ (۱) ابن ابی خیثمہ کی روایت میں قبر پر چہرہ/پیشانی رکھنے کی صراحت موجود نہیں۔
✅ (۲) سند میں کثیر بن زید کے بارے میں جمہور کا رجحان ضعف/لین کی طرف ہے، لہٰذا “حسن لذاتہ” کا دعویٰ مضبوط نہیں۔
✅ (۳) المطلب بن عبداللہ کے بارے میں ارسال/اتصال کا مسئلہ موجود ہے، اور اس خبر میں صحابی سے اتصال ثابت کیے بغیر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
✅ (۴) “چہرہ قبر پر رکھنے” والی زیادت داود بن ابی صالح والے طریق سے آتی ہے، جس میں مجہول/غیر معروف ہونے کا اشکال بیان کیا گیا۔
✅ (۵) حاکم کی تصحیح اور بعض موافقات، جمہور کی جرح اور دیگر قرائن کے مقابلے میں حتمی حجت نہیں بنتیں۔

نتیجہ (Conclusion)

اس لیے اس قصے کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ حضرت ابو ایوبؓ نے قبرِ نبوی ﷺ پر پیشانی/چہرہ رکھا یا یہ کہ مروان نے روضۂ نبوی ﷺ کی بے ادبی کی—یہ دونوں دعوے سنداً ثابت نہیں ہوتے۔ زیادہ سے زیادہ جو بات (بعض صورتوں میں) سمجھی جا سکتی ہے وہ “سلام/حاضری” کا ذکر ہے؛ مگر غیر ثابت زیادات اور کمزور طرق سے عقیدہ، حکم یا تاریخی الزام قائم کرنا علمی منہج کے مطابق درست نہیں۔

اہم حوالوں کے سکین

ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ – 01 ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ – 02 ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ – 03 ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ – 04 ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ – 05 ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ – 06 ابو ایوب انصاریؓ ، مروان اور قبر نبویﷺ والا واقعہ – 07