ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت

تحریر: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون اُن اعتراضات کے جواب میں لکھا گیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاؤں سن (خدر) ہونے پر اُنہوں نے «یَا مُحَمَّد» کہا، اور اس روایت سے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی ذات سے استغاثہ پر استدلال کیا جاتا ہے۔

ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے اور اس سے عقیدہ و عمل پر استدلال کرنا درست نہیں، کیونکہ اس کی اسناد میں کئی علل ہیں:

  • ابو اسحاق السبیعی کا مدلس اور مختلط ہونا،

  • اس کے شیخ کا مجہول ہونا،

  • اور مختلف اسانید میں تعارض اور ارسال پائے جانا۔

ان تمام پہلوؤں کی روشنی میں یہ روایت حجت کے درجے تک نہیں پہنچتی۔ اس مضمون میں ہم پہلے روایت کا اصل متن نقل کریں گے اور پھر ایک ایک اعتراض کا تفصیلی علمی جواب دیں گے۔

اصل روایت (الأدب المفرد للبخاري)

عربی متن:
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: خَدِرَتْ رِجْلُ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: اذْكُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْكَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ.

ترجمہ:
“ہم سے ابو نعیم نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے عبد الرحمن بن سعد سے روایت کیا کہ ابن عمرؓ کا پاؤں سن ہو گیا۔ ایک شخص نے ان سے کہا: اپنے محبوب ترین کو یاد کرو۔ تو انہوں نے کہا: یَا مُحَمَّدُ۔”

حوالہ: الأدب المفرد للبخاري، باب: ما يقول الرجل إذا خدرت رجله

پہلی علت: ابو اسحاق السبیعی (مدلس و مختلط)

یہ روایت ابو اسحاق السبیعی کے واسطے سے مروی ہے۔ محدثین نے اس پر دو بڑی علتیں ذکر کی ہیں:

① ابو اسحاق مدلس ہے

  • ابن حجر عسقلانی نے ان کو طبقہ ثالثہ کے مدلسین میں شمار کیا ہے:

    «مدلس، كثير الإرسال»
    (طبقات المدلسين لابن حجر، ص: 36)
    ترجمہ: وہ مدلس تھے اور کثرت سے ارسال کرتے تھے۔

  • اس روایت میں ابو اسحاق نے عن کے ساتھ روایت کی ہے (یعنی سماع کی تصریح نہیں دی)، اور مدلس راوی کی معنعن روایت حجت نہیں جب تک کہ صراحتِ سماع نہ ہو۔

② ابو اسحاق مختلط ہے

  • امام ذہبی نے فرمایا:

    «كان من أوعية العلم، إلا أنه اختلط بآخره»
    (ميزان الاعتدال، 3/270)
    ترجمہ: وہ علم کے بڑے حَفَظہ میں سے تھے، لیکن اپنی عمر کے آخر میں ان کا اختلاط ہو گیا تھا۔

  • ابن حبان نے کہا:

    «اختلط في آخر عمره حتى كان يقلب الأسانيد»
    (المجروحين، 2/60)
    ترجمہ: عمر کے آخر میں ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا، یہاں تک کہ وہ اسانید کو الٹ پلٹ کر دیتے تھے۔

③ نتیجہ

یہ روایت ابو اسحاق کی معنعن سند سے ہے، اور وہ مدلس و مختلط تھے۔ اس لیے اصولِ حدیث کے مطابق اس سند پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ سماع کی صریح تصریح نہ ملے، اور یہاں ایسی کوئی تصریح موجود نہیں۔

دوسری علت: شیخِ ابو اسحاق کا مجہول ہونا (عبدالرحمن بن سعد)

اس روایت میں ابو اسحاق کا شیخ عبدالرحمن بن سعد الکوفی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ راوی مجہول الحال ہے، جس کی کوئی معتبر توثیق ثابت نہیں۔

① امام دارقطنی

  • ابن عمرؓ کے پاؤں سن ہونے والی روایت کے بارے پوچھا گیا تو فرمایا:

    «يرويه أبو إسحاق السبيعي، واختلف عنه … وهو مجهول»
    (العلل الواردة في الأحاديث النبوية، رقم: 3140)
    ترجمہ: اس کو ابو اسحاق السبیعی روایت کرتا ہے اور اس میں اختلاف بھی ہے … اور (شیخ) مجہول ہے۔

② امام یحییٰ بن معین

  • امام الدوری نے کہا: میں نے یحییٰ بن معین سے عبدالرحمن بن سعد کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا:

    «لا أعرفه»
    (تاريخ الدوري عن ابن معين، 3/450)
    ترجمہ: میں اسے نہیں جانتا۔

③ امام ابن أبي حاتم

  • اپنی کتاب الجرح والتعديل میں عبدالرحمن بن سعد کا ذکر کیا لیکن اس پر کوئی جرح و تعدیل نقل نہیں کی۔

  • اور جب کسی راوی پر سکوت کیا جائے تو وہ مستور الحال/مجہول رہتا ہے۔

  • حافظ ابن کثیر نے اسی اصول کو بیان کیا:

    «ذكره ابن أبي حاتم … ولم يحك فيه شيئًا … فهو مستور الحال»
    (تفسير ابن كثير، 1/457)
    ترجمہ: ابن ابی حاتم نے اس کو ذکر کیا مگر کوئی جرح و تعدیل نہ کی … پس وہ مستور الحال ہے۔

④ امام بخاری

  • امام بخاری نے اپنی التاريخ الكبير میں عبدالرحمن بن سعد کا ذکر کیا مگر کوئی جرح و تعدیل نقل نہ کی۔

  • ابن القطان الفاسی نے اس پر تبصرہ کیا:

    «لم يعرف هو ولا ابن أبي حاتم من حاله بشيء، فهي عندهما مجهولة»
    (بيان الوهم والإيهام، 5/688)
    ترجمہ: نہ امام بخاری اور نہ ابن ابی حاتم نے اس کے حال کے بارے کچھ کہا، اس لیے ان دونوں کے نزدیک وہ مجہول ہے۔

⑤ امام نسائی کی طرف منسوب توثیق

بعض حضرات نسائی کی طرف عبدالرحمن بن سعد کی توثیق منسوب کرتے ہیں، لیکن یہ دراصل عبدالرحمن بن سعد المدنی کے بارے ہے، نہ کہ الکوفی کے بارے۔

  • حافظ ذہبی اور حافظ مزی نے المدنی کے بارے نسائی کا قول نقل کیا، مگر کوفی کے بارے ایسی کوئی توثیق نہیں۔

  • حافظ ابن حجر کا نسائی سے کوفی کے لیے توثیق نقل کرنا محض تسامح ہے۔

✅ نتیجہ

  • عبدالرحمن بن سعد الکوفی کے بارے دارقطنی، ابن معین، بخاری اور ابن ابی حاتم سب نے اسے مجہول قرار دیا۔

  • اس لیے یہ روایت ایک مجہول راوی کے واسطے سے ہے، اور اصولِ حدیث کے مطابق ایسی روایت حجت نہیں۔

تیسری علت: مختلف اسانید کا تعارض

اس روایت کے طرق میں شدید اختلاف ہے، اور ابو اسحاق کے شیوخ کے نام مختلف بیان ہوئے ہیں۔

① امام دارقطنی کا بیان اختلاف

امام دارقطنی نے اس روایت کے مختلف طرق ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

«يرويه أبو إسحاق السبيعي، واختلف عنه؛
فرواه أبو بكر بن عياش، عن أبي إسحاق، عن أبي سعد، عن ابن عمر.
ورواه الثوري، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن مولى عمر بن الخطاب، عن ابن عمر.
وقال زهير: عن أبي إسحاق، عن عبد الجبار بن سعيد، عن ابن عمر.
وقال إسرائيل: عن أبي إسحاق، عن ابن عمر مرسلا.»

(العلل الواردة في الأحاديث النبوية، رقم: 3140)

ترجمہ:
اس روایت کو ابو اسحاق السبیعی بیان کرتا ہے، اور اس میں اختلاف ہوا ہے:

  • ابو بکر بن عیاش نے اسے ابو اسحاق سے، وہ ابو سعد سے، وہ ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں۔

  • سفیان ثوری نے ابو اسحاق سے، وہ عبدالرحمن (مولیٰ عمر) سے، وہ ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں۔

  • زہیر نے ابو اسحاق سے، وہ عبدالجبار بن سعید سے، وہ ابن عمرؓ سے روایت کی۔

  • اسرائیل نے ابو اسحاق سے، وہ ابن عمرؓ سے مرسلاً روایت کی۔

② اختلاف کی حقیقت

یہ واضح تعارض ہے کہ ابو اسحاق کبھی اس کو عبدالرحمن بن سعد سے روایت کرتے ہیں، کبھی ابو سعد سے، کبھی عبدالجبار سے، اور کبھی ارسال کرتے ہیں۔
یہ اختلاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ روایت محفوظ نہیں اور اس کے شیوخ کی تعیین مشتبہ ہے۔

③ محدثین کی ترجیح

  • امام ابو حاتم الرازی:

    «سفيان فقيه حافظ زاهد، وأتقن أصحاب أبي إسحاق … وإذا اختلف الثوري وشعبة فالثوري.»
    (الجرح والتعديل، 4/478)
    ترجمہ: سفیان (ثوری) فقیہ، حافظ اور زاہد ہیں، وہ ابو اسحاق کے شاگردوں میں سب سے زیادہ متقن ہیں، اور جب سفیان اور شعبہ میں اختلاف ہو تو سفیان کا قول معتبر ہوگا۔

  • امام ابو زرعہ الرازی:

    «الثوري أحفظ من شعبة في إسناد الحديث وفي متنه.»
    (الجرح والتعديل، 4/478)
    ترجمہ: حدیث کے متن اور سند میں ثوری، شعبہ سے زیادہ حافظ ہیں۔

  • یحییٰ بن سعید القطان اور یحییٰ بن معین نے بھی کہا:

    «إذا خالف شعبة سفيان فالقَول قول سفيان.»
    (نصب الراية، 4/58)
    ترجمہ: جب شعبہ کا سفیان سے اختلاف ہو تو سفیان کا قول لیا جائے گا۔

سفیان ثوری کی روایت ہی کو ترجیح حاصل ہے، اور وہ عبدالرحمن بن سعد (مجہول) کے واسطے سے ہے۔
لہٰذا تمام طرق ملانے کے باوجود یہ روایت ضعیف ہی رہتی ہے، کیونکہ یا تو راوی مجہول ہے یا روایت مرسل ہے۔

✅ نتیجہ

  • یہ روایت ابو اسحاق السبیعی کی معنعن سند سے ہے، اور وہ مدلس و مختلط ہیں۔

  • اس کا شیخ عبدالرحمن بن سعد مجہول ہے، جسے محدثین نے معرفت سے خارج کہا۔

  • مختلف اسانید میں شدید اختلاف ہے: کبھی ابو سعد، کبھی عبدالرحمن، کبھی عبدالجبار، اور کبھی ارسال۔

  • محدثین نے ترجیح سفیان ثوری کی روایت کو دی، اور وہی مجہول راوی پر موقوف ہے۔

پس یہ روایت سنداً سخت ضعیف ہے اور استغاثہ بعد الوفات کے اثبات میں بالکل حجت نہیں۔

✦ پورے مضمون کا خلاصہ و نتیجہ

خلاصہ

  • حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاؤں سن ہونے پر «یَا مُحَمَّد» کہنے والی روایت کو بعض حضرات نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد استغاثہ کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

  • ہم نے دکھایا کہ یہ روایت سنداً سخت ضعیف ہے، اس کے کئی علل ہیں:

    1. ابو اسحاق السبیعی مدلس اور مختلط ہیں، اور اس روایت میں انہوں نے سماع کی صراحت نہیں کی۔

    2. ان کا شیخ عبد الرحمن بن سعد الکوفی ہے جو مجہول ہے۔ امام دارقطنی، یحییٰ بن معین، ابن ابی حاتم اور بخاری سب نے اس کی جہالت پر تصریح کی ہے۔

    3. مختلف اسانید میں شدید تعارض ہے: کبھی ابو سعد، کبھی عبدالجبار، کبھی عبدالرحمن اور کبھی مرسل، جو اس روایت کو غیر محفوظ ثابت کرتا ہے۔

    4. محدثین نے جب بھی سفیان ثوری اور شعبہ میں اختلاف بیان کیا تو سفیان ثوری کو ترجیح دی، اور ان کی روایت بھی اسی مجہول راوی کے واسطے سے ہے۔

نتیجہ

یہ روایت ہر اعتبار سے حجت کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔

  • اس میں مدلس و مختلط راوی ہے۔

  • شیخ مجہول ہے۔

  • اسانید میں شدید اختلاف ہے۔

  • جمہور محدثین نے اس پر اعتماد نہیں کیا۔

لہٰذا اس روایت کو نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد استغاثہ کے جواز پر دلیل بنانا علمی و اصولی طور پر درست نہیں۔

اہم حوالوں کے سکین

ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 01 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 02 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 03 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 04 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 05 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 06 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 07 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 08 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 09 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 10 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 11 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 12 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 13 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 14 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 15 ابن عمرؓ کا پاوں سن ہونے پر یامحمدﷺ کہنے والی روایت – 16

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے