ابن عربی کی حقیقت: علمائے امت کی آراء کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

ابن عربی اور عقیدہ وحدۃ الوجود

ابن عربی، المعروف بہ محی الدین (638ھ) بالاتفاق زندیق اور کافر تھا۔ فلسفہ اور وحدۃ الوجود کے تصوف پر مبنی اس کے کفریہ عقیدہ کے بارے میں حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (748ھ) لکھتے ہیں:

من أردإ تواليفه كتاب الفصوص، فإن كان لا كفر فيه، فما في الدين كفر، نسأل الله العفو والنجاة.

اس (ابن عربی) کی سب سے بدترین کتاب الفصوص ہے۔ اگر اس میں کفر نہیں تو دنیا میں کہیں بھی کفر موجود نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت اور نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(سیر أعلام النبلاء: 48/23)

علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ (771ھ) لکھتے ہیں:

من كان من هؤلاء الصوفية المتأخرين كابن عربي وغيره، فهم ضلال جهال، خارجون عن طريقة الإسلام، فضلا عن العلماء.

“متاخرین صوفیا میں سے جو ابن عربی وغیرہ کی طرح کے لوگ ہیں، وہ تو گمراہ، جاہل اور اسلام کے راستے سے نکلے ہوئے ہیں، چہ جائیکہ کہ یہ علما شمار ہوں۔”
(تنبيه الغبي على تكفير ابن عربي للبقاعي، ص 143)

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ (852ھ) ابن الفارض کے حالاتِ زندگی میں لکھتے ہیں:

قد كنت سألت شيخنا الإمام سراج الدين البلقيني عن ابن عربي، فبادر الجواب بأنه كافر.

“میں نے اپنے شیخ سراج الدین عمر بن رسلان البلقینی (807ھ) سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے فوراً جواب دیا: وہ کافر ہے۔”
(لسان الميزان: 318/4)

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ (774ھ) ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم کے بارے میں لکھتے ہیں:

فيه أشياء كثيرة ظاهرها كفر صريح.

“اس میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں، جن کا ظاہر صریح کفر ہے۔”
(البداية والنهاية: 253/17)

علامہ بقاعی رحمۃ اللہ علیہ (885ھ) لکھتے ہیں:

وبعد، فإني لما رأيت الناس مضطربين في ابن عربي المنسوب إلى التصوف الموسوم عند أهل الحق بالوحدة، ولم أر من شفى القلب في ترجمته، وكان كفره في كتابه الفصوص أظهر منه في غيره، أجبت أن أذكر منه ما كان ظاهرا، حتى يعلم حاله، فيهجر مقاله، ويعتقد انحلاله، وكفره وضلاله، وأنه إلى الهاوية مآبه ومآله.

“محمد و صلاۃ کے بعد، جب میں نے لوگوں کو اس ابن عربی کے بارے میں مضطرب (مختلف الرائے) دیکھا، جو تصوف کی طرف منسوب ہے اور اہل حق کے نزدیک وحدت الوجودی (ایک شرکیہ عقیدہ والا) تھا، پھر میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے اس کے (مکمل) حالات لکھ کر دل کو تسلی دی ہو، اور اس کا کفر اس کی کتاب الفصوص میں دوسری کتب سے زیادہ ظاہر تھا، تو میں نے پسند کیا کہ میں اس کی ظاہری صورتِ حال کو ذکر کروں، تا کہ اس کی (دینی) حالت معلوم ہو، اس کا قول چھوڑ دیا جائے، اس کے اسلام سے خارج ہونے، کافر و گمراہ ہونے اور اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہونے کا عقیدہ بنا لیا جائے۔”
(تنبيه الغبي، ص 21)

پچاس کے قریب علمائے کرام اور قاضیوں نے اسے زندیق، ملحد اور کافر کہا ہے۔ ملا علی القاری حنفی نے اس کے کافر ہونے پر الرَّدُّ عَلَى الْقَائِلِينَ بِوَحْدَةِ الوُجُودِ نامی کتاب لکھی ہے۔

حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (911ھ) لکھتے ہیں:

يحرم تحريما غليظا أن يفسر القرآن بما لا يقتضيه جوهر اللفظ، كما فعل ابن عربي المبتدع، الذي ينسب إليه كتاب الفصوص الذي هو كفر كله.

“قرآن کریم کے الفاظ جس کا تقاضا نہیں کرتے، اس طرح سے قرآن کریم کی تفسیر کرنا سخت حرام ہے، جیسا کہ ابن عربی بدعتی نے کیا ہے۔ اس کی طرف الفصوص نامی کتاب منسوب ہے، جو کہ پیکرِ کفر ہے۔”
(التحبير في علم التفسير، ص 537)