ابن عربی المعروف شیخ اکبر کے عقائد کی شرعی حیثیت

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

” ابن عربی المعروف شیخ اکبر“ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟

جواب :

محمد بن علی بن محمد ابن عربی (560۔638 ھ، بمطابق 1165۔1240ء) جو ”محی الدین“ اور ”الشیخ الاکبر“ کے لقب سے مشہور ہے، بالا اتفاق ملحد ، باطنی ، زندیق اور کافر تھا۔ فلسفہ اور وحدۃ الوجود کے تصوف پر مبنی اس کے کفریہ عقیدہ کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748 ھ ) لکھتے ہیں : ”اس (ابن عربی) کی سب سے بدترین کتاب الفصوص ہے ۔ اگر اس میں کفر نہیں تو دنیا میں کہیں بھی کفر موجود نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت اور نجات کا سوال کرتے ہیں ۔“
(سير أعلام النبلاء : 48/23)
❀ علامہ اسماعیل بن محمد کورانی رحمہ اللہ (665 ھ ) نے ابن عربی کو ”شیطان“ کہا ہے۔
(مجموع الفتاوى لابن تيمية : 247/2)
❀ علامہ ابراہیم بن معضاد ابو اسحاق جعبری رحمہ اللہ (687 ھ ) فرماتے ہیں:
”یہ نا پاک شخص ہے، اس نے اللہ تعالی کی نازل کردہ ہر کتاب اور ہر نبی کے ساتھ کفر کیا ہے۔“
(مجموع الفتاوى لابن تيمية : 246/2)
❀ علامہ ابوالمحاسن ترکمانی حنفی رحمہ اللہ (823 ھ ) کے بارے میں ہے:
”آپ رحمہ اللہ تماشہ بکثرت ابن عربی اور دیگر فلسفی صوفیا کا رد کیا کرتے تھے، اس میں اس قدر سختی کرتے کہ آپ رحمہ اللہ کو ابن عربی کی جو کتاب ملتی، اسے جلا دیتے۔“
(الضوء اللامع للسخاوي : 31/3)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ ) ابن الفارض کے حالات زندگی میں لکھتے ہیں :
” میں نے اپنے شیخ سراج الدین عمر بن رسلان بلقینی (805ھ) سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فورا جواب دیا: وہ کافر ہے۔“
(لسان الميزان : 318/4)
❀ حافظ سخاوی رحمہ اللہ (902ھ) فرماتے ہیں:
”علامہ بلقینی رحمہ اللہ ابن عربی اور اس کی کتابوں کے مطالعہ سے نفرت دلاتے تھے ۔“
(الضوء اللامع للسخاوي : 89/6)
❀ علامہ عزالدین ابن عبد السلام رحمہ اللہ (660 ھ ) فرماتے ہیں:
”ابن عربی برا شخص تھا، جھوٹا شیعہ تھا۔“
(لسان الميزان لابن حجر : 311/5)
❀ نیز ”زندیق“ کہا ہے۔
(فتاوی شامی : 239/4)
❀ علاء الدولہ، بیابانکی سمنانی رحمہ اللہ (726ھ) کے بارے میں ہے:
”آپ رحمہ اللہ محی الدین ابن عربی اور اس کی کتب پر سخت طعن کرتے تھے اور اسے کافر قرار دیتے تھے۔“
(الوافي بالوفيات للصفدي: 233/7)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ ) ابن عربی کی کتاب ”فصوص الحکم“ کےبارے میں لکھتے ہیں :
”اس میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں ، جن کا ظاہر صریح کفر ہے۔“
(البداية والنهاية : 353/17)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ ) فرماتے ہیں:
لكن ابن عربي وأمثاله منافقون زنادقة .
”ابن عربی اور اس جیسے ( گمراہ صوفیا) منافق اور زندیق ہیں۔“
(شرح الطحاوية، ص 494)
❀ علامہ محمد بن محمد ابوعبداللہ بخاری عجمی حنفی رحمہ اللہ (841ھ) نے ابن عربی کوکافر کہا ہے۔
(الضّوء اللامع للسخاوي : 294/9)
❀ علامہ عبد السلام بن داود المعروف بہ عز قدسی رحمہ اللہ (850ھ) کے بارےمیں ہے:
”ابن عربی اور اس جیسے عقائد کے حاملین سب سے بڑے کافر ہیں۔“
(الضّوء اللامع للسخاوي : 205/4)
❀ علامہ سراج بن مسافر قیصری حنفی رحمہ اللہ (856ھ ) کے بارے میں ہے:
كان يبالغ فى التحدير من كلام ابن عربي .
”آپ رحمہ اللہ ابن عربی کے کلام سے سختی کے ساتھ منع کرتے تھے ۔“
(الضّوء اللامع للسخاوي : 244/3)
❀ علامہ عمر بن موسیٰ بن حسن سراج رحمہ اللہ (861 ھ ) کے بارے میں ہے:
”آپ رحمہ اللہ نے فصوص ابن عربی کے رد میں نظم لکھی، جو (140) اشعار پرمشتمل تھی ۔“
(الضوء اللامع للسخاوي : 141/6)
❀ علامہ عبد الرحمن بن خلیل بن سلامہ رحمہ اللہ (869ھ ) کے بارے میں ہے:
”آپ رحمہ اللہ ابن عربی کے معتقدین کا سخت رد کرتے تھے ۔“
(الضوء اللامع للسخاوي : 166/1)
❀ علامہ بقاعی رحمہ اللہ (885 ھ ) لکھتے ہیں:
”ملحدین مثلاً ابن عربی، ابن سبعین اور ابن فارض کا مذہب ہے کہ وہ خالق کے وجود کو مخلوق کا وجود قرار دیتے ہیں۔“
(تنبيه الغبي، ص 162 )
❀ قاضی اسماعیل بن ابی بکر بن المقری رحمہ اللہ (837ھ) فرماتے ہیں: جس نے یہود ونصاریٰ اور ابن عربی کے ہم نواؤں کے کفر میں شک کیا، وہ بھی کافر ہے۔“
(تنبيه الغبي للبقاعي ، ص 253 ، الفتاوى الحديثية للهيتمي، ص 38)
❀ علامہ محمد بن محمد بن محمد ابن شہاب غازی حلبی رحمہ اللہ (890ھ) کے بارےمیں ہے:
❀ ”آپ رحمہ اللہ ابن عربی پر سخت تنقید کرتے تھے ۔“
(الضوء اللامع للسخاوي : 301/9)
ابوزکریا یحیی بن محمد مناوی رحمہ اللہ (871ھ ) کے بارے میں ہے:
”آپ رحمہ اللہ نے ابن عربی کی کتب اور ان کے مطالعہ سے اظہار برأت کر دیا تھا۔“
(الضّوء اللامع للسخاوي: 256/10)
پچاس کے قریب علمائے کرام اور قاضیوں نے اسے زندیق ملحد اور کافر کہا ہے ، بعض کے اسمائے گرامی ملاحظہ ہوں :
1 الحافظ ابن حجر العسقلاني
2 سراج الدين عمر البلقيني
3 زين الدين العراقي
4 أبو زرعة ولي الدين العراقي
5 شمس الدين الذهبي
6 عبد الرحمن بن خلدون
7 بدر الدين بن جماعة
8 شمس الدين محمد بن يوسف الجزري
9 إمام القراء محمد بن محمد الجزرى صاحب الجزرية
10 على بن يعقوب البكرى
11 محمد بن عقيل البالسي
12 ابن هشام صاحب مغني اللبيب، وأوضح المسالكفي ألفية ابن مالك
13 شمس الدين محمد العيزري
14 علاء الدين البخارى الحنفى
15 على بن أيوب
16 شرف الدين عيسى بن مسعود الزواوي المالكي
17 شمس الدين الموصلي
18 زين الدين عمر الكتاني
19 برهان الدين السفاقسي
20 سعد الدين الحارثي الحنبلي
21 أحمد بن علي الناشري
22 أبو بكر بن محمد بن صالح المعروف بابن الخياط .
23 العلامة السخاوي
24 العلامة السعدي التفتازاني .
❀ علامہ ملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ نے ابن عربی کے کفر پر الرد على القائلين بوحدة الوجود نامی کتاب لکھی ہے۔
❀ علامه ملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں:
اعلم أن من اعتقد حقيقة عقيدة ابن عربي فكافر بالإجماع من غير النزاع .
”جان لیجئے کہ جس نے ابن عربی کا حقیقی عقیدہ اپنایا، وہ بالا جماع کافر ہے، اس کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(الرد على القائلين بوحدة الوجود، ص 154 )
ابن عربی حاتمی کے رد میں بے شمار اہل علم نے کتابیں لکھی ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ صوفیا کی خاص اصطلاحات ہوتی ہیں، جنہیں علما اپنے علم ونظر سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جب ان اصطلاحات کے حقیقی معنی تک نہیں پہنچ پاتے تو ان صوفیا کی تکفیر کر دیتے ہیں ۔
ہمارے مطابق باطنی صوفیا نے دین اسلام کے مقابلہ میں نیا دین متعارف کرایا ، جس دین کی اپنی اصطلاحات ہیں، جن کا مقصد اسلامی عقائد واعمال کی بیخ کنی کرنا ہے، یقیناً علمائے حق ان کی کفریات سے اچھی طرح واقف تھے ۔ انہوں نے بجا طور پر ان کی تکفیر کی۔ صوفیا کا دین ایسا معمہ ہے، جو عیسائیوں کے عقیدۃ ثالت ثلاثہ کی طرح کبھی حل نہیں ہو گا۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️