ابراہیم علیہ السلام کی عظیم آزمائشیں اور امامت کا انعام

تحریر: عطاء اللہ سلفی

ابراہیم علیہ السلام اور آزمائش

( وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ)

اور ابراہیم (علیہ السلام) کو جب، اُن کے رب نے چند کلمات ( باتوں ) میں آزمایا تو وہ ان (سب) میں پورے اترے، اللہ نے فرمایا :

میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں ، ابراہیم (علیہ السلام ) نے عرض کیا :

اور ( کیا ) میری اولاد سے ( بھی یہی وعدہ ہے ) ؟ فرمایا:

میرا یہ وعدہ ظالموں سے نہیں ہے۔

(البقرہ:۱۲۴)

فقه القرآن:

① اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے سامنے ابراہیم علیہ السلام کی امامت ظاہر کرنے کے لئے بعض اوامر و نواہی میں انہیں آزمایا۔ اس آزمائش میں وہ ثابت قدم رہے اور کامیاب ہوئے ۔ اللہ نے انہیں قیامت تک تمام لوگوں کا امام و پیشوا بنا دیا۔

② عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ نے جن کلمات کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کو آزمایا، ان کا ذکر سورۃ الاحزاب ( آیت : ۳۵) سورۃ التوبہ (۱۱۲) اور سورۃ المؤمنون (۱ تا ۹) وسورۃ المعارج (۲۲ تا ۳۴ ) میں ہے۔ دیکھئے تفسیر ابن جریر الطبری (۴۱۴/۱ وسنده صحیح) تفسیر القرطبی (۹۷/۲)

③ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:

اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو طہارت ( کے احکام ) میں آزمایا، مسواک ، ناک میں پانی ڈالنا، کلی کرنا ، مونچھیں کتروانا اور سر کے درمیان میں چیر ڈالنا، ناخن تراشنا ، شرمگاہ کے بال مونڈنا، ختنہ کرنا، پیشاب اور قضائے حاجت کے بعد، پانی سے استنجاء کرنا اور بغلوں کے بال اُکھاڑ نا

(تفسیر عبدالرزاق ۱۱۶۷۶/۱وسنده صحیح تفسیر طبری ۴۱۴/۱، ۴۱۵)

سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے ختنہ کیا تھا ( موطا امام مالک ۹۲۲٫۲ ح ۷۷۵ا وسندہ صحیح) امام شعبی رحمہ اللہ (تابعی) بھی کلمات کی تشریح میں فتنے کاذکر کرتے ہیں

( تفسیر طبری ۴۱۶٫۱ وسندہ حسن )

④ حسن بصری (تابعی) رحمہ اللہ ان کلمات کی تفسیر میں : آگ میں پھینکا جانا، گھر بار سے ہجرت اور ختنہ بیان کرتے ہیں (تفسیر ابن جریر طبری ۴۱۶٫۱ وسندہ صحیح) اسی طرح اور بھی آزمائشیں ہیں جن میں ابراہیم علیہ السلام آزمائے گئے مثلاً والد کی ناراضی، اکلوتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کا حکم وغیرہ ، ان سب آزمائشوں میں ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوئے۔

⑤ اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ ظالمین یعنی مشرکین امام نہیں بن سکتے ، امام فراء (الخوی) فرماتے ہیں:

’’لا يكون للناس إمام مشرک‘‘

لوگوں کا امام مشرک نہیں ہو سکتا

(الوسیط للواحدی ج ا ص ۲۰۳ و معانی القرآن للفراء ۷۶/۱)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️