ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون اس بات کا تحقیقی جائزہ ہے کہ بریلوی مکتبِ فکر کے بعض افراد نے "ابدال” کے تصور میں اہلِ سنت کے ابدال (یعنی اہلِ علم و اصحابِ الحدیث) اور صوفیہ کے ابدال (اہلِ بدعت) کو ایک کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے اس مقصد کے لیے چند مرفوع روایات پیش کیں، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہے۔

اس تحقیق میں ہم:

❀ ہر پیش کردہ مرفوع روایت کی سند اور متن پر محدثین کے اقوال پیش کریں گے۔
❀ ضعیف، منکر یا موضوع روایت ہونے کی وضاحت کریں گے۔
❀ آخر میں محدثین و ائمہ کے اقوال سے بتائیں گے کہ "ابدال” سے اہلِ سنت کے ہاں کیا مراد ہے۔

📜 پہلی پیش کردہ روایت: انس بن مالکؓ والی روایت

اصل متن (المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث 4101):

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: نَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَنْ تَخْلُوَ الْأَرْضُ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِثْلَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَبِهِمْ يُسْقَوْنَ، وَبِهِمْ يُنْصَرُونَ، مَا مَاتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَبْدَلَ اللهُ مَكَانَهُ آخَرَ»

اردو ترجمہ:
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"زمین کبھی بھی چالیس ایسے آدمیوں سے خالی نہیں ہوگی جو ابراہیم خلیل الرحمٰنؑ کی مانند ہوں۔ انہی کی برکت سے لوگوں کو بارش پلائی جاتی ہے اور انہی کی وجہ سے مدد دی جاتی ہے۔ ان میں سے جب کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا لے آتا ہے۔”

① علت: اسحاق بن زریق الراسبی — مجہول الحال

❀ علامہ نور الدین ہیثمی:
عربی:

تفرّد به إسحاق بن زريق، قلت: ولم أجد من ترجمه، وبقية رجاله موثقون.
اردو:
اس کو اسحاق بن زریق نے منفرد طور پر روایت کیا ہے، اور میں نے اس کا کوئی تعارف (ترجمہ) نہیں پایا، باقی رجال موثق ہیں۔
حوالہ: مجمع الزوائد، 2/3156

② وضاحت: ابن حبان کا الثقات میں ذکر

کچھ لوگ اسحاق بن زریق کو الثقات میں ذکر ہونے کی وجہ سے ثقہ سمجھتے ہیں، مگر:

❀ حافظ ذہبی:
عربی:

ولا يفرح بذكر ابن حبان له في الثقات، فإن قاعدته معروفة من الاحتجاج بمن لا يعرف.
اردو:
ابن حبان کا کسی کو الثقات میں ذکر کرنا باعثِ اطمینان نہیں، کیونکہ وہ غیر معروف سے بھی استدلال کر لیتے ہیں۔
حوالہ: ميزان الاعتدال، رقم 6020

③ علامہ البانی کا حکم

❀ علامہ ناصر الدین البانی:
عربی:

تفرد به إسحاق بن رزيق الراسبي، ولم أجد له ترجمة في شيء من كتب الرجال… وعلى أن الراوي عنه علي بن سعيد — وهو الرازي — ضعيف.
اردو:
یہ روایت اسحاق بن رزیق الراسبی کے تفرد سے ہے، جس کا تعارف کسی بھی کتبِ رجال میں نہیں ملا… اور اس کا شیخ علی بن سعید الرازی بھی ضعیف ہے۔
حوالہ: سلسلة الأحاديث الضعيفة، 4341

📜 دوسری پیش کردہ روایت: عبادہ بن صامتؓ والی روایت

اصل متن (مسند أحمد، 22751 وغیرہ):

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ، مِثْلُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا»

اردو ترجمہ:
حضرت عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اس امت میں ابدال تیس (30) ہوں گے جو ابراہیم خلیل الرحمٰنؑ کی مانند ہوں گے۔ جب بھی ان میں سے کوئی فوت ہوگا اللہ اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا۔”

علت: عبدالواحد بن قیس — ضعیف اور منکر الحدیث

❀ حافظ ذہبی:
عربی:

عبد الواحد بن قيس… منكر الحديث.
اردو:
عبدالواحد بن قیس منکر الحدیث ہے۔
حوالہ: الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة، 3507

❀ امام بخاری:
عربی:

عبد الواحد بن قيس… قال يحيى القطان: كان الحسن بن ذكوان يحدث عنه بعجائب.
اردو:
عبدالواحد بن قیس کے بارے میں یحییٰ القطان نے کہا: حسن بن ذکوان اس سے عجیب و غریب روایات بیان کرتا تھا۔
حوالہ: كتاب الضعفاء للبخاري، 236

❀ ابن حبان:
عربی:

مِمَّن ينْفَرد بِالْمَنَاكِيرِ عَن الْمَشَاهِير، فَلَا يجوز الِاحْتِجَاج بِمَا خَالف الثِّقَات.
اردو:
یہ مشہور ثقہ رواۃ سے منکر روایات بیان کرنے میں منفرد ہے، اور جب یہ ثقہ کی مخالفت کرے تو اس سے احتجاج جائز نہیں۔
حوالہ: المجروحين لابن حبان، 768

❀ ابو حاتم الرازی:
عربی:

لا يعجبني حديثه.
اردو:
مجھے اس کی حدیث پسند نہیں۔
حوالہ: الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، 120

📜 تیسری پیش کردہ روایت: عبداللہ بن زریر الغافقیؒ والی روایت

اصل متن (المستدرك على الصحيحين للحاكم):

… عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ:
«سَتَكُونُ فِتْنَةٌ… فَإِنَّ فِيهِمُ الْأَبْدَالَ، وَعَنْ قَرِيبٍ يُسْقَى النَّاسُ بِهِمْ»

اردو ترجمہ:
عبداللہ بن زریر غافقی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو فرماتے ہوئے سنا:
"ایک فتنہ برپا ہوگا… اہل شام میں ابدال ہوں گے اور جلد ہی ان کے ذریعے لوگوں کو بارش پلائی جائے گی۔”

علت: عبداللہ بن زریر الغافقی — مجہول الحال

❀ امام بخاری:
عربی:

عبد الله بن زرير الغافقي… روى عنه أبو الخير مرثد… لا يعرف.
اردو:
عبداللہ بن زریر غافقی… ان سے ابوالخیر مرثد روایت کرتے ہیں… یہ لا یعرف ہیں (یعنی مجہول ہیں)۔
حوالہ: التاريخ الكبير للبخاري، 267

❀ ابن ابی حاتم:
عربی:

عبد الله بن زرير الغافقي… سَمِعَ عليًّا…
(ذِكْرٌ بلا جرح ولا تعديل)
اردو:
عبداللہ بن زریر غافقی… حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں… نہ جرح ذکر کی نہ تعدیل، اس لیے مجہول الحال۔
حوالہ: الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، 281

❀ ابن القطان الفاسی:
عربی:

عبد الله بن زرير… مجهول الحال.
اردو:
عبداللہ بن زریر… مجہول الحال ہے۔
حوالہ: بيان الوهم والإيهام، ابن القطان الفاسي

❀ حافظ ذہبی:
عربی:

عبد الله بن زرير الغافقي… لا يعرف.
اردو:
عبداللہ بن زریر غافقی… لا یعرف (یعنی مجہول) ہیں۔
حوالہ: ميزان الاعتدال، 10189

📜 چوتھی پیش کردہ روایت: عوف بن مالکؓ والی روایت (اہلِ شام میں ابدال)

اصل متن (المعجم الكبير للطبراني):

حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ…
«فِي أَهْلِ الشَّامِ الأَبْدَالُ، وَبِهِمْ تُنْصَرُونَ، وَبِهِمْ تُرْزَقُونَ»

اردو ترجمہ:
عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اہلِ شام میں ابدال ہوں گے، انہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جائے گا۔”

علتِ سند: عمرو بن واقد الدمشقی — منکر الحدیث

امام بخاری
عربی:

عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍمُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
اردو:
عمرو بن واقد منکر الحدیث ہے۔
حوالہ: التاريخ الكبير للبخاري (ترجمتِ عمرو بن واقد)

نتیجۂ علت:
◈ مرکزی راوی کے “منکر الحدیث” ہونے کی وجہ سے یہ روایت قابلِ احتجاج نہیں رہتی۔
◈ مزید برآں، سند میں شَهر بن حوشب پر بھی اعلٰی درجہ کے ائمہ نے کثرتِ اوہام/ارسال کی نشان دہی کی ہے؛ لہٰذا متن کی تقویت بھی میسّر نہیں آتی۔

📜 پانچویں پیش کردہ روایت: "الأبدال من الموالي …”

اصل متن (میزان الاعتدال، حافظ ذہبی):

أَخْبَرَنَاهُ سُلَيْمَانُ الْحَاكِمُ، … عَنِ الرِّجَالِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:
«الأَبْدَالُ مِنَ المَوَالِي، وَلَا يُبْغِضُ المَوَالِي إِلَّا مُنَافِقٌ»

اردو ترجمہ:
حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“ابدال موالی میں سے ہوں گے، اور موالی سے بغض صرف منافق رکھتا ہے۔”

علتِ سند: الرجال بن سالم — مجہول الحال

❀ حافظ ذہبی:
عربی:

الرِّجَالُ بْنُ سَالِمٍ… لا يُدْرَى مَنْ هُوَ، والخبر فمنكر.
اردو:
الرجال بن سالم… اس کی حقیقت معلوم نہیں (مجہول ہے)، اور یہ خبر منکر ہے۔
حوالہ: ميزان الاعتدال، رقم 2766

مزید ضعف:
◈ یہ روایت مرسل بھی ہے کیونکہ حضرت عطاء تابعی ہیں اور سند میں کوئی صحابی مذکور نہیں۔
◈ اس میں عطاء کی مرسل روایت ہونے کے ساتھ ساتھ مجہول راوی کا ہونا اسے سخت ضعیف بنا دیتا ہے۔

📜 چھٹی پیش کردہ روایت: "خِيار أمتي … والأبدال أربعون”

اصل متن (حلية الأولياء لأبي نعيم):

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَزَرِ الطَّبَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَارُونَ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «خِيَارُ أُمَّتِي فِي كُلِّ قَرْنٍ خَمْسُمِائَةٍ، وَالأَبْدَالُ أَرْبَعُونَ، فَلا الخَمْسُمِائَةُ يَنْقُصُونَ، وَلا الأَرْبَعُونَ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الخَمْسِمِائَةِ مَكَانَهُ، وَأَدْخَلَ مِنَ الأَرْبَعِينَ مَكَانَهُ»

اردو ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت کے ہر دور میں پانچ سو بہترین لوگ ہوں گے اور ابدال چالیس ہوں گے۔ ان میں سے کوئی بھی تعداد کم نہ ہوگی۔ جب بھی کوئی شخص فوت ہوگا تو اللہ پانچ سو میں سے اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، اور چالیس میں اس کی جگہ نیا شامل کرے گا۔”

① علت: سعید بن أبي زيد — مجہول

یہ راوی محدثین کے ہاں غیر معروف ہے اور معتبر توثیق ثابت نہیں۔

② علت: عبداللہ بن هارون الصوري — مجہول

❀ حافظ ذہبی:
عربی:

عبد الله بن هارون الصوري، عن الأوزاعي، لا يُعرف، والخبر كذب في أخلاق الأبدال.
اردو:
عبداللہ بن ہارون الصوری، جو اوزاعی سے روایت کرتا ہے، لا یعرف ہے (یعنی مجہول ہے)، اور ابدال کے بارے میں اس کی لائی ہوئی خبر جھوٹی ہے۔
حوالہ: ميزان الاعتدال، رقم 4661

📜 ساتویں پیش کردہ روایت: "علامة أبدال أمتي …”

اصل متن (الأولياء لابن أبي الدنيا):

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، يَرْفَعْهُ، قَالَ:
«عَلامَةُ أَبْدَالِ أُمَّتِي أَنَّهُمْ لَا يَلْعَنُونَ شَيْئًا أَبَدًا»

اردو ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت کے ابدال کی نشانی یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز پر کبھی لعنت نہیں کرتے۔”

① علت: عبدالرحمن بن محمد المحاربي — مدلس

❀ امام احمد بن حنبل:
عربی:

بلغنا أن المحاربي كان يدلس.
اردو:
ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ المحاربی تدلیس کرتا تھا۔
حوالہ: العلل ومعرفة الرجال، رقم 5597

② علت: بکر بن خنیس — متروک / ذاهب الحديث

❀ ابو زرعہ الرازی:
عربی:

بكر بن خنيس؟ قال: ذاهب.
اردو:
بکر بن خنیس؟ فرمایا: حدیث میں بالکل ناقابلِ اعتبار (ذاھب) ہے۔
حوالہ: سؤالات البرذعي لأبي زرعة، رقم 285

❀ حافظ ذہبی:
عربی:

بكر بن خنيس متروك.
اردو:
بکر بن خنیس متروک الحدیث ہے۔
حوالہ: تلخيص المستدرك، تعليق رقم 2973

📜 آٹھویں پیش کردہ روایت: "لن تخلو الأرض من ثلاثين مثل إبراهيم …”

اصل متن (المجروحين لابن حبان):

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ عَوْفٍ أَبُو عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءِ الْخَفَّافِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
«لَنْ تَخْلُوَ الأَرْضُ مِنْ ثَلاثِينَ مِثْلِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، بِهِمْ تُغَاثُونَ، وَبِهِمْ تُرْزَقُونَ، وَبِهِمْ تُمْطَرُونَ»

اردو ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"زمین کبھی بھی تیس ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہوگی جو ابراہیم خلیل الرحمٰنؑ کی مانند ہوں۔ انہی کے ذریعے تمہاری فریاد رسی کی جاتی ہے، انہی کے سبب تمہیں رزق دیا جاتا ہے، اور انہی کے ذریعے تم پر بارش برستی ہے۔”

علت: عبدالرحمن بن مرزوق بن عوف — وضّاع (حدیث گھڑنے والا)

❀ امام ابن حبان:
عربی:

شيخ… يضع الحديث، لا يحل ذكره إلا على سبيل القدح فيه.
اردو:
یہ شخص حدیث گھڑتا تھا، اور اس کا ذکر صرف جرح کی غرض سے کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ: المجروحين لابن حبان، ترجمہ رقم 605

نتیجہ:
◈ راوی کے وضّاع (کذاب) ہونے کی وجہ سے یہ روایت موضوع (گھڑی ہوئی) ہے۔

📜 نویں پیش کردہ روایت: "إن أبدال أمتي …”

اصل متن (شعب الإيمان للبيهقي):

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ صَالِحِ الْمُرِّيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:
«إِنَّ أَبْدَالَ أُمَّتِي لَمْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِالْأَعْمَالِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا دَخَلُوهَا بِرَحْمَةِ اللهِ، وَسَخَاوَةِ النُّفُوسِ، وَسَلَامَةِ الصُّدُورِ، وَرَحْمَةٍ لِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ»

اردو ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"یقیناً میری امت کے ابدال اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے، بلکہ وہ اللہ کی رحمت، دل کی سخاوت، سینوں کی سلامتی اور تمام مسلمانوں پر رحمت کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔”

 علت: صالح بن بشیر المري — منکر الحدیث

❀ امام بخاری:
عربی:

صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ أَبُو بَشَرٍ الْمِرِّيُّ… مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
اردو:
صالح بن بشیر ابو بشر المری… منکر الحدیث ہے۔
حوالہ: التاريخ الكبير للبخاري، رقم 2782

❀ امام نسائی:
عربی:

صَالِحُ الْمِرِّيُّ مَتْرُوكُ الحَدِيثِ بَصْرِيٌّ.
اردو:
صالح المری بصری، متروک الحدیث ہے۔
حوالہ: الضعفاء والمتروكون، نسائي، رقم 300

مزید ضعف:
◈ روایت حسن بصریؒ سے مرسل بھی ہے، اس لیے انقطاع بھی موجود ہے۔

📜 دسویں پیش کردہ روایت: "لا يزال أربعون رجلا …”

اصل متن (المعجم الكبير للطبراني):

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَحْدَبُ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ الْكَلْبِيُّ، ثنا الأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:
«لَا يَزَالُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ إِبْرَاهِيمَ، يَدْفَعُ اللهُ بِهِمْ عَنْ أَهْلِ الأَرْضِ، يُقَالُ لَهُمُ الأَبْدَالُ»

اردو ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہمیشہ میری امت میں چالیس ایسے لوگ رہیں گے جن کے دل ابراہیمؑ کے دل کی مانند ہوں گے، اللہ ان کے ذریعے اہلِ زمین سے مصیبت دور کرے گا، انہیں ابدال کہا جاتا ہے۔”

① علت: احمد بن داود المکی — مجہول

یہ راوی محدثین کے نزدیک غیر معروف ہے، اس کی معتبر توثیق نہیں ملتی۔

② علت: ثابت بن عیاش الأحدب اور ابو رجاء الکلبي — مجہول الحال

❀ علامہ نور الدین ہیثمی:
عربی:

رواه الطبراني من رواية ثابت بن عياش الأَحدب، عن أبي رجاء الكلبي، وكلاهما لم أَعْرِفْهُ، وبقية رجاله رجال الصحيح.
اردو:
طبرانی نے اسے ثابت بن عیاش الأَحدب، ابو رجاء الکلبي سے روایت کیا ہے، اور دونوں کو میں نہیں جانتا (یعنی یہ مجہول ہیں)، باقی رجال صحیح کے رجال ہیں۔
حوالہ: مجمع الزوائد، رقم 16675

③ مزید جرح: ابو رجاء الکلبي

❀ ابن عدی:
عربی:

يُرْوَى عَنْهُ أَحَادِيثُ غَيْرُ مَحْفُوظَة.
اردو:
اس سے غیر محفوظ احادیث روایت کی جاتی ہیں۔
حوالہ: الكامل في ضعفاء الرجال، رقم 664

📜 گیارہویں پیش کردہ روایت: "الأبدال أربعون رجلا وأربعون امرأة …”

اصل متن (كرامات الأولياء للخلال):

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الصَّابُونِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُمَرَ الْغَدَائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الأَبْدَالُ أَرْبَعُونَ رَجُلاً وَأَرْبَعُونَ امْرَأَةً، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللهُ مَكَانَهُ رَجُلاً، وَكُلَّمَا مَاتَتِ امْرَأَةٌ أَبْدَلَ اللهُ مَكَانَهَا امْرَأَةً»

اردو ترجمہ:
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ابدال چالیس مرد اور چالیس عورتیں ہیں۔ جب ان میں سے کوئی مرد وفات پاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسرا مرد لے آتا ہے، اور جب کوئی عورت وفات پاتی ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسری عورت لے آتا ہے۔”

① حکمِ حدیث: علامہ البانی

❀ علامہ ناصر الدین البانی:
عربی:

قلت: وهذا إسناد ضعيف مظلم، من دون عطاء لم أعرف أحدًا منهم.
اردو:
میں کہتا ہوں: اس کی سند ضعیف اور مبہم ہے، عطاء سے اوپر کے رواۃ میں سے کسی کو نہیں جانتا۔
حوالہ: سلسلة الأحاديث الضعيفة، تحت رقم متعلقہ

📜 بارہویں پیش کردہ روایت: "الأبدال بالشام …”

اصل متن (مسند الإمام أحمد):

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي شُرَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالُوا: الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «الأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللهُ مَكَانَهُ رَجُلًا، يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمِ الْعَذَابُ»

اردو ترجمہ:
حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ابدال شام میں ہوں گے، اور وہ چالیس مرد ہوں گے۔ جب کوئی فوت ہوگا تو اللہ اس کی جگہ دوسرا مرد لے آئے گا۔ انہی کے ذریعے بارش دی جاتی ہے، انہی کی وجہ سے دشمنوں پر مدد دی جاتی ہے، اور انہی کی برکت سے اہل شام سے عذاب ٹال دیا جاتا ہے۔”

① علت: سند میں انقطاع — شریح بن عبید کا علیؓ سے سماع ثابت نہیں

❀ شعیب الأرناؤوط:
عربی:

إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يُدرك عليًا.
اردو:
اس کی سند منقطع ہے کیونکہ شریح بن عبید کا حضرت علیؓ سے ملاقات ثابت نہیں۔
حوالہ: حاشیہ مسند أحمد

② علت: شریح بن عبید — مدلس

❀ علامہ نور الدین ہیثمی:
عربی:

شريح بن عبيد… ثقة مدلس، اختلف في سماعه من الصحابة لتدليسه.
اردو:
شریح بن عبید ثقہ مگر مدلس ہے، اور صحابہ سے اس کے سماع میں تدلیس کی وجہ سے اختلاف ہے۔
حوالہ: مجمع الزوائد، رقم 299

③ تصریحِ انقطاع — ابن عساکر

❀ ابن عساکر:
عربی:

فهذا منقطع بين شريح وعلي، فإنه لم يلقه.
اردو:
یہ روایت شریح اور حضرت علیؓ کے درمیان منقطع ہے کیونکہ اس کی ان سے ملاقات نہیں۔
حوالہ: تاريخ دمشق لابن عساكر

📜 محدثین کی تصریحات — ابدال والی تمام روایات کا ضعف یا بطلان

❀ محمد بن درویش شافعی (المتوفى 1277ھ)

عربی:

422 – حَدِيث: "الأبدال في هذه الأمة ثلاثون رجلاً، قلوبهم على قلب إبراهيم خليل الرحمن، كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلاً”.
رواه أحمد عن عبادة بن الصامت، وله روايات وطرقها ضعيفة.
اردو:
یہ حدیث "ابدال اس امت میں تیس ہوں گے…” کو امام احمد نے عبادہ بن صامتؓ سے روایت کیا ہے، اس کی تمام روایات اور طرق ضعیف ہیں۔
حوالہ: أسنى المطالب في أحاديث مختلفة المراتب

❀ حافظ ابن قیم الجوزیہ (المتوفى 751ھ)

عربی:

ومن ذلك أحاديث الأبدال، والأقطاب، والأغواث، والنقباء، والنجباء، والأوتاد، كلها باطلة على رسول الله ﷺ.
اردو:
ابدال، اقطاب، اغواث، نقباء، نجباء، اور اوتاد کے بارے میں جو روایات رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہیں، وہ سب کی سب باطل ہیں۔
حوالہ: المنار المنيف في الصحيح والضعيف، رقم 307

❀ ابن الجوزی (المتوفى 597ھ)

عربی:

… ليس في هذه الأحاديث شيء يصح.
اردو:
ابدال کے بارے میں ان احادیث میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔
حوالہ: الموضوعات لابن الجوزي

📜 اقوالِ تابعین و محدثین — ابدال کا اصل مفہوم

اس ضمن میں اکثر بریلوی حضرات کچھ اقوال بھی پیش کرتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص ابدال میں شمار ہوتا تھا۔ جیسے:

  • سعید بن ابی عروبہ کا قول کہ حسن بصری ابدال میں سے ہیں۔

  • امام ذہبی کا بعض حفاظ کو ابدال کہنا۔

  • امام شافعی کا کسی فاضل شخص کو ابدال میں شمار کرنا۔

❀ جواب:

یہ سب "ابدال اہل سنت” کے بارے میں ہے، جن سے مراد اہل علم اور اصحاب الحدیث ہیں، نہ کہ بدعتی صوفیہ کے ابدال۔

📜 محدثین کی وضاحت — ابدال = اہل الحدیث

① یزید بن ہارون (المتوفى 206ھ)

عربی:

سُئِلَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: مَنِ الأبدال؟ قال: أهل العلم.
اردو:
ان سے پوچھا گیا کہ ابدال کون ہیں؟ فرمایا: اہل علم۔
حوالہ: المجالسة وجواهر العلم

② امام احمد بن حنبل (المتوفى 241ھ)

عربی:

إن لم يكن أصحاب الحديث هم الأبدال، فمن يكون؟
اردو:
اگر ابدال سے مراد اصحاب الحدیث نہیں ہیں تو پھر کون ہیں؟
حوالہ: شرف أصحاب الحديث، للخطيب البغدادي

③ صالح بن محمد الرازي (ثقہ محدث)

عربی:

إذا لم يكن أصحاب الحديث هم الأبدال، فلا أدري من الأبدال.
اردو:
اگر ابدال اصحاب الحدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ ابدال کون ہیں۔
حوالہ: شرف أصحاب الحديث، للخطيب البغدادي — إسناد صحيح

📜 خلاصۂ مضمون

① بریلوی مکتبِ فکر کے بعض افراد نے اہلِ سنت کے "ابدال” (یعنی اصحاب الحدیث و اہلِ علم) کو صوفیہ کے ابدال کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کی۔
② اس مقصد کے لیے انہوں نے متعدد مرفوع روایات پیش کیں، لیکن تحقیق سے ثابت ہوا کہ ان میں سے کوئی بھی روایت سنداً صحیح نہیں۔
③ ان روایات میں مجہول الحال، ضعیف، متروک، مدلس اور حتیٰ کہ وضّاع (حدیث گھڑنے والے) رواۃ پائے گئے۔
④ محدثین جیسے بخاری، ابن حبان، نسائی، ذہبی، ابن عدی، اور البانی وغیرہ نے ان روایات یا ان کے رواۃ پر جرح کی ہے۔
⑤ ائمہ حدیث کے نزدیک "ابدال” کا اطلاق اہلِ علم، محدثین اور اصحاب الحدیث پر ہوتا ہے، نہ کہ بدعتی صوفیہ پر۔

⚖️ نتیجہ

❀ رسول اللہ ﷺ سے ابدال کے بارے میں کوئی بھی روایت صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں۔
❀ ابدال کا تصور صحیح تناظر میں وہی ہے جو محدثین و ائمہ نے بیان کیا: یعنی اہلِ علم اور اصحاب الحدیث۔
❀ ان ضعیف و موضوع روایات سے عقیدہ یا فضیلت ثابت کرنا علمی اصولوں کے خلاف ہے۔

اہم حوالاجات کے سکین

ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 01 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 02 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 03 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 04 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 05 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 06 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 07 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 08 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 09 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 10 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 11 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 12 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 13 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 14 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 15 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 16 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 17 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 18 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 19 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 20 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 21 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 22 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 23 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 24 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 25 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 26 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 27 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 28 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 29 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 30 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 31 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 32 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 33 ابدال پر پیش کردہ 12 مرفوع روایات کا سندی جائزہ – 34