أصول حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

أصول حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم

اُصولِ حدیث کا مشہور و معروف مسئلہ ہے کہ مدلس راوی (یعنی جس کا مدلس ہونا ثابت ہو) کی عن والی روایت نا قابل حجت یعنی ضعیف ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں محدثین کرام، علمائے حدیث اور دیگر علماء کے چالیس (40) حوالے مع ثبوت پیش خدمت ہیں:
① امام ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 204ھ) نے فرمایا:
فقلنا: لا نقبل من مدلس حديثا حتى يقول فيه: حدثني أو سمعت.
پس ہم نے کہا: ہم کسی مدلس سے کوئی حدیث قبول نہیں کرتے حتی کہ وہ حدثنی یا سمعت کہے یعنی سماع کی تصریح کرے۔ (کتاب الرسالہ طبع المطبعة الکبری الامیر یہ بولاق 1321ھ ص 53، تحقیق احمد شاکر: 1035)
کتاب الرسالہ اصولِ فقہ اور اصولِ حدیث بلکہ اصول دین کی قدیم اور عظیم الشان کتابوں میں سے ہے اور متعدد علماء نے اس کی شروح لکھی ہیں۔
② امام عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ (متوفی 198ھ) کتاب الرسالہ کو پسند کرتے تھے۔
دیکھیے الطیوریات (ج 2 ص 761 ح 681 وسندہ صحیح)
ثابت ہوا کہ عبد الرحمن بن مہدی کے نزدیک بھی مدلس کی عن والی روایت قابل قبول نہیں ہے۔
③ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (متوفی 241ھ) کتاب الرسالہ سے راضی تھے۔ دیکھیے کتاب الجرح والتعدیل (204/7 وسندہ صحیح، امام شافعی اور مسئلہ تدلیس، فقرہ:2)
اور فرماتے تھے کہ یہ اُن کی سب سے اچھی کتابوں میں سے ہے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر 291/54 وسند صحیح)
④ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (متوفی 238ھ) بھی کتاب الرسالہ سے متفق تھے۔
دیکھیے فقرہ: 3، اور ”امام شافعی رحمہ اللہ اور مسئلہ تدلیس“
⑤ امام اسماعیل بن یحیی المزنی رحمہ اللہ (متوفی 264ھ) بھی کتاب الرسالہ کے موید تھے۔ (مقدمة الرسالہ ص 73 روایت ابن الا کفانی 54 وسندہ حسن)
⑥ مشہور محدث ابوبکر البہیقی رحمہ اللہ (متوفی 458ھ) نے امام شافعی کا مذکورہ کلام (فقرہ:1) نقل کیا اور اس پر سکوت کے ذریعے سے اس کی تائید فرمائی۔
دیکھیے معرفة السنن والآثار (76/1) اور النکت للزرکشی (ص 191)
⑦ صحیح مسلم کے مصنف امام مسلم رحمہ اللہ (متوفی 261ھ) نے فرمایا:
و إنما كان تفقد من تفقد منهم سماع رواة الحديث ممن روى عنهم – إذا كان الراوي ممن عرف بالتدليس فى الحديث و شهر به فحينئذ يبحثون عن سماعه فى روايته و يتفقدون ذلك منه، كي تنزاح عنهم علة التدليس
جس نے بھی راویان حدیث کا سماع تلاش کیا ہے تو اس نے اس وقت تلاش کیا ہے جب راوی حدیث میں تدلیس کے ساتھ معروف (معلوم) ہو اور اس کے ساتھ مشہور ہو تو اس وقت روایت میں اس کا سماع دیکھتے ہیں اور تلاش کرتے ہیں تا کہ راویوں سے تدلیس کا ضعف دور ہو جائے۔ (مقدمہ صحیح مسلم طبع دار السلام ص 22 ب)
اس عبارت کی تشریح میں ابن رجب حنبلی نے لکھا ہے:
و هذا يحتمل أن يريد به كثرة التدليس فى حديثه ويحتمل أن يريد [به] ثبوت ذلك عنه و صحته فيكون كقول الشافعي
اور اس میں احتمال ہے کہ اس سے حدیث میں کثرت تدلیس مراد ہو، اور (یہ بھی) احتمال ہے کہ اس سے تدلیس کا ثبوت مراد ہو، تو یہ شافعی کے قول کی طرح ہے۔ (شرح علل الترمذی ج 1 ص 354)
عرض ہے کہ اس سے دونوں مراد ہیں یعنی اگر راوی کثیر التدلیس ہو تو بھی اس کی معنعن روایت (اپنی شروط کے ساتھ) ضعیف ہوتی ہے، اور اگر راوی سے (ایک دفعہ ہی) تدلیس ثابت ہو جائے تو پھر بھی اس کی معنعن روایت (اپنی شروط کے ساتھ) ضعیف ہوتی ہے۔
ثابت ہوا کہ امام مسلم کے نزدیک مدلس کی معنعن (عن والی) روایت حجت نہیں ہے۔
⑧ خطیب بغدادی رحمہ اللہ (متوفی 463ھ) نے فرمایا:
و قال آخرون: خبر المدلس لا يقبل إلا أن يورده على وجه مبين غير محتمل لإيهام فإن أورده على ذلك قبل، و هذا هو الصحيح عندنا.
اور دوسروں نے کہا: مدلس کی خبر (روایت) مقبول نہیں ہوتی الا یہ کہ وہ وہم کے احتمال کے بغیر صریح طور پر تصریح بالسماع کے ساتھ بیان کرے، اگر وہ ایسا کرے تو اس کی روایت مقبول ہے اور ہمارے نزدیک یہی بات صحیح ہے۔ (الکفایہ فی علم الروایہ ص 361)
الکفایہ اصولِ حدیث کی مشہور اور مستند کتابوں میں سے ہے۔
⑨ حافظ ابن حبان البستی رحمہ اللہ (متوفی 354ھ) نے فرمایا:
فما لم يقل المدلس و إن كان ثقة: حدثني أو سمعت فلا يجوز الإحتجاج بخبره، و هذا أصل أبى عبد الله محمد بن إدريس الشافعي – رحمه الله و من تبعه من شيوخنا.
پس جب تک مدلس، اگر چہ ثقہ ہو، حدثنی یا سمعت نہ کہے (یعنی سماع کی تصریح نہ کرے) تو اس کی روایت سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے اور یہ ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کی اصل (بنیادی اصول) ہے اور ہمارے اساتذہ کا اصول ہے جنھوں نے اس میں اُن کی اتباع (یعنی موافقت) کی ہے۔ (کتاب المجروحین ج 1 ص 92، دوسرا نسخہ ج 1 ص 86)
نیز دیکھیے صحیح ابن حبان (الاحسان ح 161/1، دوسرا نسخہ ح1/90)
حافظ ابن حبان نے مزید فرمایا:
فإن المدلس ما لم يبين سماع خبره عمن كتب عنه لا يجوز الإحتجاج بذلك الخبر، لأنه لا يدرى لعله سمعه من إنسان ضعيف يبطل الخبر بذكره إذا وقف عليه و عرف الخبر به فما لم يقل المدلس فى خبره و إن كان ثقة: سمعت أو حدثني، فلا يجوز الإحتجاج بخبره
پس مدلس جب تک اپنے استاذ سے سماع کی تصریح نہ کرے تو اس کی اس روایت سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ پتا نہیں کہ شاید اس نے کسی ضعیف انسان سے سنا ہو، جس کے معلوم ہو جانے سے خبر (روایت) باطل ہو جاتی ہے۔ پس مدلس اگر چہ ثقہ ہو اپنی روایت میں سمعت یا حدثنی نہ کہے تو اس کی روایت سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔ (کتاب الثقات ج 1 ص 12)
⑩ حافظ ابن الصلاح الشهر زوری الشافعی (متوفی 643ھ) نے کہا:
والحكم بأنه لا يقبل من المدلس حتى يبين، قد أجراه الشافعي رضى الله عنه فيمن عرفناه دلس مرة. والله أعلم
اور حکم (فیصلہ) یہ ہے کہ مدلس کی روایت تصریح سماع کے بغیر قبول نہ کی جائے، اسے شافعی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں جاری فرمایا ہے جس نے ہماری معلومات کے مطابق صرف ایک دفعہ تدلیس کی ہے۔ واللہ اعلم (مقدمة ابن الصلاح مع التقييد والإيضاح للعراقی ص 99، دوسرا نسخہ ص 161)
مقدمہ ابن الصلاح یا علوم الحدیث (معرفتہ انواع علم الحدیث) اُصولِ حدیث کی مشہور و معروف کتاب ہے اور اسے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ مثلاً دیکھیے ارشاد طلاب الحقائق للنووی (1/108) المنتصل الروى لابن جماعہ (ص 26) اختصار علوم الحدیث لابن کثیر (95/1-96) اور انتقید والإيضاح (ص 11) نزھة النظر لابن حجر (ص 5-6) اور البحر الذي زخر للسیوطی (235/1) وغیرہ۔
⑪ علامہ یحییٰ بن شرف النووی (متوفی 677ھ) نے فرمایا:
فما رواه بلفظ محتمل لم يبين فيه السماع فمرسل … و هذا الحكم جار فيمن دلس مرة.
پس وہ (مدلس راوی) ایسے لفظ سے روایت بیان کرے جس میں احتمال ہو، سماع کی تصریح نہ ہو تو وہ مرسل ہے۔۔۔ اور یہ حکم اس کے بارے میں جاری ہے جو ایک دفعہ تدلیس کرے۔ (التقريب للنووی فی اصول الحدیث ص 9 نوع 12، تدریب الراوی للسیوطی 229/1-230)
مرسل کے بارے میں نووی نے کہا:
ثم المرسل حديث ضعيف عند جماهير المحدثين…
پھر (یہ کہ) مرسل ضعیف حدیث ہے، جمہور محدثین کے نزدیک… (التقريب للنووی ص 7 نوع 9)
⑫ حافظ ابن عبد البر (متوفی 463ھ) نے فرمایا:
وكذلك من عرف بالتدليس المجتمع عليه و كان من المسامحين فى الأخذ عن كل أحد، لم يحتج بشيء مما رواه حتى يقول: أخبرنا أو سمعت
اور اسی طرح جو شخص اس تدلیس کے ساتھ معلوم ہو جائے، جس پر اجماع ہے (کہ وہ تدلیس ہے) اور وہ ان نرمی کرنے والوں میں سے ہو جو ہر ایک سے روایت لے لیتے ہیں، اس نے جو بھی روایت بیان کی اس میں سے کسی کے ساتھ بھی حجت نہیں پکڑی جائے گی الا یہ کہ وہ ”أخبرنا یا سمعت“ کہے یعنی سماع کی تصریح کرے۔ (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد 1/17)
اس سے ثابت ہوا کہ ضعیف راوی سے روایت کرنے والے مدلس کی غیر مصرح بالسماع (عن والی) روایت حافظ ابن عبد البر کے نزدیک حجت نہیں یعنی ضعیف ہے۔
ہمارے علم کے مطابق تمام ثابت شدہ مدلسین میں سے کوئی ایک مدلس بھی ایسا نہیں جو ضعیف راوی سے روایت بیان نہیں کرتا تھا۔
تنبیہ: حافظ ابن حبان وغیرہ کا یہ دعویٰ کہ سفیان بن عیینہ صرف ثقہ سے تدلیس کرتے تھے کئی وجہ سے غلط ہے۔ مثلاً:
➊ یہ قاعدہ کلیہ نہیں بلکہ بعض اوقات سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ غیر ثقہ سے بھی تدلیس کر لیتے تھے۔
➋ سفیان بن عیینہ جن ثقہ راویوں سے تدلیس کرتے تھے، ان میں سے بعض بذات خود مدلس تھے اور اُن کا صرف ثقہ سے تدلیس کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، لہذا یہاں تدلیس پر تدلیس کا شبہ ہے۔
➌ سفیان بن عیینہ ضعیف راویوں سے بھی روایتیں بیان کرتے تھے، مثلاً اُن کے اساتذہ میں علی بن زید بن جدعان (ضعیف راوی) بھی ہے۔
حافظ ابن عبد البر نے مزید فرمایا: إلا أن يكون الرجل معروفا بالتدليس فلا يقبل حديثه حتى يقول: حدثنا أو سمعت، فهذا لا أعلم فيه أيضا خلافا.
سوائے اس کے کہ (اگر) آدمی تدلیس کے ساتھ مشہور ہو تو اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی الا یہ کہ وہ حدثنا یا سمعت کہے (یعنی سماع کی تصریح کرے) اس کے بارے میں مجھے کوئی اختلاف معلوم نہیں ہے۔ (التمہید1/ 13)
حافظ ابن عبد البر نے معنعن (عن والی) روایت کے مقبول ہونے کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں، جن پر اجماع ہے۔
◈ تمام راوی عادل یعنی ثقہ وضابط ہوں۔
◈ ہر راوی کی اپنے استاذ سے ملاقات ثابت ہو۔
◈ تمام راوی تدلیس سے بری ہوں۔ (التمہید 12/1)
⑬ ابوبکر الصیرفی (متوفی 330ھ) نے کتاب الرسالہ للشافعی کی شرح کتاب الدلائل والاعلام میں فرمایا: كل من ظهر تدليسه عن غير الثقات لم يقبل خبره حتى يقول: حدثني أو سمعت.
ہر وہ شخص جس کی تدلیس غیر ثقہ راویوں سے ظاہر ہو جائے تو اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی، الا یہ کہ وہ حدثنی یا سمعت کہے یعنی سماع کی تصریح کرے۔ (النکت علی مقدمہ ابن الصلاح للزرکشی ص 184)
نیز دیکھیے امام شافعی رحمہ اللہ اور مسئلہ تدلیس (ص 11-12)
⑭ حافظ ذہبی نے معنعن روایت (جس میں عن عن ہو) کے بارے میں فرمایا:
ثم بتقدير تيقن اللقاء يشترط أن لا يكون الراوي عن شيخه مدلسا فإن لم يكن حملناه على الاتصال. فإن كان مدلسا فالأظهر أنه لا يحمل على السماع. ثم إن كان المدلس عن شيخه ذا تدليس عن الثقات فلا بأس وإن كان ذا تدليس عن الضعفاء فمردود
پھر اگر ملاقات کا یقین ہو تو اس حالت میں شرط یہ ہے کہ راوی اپنے استاذ سے مدلس (تدلیس کرنے والا) نہ ہو، پس اگر وہ نہ ہو تو ہم اسے (عن والی روایت کو) اتصال پر محمول کرتے ہیں۔ پس اگر وہ مدلس ہو تو ظاہر یہی ہے کہ وہ سماع پر محمول نہیں ہے۔ پھر اگر اپنے استاذ سے مدلس ایسا ہو جو ثقہ راویوں سے تدلیس کرتا تھا تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ ضعیف راویوں سے تدلیس کرتا تھا تو (اس کی عن والی روایت) مردود ہے۔ (الموقظة للذہبی مع كفاية الحفظہ لسلیم بن عید الہلالی ص 199 تحقیق حاتم بن عارف العوفی ص 132 نسخه ابی غدہ عبد الفتاح ص 45)
یہاں بطور فائدہ عرض ہے کہ ثقہ راویوں سے تدلیس کرنے والوں کی مثال (دنیائے تدلیس میں) صرف سفیان بن عیینہ ہیں اور اُن کی معنعن روایت بھی دو وجہ سے ضعیف ہے، جیسا کہ فقرہ نمبر 12 میں بیان کر دیا گیا ہے۔
حافظ ذہبی کے درج بالا بیان سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اُن کے نزدیک سفیان بن عیینہ کے علاوہ تمام مدلسین مثلاً سفیان ثوری اور سلیمان الاعمش وغیرہما کی عن والی روایات (اپنی شرائط کے ساتھ) ضعیف و مردود ہیں۔
⑮ حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا:
وحكم من ثبت عنه التدليس إذا كان عدلا، أن لا يقبل منه إلا ما صرح فيه بالتحديث على الأصح
صحیح ترین بات یہ ہے کہ جس راوی سے تدلیس ثابت ہو جائے، اگر چہ وہ عادل (ثقہ) ہو تو اُس کی صرف وہی روایت مقبول ہوتی ہے جس میں وہ سماع کی تصریح کرے۔ (نزهة النظر شرح نخبة الفکر ص 66، ومع شرح الملاعلی القادری ص 419)
⑯ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک روایت پر کلام کرتے ہوئے فرمایا:
ولم يذكر قتادة سماعا من أبى نضرة فى هذا.
اور قتادہ نے ابو نضرہ سے اس روایت میں اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا۔ (جزء القراءۃ 104)
معلوم ہوا کہ امام بخاری کے نزدیک مدلس کا سماع کی تصریح نہ کرنا صحت حدیث کے منافی ہے۔
⑰ امام شعبہ رحمہ اللہ (متوفی 120ھ) نے اپنے مدلس استاد قتادہ رحمہ اللہ کے بارے میں فرمایا: میں قتادہ کے منہ کو دیکھتا رہتا، جب آپ کہتے: میں نے سنا ہے یا فلاں نے ہمیں حدیث بیان کی تو میں اسے یاد کر لیتا اور جب وہ کہتے: فلاں نے حدیث بیان کی، تو میں اسے چھوڑ دیتا تھا۔ (تقدمة الجرح والتعدیل ص 169، وسندہ صحیح)
اس سے معلوم ہوا کہ امام شعبہ رحمہ اللہ بھی مدلس کی سماع کے بغیر والی روایت حجت نہیں سمجھتے تھے۔ نیز دیکھیے میری کتاب علمی مقالات (ج 1 ص 261-262)
⑱ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (متوفی 311ھ) نے ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے اسے معلول (یعنی ضعیف) قرار دیا اور فرمایا:
دوسری بات یہ ہے کہ اعمش مدلس ہیں (اور) انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے اپنے سماع (سننے) کا ذکر نہیں کیا۔ الخ (کتاب التوحید ص 38 علمی مقالات ج 3 ص 220)
اس سے ثابت ہوا کہ امام ابن خزیمہ بھی مدلس کی عن والی روایت کو معلول یعنی ضعیف سمجھتے تھے۔
⑲ حافظ ابن الملقن (متوفی 804ھ) نے بھی تدلیس کے بارے میں حافظ ابن الصلاح کے حکم کو برقرار رکھا اور کوئی مخالفت نہیں کی۔
دیکھیے المفتع فی علوم الحدیث (158/1) اور فقرہ:10
⑳ حافظ ابن کثیر (متوفی 774ھ) نے تدلیس کے بارے میں امام شافعی کا قول نقل کیا اور اس کی کوئی مخالفت نہیں کی۔ دیکھیے اختصار علوم الحدیث (174/1، نوع 12)
㉑ حافظ العراقی (متوفی 806ھ) نے ابن الصلاح کا قول: مالم يبين فيه المدلس الاتصال حكمه حكم المرسل ذکر کیا اور اس پر کوئی رد نہیں کیا۔
دیکھیے التقييد والإيضاح (ص99)
اور عراقی نے فرمایا:
و صححوا وصل معنعن سلم، من دلسة راويه واللقا علم
اور انھوں (محدثین) نے اس معنعن روایت کو موصول صحیح قرار دیا، جو راوی کی تدلیس (عن) سے محفوظ ہو (اور استاذ شاگرد کی) ملاقات معلوم ہو۔ (الفیة العراقی شعر 136، فتح المغیث شرح الفیة الحدیث 163/1)
عراقی نے مزید فرمایا:
والأكثرون قبلوا ما صرحا، ثقاتهم وصححا
اور جمہور نے ثقہ مدلس راویوں کی ان روایتوں کو صحیح قرار دیا ہے جن میں وہ سماع کی تصریح کریں اور دونوں (خطیب وابن الصلاح) نے اس قول کو صحیح قرار دیا ہے۔ (الفیة العراقی مع فتح المغیث 1/179)
㉒شریف جرجانی یعنی علی بن محمد بن علی الحسینی (متوفی 816ھ) نے مدلس راوی کے بارے میں کہا:
والأصح التفصيل: فما رواه بلفظ محتمل لم يبن فيه السماع فحكمه حكم المرسل و أنواعه
اور صحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے: پس وہ ایسے الفاظ سے روایت بیان کرے جس میں سماع واضح نہ ہو، احتمال ہو تو اس کا حکم مرسل اور اس کی اقسام کا حکم ہے۔ (رسالہ فی اصول الحدیث ص 91، الديباج المذهب مع شرح التبریزی ص 41)
مرسل ضعیف روایت ہوتی ہے جیسا کہ امام مسلم، امام ترمذی اور جمہور محدثین کا فیصلہ ہے۔ جرجانی نے معنعن روایت کے بارے میں کہا:
والصحيح أنه متصل إذا أمكن اللقاء مع البراءة عن التدليس
اور صحیح یہ ہے کہ وہ متصل ہے، بشرطیکہ ملاقات ممکن ہو اور راوی تدلیس سے بری ہو۔ (رسالہ فی اصول الحدیث ص 78 الدیباج المذهب مع شرح التبریزی ص 28)
㉓ بدر الدین محمد بن ابراہیم بن جماعہ (متوفی 733ھ) نے معنعن روایت کے بارے میں کہا:
والصحيح الذى عليه جماهير العلماء والمحدثين والفقهاء والأصوليين أنه متصل إذا أمكن لقاؤهما مع براءتهما من التدليس
اور صحیح یہ ہے، جس پر جمہور علماء، محدثین، فقہاء اور اصول کے ماہرین (متفق) ہیں کہ وہ متصل ہے بشرطیکہ ملاقات ممکن ہو اور استاذ شاگرد دونوں تدلیس سے بری ہوں۔ (المنھل الروى في مختصر علوم الحديث النبوي ص 54)
اس سے ثابت ہوا کہ قاضی ابن جماعہ مدلس کے عنعنے کو صحت حدیث کے منافی سمجھتے تھے۔
㉔ حسین بن عبد اللہ الطیبی (متوفی 743ھ) نے اصولِ حدیث والے رسالے میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اصول درج فرمایا اور کوئی تردید نہیں کی، لہذا وہ اس مسئلے میں امام شافعی سے متفق تھے۔ دیکھیے الخلاصۃ فی اصول الحدیث (ص72)
㉕ سیوطی نے معنعن کے بارے میں کہا:
ومن روى بعن وأن فاحكم ، بوصله إن اللقاء يعلم ،ولم يكن مدلسا
اور جو” عن“ اور ”ان“ سے روایت بیان کرے تو اُس کے متصل ہونے کا فیصلہ کرو، بشرطیکہ ملاقات معلوم ہو اور وہ مدلس نہ ہو… (الفیة السیوطی مع شرح احمد شاکر ص 28-29)
سیوطی نے مدلس کے بارے میں کہا:
والمرتضى قبولهم إن صرحوا بالوصل فالأكثر هذا صححوا
اور اگر وہ سماع کی تصریح کریں تو ان کی روایت مقبول ہے، جمہور نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (الفیة السیوطی ص 31)
㉖عمر بن رسلان البلقینی (متوفی 805ھ) نے مقدمہ ابن الصلاح کی شرح میں تدلیس کے بارے میں امام شافعی کا قول نقل کیا اور کوئی مخالفت نہیں کی، لہذا یہ ان کی طرف سے اصول مذکور کی موافقت ہے۔ دیکھیے محاسن الاصطلاح (ص 235)
㉗ ابراہیم بن موسی بن ایوب الابناسی (متوفی 802ھ) نے بھی امام شافعی کے مذکورہ اصول کو نقل کیا اور کوئی مخالفت نہیں کی، لہذا یہ ان کی طرف سے اصول مذکور کی تائید ہے۔ دیکھیے الشذی الفیاح (ج 1 ص177)
㉘ عینی نے کہا: اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ اُس کی تصریح سماع دوسری سند سے ثابت ہو جائے۔ (عمدۃ القاری 112/3، الحدیث حضرو: 66 ص 27)
اور کہا: وقد اتفقوا على أن المدلس إذا قال: عن، لا يحتج به إلا أن يثبت من طريق آخر أنه سمع ذلك الحديث من ذلك الشخص
اور اس پر ان کا اتفاق ہے کہ مدلس جب عن کہے تو حجت نہیں ہے الا یہ کہ دوسری سند سے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ حدیث اُس شخص نے (اپنے استاذ) سے سنی ہے۔ (شرح سنن ابی داود العینی ج 1 ص 255 ح 92)
㉙ کرمانی نے کہا: اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ دوسری سند سے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ (شرح الکرمانی صحیح البخاری ج 3 ص 62 تحت ح 214)
㉚ قسطلانی نے کہا: اور مدلس کا عنعنہ قابل حجت نہیں ہوتا الا یہ کہ اس کے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ (ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ج 1 ص 286)
㉛ السبط ابن العجمی نے کہا:
والصحيح التفصيل … و إن أتى بلفظ يحتمل فحكمه حكم المرسل
اور صحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے… اور اگر وہ (مدلس) ایسے الفاظ بیان کرے جن میں احتمال ہو تو اس کا حکم مرسل کا حکم ہے۔ (التبین لاسماء المدلسین ص 12)
یعنی مدلس کی غیر مصرح بالسماع روایت مرسل (منقطع) کی طرح ہے، یاد رہے کہ جمہور محدثین کے نزدیک مرسل روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہوتی ہے۔
㉜ ابن القطان الفاسی نے کہا: و معنعن الأعمش عرضة لتبين الإنقطاع فإنه مدلس
اور اعمش کی معنعن (عن والی) روایت انقطاع بیان کرنے کا نشانہ اور ہدف ہے، کیونکہ وہ مدلس ہیں۔ (بیان الوهم والإيهام 435/2 ح441)
معلوم ہوا کہ مدلس کی عن والی روایت کو ابن القطان منقطع سمجھتے تھے۔
㉝ محمد بن فضیل بن غزوان (متوفی 195ھ) نے فرمایا: مغیرہ (بن مقسم) تدلیس کرتے تھے، پس ہم اُن سے صرف وہی روایت لکھتے جس میں وہ حدثنا ابراہیم کہتے تھے۔ (مسند علی بن الجعدا 430/1 ح 663 وسندہ حسن، دوسرا نسخہ: 644)
معلوم ہوا کہ محمد بن فضیل بھی مدلس کی غیر مصرح بالسماع یعنی معنعن روایت کو ضعیف و مردود سمجھتے تھے۔
㉞ابن رشید الفہری (متوفی 721ھ) نے کہا:
أما من عرف بالتدليس فمعرفته بذلك كافية فى التوقف فى حديثه حتى يتبين الأمر.
مگر جو تدلیس کے ساتھ معروف (یعنی معلوم) ہو تو یہ معلوم ہو جانا اس کے لئے کافی ہے کہ اس کی حدیث میں توقف کیا جائے الا یہ کہ معاملہ واضح ہو جائے /یعنی تصریح سماع ثابت ہو جائے۔ (السنن الابین ص 66)
㉟ امام یعقوب بن شیبہ رحمہ اللہ (متوفی 262ھ) نے فرمایا:
فأما من دلس عن غير ثقة و عمن لم يسمع هو منه فقد جاوز حد التدليس الذى رخص فيه من رخص من العلماء
پس جو شخص غیر ثقہ سے تدلیس کرے اور اس سے جس سے اُس نے اسے نہیں سنا تو اس شخص نے تدلیس کی حد میں تجاوز کر لیا، جس کے بارے میں علماء نے اجازت دی تھی۔ (الکفایہ ص 362 وسند صحیح)
معلوم ہوا کہ یعقوب بن شیبہ کے نزدیک مدلس کی عن والی روایت اور اسی طرح مرسل خفی دونوں ضعیف و غیر مقبول ہیں۔
㊱ سخاوی نے عراقی کے قول أثبته بمرة کی تشریح میں کہا:
و بيان ذلك أنه بثبوت تدليسه مرة صار ذلك هو الظاهر من حاله فى معنعناته كما إنه ثبوت اللقاء مرة صار الظاهر من حاله السماع، و كذا من عرف بالكذب فى حديث واحد صار الكذب هو الظاهر من حاله و سقط العمل بجميع حديثه مع جواز كونه صادقا فى بعضه
اور اس کی تشریح یہ ہے کہ اس کی ایک دفعہ تدلیس کے ثبوت سے اُس کی (تمام) معنعن روایات میں اس کا ظاہر حال یہی بن گیا (کہ وہ مدلس ہے) جیسا کہ ایک دفعہ ملاقات کے ثبوت سے (غیر مدلس کا) ظاہر حال یہ ہوتا ہے کہ اُس نے (اپنے استاد سے) سنا ہے، اور اسی طرح اگر کسی آدمی کا (صرف) ایک حدیث میں جھوٹ معلوم ہو جائے تو اس کا ظاہر حال یہی بن جاتا ہے (کہ وہ جھوٹا ہے) اور اس کی تمام احادیث پر عمل ساقط ہو جاتا ہے، اس جواز کے ساتھ کہ وہ اپنی بعض روایات میں سچا ہو سکتا ہے۔ (فتح المغیث شرح الفیة الحدیث ج 1 ص 193)
دو اہم دلیلیں بیان کر کے سخاوی نے امام شافعی کی تائید کر دی اور ان لوگوں میں شامل ہو گئے جو مدلس کی عن والی روایت نہیں مانتے، چاہے اُس نے ساری زندگی میں صرف ایک دفعہ تدلیس کی ہو۔
㊲ عبد الرؤف المناوی (صوفی) نے کہا:
و عنعنة المعاصر محمولة على السماع عند المتقدمين كمسلم و ادعي فيه الإجماع و بخلاف غير المعاصر فإنها تكون مرسلة أو منقطعة و شرط حملها على السماع ثبوت المعاصرة إلا من المدلس فإنها غير محمولة على السماع.
متقدمین مثلاً (امام) مسلم کے نزدیک معاصر کی عن والی روایت سماع پر محمول ہوتی ہے اور انھوں (مسلم) نے اس میں اجماع کا دعویٰ کیا ہے، اور اس کے برخلاف غیر معاصر کی روایت مرسل یا منقطع ہوتی ہے اور اس کو سماع پر محمول کرنے کی شرط معاصرت (ہم عصر ہونے) کا ثبوت ہے، سوائے مدلس کے اس کا عنعنہ سماع پر محمول نہیں ہے۔ (الیواقیت والدرر فی شرح نخبة الفکر 1/210، المکتبة الشاملة)
㊳ زکریا الانصاری (متوفی 926ھ) نے عراقی کا قول والشافعي أثبته بمرة نقل کیا اور اس کی کوئی مخالفت نہیں کی۔
دیکھیے فتح الباقی بشرح الفیة العراقی (ص169-170)
㊴ امام یحیی بن سعید القطان نے فرمایا:
میں نے سفیان (ثوری) سے صرف وہی کچھ لکھا ہے جس میں وہ حدثنی یا حدثنا کہتے تھے… (کتاب العلل و معرفة الرجال لامام احمد 207/1 ت 1130، وسندہ صحیح امام شافعی رحمہ اللہ اور مسئلہ تدلیس ص 15)
㊵ ابن الترکمانی (حنفی) نے ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھا ہے:
اس میں تین علتیں (وجہ ضعف) ہیں: ثوری مدلس ہیں اور انھوں نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے…. (الجوہر النفی 262/8، الحدیث حضرو: 67 ص 17)
اصول حدیث، شروحِ حدیث، محدثین کرام اور دیگر علماء کی مذکورہ تصریحات سے ثابت ہوا کہ مدلس راوی کی عن والی روایت ضعیف و مردود ہوتی ہے۔
جس طرح بعض اصول و قواعد میں تخصیصات ثابت ہو جانے کے بعد عام کا حکم عموم پر جاری رہتا ہے اور خاص کو عموم سے باہر نکال لیا جاتا ہے، اسی طرح اس اصول کی بھی کچھ تخصیصات ثابت ہیں، جو درج ذیل ہیں:
● صحیحین (صحیح بخاری، صحیح مسلم) میں تمام مدلسین کی تمام روایات سماع یا معتبر متابعات و شواہد پر محمول ہیں۔
● مدلس کی اگر معتبر متابعت یا قوی شاہد ثابت ہو جائے تو تدلیس کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے، جس طرح کہ ضعیف راوی کی روایت کا کوئی معتبر متابع یا قوی شاہد مل جائے تو ضعف ختم ہو جاتا ہے۔
● بعض مدلسین کی روایات بعض شاگردوں کی روایت میں (جیسا کہ دلیل سے ثابت ہے) سماع پر محمول ہوتی ہیں، مثلاً شعبہ کی قتادہ، اعمش اور ابو اسحاق السبیعی سے روایت، شافعی کی سفیان بن عیینہ سے روایت اور یحیی بن سعید القطان کی سفیان ثوری سے روایت سماع پر محمول ہوتی ہے۔
● بعض مدلسین بعض شیوخ سے تدلیس نہیں کرتے تھے، مثلاً ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے اور ہشیم حسین سے تدلیس نہیں کرتے تھے، لہذا ایسی معنعن روایات بھی سماع پر محمول ہیں۔
● اسی طرح اگر کوئی اور بات دلیل سے ثابت ہو جائے تو وہ بھی قابل قبول ہے۔
ان کے علاوہ ثابت شدہ مدلسین کی معنعن (عن والی) روایات (اپنی شرائط کے ساتھ) ضعیف ہوتی ہیں۔
خاص کو عام پر مقدم کرنے اور تخصیص کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
● بعض راوی ثقہ ہوتے ہیں، لیکن جب وہ اپنے کچھ خاص استادوں سے روایت بیان کریں تو وہ روایت ضعیف ہوتی ہے، مثلاً سفیان بن حسین ثقہ ہیں لیکن امام زہری سے اُن کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
● بعض راوی ضعیف ہوتے ہیں لیکن جب وہ اپنے کسی خاص استاد سے روایت کریں تو یہ روایت حسن ہوتی ہے (جس کی صریح دلیل محدثین کرام سے ثابت ہوتی ہے) مثلاً عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں، لیکن نافع سے ان کی روایت حسن ہوتی ہے۔
● بعض راویوں کی روایات اُن کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہوتی ہیں، لیکن بعض شاگردوں کے بارے میں یہ صراحت مل جاتی ہے کہ انھوں نے اپنے استاذ کے اختلاط سے پہلے حدیثیں سنی تھیں، لہذا یہ روایتیں صحیح ہوتی ہیں مثلاً عطاء بن السائب سے امام شعبہ کی روایت صحیح ہوتی ہے۔
● مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے لیکن صحابہ کرام کی تمام مرسل روایات صحیح ہیں اور اس پر اہل سنت کا اجماع ہے۔
● ضعیف روایت صحیح وحسن شواہد و متابعات کے ساتھ صحیح حسن بن جاتی ہے۔
جس طرح اصولِ حدیث اور اسماء الرجال میں مذکورہ تخصیصیات پر عمل کیا جاتا ہے اور خاص دلیل کے مقابلے میں عام دلیل کو پیش نہیں کیا جاتا، اسی طرح تدلیس کے مسئلے میں بھی ثابت شدہ تخصیصیات پر عمل کیا جاتا ہے اور خاص دلیل کے مقابلے میں عام دلیل کو پیش نہیں کیا جاتا۔
تنبیہ: یہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے کہ اعمش اور سفیان ثوری وغیرہما کی معنعن روایات صحیح ہیں اور ابوالزبیر حسن بصری اور زہری وغیرہما کی روایات ضعیف ہوتی ہیں۔
اس سلسلے میں حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ کی طبقاتی تقسیم کئی وجہ سے غلط ہے۔ مثلاً:
➊ یہ طبقاتی تقسیم جمہور محدثین کے اصول تدلیس کے خلاف ہے۔
➋ یہ تقسیم خود حافظ ابن حجر کی شرح نخبتہ الفکر کے اصول کے خلاف ہے۔
➌ یہ تقسیم خود حافظ ابن حجر کی التلخیص الحبیر (19/3) کے خلاف ہے۔
➍ اہل حدیث اور حنفی بلکہ بریلوی اور دیوبندی سب اس طبقاتی تقسیم پر متفق نہیں ہیں۔
اس مضمون میں مذکورین کے نام علی الترتیب درج ذیل ہیں:
◈ ابن الترکمانی (40)
◈ابن الصلاح (10)
◈ابن العجمی (31)
◈ابن القطان الفاسی (32)
◈ابن الملقن (19)
◈ابن جماعہ (23)
◈ابن حبان (9)
◈ابن حجر عسقلانی (15)
◈ابن خزیمہ (18)
◈ابن رشید الفہری (34)
◈ابن عبد البر (12)
◈ابن کثیر (20)
◈ابناسی (27)
◈ابوبکر الصیرفی (13)
◈احمد بن حنبل (3)
◈اسحاق بن راہویہ (4)
◈ اسماعیل بن یحیی المزنی (5)
◈بخاری (16)
◈بلقینی (26)
◈بیہقی (6)
◈خطیب بغدادی (8)
◈ذہبی (14)
◈زکریا الانصاری (38)
◈سخاوی (36)
◈سیوطی (25)
◈شافعی (1)
◈شریف جرجانی (22)
◈شعبہ (17)
◈طیبی (24)
◈عبد الرحمن بن مہدی (2)
◈عراقی (21)
◈عینی (28)
◈قسطلانی (30)
◈کرمانی (29)
◈محمد بن فضیل بن غزوان (33)
◈مسلم (7)
◈مناوی (37)
◈نووی (11)
◈یحیی بن سعید القطان (39)
◈یعقوب بن شیبہ (35)
(30/ اگست 2010ء)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

أصول حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم