مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

آیتِ ﴿عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ﴾ اور تخلیقِ انسان کی ترتیب کا مفہوم

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل – تفسیر کا بیان، جلد 1، صفحہ 483

سوال

سورۃ الرحمٰن میں آیا ہے:

﴿اَلرَّحْمٰنُ – عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ – خَلَقَ الاِنْسَانَ ﴾
"رحمٰن، جس نے سکھایا قرآن، پیدا کیا انسان کو۔”

اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن سکھانے کا ذکر انسان کو پیدا کرنے سے پہلے کیا گیا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق سے پہلے کوئی مخلوق موجود تھی جس کو قرآن سکھایا گیا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◈ آیتِ مبارکہ ﴿عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ﴾ اور ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ﴾ کے درمیان ترتیب (پہلے اور بعد) کا کوئی ایسا لفظ موجود نہیں جو یہ واضح کرے کہ قرآن سکھانا، انسان کو پیدا کرنے سے پہلے ہوا۔
◈ صرف اس بنیاد پر کہ ﴿عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ﴾ کا ذکر ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ﴾ سے پہلے آیا ہے، یہ کہنا کہ تعلیمِ قرآن تخلیقِ انسان سے پہلے ہوئی، درست نہیں ہے۔

دیگر قرآنی مثالیں جو اس اصول کی وضاحت کرتی ہیں:

﴿اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی﴾
اس آیت میں "آخرت” کا ذکر "اولیٰ” سے پہلے آیا ہے، حالانکہ حقیقت میں "اولیٰ” یعنی دنیاوی زندگی پہلے ہے، اور "آخرت” بعد میں آنے والی ہے۔

﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ﴾
یہاں موت کا ذکر حیات سے پہلے ہوا ہے، حالانکہ پہلے زندگی آتی ہے، پھر موت۔

﴿نَمُوْتُ وَنَحْیَا﴾
اس آیت میں بھی موت کا ذکر زندگی سے پہلے آیا، جو عام ترتیب کے برعکس ہے۔

تخلیق کے حوالے سے اصولی بات:

◈ اگرچہ آیت میں ترتیب زمانی (chronological order) کی وضاحت موجود نہیں، لیکن حقیقت میں فرشتوں اور جنوں کی تخلیق انسان کی تخلیق سے پہلے ہو چکی تھی۔
جیسا کہ یہ بات اصولاً اور تفصیل سے ثابت اور واضح ہے:
"كَمَا هُوَ مُقَرَّرٌ وَّمُبَيِّنٌ”

نتیجہ:

لہٰذا، صرف ترتیبِ ذکر (sequence of mention) سے ترتیبِ وقوع (sequence of occurrence) ثابت نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ کہنا کہ تعلیمِ قرآن انسان کی تخلیق سے پہلے ہوئی، محض آیت کی ترتیب سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔