آیتِ مباہلہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت: شیعہ استدلال کا رد

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

بعض غالی شیعہ درج ذیل آیت اور حدیث سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ذات ایک جیسی ہے، لہذا علی رضی اللہ عنہ ولی ہیں اور دیگر تمام صحابہ سے افضل ہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مثل ہیں؟
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
(سورة آل عمران: 61)
(اے نبی!) علم آ جانے کے باوجود کوئی جھگڑے، تو اسے کہہ دیں: آئیے! ہم اپنی آل و اولاد کے ساتھ آتے ہیں، آپ اپنی آل و اولاد کے ساتھ آ جائیں، مباہلہ کرتے ہیں اور جھوٹے پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں۔
❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لما نزلت هذه الآية: فقل تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وفاطمة وحسنا وحسينا فقال: اللهم هؤلاء أهلي
جب آیت کریمہ: ﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو بلا کر فرمایا: اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔
(صحیح مسلم: 2404)

جواب:

اس آیت اور حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مثل ہیں یا آپ سے یا دیگر تمام صحابہ سے افضل ہیں، آیت کی واضح تحریف ہے۔ آج تک کسی مفسر امام نے یہ معنی بیان نہیں کیے۔
❀ علامہ فخر رازی رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں:
محمود بن حسن حمصی نامی ایک شخص، جو اثنا عشریہ کا معلم تھا، کہتا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ وہ دلیل لفظ ﴿أنفسنا وأنفسكم﴾ سے لیتا تھا کہ یہاں ﴿أنفسنا﴾ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات نہیں، کیونکہ کوئی انسان خود اپنی ذات کو دعوت نہیں دیتا، بلکہ کوئی دوسرا مراد ہے۔ اس بات پر اجماع ہے کہ وہ دوسرے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ البتہ یہ ممکن نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بعینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ہوں، بلکہ مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہیں۔ یہ مثلیت تمام صورتوں میں برابری کی متقاضی ہے، البتہ نبوت اس سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ دلائل موجود ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ ایسا نہیں۔ اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں۔ باقی صفات میں، معمول کے مطابق، دونوں برابر ہیں۔ پھر اس پر بھی اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں، جس سے لازم آتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ یہ استدلال آیت کے ظاہر کی بنیاد پر ہے۔
مزید وہ ایک حدیث پیش کرتا تھا جو موافقین اور مخالفین کے ہاں مقبول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو آدم کے علم، نوح کی اطاعت، ابراہیم کی دوستی، موسیٰ کے رعب و دبدبہ اور عیسیٰ کے اخلاق کو دیکھنا چاہتا ہے، تو وہ علی بن ابی طالب کو دیکھ لے۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر: 42/313)
یہ حدیث جھوٹی ہے۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ جو صفات دیگر انبیاء میں متفرق تھیں، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اکیلی ذات میں جمع کر دی گئیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ باقی رہے قدیم و جدید شیعہ، وہ اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں، ان کی خاص دلیل یہی ہے۔ جب یہ معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تمام صحابہ سے افضل ہے، تو لازم ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ شیعہ کے اس استدلال کا بین السطور یہ ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں، اسی طرح اس آدمی کے ظہور سے پہلے اس پر بھی اجماع ہے کہ نبی غیر نبی سے افضل ہوتا ہے۔ اس پر بھی اجماع ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی نہیں ہیں، تو اس آیت کے ظاہر معنی سے لازم آتا ہے کہ جس طرح یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خاص ہے، اسی طرح تمام انبیائے کرام کے حق میں بھی خاص ہے۔ (تفسير الرازي: 8/72)
أنفسنا سے خاص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مراد لینا غلطی ہے، انہیں اس بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مساوی قرار دینا تو اور بھی جہالت ہے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
یہ لغت عرب کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان نِسَاءَنَا سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نہیں، بلکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہم منزلت دوسری بیٹیاں بھی ہیں، لیکن اس موقع پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی بیٹی موجود نہیں تھی۔ سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہن اس سے پہلے وفات پا چکی تھیں۔ اسی طرح أنفسنا سے مراد صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں، یہ جمع کا صیغہ ہے۔ جس طرح نِسَاءَنَا جمع کا صیغہ تھا، اسی طرح أَبْنَاءَنَا بھی جمع کا صیغہ ہے۔ اس میں صرف سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو اس لیے بلایا گیا تھا کہ ان کے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں تھا جس کی طرف بیٹے کی نسبت ہو سکے۔
(منهاج السنة النبوية: 4/25)
جب اس سے مراد صرف علی رضی اللہ عنہ لینا ہی غلط ہے، تو اس بنا پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ سے افضل یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مثل قرار دینا واضح الحاد ہے، یہ اجماع امت کی مخالفت ہے۔
❀ ابو حفص عمر بن علی نعمانی رحمہ اللہ (775ھ) فرماتے ہیں:
الجواب: أنه كما انعقد الإجماع بين المسلمين على أن محمدا صلى الله عليه وسلم أفضل من على رضي الله عنه، فكذلك انعقد الإجماع بينهم قبل ظهور هذا الإنسان على أن النبى أفضل ممن ليس بنبي، وأجمعوا على أن عليا رضى الله عنه ما كان نبيا
اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں، اسی طرح اس (غالی) انسان کے ظہور سے پہلے اس پر بھی مسلمانوں کا اجماع ہو چکا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس شخص سے افضل ہیں، جو نبی نہیں ہے، نیز اس پر بھی اجماع ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی نہیں تھے۔
(اللباب في علوم الكتاب: 5/290)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے