”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون اس روایت کی تحقیق پیش کرتا ہے جسے بعض معترضین یومِ غدیر (۱۸ ذی الحجہ) کے ساتھ جوڑ کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اسی دن نازل ہوئی تھی، اور یوں “یومِ غدیر ہی دین کی تکمیل کا دن ہے”۔ ہمارا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ (۱) صحیحین کی قطعی اور معروف روایت کے مطابق آیتِ تکمیل میدانِ عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی، (۲) خطیب بغدادی کی پیش کردہ روایت سنداً و متناً کمزور ہے، (۳) اس کے راویوں میں ایسے افراد ہیں جن کے بارے میں ائمۂ نقد نے لین/ضعف/کثرتِ اوہام کا کلام کیا ہے، لہٰذا اس سے ایسا بڑا دعویٰ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

روایت کا متن اور معترض کا دعویٰ

① خطیب بغدادی کی روایت (تاریخ بغداد)

انبانا عبدالله بن علي بن محمد بن بشران، قال: أخبرنا علي بن عمر الحافظ، قال: حدثنا أبو نصر حبشون بن موسى بن أيوب الخلال، قال: حدثنا علي بن سعيد الرملي، قال: حدثنا ضمرة بن ربيعة القرشي، عن ابن شوذب، عن مطر الوراق، عن شهر بن حوشب، عن أبي هريرة، قال: من صام يوم ثمان عشرة من ذي الحجة كتب له صيام ستين شهرا، وهو يوم غدير خم لما أخذ النبي صلى الله عليه وسلم بيد علي بن أبي طالب، فقال: ” ألست ولي المؤمنين؟ “، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: ” من كنت مولاه فعلي مولاه “، فقال عمر بن الخطاب: بخ بخ لك يابن أبي طالب أصبحت مولاي ومولى كل مسلم، فأنزل الله: {اليوم أكملت لكم دينكم} ، ومن صام يوم سبعة وعشرين من رجب كتب له صيام ستين شهرا، وهو أول يوم نزل جبريل عليه السلام على محمد صلى الله عليه وسلم بالرسالة،

اردو ترجمہ:
ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جو شخص اٹھارہ ذی الحجہ کا روزہ رکھے، اس کے لیے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا۔ یہ غدیرِ خم کا دن ہے، جب نبی ﷺ نے علی بن ابی طالبؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: “کیا میں مومنین کا ولی نہیں؟” لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔” پھر عمر بن خطابؓ نے کہا: “مبارک ہو اے ابن ابی طالب! آج آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا بن گئے۔” پس اللہ نے یہ آیت نازل کی: {اليوم أكملت لكم دينكم}۔ نیز جو شخص ستائیس رجب کا روزہ رکھے، اس کے لیے بھی ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب ہے، اور یہ وہ پہلا دن ہے جس میں جبریلؑ محمد ﷺ پر رسالت لے کر نازل ہوئے۔

تاریخ بغداد – خطیب بغدادی // جلد ۸ // صفحہ ۲۸۴ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

مختصر توضیح:
اس روایت کے دو بڑے دعوے ہیں:
✦ (الف) ۱۸ ذی الحجہ کے روزے کی مخصوص فضیلت (ساٹھ ماہ)
✦ (ب) آیتِ تکمیلِ دین کا نزول یومِ غدیر پر
اور یہی دوسرا دعویٰ اصل نزاع ہے۔

تحقیقی جواب: یہ روایت قابلِ حجت کیوں نہیں؟

② صحیحین کی قطعی روایت کے خلاف: آیتِ تکمیل کا نزول عرفات میں (جمعہ کے دن)

صحیحین کی معروف روایت میں یہ بات صراحت کے ساتھ آتی ہے کہ آیتِ تکمیلِ دین میدانِ عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی، اور حضرت عمرؓ نے اس وقت اور مقام دونوں کی تعیین کی۔

نزلت هذه الآية يوم الجمعة ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة

اردو ترجمہ:
یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی، اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں تھے۔

صحيح البخاري (كتاب التفسير/سورة المائدة: آية {اليوم أكملت لكم دينكم})
صحيح مسلم (كتاب التفسير/فضائل يوم الجمعة وبيان نزول الآية بعرفة)

مختصر توضیح:
جب آیتِ تکمیل کے نزول کا وقت و مقام صحیحین سے ثابت ہو جائے تو تاریخ بغداد کی منفرد، محلِ نظر سند والی روایت سے اس کے خلاف دعویٰ کرنا درست نہیں۔

③ زمانی و واقعاتی تضاد: عرفات (۹ ذی الحجہ) بمقابلہ غدیر (۱۸ ذی الحجہ)

📌 حج کے ایام میں یومِ عرفہ ۹ ذی الحجہ ہے، جبکہ غدیرِ خم (۱۸ ذی الحجہ) واپسی کے سفر میں پیش آنے والا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
پس اگر آیتِ تکمیل عرفات میں نازل ہو چکی تھی تو اسے ۹ دن بعد اسی حج کے سلسلے میں “غدیر کے دن نازل ہوئی” کہنا زمانی طور پر متعارض ہے۔

مختصر توضیح:
یہ تضاد خود روایت کے متن کو مزید مشتبہ بنا دیتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی بات ثابت کرنا چاہ رہی ہے جو صحیح و مشہور روایات سے ٹکراتی ہے۔

④ متن کی غیر معمولی ساخت: دو الگ دنوں کے روزے اور بہت بڑے اعداد

اس روایت میں:
✦ ۱۸ ذی الحجہ کے روزے پر ساٹھ ماہ
✦ ۲۷ رجب کے روزے پر بھی ساٹھ ماہ
اور پھر ۲۷ رجب کو “اول یومِ بعثت” کہنا—یہ سب ایک ہی متن میں جمع ہے۔

مختصر توضیح:
محدثین کے نزدیک اس طرز کے متون—جن میں خاص تاریخوں کو غیر معمولی اور بہت بڑے اجر کے ساتھ باندھا جائے—اکثر فضائل کی وضع (گھڑت) میں پائے جاتے ہیں، خصوصاً جب سند بھی مضبوط نہ ہو۔

⑤ خطیب بغدادی کا شیخ مجہول العین

(عبد الله بن علي بن محمد بن عبد الله بن بشران) مجہول العین ہے، کیونکہ اس سے صرف خطیب بغدادی روایت کر رہے ہیں، اور جہالتِ عین کے رفع کے لیے کم از کم دو ثقہ رواۃ کا روایت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

⑥ دوسرا راوی: علی بن سعید الرملی مجہول الحال

(علي بن سعيد بن قتيبة، الرَّمْلِيُّ) مجہول الحال ہے۔ معلوم نہیں رافضی نے اسے کہاں سے “ثقہ” سمجھ لیا۔

⑦ تیسرا راوی: مطر الوراق سخت ضعیف

🔴🔴🔴 مطر بن طهمان الوراق سخت ضعیف ہے۔ رافضی کا خیال ہے کہ چونکہ ابن حنبل اور ابن معین نے اسے عطاء سے روایت میں ضعیف کہا، لہٰذا گویا وہ باقی شیوخ سے ثقہ ہو گیا—یہ اصول سراسر غلط ہے۔ مطر کی زیادہ روایات عطاء سے ہیں، اسی لیے خاص طور پر عطاء سے اضطراب/ضعف کا ذکر ہوا؛ لیکن یہ لازم نہیں کہ وہ باقیوں سے “ثقہ” بن جائے۔
مزید یہ کہ جمہور نے اس پر جروحات کی ہیں: ابو حاتم نے ضعیف، یحییٰ بن سعید القطان نے خراب حافظے والا، علی المدینی نے “لم يكن بالقوي”، ابو داود نے حجت ہونے سے انکار کیا، ابن سعد نے ضعیف، دارقطنی نے ضعیف، ابن الجوزی نے غیر قوی کہا۔ 🔴🔴🔴

⑧ چوتھا راوی: شہر بن حوشب الاشعری سخت متکلم فیہ

🔴🔴🔴 یہ روایت کا چوتھا راوی شهر بن حوشب الأشعري ہے۔ رافضی نے حافظ ابن حجر کے “صدوق/مقبول” جیسے لفظ کو پکڑ کر اسے ہر حال میں قابلِ حجت سمجھ لیا، حالانکہ بڑے ناقدین کے کلمات موجود ہیں:

ابن عدی: اس کی حدیث سے احتجاج نہیں ہوتا

ابن حبان: یہ ثقہ کے نام لے کر معضلات/مقلوبات بیان کرتا تھا

ابو حاتم: اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا

دارقطنی: ضعیف

نسائی: ضعیف

ابن حزم: ساقط

عبداللہ بن عون: متروک

موسی بن ہارون الحمال: ضعیف
لہٰذا اس راوی کی وجہ سے بھی سند مزید گر جاتی ہے۔

⑦ “صحیح مسلم میں راوی کا ہونا” ہر روایت کی تصحیح نہیں

معترض کی ایک بنیادی مغالطہ انگیزی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: “مطر الوراق/شہر بن حوشب صحیح مسلم کے راوی ہیں، لہٰذا یہاں بھی روایت صحیح ہے”۔

مختصر توضیح:
کسی راوی کا مسلم یا بخاری میں آ جانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ اس کی ہر روایت بلا شرط صحیح ہو گئی۔
✅ ائمۂ حدیث بعض راویوں سے خاص شیوخ یا خاص متابعات میں روایت لیتے ہیں۔
✅ پھر ہر متن کے ساتھ قرائن اور متابعات بھی دیکھی جاتی ہیں۔
چنانچہ یہاں جب متن صحیحین کے خلاف جا رہا ہو اور سند میں بھی ضعف کے قرائن ہوں تو “مسلم میں راوی ہے” کہہ کر اسے صحیح قرار دینا درست نہیں۔

⑧ اصولی قاعدہ: بڑے تفسیری/عقیدتی دعوے ضعیف اسناد سے ثابت نہیں کیے جاتے

آیتِ تکمیلِ دین کے نزول کا وقت و مقام ایک تفسیری اور تاریخی مسئلہ ہے جو امت کے تعامل میں صحیح روایات سے طے ہوتا ہے۔
یہاں صحیحین کے مقابلے میں تاریخ بغداد کی ایسی منفرد سند پیش کرنا—جس میں راویوں پر کلام موجود ہے—علمی معیار کے مطابق کافی نہیں۔

نتیجہ (Conclusion)

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ بغداد کی مذکورہ روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آیتِ تکمیلِ دین یومِ غدیر (۱۸ ذی الحجہ) کو نازل ہوئی۔ صحیحین کی صریح روایت کے مطابق آیت کا نزول عرفات میں جمعہ کے دن ہوا، اور زیرِ بحث روایت اس کے خلاف ہے؛ مزید یہ کہ اس روایت کی سند میں ایسے راوی موجود ہیں جن کے بارے میں اہلِ نقد نے لین/ضعف/کثرتِ اوہام کا ذکر کیا ہے، اور متن میں بھی غیر معمولی ساخت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا “یومِ غدیر پر ہی دین مکمل ہوا” کا دعویٰ اس روایت سے ثابت کرنا علمی طور پر درست نہیں۔

اہم حوالوں کے سکین

”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 01 ”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 02 ”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 03 ”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 04 ”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 05 ”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 06 ”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 07 ”آیتِ تکمیلِ دین (﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾) اور ”عید غدیر – 08