مضمون کے اہم نکات
آصف لاہوری دیوبندی کی پیش کردہ روایات کا تحقیقی جائزہ
اب مذکورہ کتاب میں آصف لاہوری دیوبندی کی ”327 صحیح احادیث و آثار“ کا تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے:
① سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر 1 تا 14 کی سند میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے۔ (جواب کے لیے دیکھیے نور العینین ص 129-139)
نمبر 15 سے سفیان ثوری کا واسطہ (کاتب یا کمپوزر کی غلطی سے) رہ گیا ہے۔ دیکھیے مسند الامام احمد (1/388 ح 3681، دوسرا نسخہ 203/6)
نمبر 16 تا 19 میں ترک رفع یدین کا نام و نشان تک نہیں ہے۔
نمبر 20 تا 22 میں تین راوی کذاب ہیں: ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی، محمد بن ابراہیم بن زیاد الرازی اور سلیمان الشاذکونی۔
حارثی کے لیے دیکھیے میزان الاعتدال (2/496، دوسرا نسخہ 4/189) اور لسان المیزان (3/348-349) اور میر امضمون: ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی البخاری اور محدثین کی جرح۔
محمد بن ابراہیم بن زیاد کے لیے دیکھیے الضعفاء والمتروکون للدارقطنی (487) اور لسان المیزان (5/22، دوسرا نسخہ 5/616)
سلیمان الشاذکونی کے لیے دیکھیے سرفراز خان صفدر کی احسن الکلام (ج 1 ص 204، دوسرا نسخہ ج 1 ص 254)
نمبر 23 تا 41 میں ترک رفع یدین کا نام و نشان تک نہیں بلکہ عدم ذکر ہے اور مدرسہ دیوبند کے بانی محمد قاسم نانوتوی صاحب نے لکھا ہے:
جناب مولوی صاحب معقولات کے طور پر اتنا ہی جواب بہت ہے کہ عدم الاطلاع یا عدم الذکر عدم الشے پر دلالت نہیں کرتا۔ (ہدیۃ الشیعہ ص 200)
اس عبارت پر ”مذکور نہ ہونا معدوم ہونے کی دلیل نہیں ہے“ کا عنوان لکھا گیا ہے۔
آصف لاہوری کا عدم ذکر والی روایات کے ترجمے میں اپنی طرف سے بریکٹوں کے درمیان (صرف اور اس مفہوم کی عبارات) کا اضافہ کرنا صریح تحریف و کذب بیانی ہے۔
تنبیہ: اگر عدم ذکر سے نفی ذکر پر یہاں استدلال کیا جائے تو ان لوگوں کا تکبیر تحریمہ والا رفع یدین بھی ختم ہو جاتا ہے اور وتروں والا رفع یدین بھی ممنوع ہو جاتا ہے، حالانکہ تمام آل دیوبند تکبیر تحریمہ اور وتروں والے رفع یدین کے قائل و فاعل ہیں۔
② سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ
نمبر 42، 44، 45،47، 70، 57، 54، 51، 72، 73 میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔ (دیکھیے فیض الباری ج 3 ص 168)
نمبر 43، 52، 48-53، 55-56، 58-69، 71، 74-81 میں یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔ (دیکھیے زوائد ابن ماجہ للبوصیری: 2116)
اور نمبر 46 میں صاحب کتاب امام ابو نعیم الاصبہانی سے لے کر امام ابو حنیفہ تک تمام راوی (مثلاً بکر بن محمد الحبال اور علی بن محمد بن روح وغیرہما) مجہول ہیں، ان کی توثیق ہرگز معلوم نہیں۔ (دیکھیے ارشیف ملتقی اصل الحدیث عدد ج 4 ص 926، تحقیقی مقالات ج 3 ص 123)
آصف کی مذکورہ روایات میں سے (بعض کے متون سے قطع نظر) ایک روایت بھی ثابت نہیں۔
تنبیہ: یزید بن ابی زیاد (ضعیف) کی دوسری روایت میں شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد سر اٹھانے (یعنی تینوں مقامات پر رفع یدین) کا ذکر و اثبات موجود ہے اور یزید تک سند حسن لذاتہ ہے۔ (دیکھیے السنن الکبری للبیہقی ج 2 ص 77)
ابراہیم بن بشار رحمہ اللہ جمہور محدثین کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث راوی تھے۔ عینی حنفی نے ابراہیم بن بشار کی بیان کردہ ایک روایت کے بارے میں إسناده صحيح لکھا ہے۔ (نخب الافکار ج 1 ص 475)
اور دوسری روایت کی تحقیق میں رجاله ثقات لکھ کر ابراہیم بن بشار کو ثقہ قرار دیا ہے۔ (دیکھیے نخب الافکار ج 1 ص 478-479)
آصف صاحب کو یہ چاہیے تھا کہ وہ ابراہیم بن بشار کی یہ روایت بھی ذکر کرتے، ورنہ ان کی یہ حرکت و طرز عمل اگر خیانت اور حق چھپانا نہیں تو پھر کیا ہے؟!
③ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما
اس باب میں تمام آصفی روایات (نمبر 82 تا 88) کی سندوں میں محمد بن جابر راوی ہے، جس کے بارے میں حافظ ہیثمی نے لکھا ہے: وهو ضعيف عند الجمهور اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد 5/191)
اس کے مقابلے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً و مرفوعاً (دونوں طرح) شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والا رفع یدین ثابت ہے۔ (دیکھیے السنن الکبری للبیہقی 2/73 وسندہ صحیح)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی موقوفاً و مرفوعاً (دونوں طرح) شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والا رفع یدین ثابت ہے۔ (النفخ الشذى شرح سنن الترمذی لابن سید الناس ج 4 ص 390، نور العینین ص 195-204)
آل دیوبند کا یہی عمومی طریقہ واردات ہے کہ وہ اختلافی مسائل میں صحیح و حسن اور صریح روایات چھوڑ کر ضعیف و مردود اور غیر صریح روایات پیش کرتے ہیں۔
④ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
نمبر 89 تا 95 میں مسند حمیدی اور مسند ابی عوانہ کی روایات پیش کی گئی ہیں، جن کا محرف مصحف ہونا نور العینین میں دلائل قاطعہ کے ساتھ ثابت کر دیا گیا ہے۔ (دیکھیے ص 68-81)
نمبر 96 والی روایت شاذ (بمعنی منکر) و موضوع ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 205-211)
نمبر 97 تا 102 میں ترک رفع یدین کا نام و نشان نہیں، بلکہ صرف عدم ذکر ہے۔
اس کے مقابلے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں مرفوعاً اور صحیح بخاری، سنن ابی داود اور جزء رفع الیدین وغیرہ میں موقوفاً رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین ثابت ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے نور العینین ص 64،92)
بلکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس شخص کو کنکریوں سے مارتے تھے جو رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین نہیں کرتا تھا۔ (دیکھیے جزء رفع الیدین: 15، واللفظ له، التمہید 9/224 مختصراً)
⑤ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ
نمبر 103 تا 130 میں ترک رفع یدین کا نام و نشان تک نہیں بلکہ عدم ذکر ہے۔ آصف صاحب نے ترجمہ میں خیانت کرتے ہوئے بریکٹوں کے درمیان اپنی طرف سے (تو رفع یدین نہ کرتے) لکھ دیا ہے جو کہ صریح دروغ بے فروغ بلکہ کالا جھوٹ ہے۔
اس کے مقابلے میں سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث میں چار مقامات پر رفع یدین کا ذکر موجود ہے:
● شروع نماز ● رکوع سے پہلے ● رکوع کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت ● دو رکعتیں پڑھنے کے بعد اٹھ کر رفع یدین۔
(دیکھیے سنن ترمذی: 304 وقال: هذا حديث حسن صحيح صحہ ابن حبان وابن الجارود وغیرہما، نور العینین ص 104)
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نمبر 131 تا 183 میں رکوع سے پہلے اور بعد میں ترک رفع یدین کا نام و نشان نہیں بلکہ عدم ذکر ہے۔ (نیز دیکھیے فقرہ سابقہ:5)
اس کے مقابلے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے تین مقامات پر رفع یدین ثابت ہے:
تکبیر (تحریمہ) کے وقت، رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھ کر۔ (جزء رفع الیدین: 22 وسندہ صحیح)
⑦ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ
نمبر 184 تا 210 میں رکوع سے پہلے اور بعد کی صراحت سے ترک رفع یدین کا نام و نشان نہیں بلکہ عدم ذکر ہے اور حدیث مذکور کا تعلق حالت قعود میں تشہد والے اشارے سے ہے جس پر آج کل بھی شیعہ و روافض عمل پیرا ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے جزء رفع الیدین: 37، نور العینین ص 127)
⑧ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
نمبر 211، 214 میں محمد بن ابی لیلیٰ ضعیف ہے۔ (دیکھیے فقرہ سابقہ 2)
نمبر 212 میں ”حدثت“ کا قائل مجہول ہے اور مسلم بن خالد جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
نمبر 213، 215 میں عطاء بن السائب مختلط ہے۔ (دیکھیے الکواکب النیرات ص 331)
نمبر 216 تا 220 میں عدم ذکر ہے۔
اس کے مقابلے میں یہ ثابت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 1/335 ح 2431 وسندہ حسن، نور العینین ص 160)
⑨ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ
نمبر 221 تا 225 میں عدم ذکر ہے۔
اس کے مقابلے میں امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی وہ روایت ہے کہ صحابہ کرام شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی 2/75 وسندہ صحیح)
صحابہ کرام میں سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور ان کا استثناء کسی صحیح یا حسن لذاتہ دلیل سے ثابت نہیں۔ سیدنا وائل کی مرفوع حدیث کے لیے دیکھیے صحیح مسلم (ح 401)
⑩ سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ
نمبر 226، 227 میں عدم ذکر ہے اور سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح ثابت ہے۔ (دیکھیے صحیح بخاری: 737، صحیح مسلم: 391)
⑪ امام سلیمان بن یسار تابعی رحمہ اللہ
اس روایت (228) میں عدم ذکر ہے اور روایت بھی مرسل (منقطع) ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت سے ظاہر ہے کہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر (تینوں مقامات والے) رفع یدین کو بھی روایت کیا ہے۔ (دیکھیے ج 1 ص 235 ح 2429 وسندہ صحیح الی سلیمان بن یسار رحمہ اللہ)
⑫ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
نمبر 229 تا 232 میں عدم ذکر ہے۔
⑬ سیدنا ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ
اسانید سے قطع نظر عرض ہے کہ نمبر 233، 234 دونوں روایتوں میں عدم ذکر ہے۔
⑭ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ
نمبر 235 تا 247 تمام روایتوں میں ترک رفع یدین کا نام و نشان نہیں بلکہ عدم ذکر ہے۔
اس کے مقابلے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد (تینوں مقامات پر) رفع یدین ثابت ہے۔ (جزء رفع الیدین: 30 وسندہ صحیح)
⑮ سیدنا ابو مالک الاشعری رضی اللہ عنہ
نمبر 248 تا 251 میں عدم ذکر ہے اور رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے ترک کا نام و نشان نہیں، لہذا آصف صاحب کا یہ استدلال بھی غلط ہے۔
فائدہ: سیدنا ابو مالک الاشعری رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ مردوں اور عورتوں کی نماز کا طریقہ ایک ہے اور ہیئت نماز میں کوئی فرق نہیں، لہذا آل دیوبند اس حدیث کے الفاظ کے بھی مخالف ہیں۔
⑯ سیدنا علی رضی اللہ عنہ
اسانید سے قطع نظر نمبر 252 تا 256 میں عدم ذکر ہے اور اس کے مقابلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث میں شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین ثابت ہے، نیز دو رکعتوں سے اٹھ کر بھی رفع یدین ثابت ہے۔ (دیکھیے سنن ترمذی: 3423 وقال: صحیح حسن، جزء رفع الیدین للبخاری: 1، وسندہ حسن)
امام ترمذی نے ایک حدیث کے بارے میں فرمایا:
ومعنى قوله إذا قام من السجدتين ، يعني إذا قام من الركعتين
اور آپ کے ارشاد إذا قام من السجدتين کا معنی یہ ہے کہ جب دو رکعتوں سے اٹھتے تھے۔ (سنن ترمذی: 304 وقال: هذا حدیث حسن صحیح)
⑰ سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ
نمبر 257 تا 261 میں عدم ذکر ہے اور اس آصفی محرفانہ استدلال کے مقابلے میں سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً و موقوفاً شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین ثابت ہے۔ (سنن دار قطنی 1/292 ح 1111، وسندہ صحیح، نور العینین ص 118)
⑱ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ
آصف صاحب کی پیش کردہ دونوں روایات (نمبر 262، 263) میں عدم ذکر ہے اور اس کے مقابلے میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً و موقوفاً دونوں طرح تکبیر تحریمہ، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین ثابت ہے۔ (مسند السراج ص 62-63 ح 92 وسندہ حسن، ابو الزبیر صرح بالسماع والحمد للہ)
⑲ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ
نمبر 264 میں عدم ذکر ہے، جو کہ نفی ذکر کی دلیل نہیں۔ (دیکھیے فقرہ سابقہ:1)
آصف صاحب کی پیش کردہ مرفوع روایات ختم ہوئیں اور اس آصفی استدلال کے مقابلے میں درج ذیل صحابہ سے رفع یدین کی مرفوع روایات ثابت ہیں:
عبد اللہ بن عمر ، مالک بن الحویرث،وائل بن حجر ، ابو حمید الساعدی بتصدیق ، ابی قتادہ ، اسید الساعدی ، ابی ہریرہ ، محمد بن مسلمہ ، علی بن ابی طالب ، ابو موسیٰ ، ابو بکر الصدیق ،عبد اللہ بن الزبیر ، انس بن مالک ، جابر بن عبد اللہ الانصاری ، اور عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (تفصیل کے لیے نور العینین دیکھیں)
اب دیکھتے ہیں کہ آثار صحابہ میں آصف لاہوری صاحب نے کیا تیر یا ”تکہ“ مارا ہے؟
① سیدنا عمر رضی اللہ عنہ
نمبر 265 تا 268 میں ابراہیم نخعی مدلس ہیں۔
سیوطی نے ابراہیم نخعی کو مدلسین میں شامل کیا ہے۔ (دیکھیے اسماء من عرف بالتدلیس :2)
سیوطی (غیر مقلد) کے بارے میں دیوبندی ”مفتی “ عبد الواحد قریشی نے لکھا ہے:
”فقہ شافعی کے عظیم مفسر، محدث، فقیہ، مورخ، جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ“ (متوفی 911ھ)
(الیاس گھمن کا رسالہ” قافلہ حق“ جلد 5 شماره 4 ص 44، اکتوبر تا دسمبر 2011ء)
اس ضعیف روایت کے مقابلے میں حسن اور صحیح روایت کے لیے دیکھیے فقرہ سابقہ (3)
② سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
نمبر 269-270، 272، 275، 276 والی سند میں ابو بکر النہشلی جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث تھے لیکن ان کی یہ روایت ان کا وہم اور غلطی ہے، لہذا ضعیف ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے نور العینین ص 165)
نمبر 271، 277 کی سند میں ابو خالد عمرو بن خالد الواسطی کذاب ہے۔ (دیکھیے تحقیقی مقالات ج 3 ص 510)
دوسرے یہ کہ یہ اہل سنت کی کتاب نہیں بلکہ زیدی شیعوں کی کتاب ہے۔
فیض الباری میں زید بن علی کو ثقہ تسلیم کر کے لکھا ہوا ہے:
إلا أن الآفة فى كتابه من حيث جهالة ناقليه صرف یہ کہ ان کی کتاب (مسند زید) میں ناقلین کے مجہول ہونے کی وجہ سے مصیبت آئی ہے۔ (ج 2 ص 241)
معلوم ہوا کہ آل دیوبند کے نزدیک بھی مسند زید نامی کتاب ثابت نہیں ہے۔
زیدی شیعوں کی اس مسند میں موضوعات کے ساتھ عجائب و غرائب بھی ہیں، مثلاً اذان میں حي على خير العمل اور نماز میں بسم اللہ بالجہر بھی لکھا ہوا ہے۔ (ص 83،93)
کیا آصف صاحب اور گھمن پارٹی والے ان باتوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں؟!
نمبر 273، 274 میں ابن فرقد الشیبانی جمہور کے نزدیک مجروح وضعیف اور محمد بن ابان بن صالح جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
③ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
نمبر 278 تا 291 میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور حدیث نمبر 292 سے سفیان ثوری کا واسطہ گر گیا ہے۔ (دیکھیے فقرہ سابقہ: 1)
نمبر 293-295 میں عدم ذکر ہے اور نمبر 296-298 میں ابراہیم نخعی ہیں جو کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ (دیکھیے نور العینین ص 166)
تنبیہ: ابراہیم نخعی کی مرسل و منقطع روایت صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہوتی ہے۔
(دیکھیے کتاب الام للشافعی ج 7 ص 271-272، میزان الاعتدال ج 1 ص 75)
غیر واحد سے استدلال والے مغالطے کے جواب کے لیے دیکھیے نور العینین (ص 166)
④ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
نمبر 299 تا 300 میں امام ابو بکر بن عیاش رحمہ اللہ ہیں جو کہ جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث تھے لیکن ان کی بیان کردہ یہ روایت با اتفاق محدثین ان کا وہم ہے، لہذا یہ روایت ضعیف و مردود ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 168-172)
نمبر 301 میں عدم ذکر ہے اور نمبر 302، 303 میں محمد بن ابان بن صالح ضعیف اور محمد بن الحسن بن فرقد الشیبانی (عرف ابن فرقد) سخت مجروح ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 172-173)
ان کے مقابلے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین پر (زمانہ تابعین میں بھی) عمل کرنا ثابت ہے۔ (دیکھیے صحیح بخاری: 739)
آصف صاحب کے پیش کردہ آثار ختم ہوئے اور ترک رفع یدین ثابت نہ ہوا، بلکہ ان ضعیف و مردود اور غیر متعلق آثار کے مقابلے میں درج ذیل صحابہ سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین ثابت ہے:
عبد اللہ بن عمر ،مالک بن الحویرث ، ابو موسیٰ الاشعری ، عبد اللہ بن زبیر ، ابو بکر الصدیق، انس بن مالک ، ابو ہریرہ ، عبد اللہ بن عباس ،جابر بن عبد اللہ الانصاری اور عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (دیکھیے نور العینین ص 159-164، وغیرہ)
اب آصفی آثار تابعین کا جائزہ پیش خدمت ہے:
نمبر 304 میں طحاوی (1/227) کی روایت مذکورہ میں الحمانی سے مراد یحییٰ بن عبد الحمید الحمانی ہے۔ (دیکھیے شرح معانی الآثار 3/163، باب المقدار الذی یقطع فیه السارق)
اور یہ جمانی جمہور کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔ (دیکھیے اتحاف الخیر للبوصیری 9/496 ح 9434)
تنبیہ: آصف صاحب نے نقل روایت میں بھی گڑ بڑ کی ہے۔ (دیکھیے ص 201)
نمبر 305 میں ابن فرقد مجروح، محمد بن ابان بن صالح ضعیف اور حماد بن ابی سلیمان مختلط و مدلس ہیں۔
نمبر 306 میں نوری مدلس ہیں۔ (اسماء المدلسین للسیوطی ص 98 ت 18، وقال مشهور به)
نمبر 308، 310 میں مغیرہ بن مقسم مدلس ہیں۔ (اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی 72)
نمبر 311 میں حجاج بن ارطاة ضعیف مدلس ہے اور طلحہ کا تعین مطلوب ہے۔
نمبر 312 میں بلغنا کا قائل (مبلغ) نا معلوم ہے۔
نمبر 307، 309 میں لکھا ہوا ہے کہ تو شروع نماز کے علاوہ کہیں بھی رفع یدین نہ کر۔
جبکہ دیوبندی و بریلوی حضرات وتر اور عیدین میں بھی رفع یدین کرتے ہیں، لہذا یہ دونوں گروہ ابراہیم نخعی کے مذکورہ اثر کے سراسر خلاف ہیں۔
نمبر 313 میں حمانی مجروح ہے، جیسا کہ نمبر 304 کے تحت گزر چکا ہے۔
نمبر 314 میں اشعث بن سوار ضعیف ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 313)
نمبر 315 تا 317 میں ابن فرقد مجروح وضعیف ہے۔ (دیکھیے نمبر 305 کا جواب)
نمبر 318 تا 320 میں اصحاب عبد اللہ اور اصحاب علی کا نام مذکور نہیں، یعنی یہ تمام نامعلوم شاگرد مجہول تھے۔ (دیکھیے نور العینین ص 312)
نمبر 321 میں اسماعیل بن ابی خالد مدلس ہیں اور سماع کی تصریح نہیں۔ اسماعیل رحمہ اللہ کی تدلیس کے لیے دیکھیے احسن الکلام (ج 2 ص 135 طبع دوم)
بعد میں احسن الکلام والی عبارت کو چپکے سے اڑا دیا گیا ہے، جیسا کہ اس مضمون کے شروع میں نمبر 10 کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔
نمبر 322 میں سفیان بن مسلم مجہول ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 314)
نمبر 323 میں حجاج بن ارطاة ضعیف ہے۔ (دیکھیے نصب الرایہ 1/92)
اور مدلس بھی ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 314، اسماء المدلسین للسیوطی ص 95)
نمبر 324، 325 میں جابر بن یزید الجعفی راوی ہے، جس کے بارے میں امام ابو حنیفہ نے فرمایا: ما رأيت أحدا أكذب من جابر الجعفي ولا أفضل من عطاء بن أبى رباح میں نے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں دیکھا اور عطاء بن ابی رباح سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا۔ (کتاب العلل للترمذی مع الجامع ص 891 وسندہ حسن)
اس گواہی سے دو باتیں ثابت ہوئیں:
⟐ جابر جعفی کذاب تھا۔
⟐ امام صاحب نے کسی صحابی کو نہیں دیکھا تھا، لہذا وہ تابعی نہیں تھے۔
نمبر 326 میں کسی تابعی کا قول نہیں بلکہ اسحاق بن ابی اسرائیل نام کا ایک راوی تھا جو 150ھ میں پیدا ہوا تھا اور اس کے بارے میں امام بغوی نے فرمایا:
ثقة مأمون ، إلا أنه كان قليل العقل وہ ثقہ مأمون لیکن کم عقل تھا۔ (تاریخ بغداد 6/361 ت 3383، سیر اعلام النبلاء 11/477)
تبع تابعین کے بعد ایک کم عقل ثقہ آدمی کی ذاتی رائے کی کیا حیثیت ہے؟!
نمبر 327 میں مالکیوں کی مذکورہ کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے جو کہ غیر ثابت اور نا قابل حجت کتاب ہے۔ (دیکھیے العمر فی خبر من غبر 2/122، دوسرا نسخہ 1/443، اور القول المتین فی الجمر بالتامین ص 87)
ان آصفی آثار کے مقابلے میں درج ذیل تابعین سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین ثابت ہے:
محمد بن سیرین البصری، ابو قلابہ البصری الشامی، وہب بن منبہ الیمانی ، سالم بن عبد اللہ بن عمر المدنی ، قاسم بن محمد بن ابی بکر المدنی ، عطاء بن ابی رباح المکی ، مکحول الشامی، نعمان بن ابی عیاش المدنی الانصاری ، طاوس الیمانی ، سعید بن جبیر الکوفی اور حسن بصری وغیرہم رحمہم اللہ۔ (دیکھیے نور العینین ص 316)
ثابت ہوا کہ مکہ، مدینہ، بصرہ، شام اور یمن سب مقامات پر رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کیا جاتا تھا اور دور تابعین میں اس پر عمل جاری وساری تھا، لہذا رفع یدین مذکور کی منسوخیت یا متروکیت کا دعویٰ باطل و مردود ہے۔
انصاف پسند قارئین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ نے دیکھ لیا، آصف لاہوری دیوبندی نے آل دیوبند کے ساتھ مل کر اپنے زعم باطل میں ”ترک رفع الیدین پر 327 صحیح احادیث و آثار کا مجموعہ“ پیش کیا، حالانکہ اس سارے مجموعے کا خلاصہ صرف دو چیزیں ہیں:
⟐ صحیح مرفوع و موقوف روایات لیکن ان میں ترک رفع یدین کا نام و نشان نہیں، لہذا انھیں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے خلاف پیش کرنا غلط، باطل اور مردود ہے۔
⟐ ضعیف و مردود سندوں سے مروی مرفوع و موقوف روایات، جن سے استدلال غلط، باطل اور مردود ہے۔
آصف صاحب اینڈ پارٹی نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ترک رفع الیدین صراحت اور صحیح سند کے ساتھ ثابت کر سکے ہیں اور نہ کسی ایک صحابی سے رکوع سے پہلے اور بعد کی صراحت کے ساتھ صحیح یا حسن سند سے ترک کا کوئی ثبوت پیش کیا ہے، لہذا آصف صاحب کی یہ کتاب آصف اور آل دیوبند کی شکست فاش ہے، جبکہ رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین صحیح و حسن لذاتہ اسانید کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے اور صحابہ کرام و جمہور تابعین عظام سے بھی ثابت ہے۔
رہ گیا ایک تابعی کا انفرادی و شاذ عمل تو اس کے مقابلے میں تابعین عظام کا جم غفیر ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کرام کے مقابلے میں ایک تابعی یا مجہول لوگوں کے عمل کی حیثیت ہی کیا ہے؟!
تفصیل کے لیے دیکھیے امام بخاری کی مشہور کتاب: جزء رفع الیدین اور راقم الحروف کی کتاب ”نور العینین فی اثبات رفع الیدین“ والحمد لرب العالمين (8 نومبر 2011ء)
اضافہ: گھمن صاحب نے الناسخ والمنسوخ لابن شاہین (ص 153 [و فی نسختنا ص 329 ح 248]) سے ایک روایت پیش کی ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ سینہ تک اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اور نہ اس کے بعد کرتے۔“ (گھمنی نماز ص 90)
ترجمے سے قطع نظر عرض ہے کہ اس روایت کی سند میں احمد بن عبد اللہ بن محمد الرقی راوی ہے، جس کی توثیق نا معلوم ہے۔
عرض ہے کہ احمد بن عبد اللہ الرقی کی توثیق بعد میں مل گئی۔ (دیکھیے تاریخ بغداد 4/229-230 ت 1936)
نیز اس روایت کی دوسری سند بھی مل گئی ہے:
دیکھیے الجزء العاشر من الفوائد المنتقاة لابن ابی الفوارس (1/171 ح 170)
المخلصیات (3/229 ح 2395)
تاریخ دمشق لابن عساکر (51/48)
کتاب الضعفاء للعقیلی (2/69 مختصراً، دوسرا نسخہ 2/422، تیسرا نسخہ 2/358)
اسے حافظ ابن حجر نے فتح الباری (ج 2 ص 221 تحت ح 737) میں” باسناد حسن “ قرار دیا لیکن لسان المیزان میں لکھا: رزق الله بن موسى الكلواذاني عن يحيى بن سعيد و بقية أحاديثه منكرة وهو بصري لا بأس به
رزق اللہ بن موسیٰ الکلواذانی نے یحییٰ بن سعید اور بقیہ سے منکر حدیثیں بیان کیں اور وہ بصری لا بأس بہ ہے۔ (ج 2 ص 459، دوسرا نسخہ ج 3 ص 95-96)
امام خلیلی نے فرمایا: اس روایت میں رزق اللہ بن موسیٰ کو غلطی لگی ہے۔ (الارشاد فی معرفة علماء الحدیث 1/203)
اس سے ثابت ہوا کہ یہ روایت جرح خاص ہونے کی وجہ سے منکر یعنی ضعیف ہے۔