آسیب سے متعلق 7 نکات شرعی و عقلی دلائل کی روشنی میں

ماخوذ : فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 28
مضمون کے اہم نکات

آسیب کا مطلب و تفصیلی مفہوم

عمومی مفہوم

آسیب کا مطلب عوام الناس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی شخص کو جن لگ گیا ہے، خواہ وہ جن مومن ہو یا فاسق فاجر یا کافر۔
◈ اس تصور کے مطابق، جن کے زیر اثر شخص کے افعال و اقوال، حرکات و سکنات میں غیر معمولی خلل واقع ہوتا ہے۔
◈ زیادہ تر خواتین ہی اس کیفیت کی شکایت کرتی دیکھی گئی ہیں، تاہم حقیقت میں ان میں سے اکثر کو آسیب نہیں ہوتا بلکہ وہ ہسٹیریا یا اخنتاق کی مریض ہوتی ہیں۔
◈ بعض صورتوں میں یہ عورتیں ذاتی مقاصد یا شہرت کی خاطر تکلف اور تصنع سے آسیب زدہ بننے کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔

دنیا بھر میں رائج عقیدہ

آسیب زدگی کا تصور دنیا کے مختلف حصوں میں کم و بیش پایا جاتا ہے۔
◈ ہر جگہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس عقیدے کا انکار کرتے ہیں۔
◈ انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ:
◈ جن یا شیطان انسان یا جانور پر اثر انداز نہیں ہوتے۔
◈ خلافِ معمول حرکات یا اقوال صرف ذہنی یا جسمانی بیماری یا مصنوعی چالاکی پر مبنی ہوتے ہیں۔
◈ لیکن ہمارے نزدیک یہ کہنا کہ جن یا شیطان کسی انسان پر سوار نہیں ہو سکتے یا اس کے افعال کو متاثر نہیں کر سکتے، صحیح نہیں ہے۔

ذاتی نوٹ

◈ 17 جولائی کو اس خط کا جواب مکمل نہ ہو سکا تھا۔
◈ آج 27 اگست کو اس خط کو مکمل کیا جا رہا ہے، امید ہے کہ اس کی تکمیل ہو جائے گی۔

شرعی و عقلی حیثیت

الجن و الشیطان کا اثر

آسیب زدگی یعنی جن یا شیطان کا انسان پر سوار ہونا یا اس پر قبضہ کر لینا اور اس کی زبان سے مختلف باتیں کروانا یا غیر معمولی حرکتیں کروانا:
نہ عقلاً غلط ہے اور نہ ہی شرعاً۔
مشاہدہ، تجربہ اور حسی شہادتیں اس کے وقوع کی واضح دلیلیں ہیں۔
◈ اگرچہ کچھ اہلِ علم جیسے مولانا مسعودالدین عثمانی اس بات کا انکار کرتے ہیں اور توجیہات پیش کرتے ہیں، مگر ان کا انکار ناقابلِ قبول ہے۔

جاہلیت کے زمانے کا تصور

زمانۂ جاہلیت اور نزول قرآن کے وقت بھی لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ انسان پر جن یا شیطان سوار ہو سکتا ہے۔
◈ اسی بنیاد پر لوگوں نے رسول ﷺ کو مجنون قرار دیا۔
◈ قرآن مجید نے رسول ﷺ کو مجنون کہنے کی شدید تردید کی، لیکن کسی انسان پر جن کے سوار ہونے کے عقیدے کی تردید نہیں کی۔

قرآنی دلیل

◈ سورۃ البقرہ، آیت 275:
﴿الَّذِينَ يَأكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ﴾
◈ اس آیت سے جنات کے تصرف کا ثبوت ملتا ہے۔
◈ مولانا مسعود الدین عثمانی اور دیگر عقلیت پسند مفسرین کی یہ تاویل کہ یہ صرف جاہلی عقیدے کی نقل ہے، قابلِ اعتراض ہے۔
◈ اگر یہ عقیدہ شرعاً باطل ہوتا، تو قرآن اسے بغیر تردید کے بیان نہ کرتا۔

کرامت، معجزہ، سحر و شعبدہ کا فرق

کرامت: مومن و صالح کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خرقِ عادت کا ظہور۔
معجزہ: نبی کے ہاتھوں ظاہر ہونے والی خرقِ عادت چیز۔
◈ دونوں کی تعریف میں فرق نہیں، صرف نسبت کا فرق ہے۔
◈ امام نوویؒ نے ریاض الصالحین میں باب ’’کرامة الاولياء وفضلهم‘‘ کے تحت متعلقہ آیات و احادیث ذکر کی ہیں۔
◈ حضرت نواب صاحب بھوپالیؒ نے دلیل الطالب جلد میں صفحات 733 تا 739 میں کرامت اولیاء پر مفصل بحث کی ہے۔

حدیث "اول ما خلق الله نوري” کی حیثیت

◈ یہ حدیث:
◈ ’’اول ما خلق اللہ نوری‘‘
◈ ’’یا جابر، اول ما خلق اللہ نور نبيك‘‘
◈ ان کا حوالہ:
سیرۃ النبی، جلد 3، صفحات 737-738، زرقانی علی المواہب، مصنف عبدالرزاق۔
◈ ’’المواهب اللدنیة‘‘ کی شرح زرقانی (1/27، طبع بیروت) میں یہ حدیث بغیر سند اور بغیر مخرج مذکور ہے۔
◈ ’’مصنف عبدالرزاق‘‘ میں تلاش کرنے پر یہ حدیث نہیں ملی۔
◈ مولف السنن والمبتدعات المتعلّقة بالأذکار والصلوات ص 93 پر لکھتے ہیں:
’’…حديث: اول ما خلق الله نور نبيك يا جابر اخرجه عبدالرزاق، ولا أصل له…‘‘
◈ نیز:
’’…ان عبدالرزاق كذاب…‘‘
◈ اس وقت اس حدیث کے بارے میں مزید تفصیل ممکن نہیں، تحقیق کے لیے مزید کوشش کی جا سکتی ہے۔

ذاتی ملاقاتیں اور تاثرات

عید کے بعد قاری محمد زبیر سے ملاقات ہوئی، انہوں نے آپ کی تین کتابیں:
➊ تحفہ حدیث
➋ روزہ
➌ یہ قبریں اور آستانے
◈ آپ کا سلام اور خیریت بھی پہنچائی گئی، اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ صحت مند ہیں۔

تحفہ حدیث پر تبصرہ و مشورے

اعراب کا التزام:
◈ غیر عربی دان قارئین کے لیے قرآن و حدیث کے حوالہ جات پر مکمل اور درست اعراب ہونا ضروری تھا۔
زبان کی سادگی:
◈ آج کے دور میں اردو کو عام فہم بنانے کی سخت ضرورت ہے، خاص طور پر کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے۔
◈ تحفہ حدیث کی زبان کو مزید سادہ اور عام فہم بنایا جانا چاہیے تھا۔
زکٰوة کا نصاب:
◈ صفحہ 34 پر ’’ساڑھے سات تولہ سونا اور اس کی قیمت کا نقد روپیہ‘‘ لکھنا غلط فہم پیدا کرتا ہے۔
◈ جب مقدار موجود ہو تو قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔
تفرقہ اندازی کی حدیث:
◈ حدیث ’’من تفرق فلیس منا‘‘ کا ترجمہ ’’تفرقہ ڈالنے والا‘‘ غلط ہے، کیونکہ ’’تفرق‘‘ کا مطلب ’’الگ ہونے‘‘ کا ہے۔
◈ صحیح الفاظ ’’من فرق‘‘ ہیں اور اس کی سند ضعیف ہے۔
حدیث کا مکمل متن:
◈ صفحہ 125 پر ’’النکاح من سنتی…‘‘ والی حدیث کا پورا متن کسی ایک روایت میں نہیں، بلکہ یہ مختلف احادیث کے اجزاء ہیں۔
زرہ یا درع کا ذکر:
◈ صفحہ 147 پر ’’درع‘‘ کے بجائے صرف زرہ کا ذکر ہونا چاہیے تھا جیسا کہ قرآن میں ’’صنعة لبوس‘‘ مذکور ہے۔
لباس کی وضع قطع:
◈ صفحہ 149 میں لباس کے متعلق جو شرائط بیان کی گئی ہیں ان میں یہ شرط بھی ضروری ہے کہ لباس کی ساخت کسی غیر مسلم قوم یا مذہب سے مشابہت نہ رکھے۔
’’من تشبه بقوم فهو منهم‘‘

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️