مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

آسیب زدہ کا علاج قران و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شخبوط بن صالح بن عبدالھادی المری کی کتاب اپنے آپ پر دم کیسے کریں (نظربد، جادو، اور آسیب سے بچاو اور علاج) سے ماخوذ ہے۔ کتاب پی ڈی ایف میں ڈاونلوڈ کریں۔

آسیب زدہ کا علاج (جنات کا اثر ہو جانے کے بعد)

سب سے بڑا علاج:

1۔ سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کرنا:
حضرت خارجہ بن صلت رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ پھر آپ کے ہاں سے واپس چلے گئے۔ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جن کے پاس ایک پاگل آدمی لوہے کی زنجیروں سے بندھا ہوا تھا۔ اس قوم کے لوگوں نے ان سے کہا: ہمیں اس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں خیر کی خبر پہنچی ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس سے تم اس آدمی کا علاج کر دو؟ تو میں نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا، تو وہ تندرست ہو گیا۔ انہوں نے مجھے سو بکریاں دیں۔ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس واقعہ کے متعلق بتایا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے اس کے علاوہ بھی کچھ پڑھا تھا؟
ایک دوسری روایت میں ہے: کیا تم نے اس کے علاوہ کچھ کہا تھا؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے لے لیجیے۔ میری عمر کی قسم، لوگ باطل طریقے سے جھاڑ پھونک کر کے کھا لیتے ہیں، تم نے تو حق طریقے سے دم کر کے کھایا ہے۔
[صحيح أبى داؤد: 3896، الصحيحة: 2027]
دوسری روایت میں ہے: انہوں نے اس مجنون آدمی پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر صبح و شام تین مرتبہ دم کیا۔ جب بھی دم ختم کرتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھوک دیتے، تو گویا وہ گرہوں سے آزاد ہو گیا، پس اس آدمی کے ورثاء نے انہیں بکریاں دیں۔
[صحيح أبى داؤد: 3897]
2۔ آیت الکرسی پڑھنا۔
3۔ سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھنا۔پھر یہ سورتیں پڑھیں:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ
7۔ پھر مریض پر پھونک ماریں۔
8۔ تین بار یا اس سے زائد مرتبہ اس عمل کو دہرایا جائے۔
9۔ ان کے علاوہ دیگر قرآنی آیات پڑھ کر دم کیا جائے۔ سارا قرآن شفاء ہے۔ اس میں اہل ایمان کے لیے شفاء، ہدایت اور رحمت ہے۔
[ الفتح الرباني، ترتيب مسند أحمد: 17/183]
10۔ دم کرنے کی دعائیں جادو کے علاج میں اس سے پہلے گزر چکی ہیں۔
11۔ اگر ایسے بے ہوش یا آسیب زدہ انسان کے کان میں اذان دی جائے تو یہ بھی بہت بہتر ہے، کیونکہ اذان کی آواز سن کر شیطان بھاگ جاتا ہے۔
[البخاري: 608، مسلم: 389]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے ایک آسیب زدہ کے کان میں کچھ قرآت کی تو اسے آرام آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا؟ تو عرض کیا: یہ سورت پڑھی:
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
[المؤمنون: 115]
کیا تم یہ گمان کیے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بے کار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے؟
یہ پوری سورت آخر تک پڑھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اسے کوئی صاحب ایمان و یقین انسان پہاڑ پر بھی پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے۔
[مسند أبو يعلى: 5023، الطبراني في الدعاء: 1081، ابن سني في عمل يوم وليلة: 631]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ آیت الکرسی اور معوذتین پڑھ کر علاج کیا کرتے تھے اور مریض کے کان میں اکثر یہ آیت پڑھا کرتے:
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
[المؤمنون: 115]
اور آپ نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا کہ انہوں نے ایک بار ایک آسیب زدہ کے کان میں اس آیت کی تلاوت کی تو روح پکار اٹھی: ہاں، ہم اللہ کے پاس لوٹ کر جاتے ہیں۔ اور اس نے اپنی آواز کو خوب لمبا کیا۔
[زاد المعاد لابن قيم: 4/66]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جنات کا بنی آدم کے بدن میں داخل ہونا ائمہ اہل سنت والجماعت کے اجماع کی روشنی میں ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ
[البقرة: 275]
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح حواس باختہ اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو۔
صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان بنی آدم میں ایسے چلتا ہے جیسے اس کی رگوں میں خون چلتا ہے۔
حضرت امام عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: بیشک کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنات آسیب زدہ کے بدن میں داخل نہیں ہوتا۔ تو آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اور یہ جن ہی ان کی زبانوں پر بات کرتا ہے۔
[زاد المعاد لابن قيم: 4/66]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ نے یہ جو جملہ ارشاد فرمایا ہے، یہ انتہائی مشہور معاملہ ہے۔ جنات کسی انسان کو بے ہوش کر دیتے ہیں اور پھر اس کی زبان پر ایسا کلام کرتے ہیں جن کا معنی کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ آگے چل کر آپ فرماتے ہیں: ائمہ اسلام میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو جنات کے انسانی بدن میں داخل ہونے کا انکار کرتا ہو۔ اور جس کسی نے اس کا انکار کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ شریعت اس چیز کو جھٹلاتی ہے، تو یقیناً ایسا انسان شریعت کو جھٹلاتا ہے۔ شرعی دلائل میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو اس کے منافی ہو۔
[مجموع الفتاوى: 24/276-277]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔