آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

آثار تابعین اور ترک رفع یدین

اس کے بعد انوار خورشید صاحب نے آثار تابعین پیش کئے ہیں ان کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے:

قول نمبر ➊ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_1
اقول: ان اصحاب عبد اللہ اور اصحاب علی ( رضی اللہ عنہما ) میں سے کسی ایک کا نام بیان نہیں کیا گیا لہذا یہ سارے اشخاص مجہول ہیں۔ اگر ان سے مراد ثقہ حضرات تھے تو ان کا نام ظاہر نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟
دوسرے یہ کہ اگر یہ اثر صحیح ہے تو حنفی و بریلوی و دیوبندی حضرات اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟
قنوت وتر اور عیدین میں رفع الیدین کرنے والے یہ اثر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ اس کی زد میں ان کے یہ دونوں رفع الیدین بھی آتے ہیں۔ فما هو جوابكم فهو جوابنا

قول نمبر ➋ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_2
اقول: اس کا تفصیلی جواب آگے آرہا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

قول نمبر ➌ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_3
اقول: اشعث سے مراد اشعث بن سوار الکندی ہے۔
اسے جمہور علماء نے ضعیف کہا ہے صحیح مسلم میں اس کی روایات متابعات میں ہیں۔ امام احمد ابن معین، نسائی اور دارقطنی وغیر ہم نے کہا: ضعیف (دیکھئے تہذیب التہذیب 309،308/1) لہذا یہ سند ضعیف ہے۔

قول نمبر ➍ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_4
اقول: اس کا تفصیلی جواب بھی آگے آرہا ہے۔ ص314، 315

قول نمبر ➎ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_5
اقول: اس کی سند حسن ہے۔

قول نمبر ➏ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_6
اقول: جابر جعفی ضعیف رافضی اور مدلس ہے۔ [دیکھئے کتب المدلسین]
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: ”میں نے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں دیکھا۔“ (نصب الرایہ 49/2، اعلل الصغر المتر مندی ص 891 وسندہ حسن)

قول نمبر ➐ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_7
اقول: اسماعیل بن ابی خالد مدلس ہیں۔ (رسالہ: اسماء من عرف بالتدليس للسیوطی، ت نمبر 3) انھوں نے اس روایت میں سماع کی تصریح نہیں کی لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔

قول نمبر ➑ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_8
اقول: سفیان بن مسلم، اگر تصحیف نہیں ہے تو اس کے حالات مجھے نہیں ملے۔

قول نمبر ➒ :

آثارِ تابعین اور ترکِ رفع الیدین – Screenshot_9
اقول: حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہونے کے ساتھ مدلس بھی ہے۔
وقال السيوطي فى أسماء المدلسين (ص95) مشهور بالتدليس علامہ زیلعی حنفی نے کہا: والحجاج بن أرطاة ضعيف [نصب الرايه 92/1]
آثار تابعین پر تبصرہ ختم ہوا۔
قارئین کرام! انوار خورشید صاحب کے پیش کردہ آثار تابعین میں صرف تین اثر (ابراہیم نخعی، عامر الشعبی اور ابو اسحاق) بلحاظ سند صحیح ہیں۔ باقی تمام آثار اصول محدثین کی روشنی میں ضعیف و نا قابل حجت ہیں۔ یہ تینوں آثار بھی عدم رفع الیدین قبل الرکوع و بعدہ پر نص صریح نہیں ہیں۔ حنفی و بریلوی و دیوبندی حضرات وتر اور عیدین میں رفع الیدین کرتے ہیں جو کہ ان دونوں آثار کے (بظاہر) خلاف ہے۔ اگر وہ یہ کہیں کہ وتر اور عیدین کی تخصیص دیگر دلائل سے ثابت ہے تو مودبانہ عرض ہے کہ رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کی تخصیص متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
لہذا اہل حدیث کے خلاف ان دونوں آثار سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے رفع الیدین کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے تو کون ایسا مومن ہے جو نیچے اتر کر ایک آدھ تابعی کے عمل کو دیکھے گا!!
انوار خورشید صاحب اور ان کی کمپنی کی تسلی کے لیے چند تابعین کی صحیح روایات پیش خدمت ہیں جو کہ رفع الیدین کے قائل و فاعل تھے:

اثبات رفع الیدین اور تابعین

① محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ علیہ) رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شیبه: 235/1 ح عن معاذ عن ابن عون عنه واسناده صحیح]
② ابو قلابہ بصری [ایضاً عن ابن علیه من خالد عنه واسنادہ صحیح]
③ وہب بن منبہ [مصنف عبدالرزاق ج 2 ص 69 ح 2534 واسناده صحیح، اتمهید 228/9 وعبد الرزاق صرح بالسماع عنده]
④ سالم بن عبد اللہ المدنی [جزء رفع اليدين للبخاري ص 136 ح 62 واسناده حسن]
⑤ القاسم بن محمد المدنی [ایضاً: 62 واسناده حسن]
⑥ عطاء بن ابی رباح المکی [ایضاً: 62 واسناده حسن]
⑦ مکحول الشامی [ ایضاً: 62 واسناده حسن]
⑧ نعمان بن ابی عیاش [جزء رفع الیدین ص 135 ح 59 واسناده حسن]
⑨ طاؤس[السنن الكبرى للمبتی ج 2 ص 74 واسنادہ صحیح]
⑩ سعید بن جبیر [ایضاً ص 75 واسنادہ صحیح]
⑪ قاسم بن مخیرہ رکوع کے وقت رفع یدین کے قائل تھے۔ [جزء رفع الیدین: 60 وسندہ صحیح]
⑫ الحسن البصری [مصنف ابن ابی شیبه 1/235 ح 2435 وسنده صحیح]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے