گرے پڑے سونے اور چاندی کے اُٹھانے کے بارے میں حکم

تحریر : حافظ فیض اللہ ناصر

الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ: عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ { سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُقَطَةِ الذَّهَبِ ، أَوْ الْوَرِقِ؟ فَقَالَ: اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ ، فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنْ الدَّهْرِ: فَأَدِّهَا إلَيْهِ ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ فَقَالَ: مَا لَك وَلَهَا؟ دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ ، حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا وَسَأَلَهُ عَنْ الشَّاةِ؟ فَقَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ ، أَوْ لِأَخِيك ، أَوْ لِلذِّئْبِ }
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گرے پڑے سونے اور چاندی کے اُٹھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا بندھن اور اس کا غلاف پہچان رکھ، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر لیکن اگر نہ پہچانا جائے (یعنی کوئی پہچان کے لے کر نہ جائے) تو اسے اپنے استعمال میں لے آئے اور وہ تیرے پاس بطور امانت ہوگی ، سو اگر زندگی میں کبھی بھی اس کا مالک آ جائے تو تو اسے وہ ادا کر ۔ پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے اس سے کیا غرض؟ اسے چھوڑ دے، کیونکہ اس کا موزہ اور پانی کی مشک اس کے ساتھ ہی ہوتی ہے ، وہ پانی ڈھونڈ لیتا ہے اور درخت (کے پتے ) کھا لیتا ہے، یہاں تک کہ اسے اس کا مالک پالے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (گم شدہ ) بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لے، کیونکہ وہ یا تو تیرے حصے میں آئے گی یا تیرا کوئی اور بھائی اسے پکڑلے گا، یا پھر بھیڑیا کھا جائے گا۔
شرح المفردات:
القطة: وہ چیز جو اپنے مالک سے گر جائے اور اسے کوئی اور شخص اٹھا لے ۔
وكاء ها: وہ تسمہ اور بندھن جس سے کسی چیز کا منہ باندھا جاتا ہے ۔
عفاصها: جس خلاف یا کپڑے میں وہ چیز بند ہو۔
سقاء ها: اس سے مراد اس کا پیٹ ہے ، جو بہت سا کھانا اور پانی جمع کر لیتا ہے ۔
شرح الحدیث:
فقہاء کا اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا اس چیز کے مالک کے آنے پر وہ چیز واپس کرنا واجب ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس چیز کا مالک اس کی علامات بتلا دیتا ہے اور وہ چیز اُٹھانے والے کو غالب گمان ہو کہ یہ سچ بول رہا ہے تو اسے وہ چیز لوٹا دینی چاہیے۔ اصحاب الرائے کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسے لوٹا دے اور اس پر ایک ضمانتی بنالے۔ امام احمد رحمہ اللہ اور مالک رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ جب اس چیز کا مالک تمام علامات اور صفات بتلا دے تو اس شخص کو (یعنی جس نے وہ چیز اُٹھائی ہو ) وہ چیز اس کے مالک کے حوالے کر دینی چاہیے، خواہ اسے اس کے سچ کا ظن غالب ہو یا نہ ہو۔ [شرح عمدة الأحكام لابن دقيق العيد: 241/3، 242]
راوى الحديث:
زيد بن خالد رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی ۔ مدینہ کے رہنے والے تھے اور جہینہ قبیلے سے تعلق تھا، اسی نسبت سے جہنی کہلاتے تھے مشہور صحابی رسول تھے۔ اکیاسی احادیث کے راوی ہیں۔ 78 ہجری میں وفات پائی۔
(294)صحيح البخارى، كتاب العلم ، باب الغضب فى الموعظة والتعليم ، ح: 91 – صحيح مسلم، كتاب اللقطة ، الباب الأول، ح: 1722

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل