کمپنی یا حکومتی ادارے کے وکیل کو تحفہ دینا

تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

286- فروخت کرنے والے کا خریدنے والے کو تحفہ دینے کا حکم
اگر فروخت کرنے والا خریدنے والے کو کوئی تحفہ دے تو یہ اس کی ملکیت ہوگی اور وہ اس کا مالک، لیکن اگر خریدار کسی کمپنی یا حکومتی ادارے کا وکیل ہو تو پھر یہ تحفہ رشوت کے مشابہ ہوگا، کیونکہ یہ ایک عام سی بات ہے کہ جب اس وکیل کو کوئی تحفہ دیا جائے گا تو وہ اس خریدار کو دوسروں پر ترجیح دے گا، پھر یہ امکان بھی رہے گا کہ یہ سامان کم قیمت کا ہو یا قیمتی ہو، لیکن یہ تحفہ اسے جھکا دے گا، لہٰذا آپ دیکھیں گے کہ وہ دیگر لوگوں کے پاس جانے سے اجتناب کرے گا اور اسی سے خرید و فروخت کرے گا، لیکن اگر آدمی اپنے لیے کچھ خریدے اور لوگوں کو بیچے پھر یہ فروخت کرنے والا اس کو کوئی تحفہ دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
[ابن عثيمين: لقاء الباب مفتوح: 10/153]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل