وصیت کے متعلق نبی ﷺ کی نصیحت

تحریر : حافظ فیض اللہ ناصر

الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: { أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ ، يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ زَادَ مُسْلِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا [ ص: 545] مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ ، إلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي }
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی مسلمان بندے کے لائق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں اس حال میں گزار دے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اس نے وصیت کرنی ہو، مگر (اس صورت میں کہ ) اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔
میں یہ اضافہ ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا تب سے میری ایک رات بھی ایسی نہیں بسر ہوئی کہ میرے پاس میری وصیت موجود نہ ہو۔
شرح المفردات:
الوصية: کسی کو مال دینے کا یا اپنی موت کے بعد کوئی چیز کسی کو خیرات کرنے کا خاص عہد و پیمان ۔
شرح الحدیث:
اس حدیث میں وصیت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اہل ظاہر نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ حجت پکڑی ہے کہ یہ واجب ہے ۔ [عمدة القاري للعيني: 28/14]
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وصیت کو حق قرار دیا ہے، خواہ مال کثیر ہو یا قلیل ۔ [تفسير الطبري: 121/2]
ابو مجلز رحمہ للہ سے سوال کیا گیا کہ کیا ہر شخص پر وصیت کرنا لازم ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہر اس شخص پر جو مال چھوڑ کر جائے۔ [المغني لابن قدامة: 55/6]
ائمہ اربعہ اور شخصی و ثوری رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ وصیت واجب نہیں ہے، خواہ وصیت کرنے والا خوش حال ہو یا تنگدست ۔ [المحلى لابن حزم: 312/9]
ابن العربی رحمہ للہ فرماتے ہیں کہ اسلاف میں سے ہم کسی بھی ایسے اہل علم کو نہیں جانتے جو اس کے وجوب کا قائل ہو۔ [عارضة الأحوذي لابن العربي: 2748]
صحيح البخارى، كتاب الوصايا ، باب قول النبي: وصية الرجل مكتوبة عنده ، ح: 2738. صحيح مسلم ، كتاب الوصية ، الباب الأول ، ح: 1627 .

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل