نماز میں پاؤں سے پاؤں ملانا :
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اقيموا الصف فى الصلوة فان اقامة الصف من حسن الصلوة(صحیح بخاری کتاب الاذان باب اقامة الصف من تمام الصلوة حديث : 722)
نماز میں صفیں درست کرو بلاشبہ صفیں سیدھی رکھنا نماز کا حسن ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل والينوا بايدى اخوانكم ولا تذروا فرجات للشيطان(ابوداؤد کتاب الصلوة باب تسوية الصفوف حديث : 666)
صفیں سیدھی کرو ایک دوسرے کے ساتھ کندھے برابر کرو خلاء کو پر کرو اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے بیچ میں خالی جگہ مت چھوڑو۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے صفوں کے درمیان ایک طرف سے دوسری طرف تک چلتے اور ہمارے سینے اور کندھے ہاتھ سے برابر کرتے تھے۔ (ابو داؤد كتاب الصلوة باب تسوية الصفوف حديث : 664 ، نسائی حدیث : 812)
ایک اور حدیث میں فرمایا :
بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صفیں ملانے والوں پر درود بھیجتے ہیں اور جو صف کے خلاء کو پر کرتا ہے اللہ اس کے ذریعے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔ (ابن ماجه کتاب اقامة الصلوت باب اقامة الصفوف : 995)
نماز میں مونڈھے سے مونڈھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑا ہونا چاہیے۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
وقال النعمان بن بشير رأيت الرجل منا يلزق كعبه بكعب صاحبه(صحیح بخاری باب الزاق المنكب قبل الحديث : 7265)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا صف میں ایک آدمی ہم میں سے اپنا ٹخنہ اپنے قریب والے دوسرے آدمی کے ٹخنہ سے ملا کر کھڑا ہوتا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی صفیں برابر کرلو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں :
وكان احدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه وقدمه بقدمه(صحیح بخاری کتاب الاذان باب مذکور حدیث : 725)
اور ہم میں سے ہر شخص یہ کرتا کہ صف میں اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اس کے قدم سے ملا دیتا تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صفیں درست کرنے کے لیے آدمی مقرر کیے ہوئے تھے اور جب تک صفیں درست کرنے کی اطلاع نہ دی جاتی آپ رضی اللہ عنہ نماز شروع نہیں کرتے تھے ۔ (ترمذي كتاب الصلوة باب ماجاء فى اقامة الصفوف تعليق بعد الحدیث : 227)
غور فرمائیں کیا اہل سنت کہلانے والوں کی صفیں سنت نبوی اور جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کے مطابق ہیں یا مخالف سنت کے آئینے میں اپنا چہرہ خود ہی دیکھ لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت پر کون چل رہا ہے۔
جو نبیﷺ کے امر میں خطا پائے گا
وہ ظالم دیوانہ کدھر جائے گا
میرے مسلمان بھائیو جان لو کے توحید مسلمانوں کے لیے ایمان کی جڑ ہے اس کے بغیر بندہ صاحب ایمان نہیں ہو سکتا اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں مسلمانوں کی کامیابی ہے اس کے بغیر جنت میں داخلہ ممکن نہیں شریعت یعنی کتاب وسنت پر عمل کرنا مسلمانوں کے لیے امن و راحت ہے جہالت پر چلنا انسان کے لیے ہلاکت و بربادی ہے اتفاق سے رہنا مسلمانوں کی خاص شان وان کا بہترین منش ہے اپنی غلطی پر ضد ہٹ دھرمی پر اڑے رہنا ابلیس لعین کا عمل ہے منزل پر وہی شخص پہنچتا ہے جس کو راہ حق کی تلاش ہوتی ہے۔