مسئلہ تراویح اور سعودی علماء

تحریر: حافظ محمد اسحاق زاھد حفظ اللہ، کویت

➊ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے تھی ؟ تو انہوں نے جوابا کہا :
ماكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة [بخاري : حديث نمبر 2013 ]
ترجمہ : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔“
➋ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھائے، اگلی رات آئی تو ہم جمع ہو گئے، اور ہمیں امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہرنکلیں گے لیکن ہم صبح تک انتظار کرتے رہ گئے، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے خطرہ تھا کہ کہیں تم پر وتر فرض نہ کر دیا جائے “ [صحيح ابن خزيمه 0170، ابن حبان 2401، ابويعلي 336/3 ]
اس حدیث کی سند کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے تخریج صحیح ابن خزیمہ میں حسن قرار دیا ہے، اس کے راوی عیسی بن جاریہ پر کچھ محدثین نے جرح کی ہے جو کہ مبہم ہے، اور اس کے مقابلے میں ابوزرعہ اور ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے، لہٰذا اسے جرح مبہم پر مقدم کیا جائے گا۔
➌ امام مالک نے السائب بن یزید سے روایت کیا ہے کہ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم الداری رضی اللہ عنہ کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا “
[الموطأ 1 /73 باب ماجاء فى قيام رمضان، ابن أبى شيبة 2/ 391 ]
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ :
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان اور دیگر مہینوں میں رات کی نماز گیارہ رکعات تھی۔
➋ یہی گیارہ رکعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی باجماعت پڑھائیں۔
➌ پھر جب حضرت عمررضی اللہ عنہ نے نماز تراویح کے لئے لوگوں کو جمع کیا، تو انہوں نے بھی دو صحابہ کرام ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم الداری رضی اللہ عنہ کو گیارہ رکعات ہی پڑھانے کا حکم دیا۔
تراویح ہی ماہ رمضان میں تہجد ہے
”حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران ہمیں قیام نہیں کرایا، یہاں تک کہ صرف سات روزے باقی رہ گئے، چنانچہ آپ نے 23 کی رات کو ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اتنی لمبی قرأت کی کہ ایک تہائی رات گزرگئی، پھر چوبیسویں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہیں پڑھایا، پھر پچیسویں رات کو آپ نے قیام پڑھایا، یہاں تک کہ آدھی رات گزرگئی، پھر چھبیسویں رات گزرگئی اور آپ نے قیام نہیں پڑھایا، پھر ستائیسویں رات کو آپ نے اتنا لمبا قیام پڑھایا کہ ہمیں سحری فوت ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ “
[ترندي حسن صحيح، حديث نمبر 787، ابوداود : حديث نمبر 1362، النسائي : حديث نمبر 1364، ابن خزيمه حديث نمبر 2206، ابن حبان : حديث نمبر 2538]
تو اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں نماز تراوت پر ہی اکتفاء کیا اور اس کے بعد نماز تہجد نہیں پڑھی، کیونکہ سحری تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تراویح ہی پڑھاتے رہے، اور اگر اس میں اور نماز تہجد میں کوئی فرق ہوتا یا دونوں الگ الگ نمازیں ہوتیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم تراویح کے بعد تہجد پڑھے، تو رمضان میں تراویح ہی نماز تہجد ہے، اور عام دنوں میں جسے نماز تہجد کہتے ہیں وہی نماز رمضان میں نماز تراویح کہلاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ محدثین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی (پہلی) حدیث کو کتاب التراویح میں روایت کیا ہے، اس لئے اس سے نماز تہجد مراد لینا، اور پھر اس میں اور نماز تراویح میں فرق کرنا قطعا درست نہیں۔
کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں تراویح پڑھانے کا حکم دیا تھا ؟
ہم نے مؤطا اور ابن ابی شیبہ کے حوالے سے السائب بن یزید کا یہ اثر نقل کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم الداری رضی اللہ عنہ کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا، امام مالک نے جہاں یہ اثر روایت کیا ہے، اس کے فورا بعد ایک دوسرا اثر بھی لائے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں کہ یزید بن رومان کا کہنا ہے کہ لوگ عہد عمررضی اللہ عنہ میں 23 رکعات رمضان میں پڑھا کرتے تھے۔ [موطا : 73/1 ]
لیکن یہ دوسرا اثر منقطع يعنی ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راوی یز بن رومان نے عہد عمر رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، اور اگر اسے صحيح مان بھی لیا جائے تو تب بھی پہلا اثر راجح ہو گا کیونکہ اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دو صحابیوں کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا، جبکہ دوسرے اثر میں یہ ہے کہ لوگ عہد عمر رضی اللہ عنہ میں 23 رکعات پڑھا کرتے تھے۔ تو جس کام کا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا وہی راجح ہوگا کیونکہ وہ سنت کے مطابق ہے۔
نوٹ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بيس تراويح والے تمام آثار ضعیف ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی صحيح ثابت نہیں۔

خلاصۂ کلام
گزشتہ مختصر بحث سے معلوم ہوا کہ نماز تراوت کے سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح سنت گیارہ رکعات ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی سنت کو زندہ کیا اور گیارہ رکعات کا التزام کیا۔
اور جہاں تک کچھ ائمہ کرام کا یہ موقف ہے کہ نماز تراویح گیارہ سے زیادہ رکعات بھی پڑھی جاسکتی ہے، تو یہ اس بناء پر نہیں کہ سنت اس سے زیادہ ہے، بلکہ محض اس بناء پر کہ چونکہ بی نمازنفل ہے، اور نفل میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، اس لئے گیارہ سے زیادہ بیس یا اس سے بھی زیادہ رکعات پڑھی جاسکتی ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ کم از کم اتنی بات پر تو سب کا اتفاق ہے، اختلاف صرف اس چیز میں ہے کہ سنت اور افضل کیا ہے ؟ تو جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات ہی پڑھا کرتے تھے اور رات کی جو نفل نماز عام دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے، وہی نماز رمضان میں تراویح کہلاتی ہے، تو یقینی طور پر نماز تراویح کے مسئلے میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات ہی ہے، باقی نفل سمجھ کر کوئی شخص اگر گیارہ سے زیادہ پڑھتا ہے تو اس پر کوئی نکیر نہیں ہونی چاہئے، ہاں البتہ اسے سنت تصور نہیں کیا جاسکتا، اور اسی موقف کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اور سعودی علماء نے اختیار کیا ہے۔
مسئلہ تراویح اور سعودی علماء
سعودی علماء کا مسئلہ تراویح میں بالکل وہی موقف ہے جسے ہم نے مندرجہ بالا سطور میں ذکر کیا ہے، تو آیئے ان کی تصریحات ملاحظہ فرمائیں :
➊ شیخ ابن باز رحمہ اللہ
والأفضل ما كان النبى صلى الله عليه وسلم يفعله غالبا وهو أن يقوم بثمان ركعات يسلم من كل ركعتين، ويوتر بثلاث مع الخشوع والطمأنينة وترتيل القراءة، لما ثبت فى الصحيحين من عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة [فتاوى اللجنة الدائمة 212/7]
” اور افضل وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر کرتے تھے، اور وہ یہ ہے کہ انسان آٹھ رکعات پڑھے، اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے، پھر تین وتر ادا کرے، اور پوری نماز میں خشوع، اطمینان اور ترتیل قرآن ضروری ہے، بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے . . . . . “
➋ فتوی کمیٹی (سعودی عرب کا فتوی )
صلاة التراويح سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد دلت الأدلة على أنه صلى الله عليه وسلم ما كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة [فتاوى الجنة الدائمة : 194/7]
”نماز تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اور دلائل یہ بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور اس کے علاوہ پورے سال میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔“
اس فتوے پر چار سعودی علماء کے دستخط ہیں :
الشیخ عبداللہ بن قعود، الشیخ عبداللہ بن غدیان، الشیخ عبدالرزاق عفیفی، الشیخ ابن باز
➌ الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ
واختلف السلف الصالح فى عدد الركعات فى صلاة التراويح والوتر معها، فقيل : إحدى وأربعون ركعة، وقيل : تسع و ثلاثون، وقيل : تسع و عشرون، وقيل ثلاث وعشرون، وقيل : تسع عشرة، وقيل : ثلاث عشرة، وقيل : إحدى عشرة، وقيل : غير ذلك، وأرجح هذه الأقوال أنها إحدى عشرة أوثلاث عشرة لما فى الصحيحين عن عائشة رضي الله عنها . . . وعن ابن عباس رضي الله عهنما قال : كانت صلاة النبى صلى الله عليه وسلم ثلاث عشرة ركعة، يعني من الليل، رواه البخاري، وفي الموطأ عن السائب بن يزيد قال : أمر عمر بن الخطاب رضى الله عنه أبى بن كعب و تميما الداري رضي الله عنهما أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة [مجالس شهر رمضان : ص 19 ]
”سلف صالحین نے نماز تراویح مع نماز وتر کی رکعات میں اختلاف کیا ہے، بعض نے اکتالیس، بعض نے انتالیس، بعض نے انتیس، بعض نے تیس، بعض نے انیس، بعض نے تیرہ اور بعض نے گیارہ رکعات بیان کی ہیں اور بعض نے ان اقوال کے علاوہ دوسری تعداد بھی نقل کی ہے، لیکن ان سب اقوال میں سے سب سے زیادہ راجح گیارہ یا تیرہ رکعات والا قول ہے، کیونکہ صحیحین [ بخاري و مسلم]
میں عائشہ نے گیارہ رکعات بیان کی ہیں، اور بخاری کی ایک اور روایت میں ابن عباس نے تیرہ رکعات ذکر کی ہیں، اور موطا امام مالک میں السائب بن یزید کا بیان ہے کہ حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم الداری دونوں کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا۔“
سعودی علماء کے مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ :
➊ یہ علماء نماز تراویح کی رکعات کے مسئلے میں حضرت عائشہ والی حدیث پر اعتماد کرتے ہیں، اور اس میں مذکور گیارہ رکعات سے وہ نماز تراویح کی گیارہ رکعات ہی مراد لیتے ہیں۔
➋ مسئلہ تراویح میں افضل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ تعداد رکعات پر عمل کیا جائے، اور وہ ہے : گیارہ
رکعات مع الوتر
➌ سعودی علماء اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی گیارہ رکعات ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا۔
تنبیہ : الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے جو تیرہ رکعات کا ذکر کیا ہے دراصل ان میں دو رکعات وہ ہیں جنہیں آپ نے ایک دو مرتبہ وتر کے بعد پڑھا تھا، اور علماء کا کہنا ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں وتر پڑھتے تھے اور اس کے بعد فجر کی اذان ہو جاتی تھی، تو شاید آپ نے فجر کی دو سنتیں پڑھی تھیں، جنہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رات کی نماز میں شامل سمجھا، یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے بعد یہ دو رکعات اس لئے پڑھی تھیں کہ وتر کے بعد بھی نفل نماز پڑھنے کا جواز باقی رہے۔ واللہ أعلم !

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل