قبرستان جانے کے مقاصد کا بیان کتاب و سنت کی روشنی میں

تحریر: فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
SR میں احمد خان پھلاڈیوں صوبہ سندھ سے لکھ رہا ہوں۔ ایک مسئلہ ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اہلحدیث حضرات جب قل ختم چہلم وغیرہ کو نہیں مانتے تو قبرستان جا کر کیا کرتے ہیں؟ مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبرستان جا کر کیا معمول تھا؟
قرآن پڑھنا بھی قبرستان پر منع ہے؟
لوگ کہتے ہیں کہ آپ مردہ کو قرآن پڑھ کر بخشنے کے بھی خلاف ہیں؟ ER
الجواب:
والسلام وليكم ورحمته الله وبركاته، اما بعد:
قبرستان جانے کے کئی مقاصد ہیں۔
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان جا کر مُردوں کے لئے دعائیں فرمایا کرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ:
حتي جاء البقيع فقام، فأطال القيام ، ثم رفع يديه ثلاث مرات، ثم انحرف فانحرفت. . .
”حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بقیع (مدینہ کے قبرستان) پہنچ کر کھڑے ہو گئے، آپ (کافی) لمبی دیر کھڑے رہے۔ پھر آپ نے تین دفعہ (دعا کے لئے) ہاتھ اُٹھائے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) واپس لوٹے تو میں (بھی) واپس لوٹی۔ ۔ ۔“
[صحيح مسلم، كتاب الجنائز باب مايقال عند و خول القبور و الدعاء لأ هلهاح ۱۰۳؍۹۷۴ و ترقيم دارالسلام: ۲۲۵۶]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ طیبہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ: جبریل (علیہ السلام) نے آکر مجھے کہا کہ: تیرا رب تجھے حکم دیتا ہے کہ بقیع والوں (کی قبروں) کے پاس جا کر اُن کے لئے (دعائے) استغفار کرو۔
[مسلم: ۹۷۴ حواله مذكوره]
عبداللہ بن ابی ملیکہ (ثقہ فقیہ تابعی) سے روایت ہے کہ:
أن عائشة أقبلت ذات يوم من المقابر، فقلت لها: يا أم المؤمنين من أين أقبلت؟ قالت: من قبر أخي عبدالرحمن بن أبى بكر، فقلت لها: أليس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهي عن زيارة القبور؟ قالت: نعم كان نهي ثم أمر بزيار تها
بے شک ایک دن (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ عنھما) قبرستان سے آئیں تو میں نے ان سے پوچھا: اے ام المؤمنین! آپ کہاں سے آئی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر (رضی اللہ عنہ) کی قبر سے۔ میں نے انہیں کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، آپ نے منع کیا تھا پھر زیارت (کی رخصت) کا حکم دے دیا تھا۔
[المستدرك للحاكم۱؍۳۷۶ح۱۳۹۲و البيهقي ۴؍۷۸ و سنده صحيح، وصححه الذهبي و البوصيري وغير هما، ديكهئے أحكام الجنائز للألباني ص ۱۸۱]
اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے۔
اول: قبروں کی زیارت سے منع والا حکم منسوخ ہے۔
دوم: عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ کبھی کبھار اپنے قریبی رشتہ داروں کی قبروں کی زیارت کر لیں۔
صحیح بخاری (۱۲۸۳) کی ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو (اپنے بچے کی ) قبر کے پاس روتے دیکھا تو صبر کی نصیحت کی (مگر آپ نے اسے قبر پر آنے سے منع نہیں کیا)
۔ دیکھئے : [فتح الباري ج۳ص۱۴۸]
تنبیہ (۱):
عورتوں کا کثرت سے قبروں کی زیارت کرنا ممنوع ہے جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن زوارات القبور
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔“
[سنن الترمذي، كتاب الجنائز باب ماجاء فى كراهية زيارة القبور للنساء ح ۱۰۵۶وقال: ‘‘هذا حديث حسن صحيح’’ وصححه ابن حبان ، الاحسان: ۳۱۷۸و سنده حسن]
تنبیہ(۲):
عورتوں کا غیر لوگوں کی قبروں کی زیارت کرنا ممنوع ہے۔ سنن ابی داود کی ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی امت کو سمجھانے کے لئے ) اپنی پیاری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اگر تو کُدی (قبرستان) تک چلی جاتی تو۔ ۔ ۔ پھر آپ نے سخت الفاظ بیان فرمائے ۔
[ح۳۱۲۳و سنده حسن و صححه الحاكم على شرط الشيخين ۱؍۳۷۳ ، ۳۷۴ووافقه الذهبي ! وحسنه المنذري و الهيثمي]
اس حدیث کا راوی ربیعہ بن سیف جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہے۔
دیکھئے : [نيل المقصود قلمي۲؍۷۱۴ح۳۱۲۳ و عمدة المساعي فى تحقيق سنن النسائي قلمي۱؍۱۸۸ح ۱۸۸۱]
اس شدید وعید والی حدیث سے ثابت ہے کہ عورتوں کے لئے غیر مردوں کی قبروں پر جانا ممنوع ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فزورو القبور فإنها تذكر كم الموت
” پس قبروں کی زیارت کرو کیونکہ بے شک یہ (زیارت ) تمہیں موت یاد دلائے گی۔“ [ ح ۱۰۸؍۹۷۶و دار السلام: ۲۲۵۹]
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ونهيتكم عن زيارة القبور فمن أراد أن يزور فليزر ولا تقولو اهجرا
”اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، پس جو شخص زیارت کرنا چاہے تو کر لے اور (وہاں ) باطل باتیں نہ کہنا“۔
[سنن النسائي۴؍۸۹ح۲۰۳۵و السنن الكبري للنسائي ۲۱۶۰و إسناده صحيح؍عمدة المساعي ۱؍۲۰۳]

➋ قبرستان پر جانے سے موت اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ انسان نصیحت و عبرت حاصل کرتا ہے جیسا کہ ابھی گزر چکا ہے۔

➌ قبرستان پر جا کر مسلمان مُردوں کے لئے دعائے استغفار کی جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بعض اوقات) رات کے آخری پہر مدینے کے قبرستان بقیع غرقد جا کر یہ دعا فرماتے: ‘‘اللھم اغفر لأ ھل بقیع الغرقد’’ اے اللہ بقیع غرقد والوں کو بخش دے ۔
[ صحيح مسلم: ۱۰۲؍۹۷۴و دارالسلام: ۲۲۵۵]
تفصیلی دلائل کے لئے جلیل القدر محدث شیخ البانی رحمہ اللہ کی ”کتاب الجنائز“ وغیرہ دیکھ لیں۔
مختصراً عرض ہے کہ اہل سنت یعنی اہل حدیث قبرستان پر جا کر مُردوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور آخرت و موت کو یاد کرتے ہیں۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ پر بھی عمل ہو جاتا ہے۔ اہل حدیث لوگ قبروں پر جا کر باطل (کتاب و سنت کے مخالف) اعمال نہیں کرتے اور نہ باطل باتیں کرتے ہیں۔ قبروں پر جا کر مُردوں سے دعائیں کرنا، انہیں اللہ کے سامنے بطور وسیلہ پیش کرنا، مُردوں پر شرکیہ و بدعیہ حرکات کرنا، چادریں چڑھانا، قل و چہلم کرنا، قرآن مجید پڑھ کر اس کا ثواب مُردوں کو بخشنا، وغیرہ کاموں کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث و اجماع اور آثار سلف صالحین سے نہیں ملتا۔ لہذا یہ سب اعمال باطل ہیں اور اہل حدیث ان سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہیں۔
قبروں پر جو شرکیہ اعمال اور منافی کتاب و سنت حرکات ہو رہی ہیں آپ خود جا کر ان کا نظارہ کر سکتے ہیں تاکہ ان لوگوں کا بذات خود رد کر سکیں۔ ان قبر پرستوں کی قبر پرستی پر أصل عبادة الأوثان بتوں کی عبادت کی اصل کا باب باندھ کر علامہ جلال الدین السیوطی (متوفی خ۹۱۱ھ) لکھتے ہیں کہ:
و لهذا تجد أقواما كثيرة من الضالين يتضرعون عند قبر الصالحين و يخشعون و يتذللون و يعبدو نهم بقلوبهم عبادة لا يفعلو نها فى بيوت الله المساجد ، بل ولا فى الأسحار بين يدي الله تعالىٰ و يرجون من الصلوة عندها و الدعاء مالا يرجو نه فى المساجد التى تشد إليها الرحال
اور اس لئے آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سی گمراہ قومیں نیک لوگوں کی قبروں کے پاس گڑگڑاتے ، خشوع اور عاجزی کرتے (ہوئے مانگتے ) ہیں۔ اور اپنے دلوں سے ان (مُردوں) کی ایسی عبادت کرتے ہیں جو اللہ کے (مقرر کردہ)گھروں: مسجدوں میں (اللہ کی عبادت) نہیں کرتے۔ بلکہ سحری کے وقت اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر ایسی عبادت نہیں کرتے یہ لوگ قبروں کے پاس نماز و دعاء سے ایسی امیدیں رکھتے ہیں جو وہ مسجد حرام ، مسجد نبوی اور مسجد اقصی میں بھی نہیں رکھتے۔
[الأمر بالا تباع والنهي عن الاتباع ص ۲۳]
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ کسی مسجد یا جگہ کی طرف خاص ثواب و برکت کے لئے سفر کرنا ثابت نہیں ہے۔
دیکھئے : [صحيح البخاري ۱۱۸۹ و صحيح مسلم ۱۳۹۷]
ایک دفعہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کوہ طور پر تشریف لے گئے تو سیدنا بصرہ بن ابی بصرہ الغفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: اگر مجھے آپ کے جانے سے پہلے پتہ چل جاتا تو آپ نہ جاتے ، پھر انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی۔
دیکھئے : [مؤطا امام مالك ج اص ۱۰۹ح۲۳۹ و سنده صحيح]
اسے ابن حبان (موارد الظمآن: ۱۰۲۴) نے صحیح کہا ہے اور یہ روایت اپنے بعض متن کے ساتھ مختصراً سنن ابی داود (۱۰۴۶) و سنن الترمذی (۴۹۱وقال: حسن صحیح) و صحیح ابن خزیمہ (۱۷۳۸) و المستدرک للحاکم (۱؍۲۷۸، ۲۷۹و صححہ علی شرط الشیخین و وافقہ الذھبی) میں موجود ہے۔
معلوم ہوا کہ کوہ طور پر ثواب حاصل کرنے کے لئے سفر کر کے جانا جائز نہیں ہے تو قبروں کی طرف سفر کر کے جانا بھی جائز نہیں ہے۔
اسی لئے شاہ ولی اللہ الدھلوی الحنفی (متوفی ۱۱۷۶ھ) لکھتے ہیں کہ:
و الحق عندي أن القبر و محل عبادة ولي من أولياء الله و الطور كل ذلك سواء فى النهي، والله أعلم
”اور میرے نزدیک حق یہ ہے کہ بے شک قبر، اللہ کے ولیوں میں سے کسی ولی کی عبادت گاہ اور کوہ طور ممانعت میں سب برابر ہیں واللہ اعلم“
[ حجة الله البالغه ج ۱ ص ۱۹۲ من أبواب الصلوة؍المساجد]
آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ ، رسم قل، ملا جی کا ختم شریف، چہلم وغیرہ اعمال کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث میں نہیں ہے۔
قرآن پڑھ کر مُردوں کو بخش دینا بھی کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے جبکہ آیت:
﴿وَاَنْ لَّيْسَ لِلانْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰي﴾
”انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ کوشش کرے“ [سورة النجم: ۳۹]
سے ثابت ہے کہ قرآن مجید کا ثواب مُردوں کو نہیں پہنچتا۔
حافظ ابن کثیر الدمشقی (متوفی ۷۷۴ھ) لکھتے ہیں کہ:
و من هذه الآيه الكريمة استنبط الشافعي رحمه الله ومن اتبعه أن القراء ة لا يصل اهداء ثوابها إلى الموتي لأ نه ليس من عملهم ولا كسبهم ولهذا لم يندب إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم أمته ولا حثهم عليه ولا أرشدهم إليه بنص ولا إ يماء ولم ينقل ذلك عن أحد من الصحابة رضي الله عنهم ولو كان خيرا السبقونا إليه. . .
’’اس آیت کریمہ سے (امام ) شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متبعین نے یہ (مسئلہ) استنباط کیا ہے کہ قرأت کا ثواب مُردوں کو بخشنے سے نہیں پہنچتا کیونکہ یہ ان کے اعمال اور کمائی سے نہیں ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس طرف ترغیب اور حکم نہیں دیا اور نہ کوئی صریح یا غیر صریح بات ارشاد فرمائی ہے اور نہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں کسی ایک سے یہ کام ثابت ہے۔ اگر یہ کام بہتر ہوتا تو ہم سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر عمل کرتے۔“
[تفسير ابن كثير بتحقيق عبدالرزاق المهدي ج ۶ص۳۸، سورة النجم: ۳۹]
امید ہے کہ اب آپ کو یہ مسئلہ سمجھ آ گیا ہو گا۔
ان شا ء الله وما علينا إلا البلاغ
(۹ربیع الاول۱۴۲۶ھ)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل