غسل میت کا مسنون طریقہ

مرتب: محمد اسماعیل ساجد حفظ اللہ

میت کے غسل اور کفن و دفن کے احکام ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی جاری و ساری ہیں اور انہی مسائل کی قدرے وضاحت کے ساتھ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تعلیم دی گئی ہے ۔ غسل میت کا معاملہ انتہائی اہم اور حساس ہے ، جسے ہم لوگ معمولی اور بے وقت سمجھتے ہوئے پیشہ ور خدمت گاروں کے سپرد کر دیتے ہیں ، جبکہ شرعی نقطہ نظر سے میت کے غسل سے لے کر دفن تک تمام امور قریبی رشتہ داروں کی ذمہ داری ہیں ۔ لہٰذا معلومات عامہ کے لیے اسے ضروری و ضاحت کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اس پر عمل ہو سکے ۔
عن أبى بن كعب رضی اللہ عنہ أن أدم عليه السلام قبضته الملئكة وغسلوه فكفنوه و حضروله ولحدوا وصلوا عليه ثم دخلو قبره ووضعوه فى قبره ووضعوا عليه التراب ثم قالوا يا بني آدم هذه سنتكم [نيل الاوطار ، ج 4 ، ص 28]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرشتوں نے جب آدم علیہ السلام کی روح قبض کی تو آپ علیہ السلام کو غسل بھی انہوں نے خود ہی دیا اور کفن بھی خود ہی پہنایا اور ان کے جنازے میں بھی حاضر ہوئے اور جناب آدم علیہ السلام کی قبر بھی فرشتوں نے خود بنائی پھر ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں قبر میں اتارا ، پھر ان کی قبر مبارک کو اینٹوں سے بند کیا اور قبر پر مٹی ڈالی (پھر تجہیز و تکفین کے بعد ) انہوں نے کہا: ”اے آدم کی اولاد ! یہی تمہارے لیے (ميت كے غسل اور كفن و دفن كا) مسنون طریقہ ہے ۔“

نوٹ:
منکرین عذاب قبر اس حدیث پر غور و خوض کریں تو ان کو معلوم ہو گا کہ:
➊ دنیاوی قبر کو ہی فرشتوں نے قبر مانا ۔
➋ قبر پر مٹی ڈالی ۔
➌ قبر کو اینٹوں سے بند بھی کیا ۔
جب فرشتوں کو بذریعہ حکم ربی یہ آگاہی ہے کہ قبر دنیا میں زمین پر کسی نہ کسی شکل میں ملے گی تو ہمیں بھی قبر کی اہمیت ، عارضی جزاء وسزا کو تسلیم کر لینا ہی عقلمندی ہے ۔
سیدہ حفصہ بنت سیرین اور سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کے موقع پر غسل کی ہدایت دیتے ہوئے ہمیں ارشاد فرمایا: ”اسے طاق عدد میں غسل دینا ۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دائیں طرف اور وضو کی جگہوں سے ابتداء کرنے اور تین سے سات مرتبہ غسل دینے کا حکم فرمایا ۔ [صحيح بخاري ، كتاب الجنائز ، حديث رقم: 1254 ۔ صحيح مسلم ، كتاب الجنائز ، سنن ابن ماجه ، كتاب الجنائز ، سنن نسائي ، كتاب الجنائز]
مذکورہ دلائل اور کتب احادیث میں اس مضمون پر مبنی دیگر احکام نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر آئمہ کرام اور علماء عظام نے عوام الناس کی تعلیم کے لیے ترتیب وار آداب غسل میت کے متعلق جو وضاحت فرمائی ہے ۔ اسے انتہائی سادہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے ہم بذات خود اس فریضہ کو کما حقہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کر سکیں ۔
——————

غسل میت کے آداب
◈ میت کو غسل دینے کے لیے دو امانت دار اور شریف النفس افراد کا انتخاب کرنا ضروری ہے ، تاکہ دوران غسل میت کی راز رکھنے والی بات کو امانت سمجھ کر کسی کے سامنے بیان نہ کریں ۔ صحیحین میں سیدنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی منقول ہے ، فرمایا: ”جس شخص نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بھی اس شخص کی پردہ داری فرمائے گا ۔“ [بخاري و مسلم]
◈ پانی میں بیری کے پتے ڈال کر نیم گرم کر لیا جائے ۔ صحیح بخاری میں فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے یہی مسنون ہے ۔ البتہ صابن کا استعمال بھی خلاف شرع نہیں ، کیونکہ اصل مقصود میت کی صفائی ہے ، لہٰذا جس چیز کے ذریعے صفائی زیادہ حاصل ہو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
◈ میت کو قدرے اونچی جگہ تختے پر لٹا دیا جائے اور وہاں خوشبو کا انتظام بھی کر لینا چاہیے ، تاکہ نہلاتے وقت میت کے پیٹ سے نکلنے والے ممکنہ فضلہ وغیرہ کی بدبو کم محسوس ہو ۔
◈ میت کا لباس اتار دیں اور ستر با پردہ رہنے دیا جائے پھر نرمی سے میت کے پیٹ کو دبایا جائے تاکہ غلاظت وغیرہ پیٹ سے پہلے ہی نکل جائے تو بہتر ہے ، پھر غسل دینے والا اپنے ہاتھ پر دستانہ یا کپڑے کی سلی ہوئی تھیلی چڑھا کر میت کی شرم گاہ اور گندگی وغیرہ کو دھو کر اچھی طرح صاف کرے ۔
◈ سنت کے مطابق دائیں طرف اور وضوء کی جگہوں سے غسل کی ابتداء کرنی چاہیے ، یعنی میت کو پہلے وضو کروایا جائے ، مگر کلی وغیرہ کے لیے منہ اور ناک میں پانی ڈالنے سے پرہیز کیا جائے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ پیٹ میں پانی چلا جائے اور میت کی جلدی خرابی کا باعث بنے ، لہٰذا کپڑے یا روئی کو گیلا کر کے پہلے دانتوں اور پھر ناک کو صاف کیا جائے ۔
◈ وضو کے بعد میت کو بائیں پہلو پر کر کے پانی ڈالا جائے اور صابن لگا کر سر سے پاؤں تک اچھی طرح صفائی کی جائے ، پھر کروٹ بدل کر بائیں پہلو کو بھی اسی طریقے سے دھویا جائے ۔ یہ ایک مرتبہ غسل مکمل ہو گیا ۔
◈ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اسی طریقہ سے (موقع و محل کی مناسبت سے) تین ، پانچ یا سات مرتبہ غسل دیا جائے تاکہ اچھی طرح اور مکمل صفائی ہو جائے ، نیز بالوں اور داڑھی کو بھی خوب دھو کر خوشبو لگائی جائے ۔ اگر میت عورت ہو تو اس کے بال دھو کر دو یا تین مینڈھیاں کر کے سر کی پچھلی جانب ڈال دئیے جائیں ۔
◈ آخر میں صحیح مسلم میں منقول سیدنا رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق میت کو کافور لگایا جائے ۔ اگر کافور دستیاب نہ ہو تو کوئی سی بھی عمدہ خوشبو عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔ مگر یادر ہے کہ کافور دستیاب ہوتے ہوئے کسی دوسری خوشبو کا استعمال مناسب نہیں ، کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک فرمان کئی کئی حکمتوں سے بھرپور ہے ۔ اس حکم کافور کو ہی لیجئے کہ اس کی ٹھنڈک میں ایسی خاصیت پائی جاتی ہے جو جسم میت کے لیے مفید ہوتی ہے اور اس کی خوشبو میں خاصہ ہے کہ حشرات الارض جسم پر میت کے جلدی قریب نہیں آتے ۔ سبحان اللہ
——————

چالیس سال کے گناہ معاف کرانے کا نادر موقع
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو غسل دیتے وقت پردہ پوشی کرے گا اللہ اس کے بدلے میں اُس کے چالیس سال کے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور جس نے کسی میت کو کفن دیا تو اللہ اسے جنت کے ریشم کا لباس پہنائیں گے اور جس نے کسی میت کے لیے قبر کھودی پھر اُس میں دفن کیا تو اُس کو اجر میں ایسی رہائش گاہ ملے گی جس میں وہ قیامت تک ٹھہرایا جائے گا ۔ [المستدرك للحاكم: 354/1 ، تخريج حسن از زبير على زئي رحمه الله]
——————

کفن میت کے آداب
◈ صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مذکور ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب کسی بھائی کو کفن دے تو اچھے کفن کا اہتمام کرے ۔ [صحيح مسلم ، كتاب الجنائز ، باب 15 ، حديث رقم: 943/49/2185]
یادر ہے کہ اس معاملہ میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے ۔ اچھے کفن سے صاف ستھراء کشادہ اور درمیانہ درجہ کا کپڑا مراد ہے ، نہ کہ بہت قیمتی اور مہنگا کپڑا ۔ کیونکہ جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کفن دینے میں مبالغہ آمیزی اور غلو نہ کرو ، وہ تو جلدی خراب اور ختم ہونے والا ہے ۔“
◈ صحیح بخاری میں منقول ہے کہ سیدنا حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا ہوا تھا ، جب افطار کے لیے ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو فرمانے لگے ۔ ”سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور ان کو ایک چادر میں کفن دیا گیا ، حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے ، اگر ان کے سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں پر کپڑا ڈالا جاتا تو سر کی طرف سے چادر کم پڑ جاتی ۔ اسی حالت میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، حالانکہ وہ بھی مجھ سے بہتر تھے ، پھر ہمارے لیے دنیا وسیع کر دی گئی اور اس کی نعمتوں سے ہمیں نوازا گیا ، خدشہ ہے کہ کہیں جلدی اس دنیا میں ہماری نیکیوں کا بدلہ نہ دے دیا گیا ہو ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا چھوڑ دیا ۔ [صحيح بخاري ، حديث: 1274]
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حالات کے مطابق جیسا بھی کفن میسر ہو کفایت کر جاتا ہے ، خواہ ایک چادر ہو یا دو ہوں ، مگر اچھے حالات میں مستحب یہ ہے کہ میت کو تین چادروں میں کفن دیا جائے جیسا کہ صحیح مسلم میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالہ سے منقول ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں کے ساتھ کفن دیا گیا ۔

فائدہ جلیلہ
◈ دور حاضر کا مروجہ کفن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سعید میں موجود نہیں تھا ۔ اوائل اسلام میں عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں قلت وسائل کی وجہ سے اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔ مگر اب باوجود ہماری ایمانی کمزوریوں ، کوتاہیوں اور رب تعالیٰ کی ناشکریوں
کے ہم پر نوازشات الہی کی برکھا برس رہی ہے ۔ بقول شاعر:
خطائیں دیکھتا بھی ہے عطائیں کم نہیں کرتا
سمجھ میں آنہیں سکتا وہ اتنا مہربان کیوں ہے
چنانچہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور وسعت کے پیش نظر محدثین عظام اور فقہائے کرام رحمہ اللہ کے نزدیک مرد کو تین سفید کپڑوں میں اور عورت کو (یہ ثابت نہیں ہے لہٰذا عورت کو بھی تین کپڑوں میں کفن دینا مسنون ہے ۔ واللہ اعلم ) پانچ کپڑوں میں کفن دینا مستحب ہے ۔ اگر پانچ میسر نہ ہوں تو تین بھی کفایت کر جائیں گے ، مگر تین کپڑوں میں ایک قمیض ، ایک چادر اور ایک لفافہ کا ہونا ضروری ہے ۔ پانچ کپڑے ہونے کی صورت میں سر کی چادر اور چھاتی پر باندھنے کے لیے کپڑا بنا لیا جاتا ہے ۔ مرد ہو یا عورت ، دونوں کے کفن کے لفافے اتنے لمبے ہونے چاہئیں کہ سر اور پاؤں کی طرف سے آسانی کے ساتھ باندھا اور قبر میں اتارا جا سکے اور ایک کمر بند بھی باندھ دیا جائے تاکہ درمیان سے کفن کھلنے کا خدشہ نہ رہے ۔ کفن پر کچھ بھی لکھنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ، لہٰذا اس بدعت سے گریز کرنا چاہیے ۔ کچھ جاہل ، کم علم ، گنوار ملا کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اُس نے کھجور کے درخت کی قلم بنا کر کفن پر مکمل کلمہ اور شہادتین لکھی ۔ حالانکہ ایک تو یہ احادیث کی کھلم کھلا مخالفت ہے اور دوسرا قبر میں جب لاش پھٹتی ہے تو لاش کا فضلہ ، پاخانہ ، غلاظت جسم سے باہر نکل کر اللہ کے مبارک کلمات پر آکر گرتا ہے جو سراسر توہین بھی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے اپنے کلام مجید میں کہ جس طرح میری قدر (Respect) کرنے کا حق تھا لوگوں نے میری قدر نہیں کی ۔
جان دی دی ہوئی اس کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

یہ تحریر اب تک 45 لوگ پڑھ چکے ہیں، جبکہ صرف آج 1 لوگوں نے یہ تحریر پڑھی۔