عورت کا غسل جنابت میں بالوں کو تر کرنا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : کیا عورت غسل جنابت میں اپنے سر کے بال تر کرے یا تر نہ بھی کرے تو غسل ہو جائے گا ؟ اس مسئلے کو احادیث کی روشنی میں اس طرح واضح کریں کہ کوئی ابہام باقی نہ رہے اور ساتھ غسل کا نبوی طریقہ بھی بیان کر دیں جس میں کمی بیشی کی گنجائش نہ رہے۔
جواب : ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں :
قلت : يا رسول الله إني امراة اشد ضفر راسي افانقضه لغسل الجنابة ؟ قال : لا إنما يكفيك ان تحثين على راسك ثلاث حثيات من ماء، ثم تفيضين على سائر جسدك الماء فتطهرين او قال : ” فإذا انت قد تطهرت [ترمذي، كتاب الطهارة : باب هل تنقض المرأة شعرها عند الغسل 105، صحيح مسلم كتاب الحيض باب حكم ضفائر المغتسلة 330/58، ابوداؤد، كتاب الطهارة : باب فى المرأة تنقض شعرها عند الغسل 251 ]
میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ! میں ایسی عورت ہوں جو مینڈھیاں مضبوطی سے باندھ لیتی ہوں کیا میں غسل جنابت کے لئے انہیں کھولوں ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں تجھے اتنا ہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی بہائے پھر اپنے سارے بدن پر پانی ڈالے اور پاکیزگی حاصل کرے۔ “ یا فرمایا : ” تب تو نے اچھی طرح طہارت حاصل کر لی۔ “
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو اس بات کی رخصت ہے کہ وہ اپنی مینڈھیاں حیض اور جنابت کے لیے کھولے، اصل مقصد پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچانا ہے کیونکہ جنابت کے غسل میں فرض ہے کہ تمام بال بھیگ جائیں اگر کچھ بال خشک رہ جائیں تو غسل نہیں ہو گا۔ [ملاحظه هو حاشيه مشكوة از مولانا اسماعيل سلفي 343/1 ]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے : افانقضه للحيضة والجنابة ”کیا میں اپنی مینڈھیاں حیض اور جنابت کے لئے کھولوں“ اس سے معلوم ہوا کہ حیض کا غسل ہو یا جنابت کا، مقصود پانی کا بالوں کی جڑوں تک پہنچانا ہے، عورت کو مینڈھیاں نہ کھولنے کی رخصت دی گئی ہے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں ہے :
ثم تصب على راسها فتدلكه دلكا شديدا حتي تبلغ شؤون راسها [ مرعاة 136/2، ابن ماجه، كتاب الطهارة وسننها : باب فى الحائض كيف تغتسل 642، طيالسي 60/1، حميدي 167، ابوداؤد 314 تا 316، مسلم 61 / 332، ابن خزيمة 248، ابن حبان 1199، المنتقي لابن 117 ]
”پھر اپنے سر پر پانی بہائے اور اسے اچھی طرح ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ “
ان احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ حیض یا جنابت کے غسل میں عورت کو شرعاً رخصت ہے کہ وہ اپنے سر کے بال نہ کھولے البتہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچائے بال تر کرنے ضروری ہیں، اب رہا غسل کا نبوی طریقہ تو اس کے لیے احادیث درج ذیل ہیں :
عن عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم، ان النبى صلى الله عليه وسلم كان إذا اغتسل من الجنابة بدا فغسل يديه، ثم يتوضا كما يتوضا للصلاة، ثم يدخل اصابعه فى الماء فيخلل بها اصول شعره، ثم يصب على راسه ثلاث غرف بيديه، ثم يفيض الماء على جلده كله . [بخاري، كتاب الغسل : باب الوضوء قبل الغسل 248، مسلم، كتاب الحيض 321، ابوداؤد، كتاب الطهارة : باب الغسل من الجنابة 242، ترمذى، ابواب الطهارة : باب ما جاء فى الغسل من الجنابة 104، ابوعوانة 298/1-299، ابن خزيمة 242، نسائي كتاب الطهارة : باب ذكر وضوء الجنب قبل الغسل 247]
”نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی صلى اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل کرتے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر نماز کی طرح وضو کرتے پھر اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو پانی اپنے سر پر ڈالتے، پھر اپنی ساری جلد پر پانی بہاد ہے۔ “
سنن ابی داؤد وغیرہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں دونوں ہاتھ دھونے کے بعد فيغسل فرجه ) یعنی اپنی شرمگاہ دھونے کا بھی ذکر ہے۔ اسی طرح بالوں کے خلال کے بعد حتى إذا راي انہ قد اصاب البشرة وانقي البشرة کا بھی ذکر ہے یعنی اپنے بالوں کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ سمجھتے کہ کھال کو پانی پہنچ گیا یا صاف کر لیا ہے تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے۔
عن ميمونة زوج النبى صلى الله عليه وسلم، قالت : توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم وضوءه للصلاة غير رجليه، وغسل فرجه وما اصابه من الاذى، ثم افاض عليه الماء، ثم نحى رجليه فغسلهما هذه غسله من الجنابة [ صحيح بخارى، كتاب الغسل باب الوضو قبل الغسل 249]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی طرح وضو کیا البتہ پاؤں نہیں دھوئے اور اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جہاں کہیں نجاست لگی تھی پھر اپنے اوپر پانی بہایا پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل جنابت تھا۔ اس روایت میں کچھ تقدیم وتا خیر ہو گئی ہے شرمگاہ اور نجاست کے مقام کو وضو سے پہلے دھویا کرتے تھے اور اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہوتی۔ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :
صببت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا، فافرغ بيمينه على يساره فغسلهما، ثم غسل فرجه، ثم قال : بيده الارض فمسحها بالتراب ثم غسلها، ثم تمضمض واستنشق، ثم غسل وجهه وافاض على راسه، ثم تنحى فغسل قدميه، ثم اتي بمنديل فلم ينفض بها
[بخاري، كتاب الغسل : باب المضمضة والاستنشاق فى الجنابة 259، ابن ماجه 573، مسند حميدي 316، مسند احمد 329/6، 33، 335، 336، مسند عبد بن حميد 1550، سنن الدارمي 753، 718، ابوداؤد ه 245، ترمذي 103، نسائي 132/1، المسند الجامع 518/20، 520، 17441 ]
”میں نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں پر ڈالا، اسی طرح دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر اپنی شرم گاہ کو دھویا پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر مٹی سے صاف کیا پھر اسے دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں کو دھویا پھر آپ کے پاس رومال لایا گیا پس آپ نے اس کے ساتھ پانی خشک نہیں کیا۔ “
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے غسل سے پہلے نماز کی طرح وضو کا ذکر ہے اور میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں سر پر مسح کا ذکر نہیں ہوا جبکہ وضو کا مفصل ذکر ہے، اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث ہے، بیان کرتی ہیں :
ثم يغسل يديه ثلاثا ويستنشق ويمضمض ويغسل وجهه وذراعيه ثلاثا ثلاثا، حتى إذا بلغ راسه لم يمسح وافرغ عليه الماء . فهكذا كان غسل رسول الله صلى الله عليه وسلم [ سنن النسائي، كتاب الطهارة : باب ترک مسح الراس فى الوضوء من الجنابة 422 ]
”شرم گاہ کو دھونے کے بعد پھر آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار دھوتے اور ناک میں پانی چڑھاتے اور کلی کرتے اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو تین تین بار دھوتے تھے، یہاں تک کہ جب سر تک پہنچے تو آپ نے مسح نہیں کیا اور اس پر پانی انڈیل دیا، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل تھا۔ “
علامہ سندھی لم يمسح “ کے تحت لکھتے ہیں :
قد سبق أنه كان يتوضا وضوء اللصلوة فإما أن يقال ذلك عموم يخص بهذا أو يقال له تارة يفعل هذا و تارة ذاك لبيان الجواز
”یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ آپ نماز کی طرح وضو کرتے یا تو کہا جائے گا اس حدیث میں عموم ہے جو اس حدیث کے ساتھ خاص ہو گیا ہے (یعنی وضو کے عموم میں مسح کرنا بھی آ جاتا ہے ) جبکہ اس حدیث سے تخصیص ہو گئی کہ مسح نہیں ہے کیونکہ یہ مسح کی نفی میں خاص ہے یا کہا جائے گا کبھی اس طرح کر لیتے اور کبھی اس طرح اور ایسا آپ نے بیان جواز کے لیے کیا ہے (یعنی دونوں طرح جائز ہے )۔ “ [نيز ديكهيں تعليقات سلفيه ص 47 ]
پس معلوم ہوا کہ غسل جنابت کرنے سے پہلے جسم پر لگی ہوئی منی وغیرہ کو صاف کیا جائے، شرم گاہ کو دھویا جائے پھر ہاتھوں کو اچھی طرح صاف کیا جائے اور نماز کی طرح وضو کیا جائے پھر پانی لے کر بالوں کی جڑوں تک پہنچایا جائے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہا دیا جائے، اس طرح غسل جنابت ہو جائے گا۔

 

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: