عقیدہ تقدیر برحق ہے؍مردہ بچے کی نمازِ جنازہ

تحریر : حافظ زبیر علی زئی

وعن ابن مسعود قال : حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق : إنّ خلق أحدكم يجمع فى بطن أمه أربعين يوماً نطفةً ، ثم يكون علقةً مثل ذالك ، ثم يكون مضغةً مثل ذالك ، ثم يبعث الله إليه ملكاً بأربع كلماتٍ : فيكتب عمله و أجله ورزقه و شقي أو سعيد ، ثم ينفخ فيه الروح ، فوالذي لا إلٰه غيره ! إن أحدكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتيٰ ما يكون بينه و بينها إلا ذراع ، فيسبق عليه الكتاب ، فيعمل بعمل أهل النار فيدخلها ، فإن أحدكم ليعمل بعمل أهل النار حتيٰ ما يكون بينه و بينها إلا ذراع ، فيسبق عليه الكتاب ، فيعمل بعمل أهل الجنة فيد خلها [متفق عليه]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث سنائی اور آپ سچے اور تصدیق شدہ ہیں : یقیناًً تم میں سے ہر ایک کی تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفے کی حالت میں رہتی ہے ۔ پھر اسی طرح (چالیس دن) منجمد خون کا لوتھڑا ، پھر اسی طرح (چالیس دن) گو شت کا ٹکڑا بنا ہوا رہتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجتا ہے تو وہ اس کا عمل ، موت کا وقت ، رزق اور بد قسمت ہو گا یا خو ش قسمت لکھ دیتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے ۔ پس اس ذات کی قسم جس کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے ! تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کے سے اعمال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو کتاب کا لکھا ہوا اس پر غالب آتا ہے اور وہ جہنمیوں کے سے اعمال کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی آدمی جہنمیوں کے سے اعمال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو کتاب کا لکھا ہوا اُس پر غالب آتا ہے اور وہ جنتیوں کے سے اعمال کر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔
[صحيح بخاري : ۶۵۹۴و صحيح مسلم : ۲۶۴۳]
فقہ الحدیث :
➊ عقیدۃ تقدیر برحق ہے ۔
➋ کون خوش قسمت ہے اور کون بدقسمت؟ یہ سب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اور اس نے اپنے علم سے ، اسے تقدیر میں لکھ رکھا ہے ۔
➌ سچی توبہ کرنے سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں لہٰذا کسی تو بہ کرنے والے شخص کو سابقہ گناہوں اور غلطیوں پر ملامت نہیں کرنا چاہئیے ۔
➍ کفریہ عقائد و اعمال انسان کو جہنم کی طرف لے جاتے ہیں اور اسلامی عقائد و اعمال انسان کو اللہ کے فضل و کرم سے جنت میں داخل کر دیتے ہیں ۔
➎ خاتمہ جن عقائد و اعمال پر ہوتا ہے اس کا اعتبار ہے لہٰذا ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خاتمہ بالخیر کی دعا مانگنی چاہئیے ۔
➏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات میں سچے اور امین تھے ، چاہے نبوت سے پہلے کی زندگی تھی یا بعد کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین بھی آپ کو سچا اور امین مانتے تھے ۔
➐ جدید طبی تحقیقات نے اس حدیث کی تصدیق کر دی ہے جس سے اہلِ ایمان کا ایمان اور زیادہ ہو جاتا ہے ۔ ولحمد لله عليٰ كل حال
➑ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ چار ماہ کے بعد بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے ۔ اگر پانچ ماہ یا زیادہ مدت والا بچہ مرُدہ پیدا ہو جائے یا پیدا ہوتے ہی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہئیے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
و السقط يصلّٰي عليه و يدعيٰ لوالديه بالمغفرة و الرحمة اور سِقط
(ناتمام بچہ جو اپنی میعاد سے پہلے گر جائے ) کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے گی ۔
[سنن ابي داود : ۳۱۸۰ و سنده صحيح ، سنن الترمذي : ۱۰۳۱ ، وقال :” حسن صحيح “ و صححه ابن حبان : ۷۶۹ و الحاكم عليٰ شرط البخاري۱؍۳۶۳ ووافقه الذهبي]
اس حدیث کے راوی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
سِقط کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لئے مغفرت و رحمت کی دعاکی جائے گی ۔

[مصنف ابن ابي شيبه ۳؍۳۱۷ح ۱۱۵۸۹و سنده صحيح]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ناتمام مردہ بچے کی نماز جنازہ پڑھی ، نافع نے کہا کہ مجھے پتا نہیں کہ وہ زندہ پیدا ہوا تھا ( اور پھر مر گیا) یا پیدا ہی مردہ ہوا تھا ۔
[ابن ابي شيبه ۳؍۳۱۷ ح ۱۱۵۸ ، و سنده صحيح]
مشہور تابعی محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا : ”اگر اس کی تخلیق پوری ہو جائے تو اس کانام رکھا جائے گا اور اس کی نمازِ جنازہ اسی طرح پڑھی جائے گی جس طرح بڑے آدمی کی پڑھی جاتی ہے ۔“
[ ابن ابي شيبه ۳؍۳۱۷ح۱۱۵۸۸ ، وسنده صحيح]
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”ہم اپنی اولاد میں سے کسی کو بھی نمازِ جنازہ پڑھے بغیر نہیں چھوڑیں گے ۔“
[ ابن ابي شيبه ۳؍۳۱۷ ح ۱۱۵۹۰ ، و سنده صحيح]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا :
و العمل عليه عند بعض أهل العلم من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم و غيرهم ، قالوا : يصليٰ على الطفل و إن لم يستهل بعد أن يعلم أنه خُلِق وهو قول أحمد و إسحاق
”صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض کا اسی پر عمل ہے ، انہوں نے کہا: بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اگرچہ وہ پیدا ہوتے وقت آواز نہ نکالے ، یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ اس کی تخلیق (مکمل) ہو چکی ہے اور احمد ( بن حنبل) اور اسحاق (بن رواہویہ) کا یہی قول ہے ۔“
[ سنن الترمذي : ۱۰۳۱]
جو علماء مردہ بچے کی نمازِ جنازہ کے قائل نہیں ہیں ، ان کا قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے متروک و ناقابلِ حجت ہے ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ چھوٹے بچے پر نمازِ جنازہ میں درج ذیل دعا پڑھتے تھے :
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ سَلَفاً وَّفَرَطًا وَّ ذُخْرًا
” اے اللہ ! اسے امیرِ سامان ، آگے چلنے والا اور ذخیرہ بنا دے ۔“
[السنن الكبريٰ للبيهقي ۴؍۱۰ ، وسنده حسن]
وعن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنّ العبد ليعمل عمل أهل النار و إنه من أهل الجنة ، و يعمل عمل أهل الجنة و إنه من أهل النار ، وإنما الأعمال بالخواتيم . [ متفق عليه]
( سیدنا ) سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(بندوں میں سے ) ایک بندہ جہنمیوں کے سے اعمال کرتا رہتا ہے اور وہ جنتی ہوتا ہے ۔ ایک بندہ جنتیوں کے سے اعمال کرتا رہتا ہے اور وہ جہنمی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار خاتمے پر ہے ۔“
[صحيح بخاري : ۶۶۰۷ و صحيح مسلم : ۱۷۹؍۱۱۲]
فقہ الحدیث :
➊ جس کا خاتمہ بالخیر ہوگا وہی کامیاب اور اللہ کے فضل و کرم سے جنت کا حقدار ہے ۔
➋ کفر و شرک سے تمام نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔
➌ اعمال کا اعتبار خاتمے پر ہے ، والے الفاظ صحیح مسلم میں نہیں ہیں بلکہ صرف صحیح بخاری میں ہیں ۔
➍ تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر وقت نیک اعمال اور صحیح عقیدے والا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ کب موت کا فرشتہ آ جائے اور دنیاسے روانگی ہو جائے ۔
➎ تقدیر کا سہارا لے کر گناہ کا ارتکا ب کرنا ، عذرِ گناہ بد تراز گناہ کے مترادف ہے ۔
➏ اللہ سے ہر وقت خاتمہ بالخیر کی دعا مانگنی چاہئیے کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔ وہ اپنے فضل و کر م سے دعا مانگنے والے کی تقدیر کو بدل سکتا ہے ۔
➐ اپنی نیکیوں پر کبھی فخر نہیں کرنا چاہئیے ۔
➑ مومن کی پوری زندگی خوف اور امید کے درمیان ہوتی ہے ۔
وعن عائشة رضي الله عنها ، قالت ، دعيٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم إليٰ جنازة صبي من الأنصار فقلت : يا رسول الله صلى الله عليه وسلم ! طو بيٰ لهٰذا ، عصفور من عصافير الجنة ، لم يعمل السوء ولم يدركه ، فقال : أو غير ذالك يا عائشة ! إن الله خلق للجنة أهلاً ، خلقهم لها وهم فى أصلاب آبائهم و خلق للنار أهلاً خلقهم لها وهم فى أصلاب آبائهم . [رواه مسلم]
(سیدہ)عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچے کی (نمازِ) جنازہ (پڑھانے ) کی دعوت دی گئی تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بچے کے لئے خو شخبری ہو ، یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ، اس نے کوئی بُرائی نہیں کی اور نہ بُرائی کو پایا ۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا : یا اس کے سوا ہے اے عائشہ ! اللہ نے جنت کے لئے جنتیوں کو اس حالت میں پیداکیا ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی پیٹھوں میں تھے اور اللہ نے دوزخ کے لئے دوزخیوں کو اس حالت میں پیداکیا ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی پیٹھوں میں تھے ۔ [صحيح مسلم : ۳۱؍۲۶۶۲ ]
فقہ الحدیث :
➊ کسی آدمی کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کرنا چاہئیے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ؟ اِلا یہ کہ جو قرآن و حدیث کی رُو سے واضح ہو ۔
➋ مسلمانوں کے نابالغ فوت شدہ بچوں کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے ۔ راجح یہی ہے کہ یہ بچے اپنے جنتی والدین کے ساتھ جنتی ہیں ۔ رہے کفار کے بچے تو راجح قول میں ان کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور کفار کے مردہ بچوں کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھنی چاہئیے ۔
➌ سیدہ عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مومنوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا: تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا : وہ اپنے والدین کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے پوچھا: بغیر عمل کے ؟ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا : اللہ جانتا ہے جو وہ اعمال کرنے والے تھے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: مشرکین کی اولاد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اپنے والدین کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے پوچھا: بغیر عمل کے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جانتا ہے جو وہ اعمال کرنے والے تھے ۔
[سنن ابي داود : ۴۷۱۲ ، وسنده صحيح]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: