مضمون کے اہم نکات
رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (م: 748ھ) نے رفع الیدین کو ”سنت متواترہ“ قرار دیا ہے۔ [سير اعلام النبلاء: 293/5]
علامہ زرکشی لکھتے ہیں:
وفي دعوي أن أحاديث الرفع فيما عدا التحريم لم تبلغ مبلغ التواتر نظر، وكلام البخاري في كتاب رفع اليدين مصرح ببلوغھا ذلك.
”یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین کی احادیث تواتر تک نہیں پہنچیں، کتاب (جز رفع الیدین) میں امام بخاری کی کلام ان کے تواتر تک پہنچنے کی صراحت کرتی ہے۔“ [المعتبر في تخريج احاديث المنھاج والمختصر للزركشي: 136]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفي دعوي ابن كثير أن حديث رفع اليدين في أول الصلاة دون حديث رفع اليدين عندالركوع متواتر نظر، فان كل من روي الأول روي الثاني الا اليسير.
”حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کا یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ نماز کے شروع میں رفع الیدین متواتر ہے، رکوع کے وقت متواتر نہیں، بلکہ سوائے ایک دو راویوں کے ہر وہ راوی جس نے پہلی رفع الیدین بیان کی ہے، اس نے دوسری رفع الیدین بھی بیان کی ہے۔“ [موافقة الخبر الخبر لابن حجر: 409/1]
مانعین رفع الیدین کے پاس کوئی مرفوع، صحیح اور خاص دلیل نہیں۔ زیل میں احناف کے دلائل کا ایک غیرجانبدارانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
دلیل نمبر 1
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
أنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لا يعود.
”آپ پہلی تکبیر میں رفع الیدین فرماتے تھے، پھر دوبارہ نہ کرتے۔“
[مسند احمد: 441، 388/1، سنن ابي داود: 748، سنن نسائي: 1927، سنن ترمذي: 257]
تبصرہ:
➊ یہ روایت ”ضعیف“ ہے،
اس میں سفیان ثوری ہیں، جو کہ بالاجماع ”مدلس“ ہیں، ساری کی ساری سندوں میں ”عن“ سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔ مسلم اصول ہے کہ جب ”ثقہ مدلس“ بخاری و مسلم کے علاوہ ”عن“ یا ”قال“ کے الفاظ کے ساتھ حدیث بیان کرے تو وہ ”ضعیف“ ہوتی ہے۔
اس حدیث کے راوی امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (م: 181ھ) نے امام ہشیم بن بشیر رحمہ اللہ (م: 183ھ ) سے پوچھا، آپ ”تدلیس“ کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا:
ان كبيريك قد دلسا الأعمش وسفيان.
”آپ کے دو بڑوں امام اعمش اور امام سفیان رحمہ اللہ علیہما نے بھی تدلیس کی ہے۔“ [الكامل لابن عدي: 95/1، 135/7 وسنده صحيح]
امام عینی حنفی لکھتے ہیں:
سفيان من المدلسين، والمدلس لا يحتج بعنعنته الا أن يثبت سماعه من طريق آخر.
”سفیان مدلس راویوں میں سے ہیں اور مدلس راوی کے عنعنہ سے حجت نہیں لی جاتی، الا یہ کہ دوسری سند میں اس کا سماع ثابت ہو جائے۔“ [عمدة القاري: 112/3]
➋ یہ ”ضعیف“ روایت عام ہے، جبکہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے متعلق احادیث خاص ہیں، خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے، لہذا یہ حدیث عدم رفع الیدین کے ثبوت پر دلیل نہیں بن سکتی۔
➌ مانعین رفع الیدین یہ بتائیں کہ وہ اس حدیث کو پس پشت ڈالتے ہوئے خود وتروں اور عیدین میں پہلی تکبیر کے علاوہ کیوں رفع الیدین کرتے ہیں؟
حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ محدیثین کرام کی نظر میں
① امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم يثبت عندي حديث ابن مسعود.
”میرے نزدیک حدیث ابن مسعود ثابت نہیں۔“
[سنن الترمذي: تحت حديث256، سنن الدارقطني: 393/1، السنن الكبريٰ للبيھي: 79/2، وسنده صحيح]
② امام ابوداود رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وليس ھو بصحيح علي ھذا اللفظ.
”یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں۔“
③ امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ھذا خطأ.
”یہ غلطی ہے۔“ [العلل: 96/1]
④ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وليس قول من قال: ثم لم يعد محفوظا.
”جس راوی نے دوبارہ رفع یدین نہ کرنے کے الفاظ کہے ہیں، اس کی روایت محفوظ نہیں۔“ [العلل: 173/5]
⑤ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ھو في الحقيقة أضعف شئ يعول عليه، لأن له عللا تبطله.
”درحقیقت یہ ضعیف ترین چیز ہے جس پر اعتماد کیا جات ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں۔“ [التلخيص الحبير لابن حجر: 222/1]
تنبیہ:
اگر کوئی کہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”حسن“ کہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حنفی مذہب کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے:
”ابن دحیہ نے اپنی کتاب ”العلم المشہور“ میں کہا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں کتنی ہی ”موضوع“ (من گھڑت) اور ”ضعیف“ سندوں والی احادیث کو ”حسن“ کہہ دیا ہے۔“
[نصب الراية للزيلعي: 217/2، البناية للعيني: 869/2، مقالات الكوثري: 311، صفائح اللجين از احمد رضا خان بريلوي: 29]
دلیل نمبر 2
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں:
خرج علينا رسول الله صلي الله عليه وسلم، فقال: مالي أراكم رافعي أيديكم كأنھا أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا، مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں، نماز میں سکون کیا کرو !۔ [صحيح مسلم181/1، ح: 430]
تبصرہ:
➊ اس ”صحیح“ حدیث میں رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کی نفی نہیں ہے، بلکہ محدیثین کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کا تعلق تشہد اور سلام کے ساتھ ہے، نہ کہ قیام کے ساتھ، تمیم بن طرفہ کی یہی روایت اختصار کے ساتھ مسند الامام احمد [93/5] میں موجود ہے، جس میں ”وھم قعود“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس حال میں جاری فرمایا کہ صحابہ کرام تشہد میں بیٹھے ہوئے تھے )کے الفاظ ہیں، اس کی وضاھت و تائید دوسری روایت میں سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے:
كنا اذا صلينا مع رسول الله صلی الله عليه وسلم قلنا: السلام عليكم ورحمه الله، السلام عليكم ورحمة الله، وأشار بيده الي الجانبين، فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم: علام تؤمون بأيديكم كأنھا أذناب خيل شمس؟ انما يكفي أحدكم أن يضع يده علي فخذه، ثم يسلم علي أخيه من علي يمينه وشماله.
ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھتے تھے تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ کہتے، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ دونوں جانب اشارہ کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”تم اپنے ہاتھوں کے ساتھ یوں اشارہ کیوں کرتے ہو، جیسے وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تم میں سے کسی کو یہ کافی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کو اپنی ران پر رکھے، پھر اپنے بھائی ساتھ نماز پڑھنے والے پر دائیں اور بائیں سلام کہے“ ۔ [صحيح مسلم: 181/1 ح: 431]
اس روایت نے بھی اوپر والی روایت کا مطلب واضح کر دیا ہے، اس پر مستزاد محدثین کا فہم سونے پر سہاگہ ہے، لہذا اس حدیث سے رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کرنا اہل حق کو زیبا نہیں، کسی محدیث نے اس حدیث کو عدم رفع الیدین کے لیے پیش نہیں کیا، ایک مومن کا ایمان اس بات کو کیسے تسلیم کر لے کہ جو کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خود کرتے تھے، وہی کام اپنے صحابہ کو کرتے دیکھا تو اس کو سرکش گھوڑوں کی دموں کی حرکت سے تشبیہ دے دی؟
اس حدیث کے بارے میں دیوبندیوں کے ”شیخ الہند“ محمود الحسن دیوبندی صاحب کہتے ہیں: ”باقی اذناب خیل کی روایت سے جواب دینا ازروئے انصاف درست نہیں، کیونکہ وہ اسلام کے بارے میں ہے۔“ [تقارير شيخ الھند: 65، مطبوعه اداره تاليفات اشرفيه ملتان]
اس حدیث کے بارے میں جناب محمد تقی عثمانی حیاتی دیوبندی کہتے ہیں:
لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے، کیونکہ ابن القبطیہ کی روایت میں سلام کے وقت کی جو تصریح موجود ہے، اس کی موجودگی میں ظاہر اور متبادر یہی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث رفع عند السلام سے متعلق ہے اور دونوں حدیثوں کو الگ الگ قرار دینا جب کہ دونوں کا راوی بھی ایک ہے اور متن بھی قریب قریب ہے، بُعد سے خالی نہیں، حقیقت یہی ہے کہ حدیث ایک ہی ہے اور رفع عندالسلام سے متعلق ہے، ابن القبطیہ کا طریق مفصل ہے اور دوسرا مختصر و مجمل، لہذا دوسرے طریق کو پہلے طریق پر ہی محمول کرنا چاہیے، شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت انور شاہ صاحب کشمیری نور اللہ مرقہ نے اس حدیث کو حنفیہ کے دلائل میں ذکر نہیں کیا۔
”مشہور حنفی، امام ابن ابی العز رحمہ اللہ (م 792ھ) اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں۔ ۔ ۔:
وما استدل به من حديث جابر بن سمرة رضي الله عنه قال: خرج علينا رسول الله ﷺ فقال: مالي أراكم رافعي أيديكم كأنھا أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة! رواه مسلم، وأن الأمر بالسكون في الصلاة ينافي الرفع عندالركوع والرفع منه لا يقوي، لأنه قد جاء في رواية أخري لمسلم عنه، قال: صلينا مع رسول الله ﷺ، فكنا اذا سلمنا، قلنا بأيدينا: السلام عليكم، فنظر الينا رسول الله ﷺ، فقال: ما لكم تشيرون بأيديكم كأنھا أذناب خيل شمس، اذا سلم أحدكم فليلتفت الي صاحبه، ولا يؤمي بيده۔ وأيضا فلا نسلم أن الأمر بالسكون في الصلا ينافي الرفع عند الركوع والرفع منه، لأن الأمر بالسكون ليس المراد منه ترك الحركة في الصلاة مطلقا، بل الحركة المنافية للصلاة بدليل شرع الحركة للركوع والسجود ورفع اليدين عند تكبيرة الافتتاح وتكبير القنوت وتكبيرات العيدين، فان قيل: خرج ذلك بدليل، قيل: وكذلك خرج الرفع عند الركوع والرفع منه بدليل، فعلم أن المراد منه الاشارة بالسلام باليد.
اور جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی صحیح مسلم والی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا اور نماز میں سکون کا حکم فرمایا، نیز یہ کہنا کہ نماز میں سکون کا حکم رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے منافی ہے، کوئی قوی بات نہیں، کیونکہ جابر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے، ہم (صحابہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھتے تھے، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں کے ساتھ (اشارہ کر کے) السلام علیکم کہتے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا تو فرمایا، تمہیں کیا ہے کہ تم اپنے ہاتھوں کے ساتھ ایسے اشارہ کرتے ہو، جیسے وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو اپنے (ساتھ والے) بھائی کی طرف منہ پھیرے، ہاتھ کے ساتھ اشارہ نہ کرے۔
اسی طرح ہم اس بات کو بھی تسلیم نہیں کرتے کہ نماز میں سکون کا حکم رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کی نفی کرتا ہے، کیونکہ سکون کے حکم سے مراد یہ نہیں کہ نماز میں بالکل حرکت ختم چھوڑ دی جائے، بلکہ اس حرکت کی نفی ہے جو نماز کے منافی ہے، دلیل یہ ہے کہ رکوع، سجدہ، تکبیر تحریمہ، قنوت کی تکبیر اور عیدین کی تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین مشروع ہے (وہ بھی تو حرکت ہے) ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ یہ حرکت دلیل کے ساتھ (ممانعت سے) خارج ہو گئی ہے۔ تو اسے بھی یہی جواب دیا جائے گا کہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کی رفع الیدین بھی دلیل کے ساتھ (ممانعت سے) خارج ہوگئی ہے۔
معلوم ہوا کہ اس (صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی اللہ عنہ) سے مراد سلام کے وقت ہاتھ سے اشارہ کرنا ہے۔“
[التنبيه علي مشكلات الھداية لابن ابي العز الحنفي: 570/2، 571]
اتنی وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت رفع الیدین کے خلاف یہ حدیث پیش کرے تو اس پر افسوس ہے کہ وہ جہالت پر مبنی اس طرح کی بعید و عجیب باتیں کرتا ہے!
حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ (723۔ 804ھ) اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:
وھو حديث جابر بن سمرة، فجعله معارضا لما قدمناه من أقبح الجھالات لسنة سيدنا رسول الله ﷺ، لأنه لم يرد في رفع الأيدي في الركوع والرفع منه، وانما كانوا يرفعون أيديھم في حالة السلام من الصلاة ويشيرون بھا الي الجانبين، يريدون بذلك السلام علي من علي الجانبين، وھذا لا اختلاف فيه بين أھل الحديث، ومن له أدني اختلاط بأھله، وبرھان ذلك أن مسلم بن الحجاج رواه في صحيحه من طريقين.
”وہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، اسے ہماری پیش کردہ روایات (رفع الیدین) کے مخالف بنانا ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے قبیح ترین جہالت ہے، کیونکہ یہ حدیث رکوع کو جانے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بارے میں نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام نماز سے سلام پھیرنے کی حالت میں اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دونوں طرف اشارہ کرتے تھے، وہ اس سے سلام کرنے کا ارادہ کرتے تھے، اس بارے میں محدثین اور ان سے ادنیٰ سا بھی تعلق رکھنے والوں مین کوئی اختلاف نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ امام مسلم نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ۔ ۔“ [البدر المنير لابن الملقن: 485/3]
شارح مسلم حافظ نووی رحمہ اللہ (م 676ھ) لکھتے ہیں:
وأما حديث جابر بن سمرة، فاحتجاجھم به من أعجب الأشياء، وأقبح أنواع الجھالة بالسنة، لأن الحديث لم يرد في رفع الأيدي في الركوع والرفع منه، ولكنھم كانوا يرفعون أيديھم في حالة السلام من الصلاة ويشيرون بھا الي الجانبين، يريدون بذلك السلام علي من عن الجانبين، وھذا لا خلاف فيه بين أھل الحديث ومن له أدني اختلاط بأھل الحديث، ويبينه أن مسلم بن الحجاج رحمه الله رواه في صحيحه من طريقين.
رہی سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث تو ان (احناف) کا اس سے دلیل لینا بہت بڑا عجوبہ اور سنت رسول سے جہالت کا قبیح ترین نمونہ ہے، کیونکہ یہ حدیث رکوع جاتے اور سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے بارے میں نہیں، بلکہ صحابہ کرام نماز سے سلام پھیرنے کی حالت میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور ان کے ساتھ دونوں جانب اشارہ کرتے تھے، ان کا ارادہ دونوں جانب سلام کرنے کا ہوتا تھا۔ اس بات میں محدثین اور ان سے ادنیٰ سا تعلق رکھنے والوں میں سے کسی کا کوئی اختلاف نہیں، اس کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ امام مسلم بن الحجاج رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں دو سندوں سے روایت کیا ہے۔ [المجموع: 403/3]
امام ابن حبان رحمہ اللہ (م354ھ) نے اس حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے
ذكر الخبر المقتضي للفظة المختصرة التي تقدم ذكرنا لھا، بأن القوم انما بالسكون في الصلاة عند الاشارة بالتسليم دون رفع اليدين عند الركوع.
”اس حدیث کا بیان جو تقاضا کرتی ہے کہ ہمارے پہلے ذکر کردہ مختصر الفاظ سے مراد یہ ہے کہ صحابہ کرام کو صرف نماز میں سلام کا اشارہ کرتے وقت سکون کا حکم دیا گیا تھا، نہ کہ رکوع میں رفع الیدین کرتے وقت۔“ [صحيح ابن حبان: تحت حديث: 1880]
امیر المؤمنین فی الحدیث، فقیہ الامت، سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ (م256ھ) اس حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔
فانما كان ھذا التشھد، لا في القيام، كان يسلم يعضھم علي بعض، فنھي النبي ﷺ عن رفع الأيدي في التشھد، ولا يحتج بھذا من لا حظ من العلم، ھذا معروف مشھور، لا اختلاف فيه، ولو كان كما ذھب اليه لكان رفع الأيدي في أول التكبيرة وأيضا تكبيرات صلاة العيدين منھيا عنھا، لأنه لم يستثن رفعا دون رفع، وقد بينه حديث.
”یہ حدیث تشہد کے بارے میں تھی، نہ کہ قیام کے بارے میں، صحابہ کرام (ہاتھ اٹھا کر )ایک دوسرے پر سلام کہتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد میں ہاتھوں کو اٹھانے سے منع فرما دیا، اس حدیث سے کوئی بھی ایسا شخص (رفع الیدین کی ممانعت پر دلیل نہیں لے گا جس کو علم کا کچھ حصہ نصیب ہوا ہو، یہ بات مشہور و معروف ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں، اگر بات ایسے ہوتی، جیسے یہ مانع مانع رفع الیدین) گیا ہے تو پہلی تکبیر اور عید کی تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین بھی منع ہونا چاہیے تھا، کیونکہ (اس حدیث میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین کا کوئی موقع مستثنیٰ نہیں فرمایا، پھر (دوسری) حدیث نے بھی اس کی وضاحت کر دی ہے۔“ [جزء رفع اليدين للامام البخاري: ص61۔ 62]
➋ اگر رفع الیدین نماز میں سکون کے منافی ہے تو شروع نماز میں، نیز وتروں اور عیدین کا رفع الیدین کیوں کیا جاتا ہے؟ شروع نماز رفع الیدین نماز میں داخل ہے، جیسا کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: كان اذا كبر رفع يديه. ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ اکبر کہتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم: 168/1 ح: 391] یہ بات مسلم ہے کہ نماز تکبیر تحریمہ سے شروع ہو جاتی ہے۔
الحاصل:
حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بلااختلاف سلام کے ساتھ ہے، اس عدم رفع الیدین لینے والا امام بخاری، حافظ نووي اور حافظ ابن الملقن رحمہم اللہ کے نزدیک جاہل اور محمود الحسن دیوبندی وتقی عثمانی دیوبندی صاحبان کے نزدیک ناانصاف ہے۔
دلیل نمبر 3
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
رأيت رسول الله ﷺ، اذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه واذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع فلا يرفع ولا بين السجدتين.
[صحيح مسلم: 168/1 ح: 390] [مسند الحميدي: 277/2، ح: 614]
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے۔ ۔ ۔ اور جب رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [صحيح ابي عوانة: 90/2]
تبصرہ:
➊ اس حدیث کو عدم رفع الیدین کے ثبوت میں وہی پیش کر سکتا ہے جو شرم و حیا سے عاری اور علمی بددیانتی کا مرتکب ہو، کسی محدث نے اس حدیث کو رفع الیدین نہ کرنے پر پیش نہیں کیا۔
دراصل ”لا يرفعھما“ والے الفاظ کا تعلق اگلے الفاظ ”بين السجدتين“ کے ساتھ تھا، اصل میں یوں تھا: ”ولا يرفعھما بين السجدتين“ ”اور آپ دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“
بعض الناس نے ان الفاظ کے شروع سے ”واؤ“ گرا کر اس کا تعلق پچھلی عبارت سے جوڑنے کی جسارت کی ہے، جبکہ یہ ”واؤ“ مسند ابی عوانہ کے دوسرے نسخوں میں موجود ہے۔
➋ اس روایت کے راوی امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے یہی روایت ان کے چھ ثقہ شاگرد (آپ دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے )کے الفاط کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم: 168/1، ح: 390]
➌ امام ابوعوانہ رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں کہ بعض راویوں نے ”ولا يرفعهما بين السجدتين“ کے الفاظ روایت کیے ہیں، جبکہ معنیٰ ایک ہی ہے، یعنی آپ دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
➍ امام ابوعوانہ رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے:
بيان رفع اليدين في افتتاح الصلاة قبل التكبير بحذاء منكبييه وللركوع ولرفع رأسه من الركوع، وانه لا يرفع بين السجدتين.
”نماز کے شروع میں تکبیر سے پہلے، رکوع کے لیے اور رکوع سے سر اٹھانے کے لیے رفع الیدین کا بیان اور اس بات کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک محدث رفع الیدین کے ثبوت کا باب قائم کرے اور حدیث وہ لائے جس سے رفع الیدین کی نفی ہو رہی ہو، یہ ایسے ہی ہے، جیسے کوئی سنار اپنی دکان پر گوشت اور سبزی کا بورڈ سجا دے۔
➎ خود امام ابوعوانہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی اور امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہما کی روایات جن میں رکوع کا جاتے اور سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کا ثبوت ہے، اسی روایت کی طرح ہیں، لہذٰا یہ حدیث رفع الیدین کے ثبوت پر چوٹی کی دلیل ہے۔
دلیل نمبر 4
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم، اذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه واذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع فلا يرفع ولا بين السجدتين.
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین نہین کرتے تھے، نہ ہی سجدوں کے درمیان کرتے تھے۔“ [مسند الحيدي: 277/2، ح: 614]
تبصرہ:
اس حدیث سے عدم رفع الیدین پر دلیل لینا دیانت علمی کے خلاف ہے، کیونکہ مسند الحمیدی کے جس نسخہ سے یہ روایت ذکر کی گئی ہے، وہ جعلی نسخہ ہے، جو حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی صاحب کی تحقیق سے ساتھ چھپا ہے۔
ہم حیران ہیں کہ ایک بڑا نفیس و اعلیٰ اور متعمد علیہا نسخہ ظاہریہ 603ھ، جس کے ناسخ محدث احمد بن عبد الخالق ہیں، دوسرا نسخہ ظاہریہ 689ھ، جس کے ناسخ احمد بن نضر الدقوقی ہیں، ان دونوں قدیم نسخوں کو چھوڑ کر ایک ایسے نسخہ محرفہ پر اعتماد کر لیا گیا ہے جس کا کوئی صفحہ غلطیوں سے خالی نہیں ہے۔
مسند الحمیدی والی یہی حدیث ابن عمر المسند المستخرج علي صحيح الامام مسلم لأبي نعيم الاصبھاني. [12/2] پر ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے: عن عبدالله بن عمر: رأيت رسول الله ﷺ، اذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه واذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع، ولا يرفع بين السجدتين، اللفظ للحميدي.
یعنی امام ابونعیم رحمہ اللہ نے یہ روایت امام حمیدی کے الفاظ کے ساتھ ذکر کی ہے، لیکن اس میں رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کا اثبات ہے، یہ روایت حبیب الرحمن اعظمی صاحب کے رد میں بڑی زبردست دلیل ہے، کسی محدث یا کسی حنفی امام نے ان دیوبندیوں سے پہلے اس روایت کو عدم رفع الیدین کے لیے پیش نہیں کیا، کیوں؟ جبکہ مسند الحمیدی ہر دور میں متداول رہی ہے۔
معلوم ہوا کہ مسند الحمیدی والی حدیث عدم کے بجائے اثبات رفع الیدین کی زبردست دلیل ہے۔
دلیل نمبر 5
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ان رسول الله ﷺ كان اذا افتح الصلاة رفع يديه الي قريب من أذنيه، ثم لا يعود.
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے کانوں کے قریب تک رفع الیدین کرتے، پھر دوبارہ نہ فرماتے۔“
[سنن ابي داود: 749، سنن دارقطني: 293/1، مسند ابي يعليٰ: 1690]
تبصرہ:
➊ اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔
حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ”ضعف“ پر اجماع و اتفاق ہے، اس کا راوی یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ اور ”سیئ الحفظ“ ہے، نیز یہ ”مدلس“ اور ”مختلط“ بھی ہے، تلقین بھی قبول کرتا تھا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ضعيف، كبر، فتغير، وصار يتلقن وكان شيعيا.
”یہ ضعیف راوی ہے، بڑی عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا اور یہ تلقین قبول کرنے لگا تھا، یہ شیعی بھی تھا۔“ [تقريب التھذيب: 7717]
نیز لکھتے ہیں:
والجمھور علي تضعيف حديثه.
جمہور محدثین اس کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔ [ھدي السارى: 459]
بوصیری لکھتے ہیں:
يزيد بن أبي زياد أخرج له مسلم في المتابعات وضعفه الجمھور.
”یزید بن ابی زیاد کی حدیث امام مسلم نے متابعات مین بیان کی ہے، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ [زوائد ابن ماجه: 549/2]
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يخرج منه في الصحيح، ضعيف، يخطئ كثيرا.
”کسی صحیح کتاب میں اس کی کوئی حدیث بیان نہیں کی جائے گی، یہ ضعیف ہے اور بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا۔“ [سوالات البرقاني: 561]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وليس ھو بالمتقن، فلذا لم يحتج به الشيخان.
”وہ پختہ راوی نہیں، اسی لیے شیخین [بخاری و مسلم] نے اس سے حجت نہیں لی۔“ [سير أعلام النبلاء: 129/6]
یہ صحیح مسلم کا راوی نہیں ہے، امام مسلم نے اس سے مقروناً روایت لی ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولم يكن يزيد بن أبي زياد بالحافظ، ليس بذالك.
”یزید بن ابی زیاد حافظ نہیں تھا، حدیث کی روایت کے قابل نہ تھا۔“ [الجرح و التعديل: 265/9]
امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس بالقوي.
”یہ قوی نہیں تھا۔“ [الجرح و التعديل: 265/9]
امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لين، يكتب حديثه، ولا يحتج به.
”کمزور راوی ہے، اس کی حدیث لکھی جائے گی، لیکن اس حجت نہیں لی جائے گی۔“ [الجرح و التعديل: 265/9]
امام جوزجانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
سمعتھم يضعفون حديثه.
”میں نے محدثین کو اس کی حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا۔“ [احوال الرجال: 135]
امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس بالقوي.
”یہ قوی نہیں۔“ [الضعفاء والمتروكين: 651]
امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولا يحتج بحديث يزيد بن أبي زياد.
”یزید بن ابی زیاد کی حدیث سے حجت نہیں لی جائے گی۔“ [تاريخ يحيي بن معين: 3144]
امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس بشئ.
”یہ (حدیث میں) کچھ بھی نہیں۔“ [الضعفاء للعقيلى: 380/4، وسنده صحيح]
امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔ [الضعفاء للعقيلى: 480/4، وسنده صحيح]
امام شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
كان يزيد بن ابي زياد رفاعا.
”یزید بن ابی زیاد رفاع (موقوف روایات کو مرفوع بنا دینے والا) تھا۔“ [الجرح و التعديل لابن أبي حاتم: 265/9]
امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ارم به.
”اسے پھینک (چھوڑ ) دو۔“ [تھذيب التھذيب: 288/11]
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ويزيد من شيعة أھل الكوفة، مع ضعفه يكتب حديثه.
”یزید اہل کوفہ کے شیعہ میں سے ہے، ضعف کے ساتھ ساتھ اس کی حدیث لکھی جائے گی۔“ [الكامل: 276/7]
لہذٰا امام عجلی [تاريخ العجلي: 2019] اور امام ابن سعد [الطبقات الکبرٰی: 340/6] کا اس کو ”ثقہ“ کہنا اور امام ابن شاہین کا اسے الثقات [1561] میں ذکر کرنا جمہور کی تضعیف کے مقابلے میں ناقابل التفات ہے۔
نیز اس کی توثیق کے بارے میں احمد بن صالح المصری کا قول ثابت نہیں ہے۔
الحاصل:
یہ حدیث باتفاق محدثین ”ضعیف“ ہے، ”ضعف“ کے ساتھ ساتھ یزید بن ابی زیاد نے اسے بیان بھی اختلاط کے بعد کیا ہے۔
➋ یہ روایت ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ عام بھی ہے، جبکہ رکوع والے رفع الیدین کی دلیل خاص ہے، لہذٰا خاص کو عام پر مقدم کیا جائے گا۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:
ھذا خبر عول عليه أھل العراق في نفي رفع اليدين في الصلاة عندالركوع وعند رفع الرأس منه، وليس في الخبر: ثم لم يعد، وھذه الزيادة لقنھا أھل الكوفة يزيد بن أبي زياد في آخر عمره، فتلقن، كما قال سفيان بن عيينه: انه سمعه قديما بمكة يحدث بھذا الحديث باسقاط ھذه اللفظة، ومن لم يكن العلم صناعته لا يذكر له الاحتجاج بما يشبه ھذا من الأخبار الواھية.
”یہ وہ حدیث ہے جس پر اہل عراق نے نماز میں رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کی نفی میں اعتماد کیا ہے، حالانکہ حدیث میں ”ثم لم يعد.“ (پھر دوبارہ نہ کیا) کے الفاظ نہیں تھے، یہ زیادت یزید بن ابی زیاد کو اس کی آخری عمر میں اہل کوفہ نے تلقین کی تھی، اس نے اسے قبول کر لیا، جیسا کہ امام سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پہلے دور میں مکہ میں اسے یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا، اس وقت اس نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے تھے، جو آدمی فن حدیث کا اہل نہ ہو، اس کے لیے اس طرح کی ضعیف روایات کو بطور دلیل ذکر کرنا درست نہیں ہے۔“ [المجروحين لابن حبان: 100/3]
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ذكر ترك العود الي الرفع ليس بثابت عن النبي ﷺ، فكان يزيد بن أبي زياد يروي ھذا الحديث قديما ولا يذكره، ثم تغير وساء حفظه فلقنه الكوفيون ذلك، فتلقنه ووصله بمتن الحديث.
(تکبیر تحریمہ میں رفع الیدین کے بعد ) ()دوبارہ رفع الیدین کو چھوڑنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، یزید بن ابی زیاد اس حدیث کو پہلے پہل بیان کرتا تھا، لیکن ان الفاظ کو ذکر نہیں کرتا تھا، پھر اس کا حافظہ خراب ہو گیا تو کوفیوں نے اس کو ان الفاظ کی تلقین کی، اس قبول کر لی اور اسے متن کے ساتھ ملا دیا۔ [المدرج: 369/1]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
واتفق الحفاظ علي أن قوله: ثم لم يعد، مدرج في الخبر من قول يزيد بن أبي زياد.
”حفاظ محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ثم لم يعد کے الفاظ اس حدیث میں مدرج ہیں، یہ یزید بن ابی زیاد کی اپنی بات ہے۔“ [التلخيص الحبير: 221/1]
دلیل نمبر 6
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رأيت رسول الله ﷺ رفع يديه حين افتتح الصلاة، ثم لم يرفعھما حتي انصرف.
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے جب نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، پھر سلام پھیرنے تک دوبارہ نہیں کیا۔“
[سنن ابي داود: 752، مسند ابي يعلي: 1689، شرح معاني الآثار: 224/1]
تبصرہ:
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس کا راوی ابن ابی لیلیٰ جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ ہے ۔
اس حدیث کے تحت:
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ھذا الحديث ليس بصحيح.
”یہ حدیث صحیح نہیں۔“
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ابن أبي ليلي كان سيء الحفظ.
”ابن ابی لیلیٰ خراب حافظہ والا تھا۔“ [العلل: 143/1]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ومحمد بن عبدالرحمن بن أبي ليلي لا يحتج بحديثه، وھو أسوأ حالا عند أھل المعرفة بالحديث من يزيد بن أبي زياد.
”محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث حجت نہیں لی جائے گی، اس کی حالت محدثین کے نزدیک یزید بن ابی زیاد سے بھی بری تھی۔“ [معرفة السنن والآثار للبيھقى: 419/2]
دلیل نمبر 7
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله ﷺ اذا افتتح الصلاة رفع يديه حتي يحاذي منكبيه، لا يعود يرفعھما حتي يسلم من صلاته.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر رفع الیدین کیا، دوبارہ آپ رفع الیدین نہیں کرتے تھے، حتی کہ نماز سے سلام پھیر دیتے۔“ [مسند ابي حنيفة لابي نعيم: ص156]
تبصرہ:
یہ سند سخت ترین ”ضعیف“ ہے، اس میں ابوحنیفہ نعمان بن ثابت باجماع محدثین ”ضعیف“ ہیں، ان کے حق میں کسی ثقہ امام سے باسند ”صحیح“ کوئی ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں، مدعی پر دلیل لازم ہے۔
دلیل نمبر 8
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صليت مع النبي ﷺ ومع أبي بكر و مع عمر، فلم يرفعوا أيديھم الا عند التكبيرة الأولي في افتتاح الصلاة.
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر کے ساتھ نماز پڑھی، انہوں نے صرف نماز کے شروع میں پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کیا۔“
[سنن الدارقطنى: 295/1، ح: 1120، واللفظ له، مسند ابي يعلى: 5039]
تبصرہ:
یہ روایت سخت ترین ”ضعیف“ ہے، کیونکہ
➊ اس کا راوی محمد بن جابر یمامی جمہور محدثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وھو ضعيف عند الجمھور.
یہ جمہور محدثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزوائد: 346/5]
اس کو امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام یحیی بن معین، امام عمرو بن علی الفلاس، امام نسائی، امام جوزجانی، امام دارقطنی وغیرہم رحمہم اللہ نے مجروح و ضعیف کہا ہے۔
امام دارقطنی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
تفرد به محمد بن جابر اليمامي وكان ضعيفا.
”اس کو بیان کرنے میں محمد بن جابر یمامی متفرد ہے اور وہ ضعیف تھا۔“ [سنن الدارقطنى: 295/1]
امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ھذا ابن جابر ايش حديثه؟ ھذا حديث منكر، أنكره جدا.
”یہ محمد بن جابر ہے، اس کی حدیث کیا ہے؟ یہ ایک منکر حدیث ہے، میں اسے سخت منکر سمجھتا ہوں۔“ [العلل: 144/1]
امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يتابع محمد بن جابر علي ھذا الحديث ولا علي عامة حديثه.
”محمد بن جابر کی نہ اس حدیث میں متابعت کی گئی ہے اور نہ ہی عام احادیث پر۔“ [الضعفاء: 42/4]
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”ضعیف“ کہا ہے۔ [معرفة السنن والآثار للبيھقى: 425/2]
حافظ ابن الجوزی فرماتے ہیں:
ھذا حديث لا يصح عن رسول الله ﷺ.
”یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“ [الموضوعات: 96/2]
امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وحديثه عن حماد، فيه اضطراب.
”اس کی حدیث حماد بن ابی سلیمان سے مضطرب ہوتی ہے۔“ [الجرح و التعديل: 219/7]
یہ روایت بھی اس نے اپنے استاد حماد سے بیان کی ہے، لہذا جرح مفسر ہے۔
تنبیہ:
محمد بن جابر یمامی کہتے ہیں:
سرق أبوحنيفة كتب حماد مني.
”ابوحنیفہ نے مجھ سے حماد بن ابی سلیمان کی کتابیں چوری کیں۔“ [الجرح و التعديل: 450/8]
اب یہاں عجیب الجھن پیدا ہو گئی ہے کہ اگر محمد بن جابر یمامی ”ثقہ“ ہے تو امام صاحب پر چوری کا الزام عائد ہوتا ہے اور اگر امام صاحب کو بچائیں تو اس روایت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے!
➋ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو بعض الناس قنوت وتر اور عیدین میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟
➌ یہ روایت ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ عام ہے، جبکہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے ثبوت والی احادیث خاص ہیں، لہذا خاص کو عام پر مقدم کیا جائے گا۔ اتنی سی بات بعض لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں!
➍ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کرنا صحیح سند سے ثابت ہے۔ [السنن الكبري للبيهقي: 73/2]
دلیل نمبر 9
قال الامام ابن أبي شيبة: حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: ترفع الأيدي في سبعة مواطن: اذا قام الي الصلاة، واذا رأي البيت، وعلي الصفا والمروة، وفي عرفات، وفي جمع وعند الجمار.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سات مقامات پر رفع الیدین کیا جاتا ہے: جب نماز کے لیے کھڑا ہو، جب بیت اللہ کو دیکھے، کوہ صفا اور کوہ مروہ پر، عرفات میں، مزدلفہ میں اور جمرات کے پاس۔ [مصنف ابن ابي شيبة: 236، 235/2]
تبصرہ:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول کی سند ”ضعیف“ ہے کیونکہ عطاء بن السائب (حسن الحدیث ) ”مختلط“ ہیں اور ابن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی ہے۔
امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطا بن السائب راوی ”مختلط“ ہیں۔ [الجرح والتعديل: 335/6]
امام احمد بن حنبل، امام ابوحاتم الرازی [الجرح والتعديل: 334/6] اور امام دارقطنی [العلل: 186/5، 288/8] رحمہم الله نے ان کو ”مختلط“ قرار دیا ہے۔
امام ابوحاتم الرازی فرماتے ہیں:
وما روي عنه ابن فضيل، ففيه غلط واضطراب.
”عطا بن السائب سے جو کچھ ابن فضیل نے روایت کیا ہے، اس میں غلطیاں اور اضطراب ہے۔“ [الجرح والتعديل: 334/6]
یہ جرح مفسر ہے، لہذا سند ”ضعیف“ ہے، اس قول میں قنوت وتر اور عیدین کے رفع الیدین کا بھی ذکر نہیں ہے، وہ کیوں کیا جاتا ہے؟
➋ ابو حمزہ (عمران بن ابی عطاء القصاب ثقہ عند الجمہور) کہتے ہیں:
رأيت ابن عباس يرفع يديه اذا افتتح الصلاة واذا ركع واذا رفع رأسه من الركوع.
”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز شروع کرتے، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے دیکھا۔“
[مصنف ابن ابي شيبة: 239/1، وسنده حسن]
اس روایت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
[ا] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز میں رفع الیدین کے قائل تھے۔
[ب] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کا رفع الیدین کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے۔
فائدہ:
یہ روایت مرفاعاً بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند بھی ”ضعیف“ ہے،
اس میں ابن ابی لیلی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ہے، ضعيف، سيء الحفظ.
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ضعيف، سيء الحفظ.
ضعیف اور خراب حافظے والا ہے۔ [التلخيص الحبير: 22/3]
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
محمد بن عبدالرحمن بن أبي ليلي سيء الحفظ، لا يحتج به عند أكثرھم.
ابن ابی لیلی خراب حافظے والا ہے، اکثر محدثین کے نزدیک قابل حجت نہیں۔ [تحفة الطالب: 345]
امام طحاوی حنفی نے اس کو مضطرب الحديث جدا. کہا ہے۔ [مشكل الآثار للطحاوي: 226/3]
انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
فھو ضعيف عندي كما ذھب اليه الجمھور.
”وہ میرے نزدیک بھی ضعیف ہے، جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔“ [فيض الباري: 168/3]
➋ اس کی سند میں الحکم بن عتیبہ راوی ”مدلس“ ہے جو کہ ”عن“ سے روایت کر رہا ہے۔
امام عینی حنفی نے بھی اس کو ”مدلس“ کہا ہے۔ [عمدة القاري: 248/21]
نیز دیکھیں: [اسماء المدلسين للسيوي: 96]
دلیل نمبر 10
عباد بن زبیر سے روایت ہے:
ان رسول الله ﷺ كان اذا افتتح الصلاه رفع يديه في أول الصلاة، ثم لم يرفعھما في شيء حتي يفرغ.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو رفع الیدین فرماتے، پھر فارغ ہونے تک کسی بھی رکن میں رفع الیدین نہیں فرماتے تھے۔“ [الخلافيات للبيھقي، نصب الراية للزيلعي: 404/1]
تبصرہ:
یہ حدیث موضوع (من گھڑت ) ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وھو موضوع. ”یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔“ [المنار المنيف: ص139]
➊ عباد تابعی کا تعارف مطلوب ہے کہ یہ کون ہے؟ عباد بن زبیر کے نام سے کئی راوی ہیں، اس سے عباد بن عبداللہ بن زبیر مراد لینا غلط ہے۔
➋ محمد بن اسحاق راوی کا تعین مطلوب ہے۔
➌ اس کی سند میں حفص بن غیاث ”مدلس“ ہیں، جو ”عن“ سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہذا سند ”ضعیف“ ہے۔
➍ بعض الناس قنوت وتر اور عیدین میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟
➎ یہ موضوع (من گھڑت) روایت عام ہے، جبکہ رکوع کو جاتے اور سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کی احادیث خاص ہیں، تعارض کے وقت خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے۔
دلیل نمبر 11
[قال الإمام أبو بكر البيهقي: أخبرنا أبو سعيد سعيد بن محمد بن أحمد الشعيبي العدل، حدثني أبو عبد الله محمد بن غالب من حفظه ببغداد، ثنا أحمد بن محمد بن خالد البراثي، ثنا عبد الله بن عون الخراز، ثنا مالك، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، ثم لا يعود]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے تھے، پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔
[الخلافيات: 1758]
تبصرہ:
یہ حدیث باطل، موضوع اور شاذ ہے۔
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هٰذا باطل موضوع لا يجوز أن يذكر إلا علىٰ سبيل التعجب أو القدح فيه، فقد روينا بالأسانيد الزاهرة عن مالك بخلاف هٰذا، ومالك بن أنس رحمه الله يبرأ إلى الله تعالىٰ من هٰذه الرواية]
یہ حدیث باطل اور موضوع ہے۔ اس روایت کو تعجب اور جرح کے طور پر ہی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ سے نہایت عمدہ سندوں سے اس کے برعکس روایات ملی ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس روایت سے بری ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے راوی ہیں، انہوں نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ یہ حدیث باطل اور موضوع ہے، اس پر کچھ کہنے کی گنجائش تو نہیں رہ جاتی، کیونکہ اگر محدثین عللِ حدیث کو نہیں جانتے تھے، تو کوئی اور کون ہے، جو عللِ حدیث سے واقف ہو؟
لیکن بعض حضرات امام بیہقی رحمہ اللہ کی ذکر کردہ حدیث کو لے لیتے ہیں، لیکن اس حدیث پر ان کے لگائے گئے حکم کو تسلیم نہیں کرتے اور آپ سے بدگمانی کرتے ہیں کہ امام صاحب کا اس حدیث کو باطل اور موضوع کہنا بلا دلیل ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ ایک حدیث کی سند ظاہری طور پر صحیح یا حسن ہی کیوں نہ ہو، لیکن کسی ثقہ امام و محدث نے اس کو ضعیف یا باطل کہہ دیا ہو، ہم اس کی ظاہری صحت کو چھوڑ کر امام کی بات کو درست قرار دیں گے، کیونکہ ائمہ محدثین عللِ حدیث سے بخوبی واقف تھے اور حدیث پر کسی علت کے بغیر جرح نہیں کرتے تھے۔
نیز اس حدیث کو امام بیہقی رحمہ اللہ کا باطل اور موضوع کہنا بالکل درست ہے، کیونکہ
① اس کی سند میں ابو عبد اللہ محمد بن غالب مجہول ہے۔ مجہول راویوں کی حدیث کا باطل اور موضوع ہونا بعید نہیں، کیونکہ جس راوی کا کوئی پتہ ہی نہ ہو، وہ کسی طرح کی بھی حدیث بیان کر سکتا ہے؟ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ وغیرہ مجہول کی روایت کو ”موضوع“ اور ”باطل“ کہہ دیتے ہیں۔
② امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
③ یہ حدیث شاذ ہے، کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ کی مرفوع اور متواتر حدیث میں رفع الیدین کا اثبات موجود ہے۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔ (صحیح البخاری: 739) نیز سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رفع الیدین نہ کرنے پر کنکریاں مارا کرتے تھے۔ (قرة العينين للبخاري: 17/1، وسنده صحيح)
④ راویِ حدیث امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے رفع الیدین متواتر ثابت ہے، مؤطا میں بھی یہی درج ہے۔
⑤ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ نے یہ حدیث امام بیہقی رحمہ اللہ سے نقل کی اور امام بیہقی رحمہ اللہ کی اس پر جرح بھی نقل کی، لیکن امام بیہقی رحمہ اللہ پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ جرح کو برقرار رکھا۔
⑥ امام بیہقی رحمہ اللہ سے اب تک کسی بھی محدث نے اس حدیث کی صحت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس حدیث کے حوالے سے امام بیہقی رحمہ اللہ سے معارضہ کیا۔
بعض دفعہ سند بظاہر صحیح ہوتی ہے اور کبار ائمہ پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن محدثین اسے جھوٹا کہہ دیتے ہیں، کیونکہ بسا اوقات متن گھڑ کر اس پر صحیح سند چڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حدیث کے لیے محدثین کو پیدا کیا، وہ اس کی خوب پرکھ رکھتے تھے، اس کی ظاہری و خفی علتوں سے بخوبی واقف تھے۔
حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يقف عليه إلا الحذاق من أهل الحفظ، فقد يزل الصدوق فيما يكتبه فيدخل له حديث في حديث، فيصير حديث روي بإسناد ضعيف مركبا علىٰ إسناد صحيح، وقد يزل القلم ، ويخطيء السمع ويخون الحفظ، فيروي الشاذ من الحديث عن غير قصد، فيعرفه أهل الصنعة الذين قيضهم الله تعالى لحفظ سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم، على عباده بكثرة سماعه وطول مجالسته أهل العلم به ومذاكرته إياهم]
اس (غلطی) پر صرف ماہر اور حفاظ مطلع ہوتے ہیں، کیونکہ کبھی صدوق (سچا) راوی بھی لکھنے میں خطا کر جاتا ہے اور ایک حدیث میں دوسری حدیث داخل ہو جاتی ہے، یوں یہ ایسی حدیث بن جاتی ہے، جس کی (اصل) سند تو ضعیف ہو، لیکن (بعد میں) اسے (کسی اور حدیث کی) صحیح سند کے ساتھ روایت کر دیا گیا ہو۔ کیونکہ کبھی لکھنے میں غلطی ہو جاتی ہے، کبھی سننے میں خطا لگ جاتی ہے اور کبھی حافظہ دھوکہ کھا جاتا ہے، تو راوی غیر ارادی طور پر ایک شاذ حدیث روایت کر بیٹھتا ہے۔ لیکن ماہرینِ فن اپنے کثرتِ سماع، اہل علم سے لمبی مجالس اور ان سے مذاکرہ کرنے کی وجہ سے اس غلطی کو جان لیتے ہیں، ان ماہرین کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے سنتِ رسول کی حفاظت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔
[دلائل النبوة: 30/1]
قارئین کرام! اگر زیر بحث حدیث کی سند بالکل صحیح ہوتی اور اسے بیان کرنے والے تمام راوی ثقہ و صدوق ہوتے، تب بھی امام بیہقی رحمہ اللہ کے اسے موضوع اور باطل کہہ دینے سے یہ حدیث باطل اور موضوع ہی ٹھہرتی، کیونکہ امام بیہقی رحمہ اللہ ماہر محدث ہیں، وہ اس کی ظاہری و مخفی علتوں سے بخوبی واقف ہیں، لیکن اس حدیث کی تو ظاہری سند بھی ثابت نہیں ہے، جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں، تو پھر اسے عدمِ رفع الیدین پر بطورِ حجت کیونکر پیش کیا جا سکتا ہے؟
یاد رہے کہ احادیثِ محدثین کی ہیں اور ان پر تحقیق بھی انہی کی معتبر ہے۔ بعد والوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ محدثین کے متعلق یہ بدگمانی پیدا کریں کہ حدیث کے راوی تو ثقہ ہیں، پھر بھی محدثین اسے موضوع کہہ رہے ہیں!
دلیل نمبر 12
[قال الإمام أبو عبد الله محمد بن حارث الخشني: حدثني عثمان بن محمد قال: قال لي عبيد الله بن يحيى: حدثني عثمان بن سوادة بن عباد عن حفص بن ميسرة عن زيد بن أسلم عن عبد الله بن عمر قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة نرفع أيدينا في بدء الصلاة وفي داخل الصلاة عند الركوع فلما هاجر النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة ترك رفع يدين في داخل الصلاة عند الركوع وثبت على رفع اليدين في بدء الصلاة]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز شروع کرتے اور رکوع جاتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے، پھر جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ ہجرت کی، تو رکوع کے وقت رفع الیدین کرنا ترک کر دیا اور شروع والا رفع الیدین جاری رکھا۔
[أخبار الفقهاء والمحدثين ص 214، ت: 378]
تبصرہ:
جھوٹی روایت ہے۔
① اسے گھڑنے والا عثمان بن محمد بن یوسف، ازدی، قُری، ابو اصبغ ہے۔ اس کے بارے میں حافظ ابو ولید، ابن فرضی (403ھ) لکھتے ہیں:
[كان كذابا]
یہ پرلے درجے کا جھوٹا شخص ہے۔ [تاريخ علماء أندلس، ص 350]
اسے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک کہنا درست نہیں، کیونکہ اس عثمان بن محمد کے بارے میں صاحبِ کتاب (ص 103، 105) نے قُری کہہ کر تعین کر دیا ہے۔ لہذا یہ قُری ہے، قبری نہیں، کیونکہ عثمان بن محمد بن یوسف، قُری کے اساتذہ میں عبیداللہ بن یحییٰ موجود ہے۔
[تاريخ علماء أندلس، ص 349]
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس سند میں قُری راوی ہے، نہ کہ قبری۔ وہ عثمان بن محمد بن یوسف ”کذاب“ ہے۔
② عثمان بن سوادہ ”مجہول“ ہے۔ اس کے متعلق عبیداللہ بن یحییٰ سے منسوب توثیق والا قول اسی عثمان بن محمد قری کذاب کا بیان کردہ ہے، لہذا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
③ محدث ابو عبداللہ محمد بن حارث خشنی (361ھ) لکھتے ہیں:
[كان يحدث بحديث رواه مسندا في رفع اليدين، وهو من غرائب الحديث، وأراه من شواذها]
یہ (عثمان سوادہ) رفع الیدین کے متعلق ایک مرفوع حدیث بیان کرتا ہے، جو کہ منکر ہے اور میں اسے شاذ روایات میں سے سمجھتا ہوں۔
[أخبار الفقهاء والمحدثين، ص 214]
بے شک یہ شاذ روایت ہے۔ متواتر احادیث و آثار کے خلاف ہے۔
دلیل نمبر 13
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
[ترفع الأيدي في سبعة مواطن: إذا قام إلى الصلاة، وإذا رأى البيت، وعلى الصفا والمروة، وفي عرفات، وفي جمع وعند الجمار]
سات مقامات پر رفع الیدین کیا جائے: نماز کے لیے کھڑا ہو، جب بیت اللہ کو دیکھے، کوہِ صفا اور کوہِ مروہ پر، عرفات میں، مزدلفہ میں اور جمرات کے پاس۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 235/2-236]
تبصرہ:
① سند ”ضعیف“ ہے، عطاء بن السائب (حسن الحدیث) ”مختلط“ ہیں اور ابن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی ہے۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء بن سائب راوی ”مختلط“ ہیں۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 334/6]
امام احمد بن حنبل، امام ابو حاتم الرازی (الجرح والتعديل: 334/6) اور امام دارقطنی (العلل: 186/5، 288/8) رحمہم اللہ نے انہیں ”مختلط“ قرار دیا ہے۔
امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں:
[ما روى عنه ابن فضيل، ففيه غلط واضطراب]
عطاء بن سائب سے جو کچھ ابن فضیل نے روایت کیا ہے، اس میں غلطیاں اور اضطراب ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 334/6]
یہ جرح مفسر ہے، لہذا سند ”ضعیف“ ہے، اس قول میں قنوتِ وتر اور عیدین کے رفع الیدین کا بھی ذکر نہیں ہے، وہ کیوں کیا جاتا ہے؟
② ابو حمزہ (عمران بن ابی عطاء القصاب ثقہ عند الجمهور) رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[رأيت ابن عباس يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع]
میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے دیکھا۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 239/1، وسنده حسن]
اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
① سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نماز میں رفع الیدین کے قائل تھے۔
② نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کا رفع الیدین کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے۔
فائدہ:
یہ روایت مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند بھی ”ضعیف“ ہے، اس میں ابن ابی لیلیٰ راوی جمہور محدثین کے نزدیک ”ضعیف، سیئ الحفظ“ ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[ضعيف، سيء الحفظ]
ضعیف اور خراب حافظے والا ہے۔ [التلخيص الحبير: 22/3]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي ليلى سيء الحفظ، لا يحتج به عند أكثرهم]
ابن ابی لیلیٰ خراب حافظے والا ہے، اکثر محدثین کے نزدیک قابلِ حجت نہیں۔
[تحفة الطالب: 345]
علامہ طحاوی حنفی رحمہ اللہ نے اسے ”مضطرب الحدیث جداً“ کہا ہے۔
[شرح مشكل الآثار: 226/3]
جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
[هو ضعيف عندي كما ذهب إليه الجمهور]
میرے نزدیک بھی ضعیف ہے، جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔
[فيض الباري: 168/3]
امام بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[تفرد ابن أبي ليلىٰ بروايته، وقد اتفق أئمة الحديث علىٰ ترك الاحتجاج بروايته]
اسے روایت کرنے میں ابن ابی لیلیٰ منفرد ہے، ائمہ حدیث کا اتفاق ہے کہ اس کی روایت سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔
[الخلافيات، تحت الحديث: 1732]
② حکم بن عتیبہ ”مدلس“ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، علامہ عینی حنفی نے بھی انہیں ”مدلس“ کہا ہے۔
(عمدة القاري: 248/21) نیز دیکھیں (أسماء المدلسين للسيوطي: 96)
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هٰذا حديث واه من أوجوه كثيرة]
یہ حدیث کئی وجوہ سے ضعیف ہے۔
[الخلافيات للبيهقي، تحت الحديث: 1732]
ایک قیاسی دلیل:
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث، جناب انور شاہ کشمیری صاحب کہتے ہیں:
اس پر میرا ایک اعتراض ہے، جو عرصہ سے لکھا ہے اور شافعیہ میں سے اس کا جواب کسی سے بھی نقل نہیں ہوا، وہ یہ کہ حج کے احکام میں وارد ہے کہ اونچائی پر چڑھتے ہوئے تکبیر اور نیچائی پر اترتے ہوئے تسبیح کہے، لہٰذا جس طرح حج میں اترتے ہوئے، تکبیر نہیں ہے، نماز میں بھی رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر مع رفع یدین نہ ہونی چاہیے، باقی یہ کہ رکوع میں جاتے ہوئے بغیر رفع یدین کے، تو حنفیہ کے یہاں بھی تکبیر ہے، تو اس کا جواب سب ہی پر ہے اور ہم تو شارع سے نقل پیش کر دیں گے اور وہ کافی ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ سفر میں اترتے ہوئے تکبیر نہیں پڑھتے تھے۔
[ملفوظات علامہ انور شاہ کشمیری از احمد رضا بجنوری، ص 267]
تبصرہ:
قارئین کرام! شاہ صاحب کی عبارت سے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عدمِ رفع الیدین کے قائلین کے پاس کوئی صحیح دلیل موجود نہیں، اس لیے نص کے مقابلہ میں قیاس کا پیش کیا جا رہا ہے۔
رفع الیدین نبی کریم ﷺ کا متواتر عمل ہے۔ کسی صحابی سے رفع الیدین کا ترک کرنا ثابت نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے تواتر کے ساتھ رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔
مفتی محمد شفیع دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
میں نے (سید انور شاہ صاحب سے) پوچھا: حضرت کیسا مزاج ہے؟ کہا: ہاں! ٹھیک ہی ہے۔ میاں مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کر دی فرمایا: ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کد و کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں، یہ رہا ہے، محور ہماری ساری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔ اب غور کرتا ہوں، تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی؟
[وحدت امت، ص 15-16]
مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کہتے ہیں:
حضرت سید انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ ’فیض الباری‘ (255/2، 257) میں فرماتے ہیں کہ رفع یدین اور ترک کا مسئلہ افضل، غیر افضل اور اولیٰ و غیر اولیٰ کا ہے۔
[خزائن السنن، ص 343]
مولانا محمود حسن دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
افسوس ہے! کہ رفع یدین میں باوجود کثرتِ احادیثِ صریحہ کے امام صاحب کی آڑ پکڑیں اور کہیں کہ ہمارے امام کا مذہب نہیں اور اگر کسی غیر مقلد کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ لیں، تو اخراج من المسجد کا حکم دیں، تاکہ پاس والوں کی نماز خراب نہ ہو اور اس مسئلہ (جماعت ثانیہ) میں امام صاحب کی بات نہ مانیں اور ادھر ادھر کی باتیں بنائیں اور حدیث کو بہانہ لیں، حالاں کہ حدیث میں نہ صراحت ہے، نہ پوری تائید۔
[تقارير شيخ الهند، ص 58-59]
یاد رہے کہ مسجد میں جماعتِ ثانیہ کے جواز پر حدیث میں صراحت ہے۔
مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
ائمہ مجتہدین کے باہمی اختلافات کو حد سے بڑھا کر پیش کرنا بھی سخت غلطی ہے، بہت سے مسائل ایسے ہیں، جن میں ائمہ کے درمیان افضل اور غیر افضل کا اختلاف ہے، جائز و نا جائز کا یا حلال و حرام کا اختلاف نہیں، مثلاً نماز میں رکوع کے وقت ہاتھ اٹھائے جائیں یا نہیں؟ آمین آہستہ کہی جائے یا زور سے؟ ہاتھ سینے پر باندھے جائیں یا ناف پر؟ ان تمام مسائل میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف محض افضلیت میں ہے، ورنہ یہ تمام طریقے سب کے نزدیک جائز ہیں، لہٰذا ان اختلافات کو حلال و حرام کی حد تک پہنچا کر امت میں انتشار پیدا کرنا کسی طرح جائز نہیں۔
[تقلید کی شرعی حیثیت، ص 157-158]
نیز کہتے ہیں:
جہاں تک رفع یدین کے ثبوت کا تعلق ہے، حنفیہ اس کے منکر نہیں۔
[درس ترمذی، جلد دوئم، ص 27]
مزید کہتے ہیں:
شافعیہ اپنے مسلک کے اثبات پر اور بھی بہت سی روایات پیش کرتے ہیں، جن میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ، حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ اور حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں، لیکن ہمیں ان میں بحث کرنے اور ان کا جواب دینے کی حاجت نہیں، کیوں کہ ہم ثبوتِ رفع یدین کا انکار نہیں کرتے، البتہ ہم نے ترکِ رفع یدین کی روایات کو بہت سی وجوہ کی بنا پر ترجیح دی ہے۔
[درس ترمذی، جلد دوئم ص 42]
نیز لکھتے ہیں:
حنفیہ چوں کہ رفع یدین کو ثابت مانتے ہیں، اس لیے وہ رفع یدین کی روایات پر کوئی جرح نہیں کرتے، لہٰذا رفع یدین کے مسئلہ پر ہماری آئندہ گفتگو کا منشاء یہ ثابت کرنا نہیں کہ رفع یدین نا جائز ہے یا احادیث سے ثابت نہیں، بلکہ ہمارا منشاء محض یہ ثابت کرنا ہے کہ ترکِ رفع یدین بھی احادیث سے ثابت ہے اور یہی طریقہ راجح اور افضل ہے۔
[درس ترمذی، جلد دوئم، ص 27-28]
تبصرہ:
اصولِ محدثین کے مطابق ترکِ رفع کی کوئی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے۔ احادیث تو محدثین کی ہیں، ترکِ رفع کی احادیث کو محدثین نے ہی ضعیف قرار دیا ہے۔ بلکہ رفع الیدین کے ثبوت پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ ہم محدثین کے خوشہ چین ہیں اور ہمیں ان کی تحقیقات پر مکمل اعتماد ہے۔
لہٰذا جس مسئلہ میں وارد احادیث کو محدثین ضعیف کہہ دیں، وہ راجح اور افضل کیسے ہو سکتا ہے۔
نیز معلوم ہوا کہ جناب انور شاہ کاشمیری صاحب، جناب سرفراز صفدر صاحب اور جناب تقی صاحب کے نزدیک رفع الیدین منسوخ نہیں ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کہتے ہیں:
حضرت حاجی (امداد اللہ مہاجر مکی) صاحب رحمہ اللہ سے ایک غیر مقلد شخص بیعت ہوئے اور انہوں نے یہ شرط کی کہ میں مقلد نہ ہوں گا، بلکہ غیر مقلد ہی رہوں گا۔ حضرت (امداد اللہ) نے فرمایا کہ کیا مضائقہ ہے؟ بیعت ہونے کے بعد جو نماز کا وقت آیا، تو انہوں نے نہ آمین زور سے کہی اور نہ رفع یدین کیا، کسی نے حضرت حاجی صاحب سے ذکر کیا کہ حضرت! آپ کا تصرف ظاہر ہوا، فلاں شخص، جو غیر مقلد تھے، وہ مقلد ہو گئے، حضرت حاجی صاحب نے ان غیر مقلد صاحب کو بلا کر فرمایا کہ بھائی کیوں کیا؟ تمہاری تحقیق بدل گئی یا صرف میری وجہ سے ایسا کیا، اگر تم نے میری وجہ سے ایسا کیا ہو، تو میں ترکِ سنت کا وبال اپنے گردن پر لینا نہیں چاہتا، ہاں اگر تمہاری تحقیق ہی بدل گئی، تو مضائقہ نہیں۔
[قصص الاكابر لخص الاصاغر، ص 74، 98، الكلام الحسن، جلد دوئم ص 238، الافاضات اليومیہ، جلد 3، ص 234، خیر الافادات از خیر محمد دیوبندی، ص 118]
اس حکایت میں ہمارے ان احباب کے لئے عبرت ہے۔ جو بغیر تحقیق کے مسلک بدلنے کی دعوت دیتے ہیں۔ کہیں وہ خود کسی سنت کا وبال اپنی گردن پر تو نہیں لے رہے؟
مولانا محمد عاشق الہی میرٹھی لکھتے ہیں:
حضرت شاہ اسماعیل شہید بالکل حنفی تھے، البتہ رفع یدین کے ثبوت پر ایک رسالہ لکھ دینے سے بہت سے اہل حدیث اور اور بہت سے بدعتیوں کو یہ غلط گمان ہو گیا ہے، اصل بات یہ تھی کہ بعض حنفیوں نے اہل حدیث یعنی (بزعمِ خود) غیر مقلدینِ زمانہ کو رفع یدین پر کافر کہنا شروع کر دیا تھا اور یہ سخت ترین غلطی تھی، بڑی گمراہی تھی کہ جب حدیثوں میں حضور کا یہ فعل موجود ہے، مگر ہماری تحقیق میں منسوخ ہے، اس پر عمل کرنے والوں کو کافر کہنا کیسے حلال ہو سکتا ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تمام پیرووں کو کافر کہنا معمولی بات نہ تھی، ائمہ مجتہدین میں سب کا استدلال قرآن و حدیث سے اپنی تحقیق میں قوی طریقہ سے ہے، اختلافِ راجح و مرجوح کا ہے، اگر حنفی کبھی رفع یدین کر لے گا، تو کوئی اس کی نماز کو فاسد نہیں کہہ سکتا، اگر شافعی ترکِ رفع سے نماز ادا کر لے گا، تو کوئی شافعی اس کو فاسد نہیں کہہ سکتا۔ یہ اختلاف حق و باطل کا اختلاف نہیں ہے، ترجیح کا اختلاف ہے۔ اس لیے اصلاحِ کامل کے لیے شاہ صاحب نے علمی طور سے تورفع یدین پر رسالہ لکھا اور عملی طور سے گاہ گاہ رفع یدین بھی کیا۔
[حاشية تذکرۃ الخلیل، ص 132-133]
ہمارے حنفی احباب اس سلسلے میں مختلف قسم کے دعوت کرتے رہتے ہیں۔ کبھی تو افضل اور غیر افضل کی بات کرتے ہیں، تو کبھی منسوخیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حالاں کہ دونوں باتوں میں تناقض و تضاد موجود ہے۔
① اگر وہ یہ کہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سرے سے رفع الیدین کیا ہی نہیں، تو رفع الیدین کی متواتر احادیث کا کیا جواب ہے؟
② اگر وہ کہیں کہ رفع الیدین منسوخ ہے، تو دعوٰی منسوخیت میں تاریخ و وقت کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ کب تک کرتے رہے اور کب منسوخ ہوا؟ صحیح دلیل سے ائمہ محدثین کی تصریحات کے ساتھ اپنا دعوٰی ثابت کرنا چاہیے۔
③ ناسخ و منسوخ کا اختیار محدثین کو ہے، وہ اپنے دلائل کو بہتر جانتے ہیں۔ محدثین کی مخالفت میں کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی مسئلہ میں ناسخ و منسوخ کا دعویٰ کریں۔
احمد رضا خان بریلوی صاحب (1340ھ) لکھتے ہیں:
مانا کہ احادیثِ رفع ہی مرجح ہوں، تاہم آخر رفع یدین کسی کے نزدیک واجب نہیں، غایت درجہ اگر ٹھہرے گا، تو ایک امرِ مستحب ٹھہرے گا۔
[فتاویٰ رضویہ: 155/3]
دعوت فکر
دینی بھائیو اور بہنو! ہم نے جانبین کے دلائل پوری دیانت کے ساتھ ذکر کر دئیے ہیں، اب آپ کا دینی فریضہ ہے کہ دونوں طرف کے دلائل کو غیر جانبداری سے بنطر انصاف پڑھیں، پھر اللہ تعالیٰ سے ڈر کر فیصلہ کریں کہ حق کس کے ساتھ ہے؟ جو لوگ اللہ رب العالمین کے عذاب سے بے خوف و خطر ہو کر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں یہ کہتے ہیں کہ رفع الیدین کا حکم دکھاؤ، رفع الیدین کی احادیث کو اللہ و رسول نے ”صحیح“ کہا ہو، دس کا اثبات اور اٹھارہ کی نفی دکھاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کو سنت کہا ہو، وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔
ایسے لوگ علم اور عقل و نقل سے بالکل عاری ہیں۔ مومنین کے راستہ کو چھوڑ کر کسی اور راستے کے راہی ہیں۔