دن کے روزہ رمضان کا حکم

سوال : کیا ماہِ رمضان میں صرف 28 دن صوم رکھنا جائز ہے ؟
جواب : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ قمر ی مہینہ 29 دن سے کم کا نہیں ہوتا ہے۔ اور جب مسلمانوں کے 28 دن صوم رکھنے کے بعد شرعی دلیلوں سے شوال کے مہینہ کی آمد کا ثبوت ہو جائے تو اس سے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ رمضان کے پہلے دن کا صوم چھوٹ گیا ہے۔ لہٰذا اس کی قضا ضروری ہے۔ کیوں کہ 28 دن کے مہینہ کا امکا ن ہی نہیں ہے۔ قمری مہینہ صرف 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے۔
’’ شیخ ابن باز۔ رحمۃ اللہ علیہ “
سوال : جب ہم سعودی عرب میں صوم رکھنا شروع کریں، پھر اپنے ملک مشرقی ایشیا کا سفر کر کے وہاں چلے جائیں جہاں مہینہ ایک دن پیچھے ہوتا ہے تو کیا ہم وہاں 31 دن کا صوم رکھیں ؟
جواب : جب آپ سعودی عرب وغیرہ میں صوم رکھنا شروع کریں پھر بقیہ مہینہ کا صوم اپنے ملک یا اس جیسے دوسرے ملک میں رکھیں تو ان لوگوں کے حساب سے افطار کریں، اگرچہ یہ 30 دن سے زیادہ ہو جا ئے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
الصوم يوم تصومون و الإفطار يوم تفطرون [صحيح: صحيح سنن أبى داؤد، الصوم با ب إذا أخطا القوم الهلال 5 رقم 2038۔ 2324، صحيح سنن ترمذي، الصوم باب أن الفطر يوم تفطرون 11، رقم 561۔ 701۔ صحيح سنن ابن ماجه، الصيام 7 باب ما جا ء فى شهري العيد 9 رقم 1347۔ 1660، صحيح الجامع رقم 3869، الإرواء رقم 905، سلسلة الاحاديث الصحيحة رقم 224]
’’ صوم اس دن رکھنا ہے جس دن تم لوگ صوم رکھو اور عید الفطر اس دن منا نا ہے جس دن تم لوگ عید الفطر مناؤ “۔
لیکن اگر آپ کا 29 دن پورا نہ ہو تو اس کی تکمیل ضروری ہے اس لئے کہ عربی مہینہ 29 دن سے کم کا نہیں ہوتا ہے۔
’’ شیخ ابن باز۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ “

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: