مضمون کے اہم نکات
جشن معراج کی شرعی حیثیت:
اگرچہ 27 رجب کا شب معراج ہونا ثابت نہیں لیکن اگر مشہور روایت کے مطابق ماہ رجب اور اس کی بھی ستائیس تاریخ کو ہی شب معراج مان لیا جائے ، تو اب باری آجاتی ہے، ہمارے لوگوں کے اس رات میں چراغاں کا اہتمام کرنے ، جشن منانے ، خوشیاں منانے کے رنگارنگ انداز اختیار کرنے ، دن کو روزہ رکھنے اور رات کو نوافل پڑھنے کی شرعی حیثیت کے تعین کی۔
دن کو روزہ رکھنے اور اس رات کو قیام کرنے یا نوافل پڑھنے کے بارے میں تو ہم رجب کے روزوں اور ”صلوۃ الرغائب“ کے ضمن میں ذکر کردہ تفصیل پر ہی کفایت کرتے ہیں، کیونکہ صاحب ”البدایۃ والنہایہ“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے مطابق رجب کی پہلی جمعرات وجمعہ کی درمیانی رات کو شام کے وقت مغرب وعشاء کے مابین پڑھی جانے والى ”صلوۃ الرغائب“ دراصل اسی زعم کا نتیجہ ہے کہ شب معراج رجب کے پہلے جمعہ کی رات ہے اور اس رات کو ”لیلۃ الرغائب“ اور اس کے لیے ایجاد کردہ نماز کو ”صلوۃ الرغائب“ کا نام دیا جاتا ہے۔ البداية والنهاية 109/3/2
اب رہا شب معراج کو جشن منانے اور چراغاں کا اہتمام کرنے کا مسئلہ ، تو اس سلسلہ میں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفاء راشدین و عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، آئمہ اربعہ اور علمائے دین وسلف صالحین رحمہم اللہ عنہم کسی سے بھی ہمارے یہ مروجہ امور ثابت نہیں ہیں، جنہیں جشن معراج کے نام سے سرفراز کیا گیا ہے ، امام الانبیاء نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اس عظیم معجزہ کے بعد ایک طویل مدت تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین موجود رہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو خود یہ کام کیئے اور نہ ہی کسی کو ان کے کرنے کا حکم فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ ابرو پر جانیں نچھاور کرنے والے خلفاء وصحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین و آئمہ رحمہم اللہ عنہم ، کسی سے بھی ان امور کا پتہ نہیں چلتا۔
جشن معراج پر علامه ابن باز رحمہ اللہ کا تبصرہ :۔
ان جشنوں، جلسوں یا اجتماعات کی شرعی حیثیت کی تعیین کے بارے میں دور حاضر کے معروف عالم اور مفتی عالم علامہ عبد العزیز ابن باز رحمہ اللہ نے ایک تفصیلی فتوی صادر فرمایا تھا ، جس کا پورا متن یا ترجمہ تو نہیں ، البتہ اُس کا ایک پیراگراف آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ جس میں وہ فرماتے ہیں :
اسراء ومعراج کی رات کا محدثین میں کوئی تعین نہیں ہے۔ اور جو کچھ بھی اس کی تعیین کے متعلق مذکور ہے ، وہ سب من گھڑت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ ثابت نہیں۔ اور اگر بالفرض اُس کی تعیین ثابت بھی ہو جائے تو بھی اُس دن کو عبادت کے لیے خاص کرنا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں۔ اُس دن جلسہ و اجتماع اور احتفال یعنی جشن منانا ہرگز جائز نہیں۔ کیونکہ اُس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا جلسہ و اجتماع نہیں کیا ، اور نہ اس دن کو کسی عبادت کے لئے مخصوص کیا۔ اگر اس روز جلسے و اجتماع کرنا ثواب کا کام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے قولی یا فعلی طور پر اس کی ضرور وضاحت فرما دیتے۔ اور اگر اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کوئی عمل واقع ہوا ہوتا تو لوگ اُسے پہچانتے اور وہ مشہور و معروف ہوتا۔
اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دوسرے دینی امور و ہدایات کی طرح اسے بھی ہماری طرف منتقل کرتے۔ کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر اُس شئے کو نقل کیا ہے کہ جس کی اُمت کو ضرورت تھی ۔ انہوں نے دین کے معاملے میں کبھی سستی و غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ نیکی کے معاملہ میں وہ پیش پیش تھے۔ اگر اس رات کو اجتماع و احتفال اور جلسہ وجشن منعقد کرنا جائز و کار ثواب ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ کام سب سے پہلے خود کرتے۔
علاوہ ازیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے سب سے زیادہ ناصح اور خیر خواہ تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام رسالت نہایت دیانت و امانت سے پہنچایا۔ اور اس امانت کا حق ادا کرنے اور اس فریضہ سے سبکدوش ہونے کے لیئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اگر اس رات کی تعظیم کرنا ، اس میں اجتماع واحتفال اور جلسہ و جشن کوئی دینی کام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ہرگز سستی نہ کرتے ، اور نہ ہی اسے اپنی امت سے مخفی رکھتے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات کہی ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ اس رات کی تعظیم کرنا اور اس میں اجتماعات و احتفالات کوئی اسلامی فعل نہیں ہے۔ بحوالہ فتاوى مهمة لعامة الامة ص: 56 -57
آتش بازی و چراغاں اور جانی و مالی نقصانات :۔
شب معراج کو جو چراغاں کرنے یعنی بکثرت شمعیں جلانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پھر پندرہ شعبان کو بھی ”شب قدر“ یا ”شب براءت“ کہتے ہوئے چراغاں کیا جاتا ہے ، اور صرف چراغاں کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا، بلکہ بڑی زور دار آتش بازی بھی کی جاتی ہے، جبکہ پندرہ شعبان والی آتش بازی اور پٹاخے ہر سال لاکھوں ، کروڑوں کا سرمایہ بر باد کرنے کا سبب بن جاتے ہیں، اور اگر صرف اتنا ہی رہتا تو بھی شاید یہ مال تو آنی جانی چیز ہے کا نعرہ لگا کر بعض لوگ اس فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں اور صاف کہہ دیتے ہیں کہ بھئی پیسے پھر کمائے ہی کس لیئے جاتے ہیں ؟ اسی لیئے تو کمائی کی جاتی ہے کہ خوشی و غم میں کام آئیں، لہذا کیا ہوا، اگر خوشی کے اس موقع پر دو چار سو روپے کی آتش بازی ہمارے گھر والوں نے کرلی۔
لیکن معاملہ دولت کی بربادی سے بھی بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ اور اس آتش بازی و چراغاں کے دوران ہر سال ہی کئی گھروں کے چراغ بھی گل ہو جاتے ہیں کسی خانہ میں اہل خانہ کا صرف ایک ہی لخت جگر تھا۔ اب ایسے ہی مروجہ کھیل تماشوں کا موقع آئے تو ایسے والدین اپنے اکلوتے لاڈلے کے لیئے چاؤ پیار سے دوسرے لوگوں کی نسبت بڑھ چڑھ کر اور طرح طرح کی آتش بازی مہیا کر دیتے ہیں۔
اب اس بات سے تو شاید کوئی بھی نا واقف نہ ہو کہ آتش بازی سے جو ہر سال جانیں ضائع ہوتی رہتی ہیں، ان میں سے ایسے کتنے ہی معصوم ومحبوب اکلوتے لختِ جگر بھی ہوں گے جن کا جھلس کر والدین کے ہاتھوں سے نکل جانا انہیں عمر بھر کا داغ دے جا تا ہوگا، اور ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں کے چراغ گل کر جاتا ہوگا۔ اور پھر اگر کسی کا کوئی لخت جگر اکلوتا نہ بھی ہو ، تو بھی یہ کون سا ایسا سودا ہے کہ پیسے کے ساتھ خریدا جا سکتا ہے؟ اور اس موقع پر آتش بازی کی نذر ہو جانے والا اگر پورے خاندان کا کفیل اور عیالدار ہوا تو پھر اُس خاندان پر کیا کیا مصائب و مشکلات نہ آئیں گی۔ جن کی روزی روٹی کا ظاہری سہارا ہی چھن جائے؟
اس جانی اور مالی نقصان کے علاوہ دار وگروں یا آتش بازی کی اشیاء تیار کرنے والوں کے بارے میں بھی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ اُن کے گھر میں موجود آتش گیر مادے میں دھماکہ ہو گیا، جس سے سارا گھر ہی جل گیا ، اور گھر میں موجود عورتیں ، مرد ، بچے ، اور بچیاں بھی لقمہ اجل بن گئے۔ اور اتنے ہمسائیوں کو فلاں فلاں نقصان پہنچا اور آتش بازی کے یہ نقصانات ہر سال اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس کے ان جانی نقصانات سے قطع نظر اس کے تو محض مالی نقصانات بھی ایسے ہیں کہ شریعت کی رُو سے یہ فعل حرام قرار پاتا ہے۔ اور ایسے مواقع پر دو چار سو کی آتش بازی کرنے والوں کو پیسے کے آنی جانی چیز ہونے کا اتنا ہی اعتماد و یقین تو اس وقت دیکھنے والا ہوتا ہے، جب کوئی لاوارث ، یتیم ، بے بس، مسکین اور بھوکا ننگا محتاج ، اللہ کے نام پر سوال کر بیٹھے تو دولت کو آنی جانی کہہ کر فضول خرچیاں کرنے والے انہیں دو چار یا دس بیس روپے دینے کی بجائے دھکے اور گالیاں دیتے پائے جاتے ہیں۔ اور یوں لگتا ہے کہ اب ان میں احساس رحم و کرم مر ہی چکا ہے۔
چراغاں کرنے کا آغاز و اسباب مسلمانوں کے خلاف ایک گہری سازش :۔
ہر سال اتنی بڑی دولت اور انسانی جانوں کو نذر آتش کرنے والے فعل کے جواز کا مطالبہ تو شاید کوئی بھی عقلمند نہ کرے۔ لہذا ان صریح حماقتوں کے ذکر کو چھوڑیں ، البتہ چراغاں کرنے اور شمعیں جلانے کی تاریخ و اسباب قابل توجہ ہیں۔
آتش بازی اور بکثرت موم بتیاں جلا کر چراغاں کرنا تاریخی اعتبار سے ایک ہی گروہ کی سازش ہے۔ اور سازش بھی ایسی گہری اور خفیہ کہ مسلمان سمجھنے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہ کریں، لہذا اسے عبادت و ثواب کے نام سے نہ صرف یہ کہ اسے گھروں کی حد تک ہی رہنے دیا، بلکہ مساجد بھی اس سے نہ بچ پائیں۔ اور شب معراج ہو یا شب براءت ہر دو موقعوں پر ہی چراغاں کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اور شاید کبھی یہ صرف شب براءت کے ساتھ ہی خاص تھی۔ اور شب معراج اس سے محفوظ تھی لیکن دور حاضر میں ایسا نہیں رہا۔
تاریخ چراغاں اور علامہ ابو شامه :۔
معروف و معتبر عالم علامہ ابو شامہ رحمہ اللہ نے اس چراغاں کی تاریخ و آغاز اور اس کی تہہ میں پائے جانے والے خطرناک محرکات کی تفصیل اپنی کتاب ”الباعث على انكار البدع و الحوادث“ میں ذکر فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
اہل بدعت نے جو بدعات ایجاد کی ہیں اور دین خالص میں جو اضافے کیئے ہیں اور جن امور میں وہ آتش پرست مجوسیوں کی روش پر چل نکلے ہیں، اور اپنے دین کو لہو ولعب بنا دیا ہے، ان امور میں سے ایک نصف شعبان کی رات شب براءت میں چراغاں کرنا بھی ہے ، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات میں ایسا کوئی عمل ثابت نہیں ، نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات میں کسی خاص نماز کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی چراغاں کے بارے میں کوئی حدیث ہے۔ اس فعل چراغاں کو شریعت اسلامیہ سے کھلواڑ کرنے اور دین مجوس میں دلی رغبت رکھنے والوں نے ایجاد کیا ہے، کیونکہ مجوسی لوگ آگ کو اپنا معبود مانتے ہیں ، اور اس کی پوجا و پرستش کرتے ہیں۔
اس چراغاں کا آغاز خاندانِ برا مکہ کے عہد میں ہوا ، انہوں نے چالاکی کے ساتھ اسے دینِ اسلام میں داخل کر دیا ، اور شعبان کی چراغاں کو ایسی ہوا دی کہ اسے سنن ایمان کے درجے پر لے آئے ، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ اُن کا مقصود صرف لوگوں سے آگ کی پرستش کرواتا تھا جسے وہ خود پوجتے تھے ، یوں وہ اپنے دین کی اقامت چاہتے تھے۔ جبکہ مجوسیت در حقیقت تمام ادیانِ عالم سے بڑھ کر خائب و خاسر دین ہے، اور ان کا چراغاں کی ترغیب دلانا اس لیے تھا کہ لوگ اپنے سامنے بکثرت شمعیں جلا کر رکھ لیں گے اور نماز پڑھیں گے تو ان کے رکوع و سجود آگ کی طرف ہوں گے۔ دیکھیے : تحفة الأحودي 443/3
امام ابن العربی :۔
معروف محدث وفقیہ امام ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مساجد میں بخور کا رواج سب سے پہلے بنو برمک میں سے یحییٰ بن خالد برمکی اور محمد بن خالد برمکی نے اختیار کیا کہ جنہیں والئ سلطنت نے دینی امور کی مسئولیت سونپی تھی ، ان میں سے محمد بن خالد تو حاجب سلطان (شاہی دربار کا دربان) تھا، اور یحییٰ بن خالد وزیر تھا ، اور اس کے بعد اس کا بیٹا جعفر اس کا جانشین بنا، یہ سب باطنی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ لہذا انہوں نے مجوسیت یا آتش پرستی کا احیاء کیا اور مساجد میں بخور کو رواج دیا ، حالانکہ پہلے صرف خلوق سے مساجد کو معطر کیا جاتا تھا، اور بخور بھی مساجد یا کمروں کو معطر کرنے کا ایک ذریعہ ہے مگر اس میں آگ کے کوئلوں سے بھری چھوٹی چھوٹی مخصوص بناوٹ کی انگیٹھیوں میں بخور کی مخصوص لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالے جاتے ہیں ، جن کا دھواں خوشبو دار ہوتا ہے ، اور مساجد معطر ہو جاتی ہیں، اور عموماً دیکھا گیا ہے کہ دہکتے کوئلوں سمیت دھواں چھوڑنے کی حالت میں ہی انھیں مسجد میں صف اول کے آگے کہیں امام کی دائیں یا بائیں جانب رکھ دیا جاتا ہے امام ابن العربی رحمہ اللہ کے بقول آتش پرستی کے احیاء کے لیے مساجد کو معطر کرنے کا یہ طریقہ برامکہ کا ایجاد کردہ ہے، ورنہ پہلے مساجد کو اس بخور کی بجائے خلوق سے معطر کیا جاتا تھا۔
دیگر مورخین :۔
بعض مورخین نے لکھا ہے : ان برامکہ نے ہارون الرشید کے سامنے کعبہ شریف میں بخور کی ایسی انگیٹھیاں رکھنے کے فعل کو خوب بنا سجا کر پیش کیا لیکن ہارون الرشید ان کے بہکاوے میں نہ آیا ، بلکہ اُس نے اُن کی سازش کا راز فاش کر دیا، کیونکہ وہ ان کی دسیسہ کاریوں سے واقف تھا، اور جانتا تھا کہ یہ لوگ کعبہ شریف میں یہ انگیٹھیاں اس لیے رکھوانا چاہتے ہیں تاکہ مسلمان مساجد میں آگ رکھنے پر مانوس ہو جائیں، جبکہ آگ مجوسیوں کی معبود ہے، اور وہ اس کی پرستش کرتے ہیں۔ اور یہ بات ظاہر وباہر ہے کہ برامکہ، آتش پرست مجوسیوں کی اُن خفیہ تنظیموں کے سربراہوں میں سے تھے جو کہ اسلام کی عمارت کو زمین بوس کرنے ، عربوں پر مجوسیوں کا تسلط جمانے اور مجوسی حکومت کا دور لانے میں کوشاں تھیں۔
الشيخ على المحفوظ :۔
الغرض کبار علماء مصر میں سے شیخ علی محفوظ رحمہ اللہ کے بقول : مساجد میں چراغاں کرنا سلف صالحین کے عمل میں شامل نہ تھا اور نہ اُن کے یہاں مساجد کی یوں تزئین کی جاتی تھی، بعد میں چراغاں کے ذریعے مساجد کو مزین کرنے کا طریقہ ایجاد کیا گیا ، حتی کہ یہ ساتھ رمضان المبارک کی تعظیم کا ایک لازمی جزء بن گیا ، اور علماء کرام کے ان امور پر نکیر نہ کرنے کے باعث عوام الناس میں یہ فعل جڑ پکڑتے پکڑتے عقیدہ ہی بن گیا ہے۔ الابداع ص : 289-290
یہ ہیں آتش بازی اور چراغاں کرنے اور مساجد کو بخور سے معطر کرنے کی تاریخ اور اسباب و محرکات ، اور آفرین ہے مسلمانوں کی سادہ لوحی پر کہ مجوسیوں کی سازش کو اپنے لیے عبادت بنائے چلے آرہے ہیں۔ اور شب معراج ، شب براءت اور ماہ رمضان میں ان امور کو بجالانا اپنے لیے عظیم ثواب وسعادت سمجھتے ہیں ، اور افسوس ہے اُن لوگوں کے تغافل مجرمانہ پر جو جانتے بوجھتے بھی ان افعال و دسائس کے خلاف زبان تک کھولنے پر آمادہ نہیں، اللہ انہیں سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر : 159 میں مذکور وعید شدید سے بچنے کی توفیق سے نوازے۔ آمين
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ (سورۃ البقرۃ : 159)
جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر چکے ہیں ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔