جب کلی کرتے ہوئے پانی منہ میں چلا جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال : جب کلی کرتے یا ناک میں پانی ڈالتے وقت بلا قصد و ارادہ کے پانی حلق میں داخل ہو جائے تو کیا آدمی کا صوم فاسد ہو جائے گا ؟
جواب : صائم جب کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو اس کا صوم نہیں ٹوٹے گا۔ اس لئے کہ یہ کام بغیر قصد و ارادہ کے ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَلَـكِنْ مَاتَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ [33-الأحزاب : 5]
’’ البتہ گناہ وہ ہے جس کا ارادہ تم دل سے کرو“۔
’’ شیخ ابن عثیمین۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ “
لیکن صوم کی حالت میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ پانی کے حلق میں پہونچنے کا خطرہ نہ رہے۔ جیسا کہ لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
أسبغ الوضوء وخلل بين الأصابع، وبالغ فى الاستنشاق إلا أن تكون صائما [صحيح : صحيح سنن أبى داؤد، الطهارة1 باب فى الاستنثار55 رقم 142، صحيح سنن ترمذي : الصوم 6، باب ماجاء فى كراهية مبالغة الاستنشاق للصائم 69، رقم 788، صحيح سنن نسائي : الطهارة 1 باب المبالغة فى الاستنشاق 71 رقم 87، صحيح سنن ابن ماجه : الطهارة1 باب المبالغة فى الاستنشاق و الاستنشار 44 رقم 328۔ 407]
وضو کو مکمل کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی ڈالنے میں صوم کی حالت کے سوا مبالغہ کرو۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: