توحید و عقائد سے متعلق 15 بڑے شبہات کا ازالہ

تحریر: محمد منیر قمر حفظ اللہ

پہلى فصل :

رسولوں کی پہلی دعوت توحید الوہیت و عبادت کی تعلیم :

قارئین کرام !
اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہر قسم کی عبادت کے لئے منفرد اور یکہ و تنہا تسلیم کرنے کا نام ”توحید“ ہے اور یہی ان تمام رسولوں کا دین جنہیں اللہ نے اس دعوت کے لئے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ۔ ان میں سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام ہیں ۔ جنہیں اللہ نے اس وقت مبعوث فرمایا جب ان کی قوم ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر جیسے صالحین کے احترام وعقیدت میں غلو کا شکار ہو گئی ۔ (تاریخ شاہد ہے کہ ان لوگوں نے صالحین کی قبروں پر گوناں گوں شرک ، قبروں کا طواف ، اہل قبور سے مرادیں مانگنا اور شیطان کی چالوں پر عمل کرنا شروع کر دیا تھا ۔)
اور آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے ان صالحین کے بتوں کو توڑا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے ایسے لوگوں کا رسول بنایا جو عبادت کرتے ، حج کرتے ، صدقہ و خیرات کرتے اور اللہ کا بہت ذکر کیا کرتے تھے ۔ لیکن مخلوقات الہیہ میں سے بعض مثلاً فرشتوں عیسی علیہ السلام ، مریم علیہا السلام اور دیگر نیک لوگوں کو وہ اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ مقرر کر لیتے اور کہتے تھے کہ ہم ان کے ذریعہ تقرب الہی چاہتے ہیں ۔ اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کے خواہاں ہیں ۔
تب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے لئے ان کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کی تجدید کریں اور ان کو خبردار کریں کہ یہ تقرب اور عقیدت تو صرف اور صرف اللہ کا حق ہے ۔ یہ کسی مقرب فرشتے کے لئے روا ہے نہ کسی برگزیدہ نبی کے لئے زیبا ہے ۔ چہ جائیکہ کسی دوسرے کے لئے ہو ۔ ورنہ پہلے مشرکین بھی مانتے تھے کہ اللہ جل شانہ بلا شرکت غیرے خالق کائنات ہے ۔ اس کے سوا کوئی رازق نہیں ، اس کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور نہ ہی کوئی مارنے والا ہے ۔ اس کے سوا کوئی کارساز نہیں اور یہ ارض و سماء اور جو کچھ ان میں ہے ۔ سب اس کے غلام اور اس کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔
——————

دوسری فصل :

مشرکین کا اقرار توحید بوبیت :

اگر آپ کو اس کا ثبوت درکار ہو کہ جن مشرکین کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال و جہاد کیا وہ توحید ربوبیت کے قائل تھے ، تو اللہ کے اس ارشاد مبارک پر غور فرمائیں:
﴿قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴾ [سورة يونس: 31]
ان سے پوچھیں کہ ارض و سماء سے پیدا کر کے رزق کون دیتا ہے؟ شنوائی اور بینائی کس کی ملکیت ہیں؟ عدم ہستی اور ہستی سے عدم میں کون لاتا ہے؟ (یعنی موت وحیات کون دیتا ہے؟ ) اور کارساز کون ہے؟ تو وہ سب یہی کہیں گے کہ اللہ ہے ۔ ان سے کہیں کیا تم اس سے نہیں ڈرتے؟
اور فرمان الہی ہے:
﴿قُل لِّمَنِ الْأَرْضُ وَمَن فِيهَا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ‎٨٤‏ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ‎٨٥‏ قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ‎٨٦‏ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ‎٨٧‏ قُلْ مَن بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ‎٨٨‏ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ فَأَنَّىٰ تُسْحَرُونَ﴾ [ سورة المومنون: 89 ، 84 ]
”ان سے پوچھیں کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کے ہیں؟ اگر آپ جانتے ہیں (تو بتاؤ ) ۔ وہ کہیں گے اللہ کے ، انہیں کہیں تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ ان سے پوچھیں کہ ان ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ وہ کہیں گے اللہ ہے ، تو ان سے کہیں کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ ان سے پوچھیں کہ ہر چیز کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتا ہے اس کے مقابل کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ؟ وہ کہیں گے کہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے ۔ انہیں کہئے کہ پھر تم کدھر سے سحر زدہ کئے جاتے“ ہو ۔“
اور ان کے علاوہ ایسی ہی دیگر آیات ان کو بطور ثبوت سنائیں ۔
جب یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ مشرکین تو حید ربوبیت کا اقرار کرتے تھے مگر ان کا اقرار ربوبیت انہیں اس توحید میں داخل نہ کر سکا جس کی دعوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ۔ اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ توحید جس کا انہوں نے انکار کیا ”توحید عبادت“ تھی جسے ہمارے زمانہ کے مشرکین عقیدت کا نام دیتے ہیں ۔ گویا وہ بزرگ و برتر اللہ کو تو شب و روز پکارتے تھے ۔ مگر ان میں سے بعض لوگ فرشتوں کو ان کی صلاحیت و صالحیت اور مقربین الہی ہونے کی وجہ سے پکارتے ، تاکہ وہ ان کی شفاعت و سفارش کریں ۔ یا کسی نیک آدمی جیسے لات یا کسی نبی مثلاً عیسی علیہ السلام کو پکارتے تھے ۔ اور آپ یہ بات بھی سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اس شرک کی وجہ سے جہاد کیا اور انہیں اللہ کی مخلصانہ عبادت کی دعوت دی ۔
جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾ [ سورة الجن: 18 ]
”اور بے شک مساجد اللہ کے لئے ہیں ، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو مت پکارو ۔“
اور فرمان الہی ہے ۔
﴿لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيْءٍ﴾ [ سورة الرعد: 14 ]
”حقیقی دعوت و پکار اسی کے لئے ہے ، اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ انہیں کو جواب نہیں دیتے ۔“
اس طرح یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جہاد کیا تاکہ دعا وپکار ، نذر ونیاز ، ذبح و قربانی ، استغاثہ و استعانت اور عبادت کی دیگر تمام قسمیں محض اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہو جائیں ۔
اور جب آپ کو اس بات کا علم بھی ہو گیا کہ ان کے صرف توحید ربوبیت کے اقرار نے انہیں اسلام میں داخل نہ کیا اور بلاشبہ ملائکہ ، انبیاء و اولیاء کی شفاعت اور تقرب الہی کی خاطر ان کی طرف قصد کرنا ہی وہ گناہ تھا کہ جس نے ان کے جان ومال (بطور غنیمت مسلمانوں کے لئے) حلال کر دئیے ۔ تب آپ کو اس توحید کا علم ہو گیا جس کی طرف رسولوں علیہم السلام نے دعوت دی اور جس کے ماننے سے مشرکین نے انکار کر دیا ۔
——————

تیسری فصل :

﴿ لا اله الا الله ﴾ کا مطلب :

یہ توحید عبادت (یا تو حید الوہیت ) ہی ہے جو ﴿لا اله الا الله ﴾ کا معنی مقصود اور مطلوب ہے ۔ مشرکین مکہ کی نظر میں بلاتردد ”الہ“ وہی تھا جس کی طرف ان امور (دعاء ، نذر ، ذبح ، استغاثہ ) کے لئے قصد کیا جائے چاہے وہ فرشتہ ہو ، نبی ہو یا ولی درخت ہو ، قبر ہو یاجن بھوت ۔ مشرک یہ تو نہ مانتے تھے کہ ”الہ“ وہ ہے جو پیدا کرتا ہے ، رزق دیتا ہے اور کارساز ہے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ صفات تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں ۔ جیسا کہ سابقہ سطور میں ان کا اقرار پیش کیا گیا ہے ۔ دراصل ”الہ” سے ان کی یہی مراد ہوتی تھی جو کہ ہمارے زمانے کے مشرکین کی ”پیر و مرشد“ سے ہوتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کلمہ توحید:
﴿لا إله إلا الله ﴾
”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔“
کی طرف دعوت دینے کے لئے آئے اور اس کلمہ سے اس کا اصل معنی مقصود و مطلو ب تھا ، نہ کہ صرف اس کی عبارت والفاظ ۔ اور وہ جاہل کفار جانتے تھے کہ اس کلمہ سے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا مقصد صرف ایک اللہ سے تعلق پیدا کرنا اللہ کے مقابل تمام معبودان باطلہ کا انکار کرنا اور ان کی عبادت سے بری الذمہ ہونا ہے ۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں فرمایا کہ کہو :
﴿ لا إله إلا الله ﴾
”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔“
تو انہوں نے جواب دیا:
﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ [سورة ص : 5 ]
”کیا اس نے تمام بتوں کی بجائے ایک معبود مقرر کر دیا ہے؟ یہ تو تعجب انگیز بات ہے ۔“
جب آپ کو معلوم ہو گیا کہ وہ جاہل کفار یہ سب باتیں صحیح طور پر جانتے تھے ۔ تو کس قدر تعجب ہے اس شخص پر جو اسلام کا دعوی کرتا ہے ، مگر اس کلمہ کا مفہوم و مطلب نہیں جانتا جسے گنوار کافر بھی جانتے تھے ، یہ کلمہ کے مطلوب و مقصود اور معانی کے ساتھ دلی اعتقاد و عمل کی بجائے صرف اس کے الفاظ کی رٹ لگاتے جانے کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے ۔ جبکہ ان کفار میں سے ہر صاحب عقل اس کا مفہوم سمجھتا تھا کہ اللہ کے سوا نہ کوئی پیدا کرتا ہے ، نہ رزق دیتا ہے اور نہ ہی کوئی کارساز ہے ۔ ایسے آدمی میں خیر و بھلائی کا شائبہ تک نہیں جس سے نا خواندہ کفار بھی ﴿لا اله ، الا الله ﴾ کا معنی بہتر طور پر سمجھتے تھے ۔
——————

چوتھی فصل:

نعمت توحید پر خوشی اور اس کے سلب ہو جانے کا خوف

جس وقت آپ کو میری ذکر کردہ بات کا قلبی عرفان حاصل ہو گیا ، اور اس شرک باللہ کا پتہ چل گیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ [النساء: 48 ]
”بے شک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور ان کے سوا دوسرے گناہ جس کو چاہے بخش دے ۔“
اور آپ اللہ کے اس دین کو پہچان گئے جو اول تا آخر تمام رسولوں کا دین رہا اور جس کے ماسوا کو اللہ قبول نہیں کرے گا ۔ اور جب اس دین سے جہالت کے سبب اکثر لوگوں کی ابتر حالت آپ نے دیکھ لی تو اس سے آپ کو دو فائدے حاصل ہوں گے ۔
پہلا فائدہ: اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت (عقیدہ توحید کے اپنانے) پر خوشی حاصل ہوگی ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ﴾ [ سورة يونس: 58 ]
”کہہ دیجئے کہ اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہو جائیں ۔ یہ ان کی جمع پونجی سے بدر جہا بہتر ہے ۔“

دوسرا فائدہ : اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ کفر و شرک کے ارتکا ب کا بہت زیادہ خوف دل میں بیٹھ جائے گا ۔ بلاشبہ جب آپ کو علم ہو گیا کہ انسان اپنی زبان سے نکلی ہوئی کسی بات سے کا فر ہو جاتا ہے ، اگر چہ وہ نا دانستہ طور پر وہ بات کرتا ہے ۔ لیکن اس کا عذر نا دانستگی رائیگاں جائے گا ۔ ایسی بات کرتے ہوئے وہ اس خام خیالی میں مبتلا ہوتا ہے کہ یہ اسے اللہ کا مقرب بنادے گا ۔ جیسا کہ کفار کرتے تھے ۔ بالخصوص اگر اللہ آپ کو وہ واقعہ ذہن نشین کرادے جو قوم موسیٰ علیہ السلام کے علم و صلاحیت اور نیکی کے باوجود ان کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے:
﴿اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ﴾ [سورة الاعراف: 138 ]
”ہمارے لئے بھی ان مشرکین کے بتوں کی طرح ایک مجسم معبود مقرر کر دیں ۔“
ان کا یہ واقعہ آپ میں ایسے انجام تک پہنچانے والے کفر و شرک کے ارتکاب کے خوف اور اس انجام سے بچانے والی توحید کی حفاظت کے جذبے کو بہت زیادہ کر دے گا ۔
——————

پانچویں فصل:

حکمت الہی :

یہاں اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ بلاشبہ یہ بھی حکمت الہی ہے کہ اس نے اس توحید الوہیت کا داعی کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس کے بہت دشمن نہ بنائے ہوں ، جیسا کہ فرمان الہی ہے:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ﴾ [سورة الانعام: 112 ]
”اور اسی طرح ہم نے نبی کے لئے جنوں اور انسانوں سے شیطان صفت دشمن بنائے ، جو ایک دوسرے کے دل میں دھوکہ وفریب کاری کے لئے ملمع کی ہوئی باتیں ڈالتے رہتے تھے ۔“
اور توحید کے دشمنوں کے پاس بہت زیادہ علوم ، کتابیں اور دلائل و براہین بھی ہو سکتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
﴿فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ﴾ [سورة الغافر: 83 ]
”غرض جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے اس علم پر بڑے نازاں ہوئے جو ان کو حاصل تھا ۔“
——————

چھٹى فصل :

فریضہ تعلیم کتاب و سنت :

جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا بلکہ یقین آگیا کہ اللہ کے دین (صراط مستقیم ) پر چلنے کے لئے اس راہ پر بیٹھے ہوئے فصیح اللسان اور اہل علم و دلائل ، دشمنان دین سے سامنا حتمی و ناگزیر ہے ، تو آپ کا فرض ہے کہ تعلیمات دینیہ سے مسلح ہو جائیں تاکہ ان شیاطین کا دندان شکن مقابلہ کر سکیں جن کے قائد اور سرغنے ابلیس لعین نے رب ذوالجلال سے کہا تھا:
﴿أَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ‎١٦‏ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ﴾ [ سورة الاعراف: 17 ، 16]

”میں (انہیں گمراہ کرنے کے لئے ) تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا ، پھر ان کے پاس ان کے آگے سے ، پیچھے سے ، دائیں طرف سے اور بائیں جانب سے آؤں گا ۔ اور تو ان میں سے اکثریت کو شکر کرنے والا نہیں پائے گا ۔“
لیکن جب آپ نے اللہ کی طرف رجوع کر لیا ، اس کے دلائل و براہین کی طرف متوجہ ہو گئے تو پھر کوئی خوف و خطرہ اور فکر وغم نہ کریں ۔ کیونکہ قرآن وحدیث کے سامنے حسب ارشاد الہی:
﴿إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا﴾ [ سورة النساء: 76 ]
”شیطان کی چالی بڑی کمزور بے بنیاد ہوتی ہیں ۔“
اہل توحید میں سے صرف ایک آدمی بھی ان مشرکین کے ہزاروں اہل علم پر غالب آجائے تو ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
﴿وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾ [ سورة الصفت: 173 ]
”یقیناًً ہمارے (مخلص بندوں کے) لشکر ہی ان پر غالب ہیں ۔“
بلاشبہ اللہ کے بندے جس طرح دلیل و زبان سے ان پر فائق ہوتے ہیں اسی طرح ہی شمشیر وسنان سے بھی غالب رہتے ہیں ۔ اور خطرہ صرف اس موحد کے لئے ہے جو راہ توحید پر تو چلے مگر علم کے اسلحہ سے نہتہ اور تہی دامن ہو ۔ ہم پر تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرما کر بہت بڑا احسان کیا ہے جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ﴾ [سورة النحل: 89 ]
”اس میں ہر بات کی وضاحت ہے ۔ اور مسلمانوں کے لئے ذریعہ ہدایت اور باعث رحمت و بشارت ہے ۔“
اہل باطل کوئی بھی دلیل و حجت پیش کریں ۔ قرآن پاک میں اس کے توڑ اور بطلان کا سامان موجود ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے:
﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [سورة الفرقان: 33 ]
”وہ کوئی بات بھی لائیں ہم آپ کو حق بات پہنچا دیتے ہیں اور بہت اچھا کھول کر بیان کر دیتے ہیں ۔“
ساتویں فصل:

تردید باطل :

اب ہم آپ کے سامنے کتاب الہی کے وہ مقامات ذکر کئے دیتے ہیں ۔ جو موجودہ مشرکین کی ان باتوں کا جواب ہیں جو انہوں نے اپنے لئے دلیل و حجت قرار دے رکھی ہیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ اہل باطل کا جواب دو طرح سے ہے: ◈ مجمل ◈ مفصل
مجمل جواب:
کسی بھی صاحب عقل و دانش شخص کے لئے بہت بلند پایہ اور انتہائی مفید بات اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے:
﴿هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ﴾ [ سورة آل عمران: 7 ]
”وہی ہے جس نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر کتاب نازل فرمائی ۔ اس کی بعض آیات ظاہر المعنی ہیں جو کتاب کی جڑ اور اصل ہیں ۔ اور بعض آیات متشابہ اور ذو المعنی ہیں ۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں میل اور کجی ہے وہ فتنہ پر دازی اور علمی تاویلات کے لئے ان متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں ۔ حالانکہ ان کی تاویل (مراد اصلی ) اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحیح حدیث میں فرماتے ہیں:
إذا رأيتم الذين يتبعون ما تشابه منه فأولئك الذين سمى الله فاحذروهم [بخاري ، مسلم ، ابوداؤد ]
”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کی پیروی کرتے ہوں تو ان سے بچو کیونکہ انہی لوگوں کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے ۔“
اس کی مثال اس طرح ہے کہ جب کوئی مشرک آپ سے کہے کہ اللہ نے فرمایا:
﴿ألا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾
سن لو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ، انہیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔
﴿ إن الشفاعة حق وإن الانبياء لهم جاء عند الله ﴾
”بلاشبہ شفاعت حق ہے اور بے شک اللہ کے ہاں انبیاء کی خاص قدر و منزلت ہے ۔“
یا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث اپنے باطل نظریات کے جواز کے لئے پیش کرے اور آپ اس کی ذکر کردہ بات کا معنی و مطلب نہیں سمجھتے ، تو اس طرح جواب دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن پاک میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو کج فہم و کج رو ہیں اور محکم آیات کو چھوڑ کر متشابہات کی پیروی کرتے ہیں ۔ اور میں نے اللہ کا جو فرمان ذکر کیا ہے اسے وہ بھی بتائیں کہ مشرکین مکہ توحید ربوبیت کے قائل تھے مگر ان کا کفر ملائکہ وانبیاء اور اولیاء سے غلط و بے جا تعلق کی وجہ سے تھا ۔ اور یہ بھی بتائیں کہ وہ کہتے تھے:
هؤلاء شفعاء ما عند الله
”یہ تو اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ “
یہ بات قطعی اور واضح ہے جس کا معنی بدلنے کی کسی میں جرات نہیں ۔
اور اس مشرک سے کہیں کہ تو نے قرآن پاک اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ ذکر کیا ہے ، میں تو اس کا مطلب نہیں سمجھا مگر یہ قطعی بات ہے کہ اللہ کے کلام میں تضاد یا تناقض نہیں ہے ۔ اور نہ ہی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کلام اللہ کی مخالف ہوتی ہے ۔ یہ بڑا عمدہ صحیح اور مسکت جواب ہے ، آپ اسے معمولی نہ سمجھیں ۔ لیکن اسے سمجھ وہی سکتا ہے جسے توفیق الہی اور تائید باری تعالیٰ حاصل ہو ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴾ [حم السجدة: 35]
”نہیں سکھائی جاتی یہ بات مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور نہیں سیکھ سکتا اسے مگر جو بڑے نصیب والا ہے ۔“

مفصل جواب: اللہ کے دشمنوں کو دین انبیاء ورسل علیہم السلام پر بہت سے اعتراضات اور شکوک و شبہات ہیں جن کی بدولت وہ لوگوں کو اس سے ورغلاتے اور روکتے ہیں ۔

شبہ نمبر: 1

ان کا کہنا ہے:
”ہم اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے بلکہ گواہی دیتے ہیں کہ اس اللہ وحدہ لاشریک لہ کے علاوہ نہ کوئی پیدا کرتا ہے ، نہ رزق دیتا ہے ، نہ کوئی نفع دے سکتا ہے ، اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ حتی کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی ذات کو نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے ، چہ جائیکہ پیر عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ یا کوئی دوسرا ہو ، لیکن میں گنہگار ہوں ۔ جبکہ اولیاء وصالحین کواللہ کے ہاں بڑا مقام حاصل ہے ۔ لہٰذا میں ان سے ذریعہ (واسطہ) سے اللہ سے مانگتا ہوں ۔“
جواب :
آپ اسے مذکورۃ الصدر جواب دیں کہ جن مشرکین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا ، وہ بھی اس بات کے اقراری تھے جس کا تم نے ذکر کیا ہے ۔ وہ بھی مانتے تھے کہ ان کے یہ بت کوئی کام نہیں سنوارتے ، انہیں تو ان کی جاہ و حشمت والی سفارش چاہئے تھی ۔ اور اس کے متعلق کتاب اللہ کی آیات پڑھ کر مسئلہ کی وضاحت کر دیں ۔

شبہ نمبر 2:

”اگر وہ کہے کہ یہ آیات تو ان لوگوں کے بارے میں اتری ہیں ، جو بتوں کو پوجتے تھے ۔ اولیاء اللہ اور بزرگوں کو آپ بت کس طرح بنا رہے ہیں یا انبیاء کو صنم کیسے کہہ سکتے ہیں؟“
جواب :
اسے سابقہ جواب دیں اور جب وہ اقرار کرنے کہ کفار بھی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے قائل تھے اور جن بتوں کی طرف متوجہ رہتے تھے ، ان کی صرف سفارش چاہتے تھے ۔ اگر یہ اپنے اور ان کفار کے فعل میں فرق پوچھنا چاہے تو اسے بتائیں کہ بعض کافر تو بتوں کو پکارتے تھے ۔ اور ان میں سے بعض تو ایسے بھی تھے جو اولیاء کرام کو پکارتے تھے جن کے متعلق فرمان الہی ہے:
﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ﴾ [ بني اسرائيل: 57 ]
”یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں اور اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں ، ان میں سے بہت نزدیک کون ہے؟ “
وہ حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی ماں کو پکارتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ‎٧٥‏ قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [المائدة : 76 75 ]
”نہیں مسیح ابن مریم مگر پیغمبر ان سے پہلے بہت سے پیغمبر گزرے ہیں ان کی ماں صدیقہ (ولیہ) تھیں ۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھ ہم ان لوگوں کے لئے نشانیاں کیسے بیان کرتے ہیں ۔ پھر دیکھ کہ یہ کہاں سے پلٹائے جاتے ہیں ۔ کہہ دیجئے کہ کیا تم سوائے اللہ کے ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں اور اللہ ہی سننے والا جاننے والا ہے ۔ “
اور اسے اللہ کا یہ ارشاد بھی سنائیں:
﴿وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ ‎٤٠‏ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ ﴾
[ سبا : 40 41 ]
”اور جس دن (اللہ) ان سب کو اکٹھا کرے گا ، پھر فرشتوں کو کہے گا کہ یہ تمہاری عبادت کرتے تھے ۔ وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا کارساز ہے ۔ ان کی بجائے بلکہ یہ جنوں کی عبادت کرتے تھے ۔ اور ان کی اکثریت جنوں پر ایمان رکھتی تھی ۔“
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾ [المائدة : 116]
”اور جب اللہ نے کہا کہ اے عیسی ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ اپنا معبوم بنا؟ عیسی کہیں گے اے پاک پروردگار ! مجھے وہ ہات کہنے کی کیا پڑی ہے جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں ۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوئی ہے تو تو جانتا ہے ۔ کیونکہ تو میرے دل کے رازوں کا واقف بھی ہے اور میں تیرے دل کی کسی بات کو نہیں جانتا ۔ بے شک تو ہی غیب کا علم رکھنے والا ہے ۔“
ان آیات کے ذکر کے بعد اسے کہیں ۔ آپ کو علم ہو گیا کہ جس نے بت کی طرف رجوع کیا اس نے کفر کیا ، جس نے صالحین اور بزرگوں کی طرف قصد استمداد (ارادہ طلب مدد ) کیا اس نے بھی کفر کیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جہاد کیا تھا ۔

شبہ نمبر 3:

اگر وہ کہے کہ کافر تو ان بتوں سے مرادیں مانگتے تھے ۔ جبکہ میں شہادت دیتا ہوں کہ بلاشبہ نفع دینے اور نقصان پہنچانے والا کارساز صرف اللہ ہی ہے ۔ اور اس سے ہی مانگتا ہوں ۔ نیک لوگوں کے بس میں تو کچھ نہیں ۔ میں اللہ کے ہاں ان کی صرف سفارش کی امید پر ان کا قصد کرتا ہوں ۔
جواب :
یہ ہو بہو کفار والا مقولہ ہے ، اسے یہ فرمان الہی سنائیں:
﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ﴾ [الزمر: 3 ]
”جنہوں نے اللہ کی بجائے اولیاء (اور پیروں) کو پوجنا شروع کیا وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم انہیں اس لئے پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے مقربین بنادیں۔“
اور ارشاد ربانی ہے:
﴿وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ﴾ [يونس: 18 ]
”اور وہ کہتے ہیں کہ یہ (بت ، ولی ، پیر ) اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔“
یاد رکھیں کہ ان کے شکوک و شبہات اور اعتراضات میں سے یہی تین شہبات اہم اور بنیا دی ہیں ۔ اور جب آپ کو معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کی وضاحت کر دی ہوئی ہے ۔ اور آپ اسے صحیح طور پر سمجھ گئے ہیں تو پھر یہ سب سے آسان الجھنیں ہیں ۔
——————

آٹھویں فصل :

دعا و پکار کا عبادت ہونا :

شبہ نمبر : 4

اگر وہ کہے کہ میں سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہیں کرتا اور نیک لوگوں کی پناہ لینا اور تنگی و تکلیف میں مشکل کشائی کے لئے انہیں پکارنا کوئی عبادت تو نہیں ۔
جواب :
اسے کہئے ، کیا آپ یہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر خالصتا صرف اپنی عبادت فرض کی ہے ۔ اور یہ اس کا آپ پر حق ہے؟ جب وہ کہے کہ ہاں ، تو اس سے اپنے اس فرض کی وضاحت طلب کریں جو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی مخلصانہ عبادت کی شکل میں بندے پر اللہ کا حق ہے؟ اگر وہ عبادت اور اس کی انواع و اقسام کو جانتا ہو تو اسے اس طرح سمجھائیں کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے:
﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ [سورة الاعراف: 55]
”صرف اپنے رب کو عاجزی سے اور پوشیدگی سے پکارو ۔“
اب اس سے پوچھیں ، کیا آپ سمجھ گئے کہ دعا و پکار اللہ کی عبادت ہے تو وہ لازماًً کہے گا ۔ ہاں ۔ کیونکہ دعا تو خالص عبادت بلکہ عبادت کا مغز ہے ۔ پھر اسے کہیں کہ جب آپ نے اقرار کر لیا ہے پکارنا عبادت ہے اور آپ نے شب و روز بیم ورجاء یا خوف وامید میں اللہ کو پکارا اور پھر کسی حاجت کے وقت کسی نبی یا غیر نبی کو بھی پکارا تو کیا آپ نے اللہ کی عبادت میں کسی غیر کو شریک کیا؟ اس کے ہاں کہنے کے سوا اس کے لئے کوئی چارہ ہی نہیں ، تو اسے کہیں: جب آپ نے ارشاد الہی میں وارد اللہ کے حکم پر عمل کیا جس میں ہے:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [ سورة الكوثر: 2 ]
”اللہ کے لئے نماز پڑھ اور اسی کے نام کی قربانی دے ۔“
اور اللہ کی فرمانبرداری کی ، اس کے نام کی قربانی دی ، کیا یہ عبادت ہے؟ یقیناً وہ کہے گا: ہاں ۔ پھر اس سے پوچھیں: اگر کسی مخلوق ، نبی ، جن بھوت یا ان کے علاوہ کسی کے نام کی قربانی دیں تو کیا آپ نے اللہ کی عبادت میں غیر کو شریک کیا؟ یقیناً وہ اقرار کرے گا ۔ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ وہ مشرکین جن کے متعلق قرآن پاک کی آیات نازل ہوئی ہیں ، کیا وہ فرشتوں ، صالحین اور لات وغیرہ کی عبادت کرتے تھے؟ وہ حتمی طور پر اثبات میں جواب دے گا ۔ پھر آپ اچھی طرح واضح کر دیں کہ ان کی عبادت بھی دعا و ذبح اور التجاء کے سوا کچھ نہ تھی ۔
بلکہ وہ یقین رکھتے تھے کہ ہم اللہ ہی کے غلام ہیں ۔ اسی کے قبضہ قدرت کے ما تحت ہیں اور اللہ ہی کارساز ہے ۔ لیکن انہوں نے غیر اللہ کو ان کی قدرو منزلت کے پیش نظر سفارش کے لئے پکارا اور ان سے رفع حاجت کی بھیک مانگی ۔ ان کا یہ فعال اظہر من الشمس اور بالکل واضح شرک ہے ۔
——————

نویل فصل:

شرعیہ و شرکیہ شفاعت :

شبہ نمبر : 5

اگر وہ کہے: کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انکار کرتے اور اس سے بری الذمہ ہوتے ہیں؟
جواب :
اسے کہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا نہ انکار کرتا ہوں ، نہ ہی اس سے بری الذمہ ہوتا ہوں ۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کرنے والے اور مقبول شفاعت ہیں اور میں امیدوار شفاعت ہوں ۔ لیکن تمام تر شفاعت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ جیسا کہ فرمان الہی ہے:
﴿قُل لِّلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا﴾ [سورة الزمر: 44]
”تمام تر شفاعت و سفارش اللہ کے اختیار میں ہے ۔“
اور اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو سفارش کرنے کی اجازت تک نہیں ، جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾ [ سورة البقرة: 255]
”کون ہے جو اس کے پاس (کسی کی ) سفارش کرے؟ جب تک کہ اس کا حکم و اجازت نہ ہو ۔“
اور جب تک اللہ پاک کسی کے بارے میں شفاعت کرنے کی اجازت نہ دیں گے ۔ شفاعت نہ کی جاسکے گی ۔ جیسا کہ رب العزت کا فرمان ہے:
﴿وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ﴾ [سورة الانبياء: 28]
”اور کسی کے لئے شفاعت نہ کریں گے سوائے اس کے جس کی شفاعت پر اللہ کی رضا مندی حاصل ہو جائے ۔“
اور اللہ اہل توحید کے سوا کسی دوسرے عقیدہ والے پر رضا مند نہ ہوگا ۔ جیسے کہ فرمان الہی ہے:
﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ﴾ [آل عمران: 85 ]
”اگر کسی نے اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین پسند کیا تو اسے اللہ قبول نہیں کرے گا ۔“
جب تمام تر شفاعت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے ، اس کی اجازت کے بغیر ممکن ہی نہیں اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کوئی دوسرا کسی کے بارے میں شفاعت کرے گا ۔ یہاں تک کہ انہیں رضائے الہی کا اشارہ نہ مل جائے ۔ اور رضائے الہی اہل توحید کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوگی ۔ اس طرح جب بات کھل کر سامنے آگئی کہ تمام تر شفاعت اللہ کے ہاتھ میں ہے تو اسی سے ہی یوں طلب کریں:
اللهم لا تحرمني شفاعته
”اے اللہ ! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم نہ کر ۔“
اللهم شفعه فى
”اے اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری شفاعت کا اختیار اور میرا شافع بنا ۔“
اور ایسی ہی دیگر دعائیں مانگا کریں ۔

شبہ نمبر : 6

اگر وہ مشرک کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت دی گئی ہے ، اور میں اس میں سے طلب کرتا ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے ۔
جواب :
اسے کہیں کہ اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت عطا فرمائی مگر آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب شفاعت کے اقدام سے منع کر دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
﴿فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾ [سورة الجن: 18 ]
”اللہ کے سوا کسی دوسرے کو مت پکارو ۔“
جب آپ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کا شافع بنائے تو اس کے فرمان:
﴿فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾ [سورة الجن: 18 ]
”اللہ کے سوا کسی دوسرے کو مت پکارو ۔“
کی بھی اطاعت کریں ۔ شفاعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی بعض کو دی گئی ہے ۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے ، اولیاء اللہ شفاعت کریں گے اور سن شعور سے قبل وفات پا جانے والے معصوم بچے بھی شفاعت کریں گے ۔ اور کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں شفاعت عطا کی ہے اور میں ان سے وہ طلب کرتا ہوں؟
اگر آپ اس طرح کہیں تو آپ نیک لوگوں کی عبادت کے شرک میں ملوث ہوں گے ۔ جس کا کتاب الہی میں ذکر ہے ۔ اور اگر آپ کا جواب منفی میں ہو تو آپ کا یہ قول:
اعطاه الله الشفاعة وانا اطلبه مما أعطاه الله [ قول مشرك ]
”کہ اللہ نے انہیں حق شفاعت میں اختیار دیا ہے ، اور میں اسی عطا کردہ حق سے طلب کرتا ہوں ۔“
باطل ہو گیا ۔
——————

دسویں فصل :

بزرگوں کو پکارنا :

شبہ نمبر : 7

اگر وہ کہے کہ: ”میں حاشا وکلا کسی کو اللہ کا شریک نہیں بناتا ۔ لیکن صالح بزرگوں کو پکارنا اور ان سے التجاء رفع حاجات تو شرک نہیں ہے ۔“
جواب :
اسے کہیں: آپ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو زنا سے بھی بڑھ کر حرام و گناہ قرار دیا ہے ۔ اور اللہ یہ شرک کبھی معاف نہیں کرے گا ۔ وہ کونسا کام ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ اور جس کو وہ قطعا نہیں بخشے گا؟
یہ بات مشرک نہیں جانتا لہٰذا اسے کہیں کہ آپ خود کو شرک سے بری کیسے سمجھتے ہیں ۔ جبکہ آپ شرک کو جانتے ہی نہیں؟ اللہ نے آپ پر یہ کیسے حرام کیا او کہا کہ وہ اسے معاف نہیں کرے گا؟ آپ نہ تو اس کے بارے میں پوچھتے ہیں اور نہ ہی اسے جانتے ہیں ۔ کیا آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اللہ نے شرک کو حرام تو کر دیا ہے مگر شرک کی وضاحت نہیں کی؟
اگر وہ کہے کہ شرک بتوں کی پوجا کرنے کو کہتے ہیں جبکہ ہم بتوں کو نہیں پوجتے ہیں ۔ مشرکین مکہ لکڑیوں اور پتھروں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ پیدا کرتے اور رزق دیتے ہیں ۔ اور جو انہیں پکارے ان کے کام سنواتے ہیں؟ قرآن پاک ان کے متعلق اس نظریے کو غلط قرار دیتا ہے۔
اگر وہ کہے کہ وہ لکڑی ، پتھر یا مزار کا قصد کرتے ہیں ۔ انہیں پکارتے ، ان کے لئے قربانی دیتے اور کہتے تھے کہ یہ ہمیں اللہ کا مقرب بناتے ہیں ۔ ان کی برکت سے ہماری مشکلات حل کرتا ہے ۔ اور انہی کی برکت سے ہمیں نعمتوں سے نوازتا ہے ۔ اسے کہیے کہ آپ نے ٹھیک کہا: اور پتھروں ، قبروں اور مزاروں وغیرہ پر آپ بھی یہی کچھ کرتے ہیں ۔ اگر اس نے تسلیم کر لیا کہ یہ امور بتوں کی عبادت میں شامل ہیں تو ان کا یہی اقرار ہمارا مطلوب ہے ، اسے یہ کہا جائے کہ آپ کے کہنے کے مطابق بتوں کی پوجا کا نام شرک ہے ۔ کیا آپ کی مراد یہ ہے کہ شرک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور صالحین سے مشکل کشائی کی التجاء کرتا اور انہیں پکارنا شرک نہیں؟
اس کی تردید تو قرآن پاک کی مذکورہ سابقہ آیات کرتی ہیں جو فرشتوں ، عیسی علیہ السلام اور دیگر صالح بزرگوں کو پکارنے والوں کے کفر سے متعلق ہیں ۔ یقیناًً وہ آپ کی بات کو تسلیم کرے گا کہ اگر کسی نے اللہ کی عبادت میں نیک بندوں میں سے کسی کو شریک کیا تو یہی وہ شرک ہے جس کا قرآن پاک میں ذکر ہے ۔ اس کا یہی اقرار ہمارا اصل مطلو ب ہے ۔
اس مسئلہ کا بھید کچھ اس طرح ہے کہ جب وہ کہے کہ میں اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تو اس سے استفسار کریں کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے؟ وضاحت فرمائیے ۔ اگر وہ کہے کہ شرک بتوں کی عبادت کرتا ہے ۔ تو پوچھیں کہ بتوں کی عبادت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تفصیل سے بتائیے ۔ اگر وہ کہے کہ میں ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا تو اس سے اللہ کی عبادت کا معنی اور اس کی وضاحت طلب کریں ۔ اگر وہ اسی طرح کہے جس طرح قرآن پاک نے بیان کیا ہے تو وہ معین مقصود ہے ۔ اور اگر اسے اللہ کی عبادت کا معنی ومطلب معلوم ہی نہیں تو وہ اس چیز کے متعلق دعوی کیسے کرتا ہے جسے وہ جانتا ہی نہیں؟
اگر وہ اللہ کے ساتھ شرک اور بتوں کی عبادت کے مفہوم کو واضح کرنے والی آیات کے مخالف کوئی دوسرا مطلب بیان کرے تو دور حاضر کے مشرکین بالکل ایسا ہی کرتے ہیں ۔ بلاشبہ صرف ایک اللہ کی عبادت ہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے مشرکین ہم پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں ۔ اور اسی مسئلہ پر ایسے آتش زیر پا ہوتے ہیں جیسے ان کے پیش رو بھائیوں نے چلاتے ہوئے کہا تھا:
﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ﴾ [ سورة ص : 5 ]
”کیا اس نے سب بتوں کی بجائے صرف ایک معبود مقرر کر دیا ہے؟ یہ تو بڑی حیران کن بات ہے ۔“

شبہ نمبر : 8

اگر وہ کہے کہ انہیں فرشتوں اور انبیاء کو پکارنے کی بناء پر کافرنہیں کہا گیا ۔ بلکہ ان کے کافر قرار دئیے جانے کی وجہ ان کا یہ قول تھا:
الملائكة بنات الله
”فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔“
اور ہم یہ تو نہیں کہتے کہ پیر عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ یا کوئی دوسرا بزرگ اللہ کا بیٹا ہے ۔
جواب :
اسے کہیں کہ بیٹے کی نسبت اللہ کی طرف کرنا مستقل کفر ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے:
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‎١‏ اللَّهُ الصَّمَدُ﴾ [سورة الاخلاص: 2 1 ]
”کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ۔“
”احد“ وہ ہے جس کی کوئی نظیر و مثیل نہ ہو اور ”صمد“ وہ ہے جس کی طرف حوائج و ضروریات میں قصد کیا جاسکتا ہو ۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر ہو گیا ۔ اگر چہ وہ ساری سورت کا انکار نہ کرے ۔ کیونکہ فرمان الہی ہے:
﴿مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَٰهٍ﴾ [المومنون: 91 ]
”اللہ کا نہ تو کوئی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ دوسرا کوئی معبود ہے ۔“
اللہ تعالیٰ نے دونوں اقسام میں فرق کر دیا ہے ۔ اور دونوں میں سے ہر ایک کو مستقل کفر قرار دیا ہے ۔ اور ارشاد ربانی ہے ۔
﴿وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ۖ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ [سورة الانعام: 100 ]
”انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنایا حالانکہ انہیں اس نے پیداکیا ہے ۔ اور بغیر علم کے اس کے بیٹے اور بیٹیاں بنائی ہیں ۔“
یہاں اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے کفر کو الگ الگ کر دیا ہے ۔ اور اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ جو لوگ ”لات“ کے نیک آدمی ہونے کے باوجود اسے پکارنے پر کافر ہوئے ۔ انہوں نے اسے اللہ کا بیٹا نہیں بنایا تھا ۔ اور جو لوگ جنوں کی عبادت کی بناء پر کافر قرار دئیے گئے ، انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا تھا ۔
ایسے ہی مذاہب اربعہ (حنفی ، شافعی ، مالکی حنبلی ) کے تمام علماء ”مرتد کا حکم“ کے باب میں ذکر کرتے ہیں کہ کوئی مسلمان جب یہ مان لے کہ اللہ کا کوئی بیٹا ہے تو وہ مرتد ہو گیا ۔ اور وہ دونوں اقسام میں فرق بھی کرتے ہیں ۔ اور یہ انتہائی واضح امر ہے ۔

شبہ نمبر : 9

اگر وہ کہے کہ اللہ کا ارشاد ہے:
﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ [سورة يونس: 62 ]
”یعنی اولیاء اللہ پر کسی قسم کا خوف و خطر نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ غم و فکر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔“
جواب :
اسے سمجھائے کہ یہ تو حقیقت ہے ، لیکن انہیں پوجا تو نہیں جائے گا ۔ ہم اللہ کے ساتھ ان کی عبادت اور انہیں اللہ کا شریک ٹھہرانے کے سوا تو کسی بات کا انکار نہیں کرتے بلکہ ان کی محبت ، حدود شریعت میں رہتے ہوئے ان کی فرمانبرداری اور ان کی حقیقی کرامات کا اعتراف واجب ہے ۔ اولیاء اللہ کی کرامات کا انکار اہل بدعت و ضلالت کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ۔ اور اللہ کا دین دونوں انتہاؤں (یعنی اولیاء کی محبت میں غلو اور ان کی عبادت اور اولیاء کے ساتھ جفا اور ان کی کرامات کے کلی انکار) کے درمیان ہے ۔ اور ہدایت دونوں گمراہیوں کے وسط میں اور حق دونوں باطلوں کے درمیان ہے ۔
——————

گیارھویں فصل :

مشرکین مکہ اور موجودہ مشرکوں میں فرق :

آپ پر حقیقت عیاں ہوگئی کہ موجودہ مشرکین جسے ”عقیدت“ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں ۔ دراصل یہی وہ شرک ہے جس کے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں اور اسی اعتقاد کے لوگوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تھا ۔
یہ بھی ذہن نشین کرلیں کے مکہ والوں کا شرک موجودہ زمانے کے شرک سے دو طرح سے خفیف تھا ۔

اولا: پہلے مشرکین صرف خوشحالی و فارغ البالی کے زمانے میں شرک کرتے اور ملائکہ ، اولیاء اور بتوں کواللہ کے ساتھ پکارتے تھے ۔ مگر غربت وعسرت اور تنگی و مصیبت کے وقت وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے ۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے:
﴿إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا﴾ [سورة نبي اسرائيل : 67 ]
”اور جب سمندر میں تمہیں کوئی مصیبت گھیر لے تو اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب بھول جاتے ہیں ۔ صرف اللہ ہی رہ جاتا ہے اور جب وہ تمہیں ساحل تک پہنچا دے تو تم منہ پھیر لیتے ہو ، اور انسان بڑا ناشکرا ہے ۔“
ایسے ہی فرمان الہی ہے :
﴿قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ‎٤٠‏ بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ﴾ [ سورة الانعام: 40 41 ]
”کہہ دیجئے ! کہ یہ تم ذرا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے یا تم پر قیامت ٹوٹ پڑے تو کیا اللہ کے سوا کسی کو پکارو گے ۔ اگر تم سچے ہو؟ بلکہ صرف اسی کو پکارو گے اور جس تنگی کے لئے پکارتے ہو وہ اسے کھول دے گا اگر وہ چاہے اور تم سب شرکاء کو بھول جاؤ گے ۔“
اسی طرح ہی ارشاد ربانی ہے:
﴿إِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ﴾ [ الزمر: 8]
”جب انسان کسی مصیبت کا شکار ہو جائے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتا ہے جب وہ اپنے انعام و رحمت سے مصیبت ہٹا دے تو وہ پہلے جس کی خاطر بلاتا تھا بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک بنانے لگ جاتا ہے تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کر دے ۔ کہہ دیں کہ اپنے کفر کی بدولت کچھ دیر فائدہ اٹھالے ۔ آخر تو اہل جہنم میں سے ہو گا ۔“
اس سے ملتا جلتا فرمان ہے:
﴿وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ [سورة لقمان 32 ]
”جب سمندر کی موج سائبان کی طرح انہیں ڈھانپ لیتی ہے تو اللہ کو بڑے مخلص ہو کر پکارتے ہیں کہ دین و عبادت صرف تیرے ہی لئے ہیں ۔“
جس نے قرآن پاک میں اللہ کا بیان کردہ یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیا کہ مشرکین جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فرمایا وہ زمانہ خوشحالی میں اللہ اور غیر اللہ کو پکارتے تھے لیکن مصائب و بدحالی میں صرف اللہ وحد لاشریک لہ ، کو پکارتے اور اپنے پیروں کو بھول جاتے تھے ۔ اس پر ہمارے موجودہ دور کے مشرکین اور مشرکین مکہ کے شرک کا فرق روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا ۔ مگر وہ کہاں ہے؟ جس کے دل پر یہ مسئلہ نقش ہو جائے ۔ واللہ المستعان

ثانیا : پہلے زمانہ کے مشرک اللہ کے مقربین مثلاً انبیاء و اولیاء اور فرشتوں کو پکارتے تھے یا پھر درختوں اور پتھروں کو پکارتے جو اللہ کے مطیع وفرمانبردار ہیں نہ کہ سرکش و گنہگار ۔ اور موجودہ زمانے کے مشرکین اللہ کے ساتھ ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں جو عوام الناس سے بڑھ کر برائیوں میں لت پت ہیں ۔ اور جو لوگ انہیں پکارتے ہیں وہی خود ان کے زنا ، چوری اور ترک نماز وغیرہ کی حکایات بیان کرتے ہیں ۔ دریں حالات وہ مشرک جو کسی نیک وصالح انسان یا گناہ نہ کرنے والی لکڑی دو پتھر کا عقید تمند ہے اس مشرک سے بدرجہا بہتر اور کم مجرم ہے جو ایسے لوگوں کا عقید تمند ہے جن کی سیاہ کاریوں فسق و فجور اور فساد بگاڑ کا وہ خود عینی شاہد اور گواہ ہے ۔
——————

بارہوین فصل :

نماز دو روزہ اور مشرک و کافر

یہ بار آپ پر عیاں ہو گئی ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے جہاد کیا وہ موجودہ مشرکین سے باعتبار عقل برتر اور بلحاظ شرک کم تر تھے ۔ یہ بھی یادر ہے کہ یہ لوگ ہماری سابقہ بات پر ایک اعتراض و شبہ کرتے ہیں جو ان کے دیگر تمام شکوک و شبہات سے بڑا اہم ہے ۔ اسے ہمہ تن گوش ہو کر سنیں:

شبہ نمبر : 10

جن مشرکین و کفار کے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے وہ اللہ کی وحدانیت ﴿لا اله الله﴾ کی شہادت نہیں دیتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے تھے ، مرنے کے بعد اٹھائے جانے یعنی حیات بعد اللمحات کا انکار کرتے تھے ، قرآن کو جھٹلاتے اور اسے جادو قرار دیتے تھے ۔ جبکہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ، ہم قرآن پاک کے سچا کلام الہی ہونے کی تصدیق کرتے ہیں اخروی زندگی پر ایمان رکھتے ہیں نماز ادا کرتے اور روزے رکھتے ہیں ۔ پھر ہمیں ان مشرکین کے ساتھ کس طرح ملاتے ہیں ۔
جواب :
تمام علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے بعض امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور کچھ باتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو وہ کافر ہے ، دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ اسی طرح جب کوئی قرآن پاک کے کچھ حصے پر ایمان رکھے اور کچھ اجزا کا انکار کرے جیسے کسی نے توحید کا اقرار اور نماز کے فرض ہونے سے انکار کیا یا کسی نے توحید اور نماز کا اقرار کیا اور زکوۃ کا انکار کیا یا ان سب کا اقرار اور روزے کی فرضیت کا انکار کیا ۔ یا کسی نے ان تمام کا تو اقرار کیا مگر فریضہ حج کا انکار کر دیا ۔ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ لوگ حج کرنے پر تیار ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں:
﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة ال عمران :97 ]
”ان لوگوں پر جو زادراہ (خرچ) رکھتے ہوں صرف اللہ کے لئے بیت اللہ کا حج فرض ہے اور جس نے کفر کیا اللہ (اسی سے کیا) ساری دنیاسے مستغنی اور بے نیاز ہے ۔“
اور جس نے ان سب فرائض کا اقرار کر لیا لیکن حیات اخروی کا انکار کر دیا ۔ اس کے کافر ہونے اور اس کی جان و مال مسلمان کے لئے بطور غنیمت حلال ہونے پر بھی علماء امت کا اتفاق ہے ۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ‎١٥٠‏ أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ [سورة النساء : 150 151 ]
”جو اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راہ نکالیں ۔ یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت امیز سزا تیار کر رکھی ہے ۔“
جب اللہ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن پاک میں صراحت فرما چکا ہے کہ جو شخص بعض امور پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کرے وہ حقیقی معنوں میں پکا کافر اور مذکورہ عذاب کا مستحق ہے تو ان مشرکین کا اعتراض اور شبہ زائل ہو گیا ۔ اور یہی وہ شبہ ہے جسے الاحساء (4) کے ایک آدمی نے اپنی کتاب میں اٹھایا ہے اور کتاب ہمیں بھیجی ہے ۔
(4) سعودی عرب کے المنطقہ الشرقیۃ کا ایک علاقہ جس کا سب سے بڑا شہر الہفوف ہے ، جہاں
تاریخی مجہ جوانی بہی ہے ۔
◈ اسے کہا جائے کہ آپ خود اقرار کرتے ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتوں کی تصدیق کی اور فریضہ نماز کا انکار کیا اس کے کافر ہونے اور اس کی جان و مال حلال ہونے پر اجماع ہے ۔ ایسے ہی وہ شخص جس نے تمام امور کا اقرار کیا مگر وہ اخروی زندگی کا انکار کیا ۔ اسی طرح وہ شخص جس نے ر مضان المبارک کے روزے کی ۔ فرضیت کا انکار کیا اور دیگر تمام باتوں کی تصدیق کی ، اس کے متعلق کسی بھی مذہب میں کوئی اختلاف نہیں ۔ اور اس کے بارے میں تو خود قرآن ناطق ہے ، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ۔
یہ ایک طے شدہ اور لازوال حقیقت ہے کہ توحید ہی وہ عظیم فریضہ ہے جس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہ فریضہ نماز روزہ اور زکوۃ اور حج سب سے بڑا ہے ۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان امور میں سے کسی ایک کا انکار کرنے والا تو کا فر ہو جائے اگرچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر تمام امور پر عمل پیرا ہو؟ اور جب تمام انبیاء ورسل کے دین توحید کا انکار کرے تو کافر نہ ہو ۔ سبحان اللہ ! یہ کس قدر تعجب انگیز و حیرت خیز جہالت ہے ۔
◈ اسے یہ بھی کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بنی حنیفہ کے ساتھ جہاد کیا حالانکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام لا چکے تھے ، وہ شہادت دیتے تھے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔ وہ اذانیں دیتے اور نمازیں بھی پڑھتے تھے ۔
اگر وہ کہے کہ بنی حنیفہ مسیلمہ کذاب کو نبی سمجھتے تھے تو کہئے کہ یہی بات تو ہمیں مطلو ب ہے ۔ جب کوئی شخص کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ دے تو وہ کافر ہو گا ، اس کا خون و مال حلال ہو گیا ، اسے اقرار توحید و رسالت اور نماز کوئی فائدہ نہ دے سکے تو اس شخص کا کیا انجام ہوگا ! جس نے (شمسان) شمس و قمر ، یوسف کسی صحابی یا کسی نبی کو جبار ارض و سماء کے مقام تک پہنچا دیا ۔
﴿كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الروم : 59 ]
”اسی طرح اللہ ان کے دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے جو کہ نہیں جانتے ۔“
◈ اسے کہا جائے کہ وہ لوگ جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آگ میں جلایا تھا ، وہ سب اسلام کا دعوی کرتے تھے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب ورفقاء میں سے تھے انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے علم سیکھا تھا ۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یوسف اور شمس و قمر جیسی بد عقیدہگی کا شکار ہوگئے تھے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین ان کی تکفیر اور ان کے ساتھ جہاد کرنے پر کیسے جمع ہو گئے؟ کیا آپ اس ظن باطل اور خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسلمانوں کی تکفیر کیا کرتے تھے؟ یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تاج وغیرہ کی عقیدت بے ضرر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ابن ابی طالب کی عقیدت کفر ہے؟
◈ اسے یہ بھی کہا جائے بنو عبید القداح جو خلفاء بنی عباس کے دور میں مغرب اور مصر کے حکمران تھے ، وہ سب شہادت دیتے تھے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ وہ اسلام کے مدعی تھے اور جمعہ و پنجگانہ نماز ادا کرتے تھے ۔ مگر جب انہوں نے شرعی امور میں مخالفت ظاہر کی جو ہماری موجودہ غیر شرعی حرکات سے کہیں ضعیف اور کم تر تھی تو علماء وقت ان کے کفر ، ان کے خلاف جہاد ، ان کے ملک کو ”بلاد حرب“ قرار دینے پر متفق ہوگئے اور مسلمانوں نے ان کے ساتھ جنگ کر کے اسلامی ممالک ان کے چنگل سے آزاد کرا لئے تھے۔
◈ اس سے پوچھیں: جب پہلے لوگ شرک ، تکذیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، تکذیب قرآن اور انکار بعث (مرنے کے بعد قبروں سے دوبارہ اٹھایا جاتا) وغیرہ کی بناء پر کافر قرار نہیں دئیے گئے تو پھر ”باب حکم المرتد“ چہ معنی دارد؟ جسے سب مذاہب کے تمام علماء کرام نے بہت سے امور بیان کئے ہیں ، جن کا ارتکاب مسلمان کو کافر اور اس کا مال و جان حلال کر دیتا ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے بظاہر معمولی امور تک کا بھی ذکر کیا ہے ۔ مثلاً دل کی موافقت کے بغیر صرف زبان سے کلمہ کفر کہنا یا ہنستے ہنساتے بر سبیل مذاق ایسا کلمہ ادا کرنا ۔
اور اس سے یہ بھی پوچھیں کہ وہ لوگ جن کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ﴾ [سورة التو بة : 74 ]
”اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا ، حالانکہ انہوں نے کلمہ کفر کہا ، اور اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے ۔“
کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ پاک نے انہیں ایک کلمہ کی بناء پر کافر کہہ دیا ہے ، حالانکہ وہ عہد رسالت میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے ، نمازیں پڑھتے ، زکوۃ ادا کرتے ، حج کرتے اور اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتے تھے ۔
اسی طرح وہ لوگ جن کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ‎٦٥‏ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ [سورة التو بة 65 66 ]
”ان سے پوچھیں کہ تم اللہ اور اس کی نشانیوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ مذاق و استہزاء کرتے ہو؟ عذر مت کرو تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہو گئے ہو ۔“
ان لوگوں کے متعلق رب العزت نے صراحت فرما دی ہے کہ وہ ایمان دار ہونے کے بعد کافر ہو گئے تھے ۔ حالانکہ وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے کلمہ کفر ادا کیا او کہا کہ ہم نے تو یہ صرف بطور مذاق کہا تھا ۔

شبہ نمبر : 11

اب ان کے اس شبہ پر غور فرمائیں کہتے ہیں کہ تم لوگ ایسے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہو جو ﴿لا اله الله﴾ کی شہادت دیتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں ۔
جواب : اس کے جواب کو بغور سنیں اور اچھی طرح سمجھ لیں کیونکہ یہ ان صفحات کا نہایت اہم اور انتہائی مفید حصہ ہے ۔
کلمہ کفر سے کافر ہونے کی دلیل کتاب اللہ کا وہ واقعہ بھی ہے ، جو بنی اسرائیل کے اسلام ، علم اور نیکی کے باوجود اللہ پاک نے بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے حضرت موسى علیہ السلام کو کہا:
﴿اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ﴾ [الاعراف : 138 ]
”ان کے دیوتاؤں کی طرح ہمارے لئے بھی کوئی مجسم دیوتا (معبود) مقرر کر دیں ۔“
اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا:
اجعل لنا ذات انواط [مسند احمد 218/5 ]
”مشرکین جس طرح ایک درخت پر اپنا اسلحہ لٹکاتے اور اس سے برکت حاصل کرتے ہیں۔ ایسے ہمارے لئے بھی کوئی درخت ”ذات انواط“ اسلحہ لٹکانے اور برکت حاصل کرنے کے لئے منتخب فرما دیں ۔“
اللہ کے نبی نے قسم کھا کر کہا تھا کہ تمہارا یہ کہنا بنی اسرائیل کے قول ﴿اجعل لنا الها﴾ کی طرح ہی ہے ۔
——————

تیرہوین فصل :
لاعلمی میں شرک اور توبہ :

شبہ نمبر : 12

مشرکین یہ قصہ سابقہ سن کر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کافر تو نہ ہوئے ، اسی طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے ﴿اجعل لنا ذات انواط﴾ کہا ہے وہ بھی کافر نہ ہوئے ۔
جواب :
ہم کہتے کہ اس بنی اسرائیل نے اپنی اس ہنگامی سی خواہش کو عملی جامہ نہ پہنایا اور اسی طرح ہی نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم سے ”ذات انواط“ کا مطالبہ کرنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی عملی اقدام نہ کیا ۔ ورنہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بنی اسرائیل عملا کر گزرتے تو کافر ہو جاتے۔ اسی طرح اس پر اتفاق ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا اگر وہ اطاعت نہ کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے باوجود ”ذات انواط“ کو اختیار کر لیتے تو یقیناًً کافر ہو جاتے ۔ اور یہی ہمارا مطلب و مقصد ہے ۔ یہ قصہ اپنے دامن میں بہت سے اسباق اور فوائد سموئے ہوئے ہے مثلاًً :
◈ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ پڑھا لکھا عالم بھی شرک کی کسی ایسی قسم میں مبتلا و ملوث ہو سکتا ہے جسے وہ جانتا نہ ہو ۔
◈ یہ قصہ حصول علم کی ضرورت اور اقسام شرک سے حزم و احتیاط برتنے کاسبق دیتا ہے ۔
◈ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جاہل کا کہنا ہے (التوحید فہمناہ) ”توحید کو ہم نے سمجھ لیا ہے ۔“بہت بڑی جہالت اور ایک شیطانی دھوکہ ہے ۔
◈ یہ قصہ بتاتا ہے کہ مجتہد مسلمان اگر لاعلمی میں کوئی موجب کفر بات کہہ دے اور اس پر متنبہ ہوتے ہی فورا تائب ہو جائے تو وہ کا فرنہیں ہوگا ۔
◈ اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ کافر نہیں ہوگا اس کے باوجود اسے شدید ترین تنبیہ کی جائے گی ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیم نے کی ۔

شبہ نمبر : 13

مشرکین کے پاس ایک اور اعتراض یا شبہ واشکال ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اس آدمی کے قتل کرنے سے منع فرمایا جو ﴿لا اله الا لله﴾ کا اقرار کرے اور انہیں فرمایا تھا:
أقتلته بعد ما قال لا إله إلا الله [ حديث ]
”تو نے ﴿لا اله الا لله﴾ کہنے کے باوجود قتل کر دیا؟“
اسی طرح فرمان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله [بخاري و مسلم و غيره ، صحيح الجامع 292/1 ]
”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کے ساتھ جہاد کروں یہاں تک کہ وہ ﴿لا اله الا الله﴾ کہنے لگیں۔“
وہ اسی طرح کی دوسری حدیث بھی پیش کر سکتے ہیں جو کلمہ توحید کہنے والے سے دست کش و باز رہنے کے بارے میں ہیں ۔ اور ان جاہلوں کا خیال ہے کہ کلمہ کہنے والا کافر نہیں ہوتا نہ ہی اسے قتل کیا جائے گا وہ چاہے کچھ بھی کر گزرے ۔
جواب :
ان جاہل مشرکین سے کہا جائے گا اور یہ ہے بھی ایک مصدقہ حقیقت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ساتھ جہاد کیا حالانکہ وہ ﴿لا اله الا لله﴾ کہتے تھے ۔ اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حنیفہ سے جہاد کیا حالانکہ وہ ﴿لا اله الله﴾ اور ﴿محمد رسول الله﴾ کا بھی اقرار کرتے تھے ، نمازیں پڑھتے اور اسلام کا دعوی کرتے تھے اور اسی طرح وہ لوگ بھی ہیں جن کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آگ سے جلایا تھا ۔ اور یہ گنوار مشرکین اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ جس نے قبروں سے اٹھائے جانے (بعث بعد الموت) کا انکار کیا وہ کافر اور واجب القتل ہے ۔ اگر چہ وہ ﴿لا اله الا لله﴾ بھی کیوں نہ کہتا ہو اور جس نے ارکان اسلام میں سے کسی رکن کا انکار کیا وہ بھی کافر اور واجب القتل ہے ، چاہے وہ زبان سے کلمہ توحید بھی پڑھتا ہو ۔
درین صورت یہ کس طرح ممکن ہے کہ ارکان اسلام میں سے کسی ایک جزء کا انکار کرنے پر تو اسے کلمہ توحید فائدہ نہ دے سکے مگر دین رسل کے طرہ امتیاز اور بنیاد توحید کے انکار کے باوجود ﴿لا اله الا لله﴾ اس کے لئے باعث امن و نجات بنا رہے ۔ در حقیقت اللہ کے دشمنوں نے ان احادیث کا مطلب ہی نہیں سمجھا ۔
حدیث اسامہ رضی اللہ عنہ کی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ﴿لا اله الا لله﴾ کہہ کر اسلام کا دعوی کرنے والے آدمی کو یہ سمجھتے ہوئے قتل کر دیا کہ یہ صرف جان و مال کے خوف سے اسلام کا لبادہ اوڑھ رہا ہے ۔
کوئی آدمی جب اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کر دے تو اس کے قتل سے دست کش ہو جانا واجب ہے ۔ یہاں تک اس کے اس قول اور فعل کا تضاد عیاں نہ ہو جائے ۔ اس کے بارے میں فرمان الہی ہے ۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ [ سورة النساء : 94 ]
اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں شمشیر زنی کرو تو (جلد بازی سے کام نہ لو بلکہ ) حقیقت کی جستجو کر لو ۔“
یہ آیت قتل سے دست کش ہونے اور حقیقت کی جستجو کر لینے پر دلالت کرتی ہے اور جب اس دست کشی کے بعد بھی اس شخص سے خلاف اسلام کا سرزد ہو تو ”فتبینوا“ میں وارد اللہ کے ارشاد کی رو سے اسے قتل کیا جائے گا اور اگر ایک مرتبہ کلمہ توحید کہہ دینے کے بعد اسے قتل نہیں کیا جاسکتا تو پھر تثبت کا کوئی مطلب ہی نہ ہوا ۔
ایسے ہی دوسری حدیث اور اس جیسی دیگر مثالیں ہیں جن کا معنی یہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ جب وہ کلمہ توحید اور اسلام کا ظہار کر دے تو اس کے قتل سے رک جانا واجب ہے جب تک کہ اس سے کوئی ایسا کام رو پذیر نہ ہو جو اس کے دعویٰ کے مخالف ہو اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے :
اقتلته بعد ما قال لا إله إلا الله کہا : اور جن کا فرمان ہے:
أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله
انہی خارجیوں کے بارے میں ارشاد ہے۔
ايما لقيتموهم فاقتلوهم لين أدركتهم لا قتلتهم قتل عاد [بخاري ، كتاب الانبياء ، 61 مسلم ، كتاب الزكوة : 143،146 ]
”جہاں بھی تمہارا ان سے سامنا ہو انہیں قتل کر دو ۔ اگر وہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں عادیوں کی طرح قتل کر دوں ۔“
حالانکہ خارجی عبادت کرنے ﴿لا اله الا لله﴾ کہنے اور تسبیح پڑھنے میں عام لوگوں سے بڑھ کر تھے ، یہاں تک کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو کمتر اور معمولی سمجھتے تھے ۔ خوارج نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہی علم بھی سیکھا تھا مگر جب ان سے شریعت کی مخالفت ظاہر ہوئی تو انہیں ﴿لا اله الا الله﴾ کہنے سے کچھ بھی فائدہ نہ ہوا ۔
یہی حال یہود اور بنو حنیفہ سے جہاد کرنے کا ہے ۔
اسی طرح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی نے خبر دی کہ بنو مصطلق نے زکوۃ روک لی ہے تو آپ نے ان کے ساتھ جہاد کرنے کا ارادہ فرمالیا ۔ اسی وقت آیت پر نازل ہوئی :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ [ سورة الحجرات : 6 ]
”اے ایمان والوں ! اگر کوئی منافق آپ کو خبر دے تو پہلے اس کی اچھی طرح تصدیق کر لو ۔“
اور واقعی وہ خبر دینے والا آدمی بعد میں جھوٹا ثابت ہوا تھا ۔ یہ تمام واقعات اس بات پر دلالت کناں ہیں کہ جن احادیث سے ان مشرکین نے اپنے لئے اوچھے سہارے تراشے ہیں ، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی جس کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔
——————

چودھویں فصل :
استغاثہ کی حقیقت :

شبہ نمبر : 14

مشرکین کے ہاں ایک اور اعتراض و اشکال یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں :
”نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن لوگ حضرت آدم علیہ السلام سے استغاثہ یعنی مدد طلب کریں گے ، پھر حضرت نوح علیہ السلام سے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ، حضرت عیسی علیہ السلام سے بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے ۔“
ان مشرکین کے نزدیک یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ غیر اللہ سے استفادہ کرنا شرک نہیں ہے ۔
جواب :
ہم اللہ کے دشمنوں کے دلوں پر مہر ثبت کرنے والی ذات باری تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اس استغاثہ سے انکار نہیں کرتے جو کسی مخلوق سے طلب کیا جائے بشرطیکہ وہ کام اس کے بس میں ہو ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ارشاد ربانی ہے:
﴿فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ﴾ [سورة القصص : 15 ]
”جو ان کی قوم میں سے تھا اس نے دشمن کے فرد کے خلاف ان سے مدد طلب کی ۔“
یا جس طرح انسان دوران جنگ یا دوسرے حالات میں اپنے ساتھیوں سے ایسے کاموں میں مدد طلب کرتا ہے ، جن کی وہ طاقت رکھتے ہیں ۔
ہم نے تو ”استغاثہ عبادت“ کا انکار کیا ہے ۔ جیسا کہ یہ لوگ اولیاء اللہ کے مزارات کے پاس یا دور دراز سے ان کی عدم موجودگی میں ایسے امور میں مدد و مشکل کشائی کے طالب ہوتے ہیں جن کی قدرت صرف اللہ ہی کے پاس ہے ۔ جب یہ ثابت ہو گیا تو قیامت کے روز لوگوں کا انبیاء ورسل سے استغاثہ کرنا کہ وہ اللہ سے دعائیں فرمائیں تاکہ لوگوں کا حساب و کتاب ہو اور اہل جنت اس طویل رکاوٹ کی پریشانی سے استراحت و آرام پائیں ۔ اس قسم کا استغاثہ دنیا و آخرت ہر دو جہاں میں جائز ہے ۔
دنیا میں یوں کہ آپ کسی پارسا ، پاکباز ، زندہ اور حقیقی ولی کے پاس جائیں جو آپ کو اپنے پاس بٹھائے اور آپ کی بات سنے ۔ آپ اسے کہیں کہ میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں ، جس طرح کہ اصحاب رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی حیات بابرکات میں یہی سوال کیا کرتے تھے البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روضہ اطہر کے پاس ! جا کر یہ سوال کیا ہو بلکہ سلف صالحین نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس کھڑے ہو کر اللہ سے سوال کرنے کو بھی ممنوع کہا ہے۔ (سداً للباب) تاکہ کوئی کمزور ایمان اور ضعیف الاعتقاد یہ نہ سمجھ لے کہ شاید اسی روضہ سے رفع حاجت کاسوال کر رہا ہے ۔
چہ جائیکہ سوال ہی آپ سے کیا جائے ۔

شبہہ نمبر : 15

وہ ایک اعتراض و اشکال یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نار نمرود میں ڈالے گئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت خلیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور کہا :
الك حاجة؟ کوئی ضرورت ہے؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اما الك فلا آپ کی ذات سے ہو تو کوئی ضرورت نہیں ۔ اگر جبرائیل امین علیہ السلام سے استغاثہ شرک ہوتا تو وہ حضرت ابراہیم علیہ علیہ السلام پر اس کی پیش کش ہگز نہ کرتے ۔“
جواب :
یہ بھی پچھلے شک و شبہ سے ملتا جلتا ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسی کام میں پیش کش کی جو اس کے بس میں تھا ۔ کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ارشاد الہی کی رو سے ”شدید القوی“ بڑے ہی طاقتور ہیں ۔ اگر اللہ انہیں اجازت دیتا کہ نار نمرود اس کے قرب و جوار کی زمین اور پہاڑوں کو اکھاڑ کر دور مشرق و مغرب میں پھینک دیں تو یہ ان کے بس میں تھا ۔ اگر اللہ حکم دیتا کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کو اس جگہ سے اٹھا کر کسی دور دراز مقام پر پہنچا دے یہ تو ان کے لئے ممکن تھا ۔
اور اگر انہیں ارشاد ہوتا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھالیں تو وہ اس پر بھی قادر تھے ۔ یہ واقعہ تو بالکل اسی صاحب دولت و ثروت غنی انسان کی پیش کش جیسا ہے جو کسی مجبور و محتاج آدمی کو دیکھے اور اسے قرض دینے کی خواہش ظاہر کرے یا حسب ضرورت اسے یوں ہی کچھ دینا چاہے مگر وہ پریشان حال محتاج اس کی پیشکش قبول کرنے سے معذرت کر دے ، اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے ، یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا کرے جس میں وہ کسی غیر اللہ کا احسان مند نہ ہو ۔ اگر مشرکین میں کوئی فہم و فراست موجود ہے تو بتائیں کہ یہ استغاثہ عبادت اور شرک کہاں ہے؟
——————

سولهوین فصل :

توحید :

ہم اس سلسلہ کلام کا اختتام انشاء اللہ ایک ایسے عظیم اور اہم مسئلہ پر کر رہے ہیں جو آپ گزشتہ صفحات سے سمجھ تو گئے ہوں گے ، مگر اس کے عظیم الشان ہونے اور اسی میں لوگوں کے بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہونے کی بناء پر اسے انفرادی طور پر واضح کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ بلا اختلاف قلبی تصدیق زبانی اقرار اور عمل اعضاء کے مجموعے کا نام تو حید ہے ۔ ان تینوں میں سے کسی ایک بھی جزء کے بغیر آدمی مسلمان نہیں ہوتا ۔ اور اگر توحید کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد بھی اس پر عمل نہ کرے تو شیطان ، فرعون اور ان کے جانشینوں کی طرح عناد پرور دکینہ تو کافر ہے ۔
یہی وہ مسئلہ میں لوگوں کی کثیر تعداد غلطی کھا جاتی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے ، ہم اسے سمجھتے ہیں اور اس کے صحیح ہونے پر یقین بھی رکھتے ہیں مگر اس پر عمل پیرا ہونے کی طاقت نہیں رکھتے اور ہمارے ملک و علاقہ والوں کے نزدیک ان کی موافقت و مرضی کے سوا کوئی چیز جائز وروا نہیں ہوتی ، یا پھر ایسا ہی کوئی دوسرا عذر پیش کرتے ہیں ۔ مگر ان بے چاروں کو معلوم نہیں کہ کفار کے اکثر سردار غنے حق کو سمجھتے تھے اور انہوں نے کسی نہ کسی عذر کاسہارا لے کر ہی توحید سے سرکشی کی تھی ۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة التوبه : 9]
”انہوں نے آیات الہی سے معمولی داموں کے بدلے اعراض کیا ہے ۔“
ایسی ہی کئی دوسری آیات بھی ہیں مثلاً فرمان الہی ہے:
﴿يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ﴾ [سورة البقرة ]
اس کتاب (حقانی) کو اس طرح پہنچانتے ہیں جس طرح کہ اپنے بیٹوں کو بخوبی پہنچاتے ہیں ۔
اگر کوئی شخص ظاہری داری کے لئے توحید کا بہروپ بنا لے جبکہ وہ اسے اچھی طرح سے نہ سمجھا ہوا اور نہ اس پر دل دے یقین رکھتا ہو تو وہ منافق ہے اور پکے کافر سے بھی بدترین ہے اور اس بات کا پتہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ﴾ [سورة النساء : 145]
”منافقین کا ٹھکانا جہنم کی اتھاہ گہرائی میں ہوگا ۔“
غرض عذر لنگ کا یہ سلسلہ بہت طویل ہے ۔ جوں جوں آپ لوگوں کی باتوں پر غور و فکر کریں گے آپ پر اس کے اسرار و بھید کھلتے جائیں گے ۔ آپ ایسے لوگوں کو بھی پائیں گے جو حق کو بخوبی سمجھتے ہیں ، مگر مادی نقصان اور جھوٹی شان و شوکت میں قلت یا کسی کی خوشامد میں کمی سے ڈرتے ہوئے عمل نہیں کرتے ۔ آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو حق پر دل سے نہیں بلکہ صرف ظاہری طور پر عمل کرتے ہیں ۔ اور اگر آپ نے ان سے اعتقاد قلب کے بارے میں کچھ پوچھ لیا تو اس معاملہ میں وہ بالکل کورے ہوں گے ۔ لیکن آپ کے لئے کتاب اللہ کی دو آیتوں کو اچھی طرح سے سمجھ لینا بہت ہی ضروری ہے ۔ اور ان میں سے پہلا فرمان الہی ہے:
﴿لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ [سورة التوبة : 66 ]
”اب کوئی عذر نہ کرو ، تم ایمان لا چکنے کے بعد کافر ہوگئے ہو ۔“
جب یہ بات کھل کر آپ کے سامنے آگئی کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اہل روم سے جہاد کیا ، وہ ایک ایسے کلمہ کی بدولت کافر قرار دئیے گئے جو انہوں نے محض ہنسی مذاق میں کہا تھا ۔ تو یہ بات بھی آپ سے پوشیدہ نہ رہی کہ جو شخص کفریہ کلمات کہتا ہے اور دنیوی مال و دولت ، جھوٹی جاہ و حشمت اور کسی کی خوشامد وجی حضوری میں قلت کے خوف سے اس پر عمل پیرا رہتا ہے ، وہ از راہ مذاق ایسا کلمہ کہنے والوں سے بھی کفر میں بدتر ہے ۔
اور دوسرا ارشاد ربانی ہے:
﴿مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ‎١٠٦‏ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ ﴾ [سورة النحل : 106 – 107 ]
”جو ایمان لانے کے بعد کفر کرے سوائے اس کے جو مجبور کر دیا جائے مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو لیکن جن کا سینہ کفر سے کھل گیا (ملوث ہو گیا ) ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ، یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اسے پسند کیا ۔“
ایسے لوگوں کا اللہ کے ہاں کوئی عذر قابل قبول سوائے اس کے جو زبان سے کلمات کفر کہنے پر مجبور ولا چار کر دیا گیا ہو مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن اور قائم ہو ۔ اور اس مجبوری کی صورت کے علاوہ کفر کرنے والا ایمان دار ہونے کے بعد کافر ہو گیا ، چاہے اس نے یہ کسی کے خوف سے کیا ہو ، یا کسی کی خوشامد کے طور پر وطن پرستی میں آکر ، خاندان اور اہل عیال کی خاطر حصول مال کی حرص میں یا برسبیل مذاق ۔ الغرض جس نے مجبوری ولاچاری کے سوا کسی بھی دوسری غرض سے کفر کیا وہ کافر ہو گیا ۔
اس بات پر مذکورہ بالا آیت دو طرح سے دلالت کرتی ہے ۔

اول :
اس فرمان الہی کے الفاظ ”الامن اکرہ“ میں اللہ نے سوائے مجبور و بے بس کے کسی کو مستثنی نہیں کیا ۔ اور یہ نا قابل تردید حقیقت ہے کہ انسان کو زبانی کچھ اگلنے اور یانا چار کچھ کر گزرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے مگر دل کے عقیدہ پر اسے کوئی شخص کسی بھی صورت میں مجبور نہیں کر سکتا ۔

دوم :
سابق میں ذکر کی گئی آیات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ﴾ [سورة النحل : 107 ]
”یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اسے پسند کیا ۔“
یہ ارشاد گرامی صراحت کر رہا ہے کہ یہ کفر اور عذاب ، غلط اعتقاد ، جہالت ، دین سے بغض و نفرت یا کفر کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کا اصل سبب وہ حفظ و حصہ ہے جو اسے متاع دنیا میں سے ملنے کی توقع ہے ۔ گویا اس نے متاع دنیا کو دولت دین پر ترجیح دی ہے ۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل