سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منسوب اثر
ایک روایت کے بارے میں ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ ضعیف اور مردود ہے۔
دوسرا اثر درج ذیل ہے:
عن إبراهيم النخعي قال: كان عبدالله بن مسعود لا يرفع يديه فى شيء من الصلواة إلا فى الإفتتاح
ابراہیم نخعی نے کہا:ابن مسعود رضی اللہ عنہ کسی نماز میں بھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے سوائے شروع نماز کے۔ [الطحاوی بحوالہ نصب الرایۃ 406/1]
الجواب:
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ 32 یا 33 ہجری کو فوت ہوئے ہیں۔ [تہذیب التہذیب 25/6 و تقریب التہذیب: 3613]
اور ابراہیم بن یزید نخعی 37 ہجری کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ [ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ج 1 ص 155]
لہذا یہ سند منقطع ہے۔
اگر کہا جائے کہ یہ روایت ابراہیم نخعی نے ”غیر واحد“ (کئی اشخاص) سے سنی ہے یا ایک جماعت سے سنی ہے۔ (نصب الرایۃ ج 2 ص 406، 407) تو اس کا جواب یہ ہے کہ غیر واحد اور جماعت دونوں نامعلوم اور غیر متعین ہیں لہذا ان سے استدلال مخدوش ہے۔ حافظ گوندلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ روایت فی نفسہ قابل حجت بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ حجت ہونا یا نہ ہونا تو اتصال و انقطاع اور صحت و ضعف پر موقوف ہے۔
یہ عبارت مرویات ابراہیم کے قابل حجت ہونے پر دال نہیں ہے۔
اولاً: اس لئے کہ ممکن ہے دو تین کوفی جمع ہو کر اسے حدیث سنائیں اور وہ تینوں ضعیف الحافظہ ہوں۔
ثانیاً: پتا نہیں کہ سلسلہ اسناد عبد اللہ تک کتنے واسطوں سے پہنچتا ہے۔ بعض اوقات تابعی اور صحابی کے درمیان دو چار بلکہ سات واسطے بھی ہوتے ہیں۔ ان کے متعلق تحقیقات نہایت ضروری ہیں۔
ثالثاً: ممکن ہے ابراہیم کے نزدیک وہ ثقہ ہوں مگر دیگر ائمہ فن کے ہاں ضعیف ہوں۔ والجرح مقدم على التعديل، تعديل مبہم مقلد کا مایہ ناز ہو سکتا ہے ایک تشنہ تحقیق کی سیرابی کے لئے ناکافی ہے۔
انھی خدشات کی روشنی میں جرح و تعدیل کے ایک بہت بڑے امام نے یہی فیصلہ فرمایا ہے کہ ابراہیم سے عبد اللہ کی روایات ضعیف ہیں۔ یعنی امام ذہبی کا میزان الاعتدال ج 1 ص 35 میں ارشاد ہے:
قلت استقر الأمر على أن إبراهيم حجة وأنه إذا أرسل عن ابن مسعود وغيره فليس ذلك بحسن انتهى
قال الإمام الشافعي: إن إبراهيم النخعي لوروى عن على وعبد الله لم يقبل منه لأنه لم يلق واحدا منهما انتهى كلامه [كتاب الأم ص 271، 272 ج 7 سے مطبوعہ مصر] [التحقیق الراسخ ص 140، 141]
یعنی امام شافعی نے کہا: ابراہیم نخعی اگر علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کریں تو وہ قبول نہیں کی جائے گی کیوں کہ ابراہیم کی ان میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔
اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ امام شافعی اور حافظ ذہبی نے ابراہیم نخعی کی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔