اولاد کو ہبہ کرنے میں برابری افضل اور مشروع ہے

تحریر : حافظ فیض اللہ ناصر

الْحَدِيثُ السَّابِعُ: عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ { تَصَدَّقَ عَلَيَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ . فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَانْطَلَقَ أَبِي إلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَ عَلَى صَدَقَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ؟ قَالَ: لَا . قَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ فَرَجَعَ أَبِي ، فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ . وَفِي لَفْظٍ فَلَا تُشْهِدْنِي إذًا . فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ وَفِي لَفْظٍ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي } .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے اپنے مال کا کچھ حصہ مجھے صدقہ کر دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا: میں تب تک (اس بات پر ) خوش نہیں ہوں گی جب تک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنائے ۔ چنانچہ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تاکہ وہ میرے صدقہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تو نے اپنے سب بچوں کے ساتھ ایسا کیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے معاملے میں عدل کیا کرو، سو میرے والد واپس آئے اور انھوں نے صدقہ واپس لے لیا۔
اور ایک روایت میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ) ہے: تب تو مجھے گواہ نہ بنا، کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔
یہ بھی الفاظ ہیں: میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنالے۔
شرح المفردات:
اعدلوا: یعنی سب کو برابر برابر دیا کرو ۔ /جمع مذکر حاضر، فعل امر معلوم، باب ضرب يضرب ۔
جود ظلم، زیادتی ، نا انصافی ۔
شرح الحدیث:
ائمہ کا اس بابت اختلاف ہے کہ آیا اولاد کو ہبہ کرنے میں برابری افضل اور مشروع ہے؟ یا وراثت کی طرح اس میں بھی مذکر کے لیے مؤنث سے دو گنا ہو گا؟ تین ائمہ کے نزدیک علی الاطلاق برابری سنت ہے، خواہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث ، یا مذکر اور مؤنث دونوں ہی ہوں۔ لیکن امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک اگر وہ تمام مذکر ہیں یا تمام مؤنث ہیں تو برابری ضروری ہے، اور اگر وہ مذکر و مونث دونوں ہوں تو پھر ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِ الْأَنْقَيَيْنِ﴾ کے مطابق مال تقسیم ہو گا۔ [كشف اللثام للسفاريني: 77/5]
پھر تمام ائمہ کا اولاد میں سے کسی ایک کو ہبہ کے لیے خاص کرنے یا ایک کو دوسرے پر فضیلت دینے کے مکروہ ہونے پر اتفاق ہے، البتہ اس کی تحریم میں اختلاف ہے: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حرام نہیں ہے، جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنے مال کا کچھ حصہ اپنے کسی بچے کو دیتا ہے تو جائز ہے، لیکن اگر وہ سارا مال دے دیتا ہے تو مکروہ ہے۔ [الافصاح لابن هبيرة: 57/2]
امام سفارینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق امام احمد بنانے احمد ہی کا مذہب بھی اس کی حرمت ہی کا ہے۔ [كشف اللثام للسفاريني: 78/5]
(286) صحيح البخارى، كتاب الهبة ، باب الاشهاد فى الهبة ، ح: 2787 – صحيح مسلم ، كتاب الهبات ، باب كراهة تفضيل بعض الأولاد فى الهبة ، ح: 1623

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل