امام ابوالحسن العجلی رحمہ اللہ کی توثیق اور علمی مقام

تحریر: حافظ زبیر علی زئیؒ

امام ابوالحسن العجلی رحمہ اللہ

نام و نسب :

ابوالحسن احمد بن عبد الله بن صالح بن مسلم بن صالح العجلي الكوفى الاطر ابلسی.

ولادت :

۱۸۲ھ بمقام کوفہ (العراق)

اساتذہ :

شبابه بن سوار، محمد بن جعفر عرف غندر،حسین بن علی الجعفی ، ابو داود عمر بن سعد بن عبید الحفری ، ابو عامر عبدالملک بن عمرو العقدی القیسی ، محمد بن عبید الطنافسی ، یعلی بن عبید الطنافسی اور محمد بن یوسف الفریابی وغیر ہم رحمہم اللہ .

تلامذہ :

صالح بن احمد بن عبدالله بن صالح العجلی ، سعید بن عثمان بن سعید التجیبی الاندلسی، محمد بن فطیس بن واصل الغافقی الالبیری ، ابو عثمان سعید بن خمیر بن عبدالرحمن القرطبی، ابو محمد قاسم بن محمد بن قاسم بن محمد بن سیار القرطبي البيانی صاحب کتاب الایضاح في الرد على المقلدین ، ابوسعید عثمان بن جریر بن حمید الکلابی البیری اور عبداللہ بن محمد بن ابی الولید القرطبی و غیر ہم رحمہم اللہ .

تصانيف :

معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث و من الضعفاء و ذكر مذاهبهم و أخبارهم يعني كتاب التاريخ أو كتاب الثقات ، كتاب الجرح والتعديل ، سوالات أبي مسلم صالح بن أحمد العجلي لأبيه / ولعله كله كتاب واحد والله أعلم .

توثیق اور علمی مقام :

امام عجلی کے ثقہ اور جلیل القدر صحیح العقیدہ عالم ہونے پر اجماع ہے۔

➊امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے احمد بن عبد اللہ بن صالح بن مسلم الحجلی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا :
” هو ثقة ابن ثقة ابن ثقة “
وہ ثقہ ہیں، اُن کے والد ثقہ ہیں، اُن کے دادا ثقہ ہیں۔
(تاریخ بغداد۴ ۲۱۵٫ت ۱۹۰۶، وسندہ صحیح)

➋امام عباس بن محمد الدوری رحمہ اللہ نے فرمایا :
” إنا كنا نعده مثل أحمد بن حنبل و یحیی بن معین “
ہم انھیں احمد بن حنبل اور یحیٰی بن معین کی طرح شمار کرتے یعنی سمجھتے تھے۔
(تاریخ بغداد ۲۱۴/۴ وسندہ صحیح)

➌ابو الحسن علی بن احمد بن زکریا بن الخصيب الاطر ابلسی نے صالح بن احمد بن عبداللہ العجلی کے بارے میں فرمایا :
هو ثقة ابن ثقة ابن ثقة
وہ ثقہ ہیں ، ثقہ کے بیٹے ہیں، اُن کے دادا ثقہ تھے ۔
(تاریخ بغداد ۲۱۴/۴ وسندہ صحیح)
اور فرمایا:
ابن حنبل اور ابن معین دونوں اُن سے (روایات وغیرہ) لیتے تھے۔
(تاریخ بغداد ۲۱۴/۴ وسندہ صحیح)

➍ولید بن بکر الاندلسی رحمہ اللہ نے فرمایا :
كان أبو الحسن أحمد بن عبدالله بن صالح الكوفي من أئمة أصحاب الحديث الحفاظ المتقنين من ذوى الورع والزهد.
ابوالحسن احمد بن عبدالله بن صالح الکوفی اصحاب الحدیث کے اماموں ، زہد اور پر ہیزگاری والے ثقہ متقن حفاظ میں سے تھے۔
(تاریخ بغداد ۲۱۴/۴ وسندہ صحیح)

➎خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے فرمایا:
و كان دينا صالحًا
وہ نیک ( اور ) دیندار تھے ۔
(تاریخ بغداد ۲۱۴/۴ وسندہ صحیح)

➏مالک بن عیسی القفص المغربی رحمہ اللہ نے انھیں حدیث کا سب سے بڑا عالم قرار دیا۔
(تاریخ بغداد ۲۱۴/۴ وسندہ صحیح)

➐ شمس الدین ابو الخیر محمد بن محمد بن الجزری رحمہ اللہ (متوفی ۸۳۳ھ) نے فرمایا:
نزيل طرابلس المغرب ، إمام علامة مشهور ثقة،روى القراءة عن أبيه
وہ مغرب کے طرابلس میں آباد ہو گئے تھے، امام علامہ مشہور ثقہ، انھوں نے اپنے والد سے قراءت روایت کی۔
(غایة النہایہ فی طبقات القراء ۷۳/۱ت ۳۲۳)

➑حافظ ذہبی نے فرمایا:
الإمام الحافظ القدوة
(تذکرة الحفاظ ۵۶۰/۲ت ۵۸۲)

اور فرمایا :
الإمام الحافظ الأوحد الزاهد
(سیر اعلام النبلا ۵۰۵/۱۲)

حافظ ذہبی نے امام عجلی کی کتاب الجرح والتعدیل (یعنی التاریخ/الثقات) کے بارے میں فرمایا :
وله مصنف مفيد في الجرح والتعديل طالعته و علقت منه فوائد تدل على تبحره بالصنعة وسعة حفظه
اور جرح و تعدیل میں اُن کی مفید کتاب ہے، میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے اور اس سے فوائد لکھے ہیں جو اس فن میں اُن کی بہت زیادہ مہارت اور وسعت حفظ پر دلالت کرتے ہیں ۔
(النبلاء ۵۰۶/۱۲)

➒ابن ناصر الدین الدمشقی رحمہ اللہ (متوفی ۸۴۲ھ) نے فرمایا:
كان إماما حافظًا قدوة من المتقنين و كان يعد كأحمد بن حنبل و يحيى ابن معين و كتابه فى الجرح والتعديل يدل على سعة حفظه وقوة باعه الطويل.
آپ امام حافظ مقتدا تھے متقنین (ثقہ و ثبت راویوں) میں سے تھے ، آپ کو احمد بن حنبل اور یحیٰی بن معین کی طرح سمجھا جاتا تھا، جرح و تعدیل میں آپ کی کتاب آپ کی وسعت حفظ اور بہت بڑی مہارت کی دلیل ہے۔
(شذرات الذهب ج ۲ ص ۱۴۱)

➓صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی نے جرح و تعدیل میں امام عجلی کی کتاب کے بارے میں کہا : اور یہ کتاب مفید ہے، اُن کی امامت اور وسعت حافظہ پر دلالت کرتی ہے۔
(الوافی بالوفیات ۵۱۷۷ت ۶۷۴)

مزید حوالوں کے لئے دیکھئے طبقات الحفاظ للسیوطی (ص ۲۴۶ ت ۵۴۷ ) و غیره

تنبیہ :

ہمارے علم کے مطابق چودھویں صدی ہجری سے پہلے کسی عالم نے بھی امام عجلی کو متساہل نہیں کہا بلکہ سب کا اُن کی توثیق و تعریف پر اجماع ہے اور یہ بھی باحوالہ بیان کر دیا گیا ہے کہ بڑے بڑے علماء انھیں امام احمد بن حنبل اور امام یحیٰی بن معین رحمہما اللہ جیسا بڑا امام مانتے تھے لہذا انھیں ذہبی عصر علامہ معلمی یمانی رحمہ اللہ اور اُن کے پیروکاروں کا متساہل قرار دینا غلط ، باطل اور مردود ہے۔

وفات :

آپ ۲۶۱ھ میں اطرابلس (المغرب یعنی مراکش) میں فوت ہوئے اور آپ کی قبر وہاں پر ساحل کے ساتھ ہے اور آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے صالح کی قبر ہے۔ رحمہما اللہ

(۲۱ / اپریل ۲۰۱۰ء)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: