اراکین اسلام

تحریر : فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالستار الحماد حفظ اللہ

بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی شہادت کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ “ [صحيح بخاري/النكا ح : 5076 ]
فوائد :
اس حدیث کا سبب بیان یہ ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک حکیم نامی شخص آیا اور کہنے لگا : اے ابو عبدالرحمٰن ! کیا وجہ ہے کہ آپ ایک سال حج پر جاتے ہیں تو دوسرے سال عمرہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ نے جہاد کوچھوڑ رکھا ہے حالانکہ آپ کو اس کی اہمیت کا بخوبی علم ہے ؟ اس اعتراض کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ (یعنی اس میں جہاد کا ذکر نہیں ہے۔) [صحیح بخاری التفسیر : 4514]
ارکان اسلام میں جہاد کا ذکر نہیں ہوا حالانکہ دین اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ اس لئے کہ جہاد فرض کفایہ ہے جو مخصوص حالات میں فرص عین قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اسلام صرف ان پانچ بنیادی چیزوں ہی کا نام نہیں بلکہ شریعت کے تمام اوامر و نواہی اسلام کا جزو ہیں۔
محدثین کے نزدیک ایمان اور اسلام ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں جیسا کہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دین قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
” یقیناً دین، اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے۔ “
ان میں فرق کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان کے دو احوال ہیں۔ ایک کا تعلق باطن سے ہے اور دوسرے کا ظاہر سے، ایمان یہ باطنی امر ہے اور اسلام کا تعلق ظاہری احوال سے ہے۔ کسی کی نماز، روزے کی پابندی اور ان سے حج کی ادائیگی کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ پکا مسلمان ہے۔

مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ
”جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو (دوزخ کی) آگ پر حرام کر دیتا ہے۔“
فوائد :
حدیث میں شہادتیں کو صدق دل سے ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔
غزوہ تبوک کے موقع پر جب زاد سفر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک معجزہ کا ظہور ہو ا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور میں اس کا رسول ہوں۔ “ پھر فرمایا : ” جس شخص نے بایں حالت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی کہ اس شہادت کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار نہ ہوا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔ “
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ بندہ جب اپنی زبان سے دل کی گہرائی کے ساتھ اس بات کو تسلیم کرے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے فرستادہ ہیں اور وہ جو کچھ بھی اپنے رب کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ وہ حق اور سچ ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے تو مومن شمار کیا جائے گا اور قیامت کے دن وہ ضرور جنت کا حقدار ہو گا۔ اس اقرار کے لیے کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله کو بطور عنوان مقرر کیا گیا ہے یعنی دین اسلام میں داخل ہونے کے لئے اخلاص کے ساتھ شہادتین کا زبانی اقرار یا اقرار کے قائم مقام کوئی اقدام کافی ہے۔
واضح رہے کہ لا اله الا الله کی گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت الوہیت میں یگانہ، اپنی ذات میں وحدہ لا شریک اور احکام و افعال میں بےمثل ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو احکام شریعت لے کر آئے ہیں۔ ان کا دل و جان سے اقرار و تصدیق کی جائے اور ان پر عمل پیرا ہونے، عزم بالجزم کیا جائے۔ والله اعلم

صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي
”جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اسی طرح نماز پڑھا کرو۔“ [صحيح بخاري /الادب : 6008 ]
فوائد :
اس حدیث کا پس منظر حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم چند ایک نوجوان ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نماز سیکھنے کے لئے حاضر ہوئے اور بیس دن تک آپ کے ہاں قیام کیا۔ آپ انتہائی نرم دل اور بڑے مہربان تھے۔ جب آپ نے خیال کیا کہ ہمیں اپنے اہل خانہ کا شوق بے چین کر رہا ہے تو آپ نے ہم سے ان کی احوال پرسی فرمائی۔ ہم نے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا تو اس وقت آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم واپس اپنے اہل خانہ کی طرف لوٹ جاؤ اور انہیں دین کی تعلیم دو اور اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [صحيح بخاري، الادب : 6008 ]
نماز کے متعلق مذکورہ امر نبوی وجوب کے لئے ہے جس کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اس امر نبوی میں وہ تمام اعمال آ جاتے ہیں جو تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک بجا لائے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہو ا کہ نماز کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر ادا کو بجا لانا ضروری ہے۔ اس سے نماز کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے :
” جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ ایسا مسلمان ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ حاصل ہے۔ “ [صحيح بخاري/الصلاة : 391 ]
قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا۔ اگر اس میں کامیابی ہوئی تو آگے حساب چلے گا بصورت دیگر اسے ناکام قرار دے کر یہیں روک لیا جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
” لوگو ! قیامت کے دن لوگوں سے نماز کا حساب پہلے لیا جائے گا۔“ [مسند امام احمد ص : 425، ج 2]

بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان سے خیرخواہی کرنے پر بیعت کی۔ “ [صحيح بخاري/الايمان : 57 ]
فوائد :
اس حدیث سے راوی حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں جو اپنی قوم کے سردار تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام میں داخل ہوئے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ان سے مذکورہ امور کی ادائیگی کے لئے بیعت لی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دین اسلام میں نماز اور زکوٰۃ کا معاملہ کس قدر اہم ہے۔ اسلام لانے کے بعد پہلی ذمہ داری نماز کی ادائیگی ہے کیونکہ یہ بدنی عبادات کی اصل ہے۔ پھر دیانتداری کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنا ہے کیونکہ یہ مالی عبادات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ بیعت لیتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ بھی تلقین کئے کہ میں ان باتوں پر حتیٰ المقدور عمل کروں گا۔ [صحيح بخاري/الاحكام : 720]
قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم کیا گیا کہ آپ لوگوں کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک صاف کر دیں اور ان کے لئے دعا رحمت کریں کیونکہ آپ کی دعا ان کے لئے باعث تسکین ہوگی۔ [التوبه : 103 ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جنگ کی اور فرمایا :
”اللہ کی قسم ! جو شخص نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا تو میں اس سے ضرور قتال کروں گا کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر انہوں نے بھیڑ کا بچہ جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ مجھے دینے سے انکار کیا تو میں اس کے انکار پر بھی جنگ کروں گا۔“ [صحيح بخاري/الزكاة : 1399]
ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”اے آدم کے بیٹے ! تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ [صحيح بخاري : 5352 ]

وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
”جس شخص نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے “ [صحيح بخاري/الصوم : 1901 ]
فوائد :
اس حدیث میں رمضان کے روزے کو گناہوں کی معافی کے لئے اور ایمان و احتساب کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے، احتساب کا معنی اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھنا ہے۔ ایمان اور احتساب لازم و ملزوم نہیں ہیں کہ ایک کا ذکر دوسرے کے لئے کافی ہو، کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ عمل تو ایمان کا ہے مگر فاعل کی نیت میں اخلاص نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک عمل بڑے اخلاص سے کیا جاتا ہے مگر یہ ایمان کے پیش نظر نہیں بلکہ عامل کا اپنا طبعی رجحان ہوتا ہے۔ بہرحال رمضان کے روزے کے لئے ایمان اور احتساب کا ہونا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ گناہوں کی معافی میں حقوق العباد شامل نہیں ہیں، کیونکہ اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ حقوق العباد، حقداروں کی رضامندی سے ہی ساقط ہو سکتے ہیں۔ قیامت کے دن حقداروں کی برائیاں لے کر اور اپنی نیکیاں دے کر ان کی تلافی ممکن ہے الا یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے ثواب دے، کسی کو راضی کر دے۔ حدیث میں روزے کا ایک اور خاصہ بھی بیان ہوا ہے کہ گناہوں سے بچنے کے لئے روزہ ڈھال ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ” روزہ ڈھال ہے۔ “ [صحيح بخاري/التوحید : 7492]
ایک حدیث میں ہے کہ جس روز تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو فحش گوئی اور ہذیان سے اجتناب کرے اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا چاہے تو وہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ [صحيح بخاري/الصوم : 1904 ]
ایک حدیث میں ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک دروازے کا نام ”ریان“ ہے۔ اس سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے۔ [صحيح بخاري/بد الخلق : 3257 ]

الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ
” حج مبرور کی جزا جنت ہی ہے۔ “ [صحيح بخاري/العمرة : 1773 ]
فوائد :
حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جو ریا کاری اور گناہوں کی آلائش سے پاک ہو۔ اس کی علامت یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے معمولات پہلے بنا لے چنانچہ ایک دوسری حدیث میں اس بات کو ایک دوسرے انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کار ارشاگرامی ہے :
” جو شخص اللہ کے لئے حج کرے۔ پھر نہ گناہ کا کام کرے، نہ فحش گوئی گوئی اختیار کرے تو وہ اس روز کی طرح واپس ہوتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔ “ [صحيح بخاري، الحج : 1521]
بہرحال جو شخص بھی حلال یا پاکیزہ کمائی لے کر خالص نیت سے حج کے لئے نکلتا ہے اور کسی قسم کی غلط حرکت نہیں کرتا۔ اس کے تمام صغیرہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو کر واپس آتا ہے جیسے نومولود بچہ اس دنیا میں بالکل پاک صاف آتا ہے۔ خواتین کے لیے حج بیت اللہ کو جہاد قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” تمہارا جہاد حج بیت اللہ ہے “ [صحيح بخاري/الجها د : 2875 ]
خواتین کے لئے دوران احرام نقاب پر پابندی ہے البتہ اپنی چادر کے ساتھ اجنبی مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ حج کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔“ [صحيح مسلم/الحج : 3137]
بہرحال نماز اور زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی صفت جلال پر متفرع ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں انتہائی ادب سے ادا کیا جائے۔ معمولی سی کوتاہی سے یہ آبگینہ سبوتاژ ہو سکتا ہے اور حج و روزہ اللہ تعالیٰ کی صفت جمال کے آئینہ دار ہیں اس کا تقاضا ہے کہ انہیں فریفتگی اور دیوانہ وار ادا کیا جائے۔ والله اعلم

أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
” قیامت کے دن تو اسی کے ساتھ ہو گا جس سے تجھے محبت ہے۔ “ [صحيح بخاري/الادب : 6171]
فوائد :
اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تو نے قیامت کے لئے تیاری کر رکھی ہے ؟“ اس نے عرض کیا کہ میری زیادہ نمازیں، کثرت سے روزے اور زیادہ صدقہ و خیرات تو نہیں البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت کے دن تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے۔ “
اس سے بندے کی اللہ سے محبت اور اس کی حیثیت کا پتہ چلتا ہے کہ یہ محبت کتنی گراں قدر ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ہم بھی اسی طرح ہوں گے ؟ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے محبت کرنے میں تمہیں بھی یہ صلہ ملے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دن ہم بہت خوش ہوئے۔ [صحيح بخاري، الادب : 6167]
ایک دوسری روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے جذبات کا اظہار بایں الفاظ کرتے ہیں۔
” میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میں ان کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میں ان جیسے اعمال تو نہیں کر سکا تاہم مجھے ان سے محبت ضرور ہے۔ “ [صحيح بخاري/فضائل : 3688 ]
بندے کی اللہ سے محبت کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت فرمانبرداری ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
” اے نبی ! آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کے دعوے دار ہو تو میری پیروی اختیار کر لو۔ “ [آل عمران : 31]

مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ
” جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ “ [صحيح مسلم/الذكر : 6820 ]
فوائد :
جو بندہ مومن موت سے پہلے اللہ کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری کی وجہ سے جنت میں تیار کردہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور بہاروں کو دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تاکہ جلدی ان نعمتوں کو حاصل کر لے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتے ہیں۔ اس امر کی وضاحت ایک حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم، الذكر : 6822]
جب بندے کی اللہ سے محبت ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں اس کی صراحت ہے۔ [ آل عمران : 31 ]
ایک دوسری حدیث میں اللہ کی بندے سے محبت کا ثمرہ بایں الفاظ بیان ہوا ہے۔
”جب اللہ بندے سے محبت کرتے ہیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بلاتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ مجھے فلاں سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت کر تو جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام اہل آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتے ہیں۔ تم سب اس محبت کرو۔ یہ سن کر آسمان میں رہنے والے فرشتے اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر اس شخص کی محبت اور مقبولیت اہل زمین میں رکھ دی جاتی ہے۔ “ [صحيح بخاري، بدء الخلق : 3209]
ایک جنگی قیدی عورت کا شیر خوار بچہ گم ہو گیا تو وہ پریشان ہو کر اسے تلاش کرنے لگی۔ جب بچہ مل گیا تو اسے چھاتی سے چمٹا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا : ”کیا یہ ممکن ہے کہ یہ خاتون اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں آگ میں پھینک دے ؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا۔ یہ ناممکن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شفقت اور محبت اس خاتون کے دل میں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ پیار اور محبت اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/التوبه : 6989]

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
” تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میری ذات اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو۔ “ [صحيح بخاري/الايمان :15]
فوائد :
ایمان کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ جس انسان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو گی، وہی اسلام کے دیگر احکام پر عمل کر سکے گا اور اسی محبت سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ محبت کی دو اقسام ہیں :
➊ طبعی محبت : انسانی طبیعت میں کسی چیز کی چاہت پیدا ہو اور یہ غیر اختیاری ہوتی ہے۔ اس قسم کی محبت معیار ایمان نہیں ہے۔
➋ شرعی محبت : شرعی لحاظ سے کسی چیز کے متعلق الفت پیدا ہو جائے۔ اس محبت میں ارادہ اور اختیار شامل ہوتا ہے۔ ایمان کا دارومدار سی محبت پر ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ جب کسی سے شرعی محبت ہوتی ہے تو اس میں طبعی محبت ہی آ جاتی ہے البتہ شرعی محبت کا تقاضا ہے کہ ٹکراؤ کی صورت میں شرعی محبت غالب آنی چاہئیے۔ حدیث بالا کے پیش نظر محبت کی مزید تین اقسام یہ ہیں :
➊ محبت تعظیم، جیسے والد اور استاد سے کی جاتی ہے۔
➋ محبت شفقت، جیسے اولاد سے کی جاتی ہے۔
➌ محبت استحسان، جو عام انسانوں سے کی جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں تمام اصناف محبت کو جمع کر دیا ہے کہ اس وقت تک ایمان کی تکمیل نہیں ہو گی جب تک ان تمام سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ ہو۔
دوسری حدیث میں اپنے نفس کی محبت کا بھی ذکر ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کی محبت میرے دل میں ہر چیز سے زیادہ ہے مگر میں اپنے نفس کی محبت زیادہ محسوس کرتا ہوں۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے عمر ابھی کمی ہے۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی محبت میرے دل میں میرے نفس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ سن کر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے عمر اب ایمان کی تکمیل ہوئی ہے۔“ [صحيح بخاري، الايمان و النزور : 6682]

مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ
” جس نے میری اطاعت کی۔ اس نے گویا اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ “ [صحيح بخاري/الاحكام : 7137]
فوائد :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے مستند نمائندے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانوں کے لئے نمونہ بنا کر بھیجا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
” تمہارے لئے اللہ کے رسول ایک بہترین نمونہ ہیں۔ “ [الاحزاب : 20]
اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں واضح طور پر فرمایا ہے :
” جس نے رسول کی اطاعت کی۔ اس نے گویا اللہ کی اطاعت کی۔ “ [النساء : 80]
اپنے معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت انتہائی ضروری ہے۔ ان کی خلاف ورزی پر سخت وعید آئی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سر عدولی کرنے والوں کو ڈرنا چاہئیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے۔ “ [ النور : 63]
ایک حدیث میں اطاعت نبوی کی حیثیت کو مزید اجاگر کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے وگر جس نے انکار کر دیا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ وہ کون ہے جو انکار کرے گا ؟ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گا۔ وہ جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے گویا انکارکر دیا۔ “ [صحيح بخاري، الاعتصام : 7280 ]

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
” جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی راہ نکالی جو دین سے نہیں وہ مردود ہے۔ “
فوائد :
لغوی طور پر ہر نئے کام کو بدعت کہا جاتا ہے لیکن شریعت میں بدعت یہ ہے کہ کتاب و سنت میں جس کی کوئی بنیاد نہ ہو اور قرون ثلاثہ کے بعد اسے دین کا حصہ بنا دیا جائے۔ اللہ کے ہاں ایسے کام انتہائی ناپسندیدہ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔ “ [صحيح مسلم/الاقضية : 4493]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :
” سب سے اچھی بات اللہ کی بات ہے اور سب سے اچھا طریقہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ نیز برے کام وہ ہیں جو دین میں نئے پیدا کردہ ہوں۔ “ [صحيح بخاري/الاعتصام : 7277]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرکا ت و بدعات سے دور رہنے کی تلقین کی ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” دین میں نئے کام جاری کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ “ [مسند احمد : 126؛ ج 4]
ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم ہے لیکن اگر ہم غیر مشروع طریقہ سے عبادت کریں گے تو ایساکرنا بدعت ہو گا اس کی چند ایک اقسام ہیں :
➊ نفس عبادت ہی بدعت ہو جیسے کوئی عبادت ایجاد کرے جس کی شریعت میں کوئی بنیاد نہیں جیسے عید میلاد۔
➋ مشروع عبادت میں اضافہ کرنا جیسے ظہر یا عصر کی نماز میں پانچویں رکعت کا اضافہ کرنا۔ عبادت مشروع ہو لیکن اس کی ادائیگی کا طریقہ غیر شرعی ہو جیسے اذکار کو اجتماعی آواز سے پڑھنا۔
مشروع عبادت کو خاص وقت میں ادا کرنا جیسے پندرہ شعبان کو نماز کا خصوصی احتمام کرنا۔ بہرحال دینی معاملات میں ہر نیا کام بدعت ہے اور بدعت گمراہی کا پیش خیمہ ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: