احکام و فضائل تراویح ، لیلۃ القدر ، اعتکاف ، صدقۂ فطر

 

170۔ تراویح :
تراویح، تہجد، قیام رمضان، قیام اللیل، صلاۃ الوتر پانچوں ایک ہی عبادت ہیں اور عشاء کے بعد سے لے کر سحری کے وقت تک پڑھی جا سکتی ہیں۔ ان کا جماعت کے ساتھ پڑھنا، تنہا مسجد یا گھر میں آخر رات میں پڑھنے سے افضل ہے۔ تراویح کی رکعات کی بابت عائشہ رضی اللہ عنہ کی درج ذیل روایت نص صریح ہے :
عن أبى سلمة أنه سأل عائشة كيف كان صلوٰة رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فقالت : ماكان يزيد فى رمضان ولافي غيره على إحدي عشرة ركعة [صحيح البخاري : كتاب صلوٰة التراويح باب 1، صحيح مسلم : كتاب صلوٰة المسافرين و قصرهاباب صلوٰة الليل ]
’’ ابوسلمہ سے مروی ہے کہ انہو ں نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ کیسی تھی تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ “
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں :
صلي بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى شهر رمضان ثمان ركعات و الوتر [ابن خزيمة : كتاب الصلوٰة باب ذكر الدليل بأن الوتر ليس بفرض ]
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو رمضان کے مہینہ میں آٹھ رکعت تراویح اور وتر پڑھائی۔ “
بیس رکعات کی کوئی روایت یا اثر صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور میں جب تراویح باجماعت کا حکم ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو دیا تو گیارہ رکعت ہی کا حکم دیا تھا۔ [مؤطا امام مالك كتاب الصلوة باب ماجاء فى قيام رمضان]
صلاۃ التراویح میں بھی دوسری صلاۃ کی طرح قرآن نہایت سکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ ختم قرآن کی فکر میں قرآن کی قرأت میں جلد بازی صحیح نہیں ہے۔

171۔ لیلۃ القدر :
لیلۃ القدر بڑی عزت و حرمت کی رات ہے۔ اسی رات میں اللہ کا آخری کلام قرآن مجید لوح محفوظ سے سماء دنیا کی طرف اترا۔ اس رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ ارشاد باری ہے :
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ٭ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ٭ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ٭ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ٭ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [القدر : 1۔ 5 ]
’’ یقیناًً ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل فرمایا، آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (میں ہر کام )کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے )۔ “

اس لیے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس رات میں تسبیح و تہلیل، ذکر و عبادت، تلاوتِ قرآن اور صلاۃ تراویح کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات میں کثرت سے :
اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني [مسند أحمد، مسند عائشه باب 17 ]
’’ اے اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے، پس میرے گناہوں کو معاف فرما دے۔ “
پڑھنے کی تعلیم دی ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر میں شبِ قدر پاؤں تو کیا پڑھوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا سکھائی۔
لیلۃ القدر جو اتنی فضیلت والی رات ہے اس کو پانے کے لیے آدمی کی تلاش کب ہو اس بارے میں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے درج ذیل حدیث مروی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یوں ہیں :
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تحرواليلة القدر فى العشر الأواخر من رمضان [صحيح مسلم : كتاب الصيام، باب فضل ليلة القدر و الحث على طلبها ]
’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ “
جب کہ صحیح بخاری میں طاق راتوں کی صراحت ہے :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : تحرواليلة القدر فى الوتر من العشر الأواخر من رمضان [صحيح البخاري : كتاب فضل ليلة القدر باب تحري ليلة القدر فى الوتر من العشر الأواخر ]
’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ “
نیز ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت یوں مروی ہے :
. . . قال (النبي صلى الله عليه وسلم) إني أريت ليلةالقدر ثم أنسيتهافالتمسوهافي العشر الأواخر فى الوتر . . . الحديث [صحيح البخاري : كتاب فضل ليلة القدر، باب التماس ليلة القدر فى السبع الأواخر، صحيح مسلم : كتاب الصيام باب فضل ليلة القدر و الحث على طلبها ]
’’ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ مجھے لیلۃ القدر (رات کی تعیین کے ساتھ) دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی (بھلائے جانے کاسبب دو آدمیو ں کا جھگڑا تھا جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے ) لہٰذا تم اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ “
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر رات کی تعیین کے بغیر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے لہٰذا اسے تمام طاق راتوں میں تلاش کرنا چاہئے۔ بعض لوگوں نے اس کو ستائیسویں رات کے ساتھ خاص کر رکھا ہے جو کسی طور بھی صحیح نہیں، بعض احادیث میں ستائیسویں رات کا تذکرہ آتا ضرور ہے لیکن یہ ویسے ہی ہے جیسے دیگر روایات میں دوسری راتوں کا تذکرہ ہے۔ نیز ممکن ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں کسی سال لیلۃ القدر ستائیسویں رات کو ہوئی ہو۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات کو ہی ہوتی ہے درست نہیں۔ اور مذکورہ فرامین رسول کی روشنی میں آخری عشرہ کی تمام طاق راتوں میں اس کی تلاش ہونی چاہئے۔
آخری عشرہ میں شب بیداری کی مروجہ صورتیں یعنی وعظ و تقریر کا اہتمام، شبینے، صلوۃ التسبیح باجماعت، دعاء ختم قرآن کا اہتمام، چراغاں اور زیادہ لائٹیں جلانا، اس موقع پر شیرینی کی تقسیم وغیرہ کا ثبوت خیر القرون میں نہیں بلکہ ائمہ سلف سے ان چیزوں کی ممانعت منقول ہے۔ امام ابوبکر محمد بن ولید طرطوشی (متوفی 520ھ) لکھتے ہیں :
لم يرووافي شئ من ذلك ما أحدثه الناس من هذه البدع نصب المنابر عند ختم القرآن و القصص وغيره ابل قد حفظ النهي عن ذلك [كتاب الحوادث و البدع 52 ]
’’ یعنی محدثین نے کتب ستہ وغیرہ میں ایسی کوئی روایت بیان نہیں کی کہ رمضان میں ختم قرآن کے موقع پر وعظ کیے جائیں اور اس کے بعد بلند آواز سے لمبی لمبی دعائیں کی جائیں بلکہ ائمۂ سلف سے تو ان چیزوں کی ممانعت منقول ہے۔ “

172۔ اعتکاف :
عبادت کی نیت سے مسجد میں گوشہ نشین ہونا اعتکاف کہلاتا ہے، رمضان کے پورے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتي توفاه الله عزوجل ثم اعتكف أزواجه من بعده [ صحيح البخاري أبواب الاعتكاف باب 1، صحيح مسلم كتاب الاعتكاف ]
یعنی ’’ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ رمضان کے آخری دہے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے تاآنکہ آپ وفات پا گئے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اعتکاف فرماتی تھیں۔ “
جو شخص رمضان کے آخری دہے میں اعتکاف کرنا چاہتا ہو اسے بیسویں رمضان کو دن کے آخری حصے میں آفتاب غروب ہونے سے پہلے مسجد میں پہنچ جانا چاہئے اور اکیسویں تاریخ کی رات مسجد میں گزارنی چاہئے، مرد، عورتیں، نابالغ بچے بھی اعتکاف کر سکتے ہیں، لیکن عورتوں کو شوہر کی اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ اعتکاف مسجد میں کرنا چاہئے، عورت بھی مسجد میں اعتکاف کر سکتی ہے مگر اس کے لیے شوہر یا ذی محرم کا ہونا ضروری ہے۔

173۔ اعتکاف کے ممنوعات :

بیوی سے بوس و کنار اور صحبت کرنا، جنازہ اٹھانے یا صلاۃ جنازہ پڑھنے یا بیمار کی تیمارداری یاعیادت کرنے کے لیے نکلنا، لیکن اگر معتکف قضاء حاجت کے لیے باہر جائے اور راستہ میں کوئی بیمار مل جائے تو اس سے حال چال پوچھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
السنة على المعتكف أن لايعود مريضاو لايشهد جنازة و لايمس امرأة و لايباشرهاو لايخرج لحاجة إلالمالابد منه [أبوداؤد، كتاب الصيام باب المعتكف ]
یعنی ’’ معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ کسی بیمار کی عیادت نہ کرے اور نہ کسی جنازہ میں حاضر ہو اور نہ عورت کو چھوئے اور نہ مباشرت کرے، نہ ناگزیر ضرورتوں (مثلاً پیشاب پاخانہ وغیرہ ) کے سوا کسی اور کام سے باہر نکلے۔ “

174۔ صدقۂ فطر :
صوم کی حالت میں انسان سے جو غلطیاں اور لغزشیں سرزد ہو جاتی ہیں اور زبان سے بے ہودہ اور لغو باتیں نکل جاتی ہیں، اس سے صوم میں ایک طرح کا عیب اور نقص پیدا ہو جاتاہے، اس نقص کی تلافی کے لیے شریعت نے ایک خاص قسم کا صدقہ دینے کی تاکید فرمائی ہے، جس کو شرعی اصطلاح میں صدقۃ الفطر کہا جاتا ہے۔ صدقۂ فطر دیگر فرائض کی طرح ایک فریضہ ہے جو امیر، غریب، غلام، آزاد، مرد، عورت، بالغ، نابالغ سب پر فرض ہے ایک روایت میں ہے :
صوم شهر رمضان معلق بين السماء و الأرض و لايرفع إلابزكاة الفطر [الترغيب : كتاب الصوم باب الترغيب فى صدقة الفطر ]
’’ رمضان کے صیام آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تک صدقۂ فطر ادا نہ کر دیا جائے وہ بارگاہ الٰہی تک نہیں پہنچتے۔ “
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكوٰة الفطر [ابن ماجه كتاب الزكوٰة باب صدقة الفطر ]
’’ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کو واجب قرار دیا ہے “۔
صدقۂ فطر کے لیے صاحب نصاب ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ امیر و غریب سب پر یکساں فرض ہے۔ ابن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض زكوة الفطر من رمضان صاعامن تمر أو صاعامن شعير على كل حر أو عبد ذكر أو أنثي من المسلمين [ابوداؤد : كتاب الزكوٰة، باب زكوٰة الفطر ]
’’ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کو ہر مسلم آزاد و غلام اور مرد و عورت پر واجب قرار دیا ہے جس کی مقدار کھجور یا جو کا ایک صاع ہے “۔
صدقۂ فطر صلاۃ عید سے پہلے ادا کر دینا چاہئے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بزكوٰة الفطر قبل خروج الناس إلى الصلوٰة [صحيح البخاري : كتاب الزكوٰة باب 76 ]
’’ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے صلاۃ عید کے لئے نکلنے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کر دینے کا حکم دیا ہے “۔
اگر صدقۂ فطر صلاۃ العید کے بعد ادا کیا گیا تو ادا نہیں ہو گا، بلکہ وہ مطلق صدقہ و خیرات کے حکم میں ہو گا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
فمن أداهاقبل الصلوٰة فهي زكوٰة مقبولة و من أداهابعد الصلوٰة فهي صدقة من الصدقات . [أبوداؤد : كتاب الزكوٰة، باب زكاة الفطر ]

175۔ مقدار صدقۂ فطر :
صدقۂ فطر اگر جو یا کھجور یا پنیر یا خشک انگور سے دینا ہو تو اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کی مقدار ایک صاع ہے۔ گیہوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح مرفوع روایت ثابت نہیں، لیکن دور نبوی میں بلاتفریق و امتیاز ہر جنس سے ایک صاع ہی اداکیا جاتا تھا۔ اس لیے گیہوں سے بھی ایک صاع (تقریباً دو کلو 176 گرام) ہی دینا چاہئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام سے صدقۂ فطر میں غلہ کے بدلے قیمت دینا ثابت نہیں۔

 

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل