میت کے غسل میں ترتیب اور شہید کے لیے غسل کا حکم
تحریر: عمران ایوب لاہوری

داہنے اعضاء کو پہلے دھویا جائے اور شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا:
ابدأن بـمـيـا منهـا ومواضع الوضوء منها
”دائیں جانب سے اور اعضائے وضوء سے غسل شروع کرو ۔“
[بخاري: 1255 ، كتاب الجنائز: باب يبدأ بميا من الميت]
➊ شہدائے احد کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
و امر بد فنهم فى دمائهم ولم يصل عليهم ولم يغسلهم
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا ، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی اور نہ ان کو غسل دیا۔“
[بخاري: 1347 ، كتاب الجنائز: باب من يقدم فى اللحد ، ترمذي: 1041 ، نسائي: 62/4 ، ابن ماجة: 1514 ، أحمد: 431/5 ، بيهقي: 14/4]
➋ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو حلق میں تیر لگا اور وہ مر گیا :
فأدرج فى ثيابه كما هو قال ونحن مع رسول الله
”اسے اس کے اپنے کپڑوں سمیت کہ جن میں وہ تھا دفن کر دیا گیا اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ “
[حسن: صحيح أبو داود: 2687 ، كتاب الجنائز: باب فى الشهيد يغسل ، أبو داود: 3133 ، امام شوكانيؒ فرماتے هيں كه اس كي سند مسلم كي شرط پر هے۔ نيل الأوطار: 678/2 ، حافظ ابن حجرؒ سے بهي يهي قول مروي هے۔ تلخيص الحبير: 240/2]
➌ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
لا تغسلوهم فإن كل جرح يفوح مسكا يوم القيمة ولم يصل عليهم
”انہیں غسل نہ دو کیونکہ روز قیامت (ان کا ) ہر زخم خوشبو پھینک رہا ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی ۔“
[صحيح: أحكام الجنائز: ص/73 ، أحمد: 296/3 ، الفتح الرباني: 159/7]
(ابن حزمؒ ) شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا۔
[المحلى بالآثار: 336/3]
(جمہور ، شافعیؒ ، مالکؒ) شہید کو کسی حال میں بھی غسل نہیں دیا جائے گا۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا بھی یہی موقف ہے۔
(احمدؒ ، ابو حنیفہؒ) شہید کو صرف حالت جنابت میں غسل دیا جائے گا۔
[المدونة الكبرى: 165/1 ، الكافى: 240/1 ، بداية المجتهد: 164/1 ، تفسير قرطبي: 270/4 ، قوانين الأحكام: ص/ 110 ، الأم: 267/1 ، شرح المهذب: 260/5 ، حلية الأولياء: 301/2 ، المغنى والشرح: 401/2 ، الإنصاف: 498/2 ، المبسوط: 49/2 ، تحفة الفقهاء: 258/1 ، بدائع الصنائع: 802/2]
جن حضرات کے نزدیک حالت جنابت میں شہید ہونے والے شخص کو غسل دینا ضروری ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ حالت جنابت میں شہید ہونے کی وجہ سے فرشتوں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو غسل دیا ۔
[صحيح: إرواء الغليل: 167/3 ، بيهقي: 15/4 ، ابن حبان: 84/9 ، الإحسان]
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں :
لذالك غسلته الملائكة
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنبی ہونے کی وجہ سے ہی فرشتوں نے انہیں غسل دیا ہے۔“
[أحكام الجنائز: ص/ 74 ، شيخ البانيؒ فرماتے هيں كه امام حاكمؒ نے اسے مسلم كي شرط پر صحیح كها هے اور امام ذهبيؒ نے اس كو ثابت كيا هے۔]
(راجح) شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا خواہ جنبی ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اگر انسانوں پر شہید کو غسل دینا فرض ہوتا تو محض فرشتوں کے غسل دینے سے یہ فرض ساقط نہ ہوتا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو حکم دیتے کہ وہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو غسل دیں لیکن ایسا کچھ منقول نہیں۔
(شوکانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔
[نيل الأوطار: 678/2]
(البانیؒ) اسی کو ترجیح دیتے ہیں ۔
[أحكام الجنائز: ص/75]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1