یوم عاشورا دس محرم یا نو
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تو لوگوں نے کہا یقینا یہود و نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں (اس لیے روزہ رکھتے ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آئندہ سال انشاء اللہ صمنا اليوم التاسع ”ہم نو محرم کا روزہ رکھیں گے ۔“ لیکن آئندہ سال (اس دن ) سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ۔
[مسلم: 1134 ، كتاب الصيام: باب أى يوم الصيام فى عاشورا ، أبو داود: 2445]
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع
”اگر میں آئندہ سال تک باقی رہا (یعنی زندہ رہا) تو ضرور نو محرم کا روزہ رکھوں گا۔“
[مسلم: 1134 أيضا ، ابن ماجة: 1736 ، عبد بن حميد: 671]
معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس محرم کا روزہ رکھتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو محرم کو یہ روزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا۔ لٰہذ الیوم عاشورا سے مراد دس محرم ہی ہوا۔
(جمہور) یوم عاشورا سے مراد دس محرم ہی ہے۔ حضرت سعید بن مسیّبؒ ، حضرت حسن بصریؒ ، امام مالکؒ ، امام احمدؒ ، امام اسحاقؒ اور دیگر بیشتر علما اسی کے قائل ہیں ۔
[نيل الأوطار: 224/3]
(ابن عباس رضی الله عنہما ) یوم عاشورا سے مراد نو محرم ہے۔
[مسلم: 1133]
ایک روایت میں ہے کہ :
صومو التاسع والعاشر وخالفو اليهود
”نو اور دس محرم کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ “
[بيهقي فى معرفة السنن والآثار: 8966 ، 350/6 ، الفتح الربانى: 189/1 ، طحاوي: 78/2 ، عبد الرزاق: 7839 ، شيخ احمد عبد الرحمن البناء نے اس موقوف روايت كي سند كو صحيح كها هے۔]
اس روایت کی وجہ سے امام شوکانیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص دس محرم کا روزہ رکھنا چاہتا ہے اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نو محرم کا بھی روزہ رکھ لے۔
[السيل الجرار: 148/2]
علاوہ ازیں جس روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم عاشورا کا روزہ رکھ کے یہود کی مخالفت کرو ۔
وصوموا قبله يوما أو بعده يوما
”اور اس سے پہلے ایک دن (یعنی نو محرم) یا اس کے بعد ایک دن (یعنی گیارہ محرم کا روزہ رکھو۔“ وہ ضعیف ہے۔
[أحمد: 241/1 ، ابن خزيمة: 2095 ، الكامل: 956/3 ، السنن الكبرى للبيهقي: 287/4 ، اس كي سند ميں ابن ابي ليلي اور داود بن على دونوں راوي ضعيف هيں ۔]
(راجح) زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ نو اور دس محرم دونوں کا روزہ رکھا جائے جیسا کہ گذشتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح موقوف روایت میں موجود ہے لیکن اگر کوئی صرف نو محرم کا روزہ رکھنا چاہے تو درست ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔
(ابن حجرؒ) بعض اہل علم کے بقول صحیح مسلم میں مروی حدیث ”کہ آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ ضرور رکھوں گا ۔“ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ یوم عاشورا کے روزے کے لیے دس کی بجائے نو کا روزہ مقرر کر دیا جائے اور دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس کے ساتھ نو کا روزہ بھی مقرر فرمانا چاہتے تھے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی صورت کو متعین کرنے سے پہلے وفات پا گئے ۔ لہذا احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھا جائے ۔
[فتح البارى: 773/4]