کیا خوراک کے بدلے قیمت بھی دی جاسکتی ہے
بہتر یہی ہے جو اجناس حدیث میں مذکور ہیں انہی سے ادائیگی کی جائے۔ اگر یہ نہ ہوں تو جو کچھ بھی بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے وہ صدقہ کے طور پر دیا جائے لیکن اگر کوئی کسی عذر کی وجہ سے قیمت دینا چاہے تو بعض علماء اسے بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ حدیث میں صدقہ فطر کا جو مقصد بیان ہوا ہے وہ مساکین کو کھلانا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ :
فرض رسول الله زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کی لغو بات اور مخش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا ہے۔“
[حسن: إرواء الغليل: 843 ، أبو داود: 1609 ، كتاب الزكلة: باب زكلة الفطر ، ابن ماجه: 1827 ، حاكم: 409/1 ، دار قطني: 138/2 ، بيهقي: 163/4 ، امام نوويؒ نے اسے حسن كها هے۔ المجموع: 126/6]
چونکہ مساکین کو کھلانا مقصود ہے اور وہ قیمت کی ادائیگی سے بھی ممکن ہے لٰہذا ایسا کرنا بھی جائز و درست معلوم ہوتا ہے نیز کسی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمت کی ادائیگی کی ممانعت بھی ثابت نہیں۔ تاہم فقہا ء نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے۔
(مالکؒ ، شافعیؒ ، احمدؒ) اجناس کے عوض قیمت دینا جائز نہیں۔
(ابو حنیفہؒ) قیمت دینا جائز ہے۔
[المغنى: 295/4 ، روضة الندية: 517/1]
(شوکانیؒ ) کسی عذر کی وجہ سے قیمت بھی دی جا سکتی ہے۔
[السيل الجرار: 86/2]
(ابن حزمؒ) قیمت کفایت نہیں کرتی ۔
[المخلى بالآثار: 259/4]
(ابن تیمیهؒ) صدقہ فطر روزمرہ کی خوراک سے ادا کیا جائے۔
[مجموع الفتاوى: 35/25 – 36]