مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز کے دوران نیت کی تبدیلی کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال

کیا نماز کے دوران نیت تبدیل کی جا سکتی ہے؟ مثلاً سنتوں کی نیت سے نماز شروع کی ہو اور تکبیر تحریمہ کے بعد وتر یا فرض کی نیت کر لی جائے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

نماز کے دوران نیت تبدیل کرنا جائز ہے۔ اگرچہ یہ معمولی یا شوقیہ عمل نہیں ہونا چاہیے، لیکن اگر کسی کو ضرورت پیش آئے یا وہ محسوس کرے کہ نیت تبدیل کر لینی چاہیے، تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔

دلیل:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ”
(صحیح البخاری: 709)

ترجمہ:
"میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ اسے طویل کروں، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بچے کے رونے سے اس کی ماں کے دل پر کیا اثر ہوتا ہے۔”

اس حدیث سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ نماز کے دوران نیت کو تبدیل کرنا ممکن ہے۔

علماء کا موقف:
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ اور دیگر علماء نے نیت کی تبدیلی پر سجدہ سہو کے بارے میں بات کی ہے، لیکن عمومی طور پر یہی سمجھ آتا ہے کہ نیت کو دورانِ نماز تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔