مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز کے دوران جلسے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسنون دعا

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1

سوال

حدیث میں مذکور دعا:

"اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِی”
اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت عطا فرما، اور مجھے رزق دے۔
(ابو داؤد، سنن الترمذی)

اس کی سند میں حبیب بن ابی ثابت کی تدلیس کی وجہ سے ضعف ہے، لیکن حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے۔ کیا یہ روایت صحیح ہے؟ اگر یہ صحیح نہیں تو رسول اللہ ﷺ دو سجدوں کے درمیان کون سی دعا پڑھتے تھے؟

جواب

رسول اللہ ﷺ دو سجدوں کے درمیان اکثر یہ دعا پڑھتے تھے:

"رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ”
اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے۔
(سنن ابو داؤد)

روایت کی صحت پر گفتگو

دعا کی روایت (اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ…) کی سند:

  • اس روایت کی سند میں حبیب بن ابی ثابت شامل ہیں، جن کے بارے میں تدلیس کا مسئلہ ہے، اس لیے سند کو ضعیف قرار دیا جاتا ہے۔
  • تاہم، حاکم اور ذہبی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

زیادہ مضبوط روایت

دو سجدوں کے درمیان نبی اکرم ﷺ کی دعاؤں میں زیادہ مستند اور مشہور دعا:
"رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ”

  • یہ دعا سند کے لحاظ سے مضبوط اور متعدد کتب حدیث میں موجود ہے۔

نتیجہ

اگرچہ دعا "اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ…” بعض کتب میں موجود ہے، لیکن سند کے ضعف کی بنا پر اس پر اعتماد کمزور ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے صحیح اور مستند دعا
"رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ”
مروی ہے، جو دو سجدوں کے درمیان پڑھی جاتی تھی۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔