نماز ادا کرنے کے لیے اذان دینا

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال: ایک آدمی گھر میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کے لیے اذان دینا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر نہیں دے گا تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟
جواب : نماز ادا کرنے کے لیے اذان دینا ضروری نہیں ہے، اگر بغیر اذان کے جماعت کروا لی جائے تو نماز ادا ہو جائے گی اور اگر اذان کہہ لیں تو اس کا جواز ہے جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں ہے :
”انس رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تو جماعت ہو چکی تھی تو انہوں نے اذان و اقامت کہی اور جماعت سے نماز ادا کی“۔ [صحيح بخاري، كتاب الأذان : باب فى فضل صلاة الجماعة ]
اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اذان واقامت کے بغیر جماعت کرانا بھی ثابت ہے، جیسا کہ طبرانی کبیر اور کتاب الآثار وغیرھما میں منقول ہے۔
کتاب و سنت میں کوئی ایسی دلیل ہمیں معلوم نہیں جس سے یہ لازم آتا ہو کہ جماعت کے لیے اذان کہنا فرض و واجب ہے، اس کے بغیر جماعت نہیں ہوتی۔ اذان تو صرف مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے اطلاع کا نام ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾

نماز ادا کرنے کے لیے اذان دینا