نبی کریم ﷺ کے آثار سے تبرک کا بیان
اصل مضمون غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کا تحریر کردہ ہے، اسے پڑھنے میں آسانی کے لیے عنوانات، اور اضافی ترتیب کے ساتھ بہتر بنایا گیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بالوں سے تبرک

روایتِ عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ: عثمان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ان کے اہل خانہ نے سیدہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ دے کر بھیجا، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال موجود تھے۔ جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی اور مشکل پیش آتی، تو وہ سیدہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی بھیجتے۔ سیدہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا ان مبارک بالوں کو پانی میں ہلا کر اس پانی کو بیمار کو پلاتیں، اور وہ شفا یاب ہو جاتا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب انہوں نے اس ڈبیا میں جھانکا تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرخ بال دکھائی دیے۔

(صحیح بخاری: 5896)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا بیان

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا، تو وہ اپنا برتن سیدہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال اس برتن میں ہلا کر پانی پلاتیں یا اس پانی سے غسل کرواتیں، اور اس تبرک سے اس شخص کو شفا حاصل ہوتی۔

(فتح الباری شرح صحیح بخاری: 353/10)

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی روایت

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبیدہ بن عمرو سلمانی رحمہ اللہ کو کہا کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال مبارک ہیں جو ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ یا ان کے گھر والوں سے ملے ہیں۔ عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: "اگر میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال بھی ہو، تو وہ مجھے دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوگا۔”

(صحیح بخاری: 170)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا تبصرہ

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے عبیدہ بن عمرو رحمہ اللہ کے اس قول کو کمال محبت کا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بال کو دنیا کے تمام سونے اور چاندی پر ترجیح دینا کمال محبت کی علامت ہے۔ اگر آج کے دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار، جیسے بال یا جوتے کا تسمہ، صحت سند کے ساتھ مل جائے، اور کوئی شخص اس کے حصول کے لیے کثیر رقم خرچ کرے، تو اسے فضول خرچ یا بیوقوف نہیں سمجھا جائے گا۔

(سیر اعلام النبلاء: 42/4)

تنبیہ 1: ثابت بنانی رحمہ اللہ کی روایت

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ثابت بنانی رحمہ اللہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بال مبارک دیا اور کہا: "یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بال ہے، اسے میری زبان کے نیچے رکھ دیں۔” ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے وہ بال سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبان کے نیچے رکھا اور انہیں اسی حالت میں دفن کیا گیا۔

(الإصابۃ لابن حجر: 127/1)

تبصرہ

یہ روایت مستند نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں "ہبیرہ عیشی” کی توثیق نہیں ہوئی اور صفوان سے نیچے کی سند غائب ہے، جس کی بنیاد پر اسے رد کیا گیا ہے۔

تنبیہ 2: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی کی روایت

جعفر بن عبداللہ بن حکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے دوران سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گم ہوگئی۔ جب ٹوپی ملی تو انہوں نے کہا کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تھے، جو انہوں نے عمرہ کے دوران حاصل کیے تھے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس بھی جنگ میں یہ ٹوپی میرے ساتھ رہی، مجھے کامیابی نصیب ہوئی۔

(المعجم الکبیر للطبرانی: 104/4)

تبصرہ

اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، جس کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے منقطع کہا ہے۔

تنبیہ 3: سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی وصیت

عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے وفات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال اور ناخن کفن میں رکھنے کی وصیت فرمائی۔

(الطبقات الکبری لابن سعد: 406/5)

تبصرہ

یہ روایت جھوٹی ہے، کیونکہ اس کے راوی محمد بن عمر الواقدی کو محدثین نے ضعیف اور متروک قرار دیا ہے۔

تنبیہ 4: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب روایت بھی ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راوی عصمہ بن عصام کی توثیق نہیں ملی۔

تبصرہ

آج کل بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب بالوں کی زیارت کرواتے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی مستند دلیل نہیں کہ یہ بال حقیقتاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اور تہبند سے تبرک

سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک تہبند اور چادر نکال کر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ان کپڑوں میں ہوئی تھی۔

(صحیح بخاری: 3108، صحیح مسلم: 2080)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جبہ مبارک سے تبرک

سیدہ اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسما رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ نکال کر فرمایا کہ ہم اسے بیماروں کے لیے دھو کر ان کا علاج کرتے تھے۔

(صحیح مسلم: 2069)

1. سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تبرک

سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن میں پانی پلانے کی پیشکش کی، جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کے بعد محفوظ کر لیا تھا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کیا میں آپ کو اس برتن میں پانی نہ پلاؤں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی نوش فرمایا تھا۔”

(صحیح بخاری: 7341)

2. مزید بیانِ روایت

سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے گھر چلنے کی دعوت دی تاکہ وہ انہیں اسی پیالہ میں پانی پلائیں، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا تھا۔

(صحیح بخاری: 7341)

3. سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابہ کے ہمراہ بیٹھے تھے اور انہوں نے پانی طلب کیا۔ میں نے پیالہ نکال کر سب کو پانی پلایا۔ بعد میں اسی پیالے سے ہم نے بھی پانی پیا۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس پیالے کو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے طلب کیا، اور انہوں نے اسے انہیں عنایت کر دیا۔

(صحیح بخاری: 5637، صحیح مسلم: 2007)

4. حجاج بن حسان بصری رحمہ اللہ کا بیان

تابعی حجاج بن حسان بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین ٹکڑے اور ایک چھلّا لگا ہوا تھا۔ یہ برتن ایک کالے غلاف میں تھا اور اس میں ہمارے لیے پانی ڈالا گیا۔ ہم نے وہ پانی نوش کیا، اپنے سر اور چہرے پر ڈالا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا۔

(مسند الإمام أحمد: 187/3، سند حسن)

1. سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کی چٹائی بچھا دیتی تھیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں قیلولہ فرماتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوجاتے، تو ام سلیم رضی اللہ عنہا آپ کا پسینہ اور مبارک بال جمع کرتیں اور اسے ایک شیشی میں محفوظ کر لیتیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی کہ ان کی کفن پر دی جانے والی خوشبو میں اسی پسینے والے سُک کو ملایا جائے، اور ایسا ہی کیا گیا۔

(صحیح بخاری: 6281)

2. امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی روایت

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا سُک مانگا، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں عنایت فرما دیا۔ ایوب سختیانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فوت ہوئے تو انہیں بھی یہی خوشبو لگائی گئی، کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ ان کی میت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے سے معطر کیا جائے۔

(الطبقات الکبری لابن سعد: 428/8، المعجم الکبیر للطبرانی: 19/25)

3. حُمید طویل تابعی رحمہ اللہ کی روایت

حمید طویل تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، تو ان کے کفن کو ایسی خوشبو لگائی گئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ شامل تھا۔

(المعجم الکبیر للطبرانی: 249/1، السنن الکبری للبیہقی: 406/3، سند حسن)

نبی کریم ﷺ کے نعلین اور چھڑی سے تبرک

1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین سے تبرک

عیسیٰ بن طہمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو جوتے دکھائے جن میں بالوں کے بغیر چمڑا تھا اور ان کے دو تسمے تھے۔ بعد میں ثابت بنانی رحمہ اللہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک تھے۔

(صحیح بخاری: 3107)

2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھڑی سے تبرک

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی چھڑی تھی۔ جب وہ فوت ہوئے، تو وہ چھڑی ان کے ساتھ ان کی قمیص اور پہلو کے درمیان دفن کر دی گئی۔

(مسند البزار، سند حسن)

نتیجہ:

اس مضمون میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک آثار، جیسے بال، پسینہ، پیالہ، نعلین، اور چھڑی وغیرہ سے تبرک حاصل کرنے کے مختلف واقعات اور روایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ صحابہ کرام، تابعین، اور تبع تابعین ان آثار کو نہایت عقیدت اور احترام سے محفوظ رکھتے اور ان سے برکت حاصل کرتے تھے، کیونکہ انہیں شفا اور روحانی فوائد کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔آج بھی اگر نبی ﷺ سے منسوب کوئی تبرک ہو جو نسل در نسل منتقل ہوا ہو اور اس کی آپ ﷺ سے اصل نسبت مستند ذرائع سے ثابت ہو، تو اس سے برکت حاصل کرنا جائز ہے۔ تاہم، بعض افراد جعلی تبرکات کو نبی ﷺ سے منسوب کر کے اس سے مشہوری اور مالی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ایک قابل مذمت اور گمراہ کن عمل ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1