میت کے بال سنوارنے اور کنگھی کرنے کا مسنون طریقہ
تحریر: عمران ایوب لاہوری

میت کے بالوں میں کنگھی کرنا بالخصوص عورت کے

ایسا کرنا بالخصوص اگر میت خاتون ہو تو اس کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنا کے پیچھے ڈال دینا مسنون ہے۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت میں یہ لفظ بھی ہیں:
فضفرنا شعرها ثلاثة قرون وألقيناها خلفها
”ہم نے اس کے سر کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا اور انہیں پشت پر ڈال دیا ۔“
[بخاري: 1263 ، كتاب الجنائز: باب يلقى شعر الميت خلفها]
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
مشطناها ثلاثة قرون
”ہم نے کنگھی کر کے ان کے بالوں کو تین مینڈھوں میں تقسیم کر دیا۔“
[بخاري: 1254 ، كتاب الجنائز: باب ما يستحب أن يغسل وترا]
(احناف ، اوزاعیؒ) عورت کے بال اس کی پشت پر اور اس کے چہرے پر ڈالے جائیں گے ۔
[الأم: 443/1 ، الحاوى: 28/3 ، الأصل: 390/1 ، بدائع الصنائع: 308/1 ، الإختيار: 93/1 ، حاشية الدسوقى: 410/1 ، المغني: 393/3 ، نيل الأوطار: 682/2]
(ابن قیمؒ) صحیح اور واضح سنت طریقہ یہ ہے کہ تین مینڈھیاں بنا کر میت کے پیچھے ڈالی جائیں ۔
[أعلام الموقعين: 400/2]
گذشته حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ لفظ بھی ہیں:
واجعلن فى الأخيرة كافورا
”آخر میں کافور ڈالو۔“
(جمہور) اس کا معنی یہ ہے کہ آخری مرتبہ پانی میں کافور (یا کوئی خوشبو وغیرہ ) ملا لینا۔
(احناف ، اوزاعیؒ ) اس کا مفہوم یہ ہے کہ غسل کے بعد جسم پر کافور ڈال دینا ۔
[المغنى: 378/3 ، الأم: 443/1 ، الحاوى: 11/3 ، بدائع الصنائع: 301/1 ، المبسوط: 60/2 ، الهداية: 90/1 ، الإختيار: 92/1]
(شوکانیؒ ) ظاہر یہی ہے کہ کافور کو پانی میں ملایا جائے گا۔
[نيل الأوطار: 681/2]
کافور لگانے میں یہ حکمت بتلائی گئی ہے کہ میت خوشبودار ہو جائے کیونکہ اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور بالخصوص کافور کا ہی اس لیے حکم دیا گیا ہے کیونکہ اس کی خاصیت ہے کہ جس چیز میں اسے استعمال کیا جاتا ہے وہ جلدی متغیر نہیں ہوتی اور اس کا فائدہ یہ بھی بتلایا جاتا ہے کہ اسے لگانے کے بعد کوئی بھی موذی جانورمیت کے قریب نہیں آتا ۔
[نيل الأوطار: 682/2 ، الروضة الندية: 408/1]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1