میت کو غسل دینے کی تعداد اور طریقہ
تحریر: عمران ایوب لاہوری

غسل تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ دیا جائے اور آخری مرتبہ کافور بھی استعمال کیا جائے

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اغسلها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر واجعلن فى الأخيرة كافورا
”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو ، اگر تم ضرورت محسوس کرو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ دو اور آخر میں کافور ڈالو ۔“
[بخاري: 1253 ، كتاب الجنائز: باب غسل الميت وضوءه بماء وسدر ، مسلم: 939 ، أبو داود: 3142 ، ترمذي: 990 ، نسائي: 31/4 ، ابن ماجة: 1458 ، أحمد: 84/5]
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: ثلاثا أو خمسا أو سبعا ”تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دو ۔“ اور اس میں یہ لفظ بھی ہیں کہ اغسلنها و ترا ”اور اسے طاق عدد میں غسل دو۔“
[بخاري: 1254]
سنن ابی داود کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ :
أو سبعا أو أكثر من ذلك إن رأيته
”یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبه غسل دو اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو ۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 2698 ، أبو داود: 3146]
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ میت کو کم از کم تین مرتبہ ضرور غسل دینا چاہیے اور بوقت ضرورت پانچ سات یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ طلاق عدد کا لحاظ رکھتے ہوئے غسل دیا جا سکتا ہے۔ بیری کے پتے استعمال کرنے کا حکم محض نظافت و صفائی کی غرض سے ہے اگر اس کے قائم مقام کوئی چیز مثلاً صابن وغیرہ استعمال کر لیا جائے تو وہ بھی درست ہے۔
(البانیؒ) یہی موقف رکھتے ہیں۔
[أحكام الجنائز: ص/ 64]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1