میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دینے کے زیادہ مستحق ہیں
➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:
لومت قبلي لغسلتك
”اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گئی تو میں تمہیں غسل دوں گا ۔ “
[حسن: صحيح ابن ماجة: 1197 ، إرواء الغليل: 700 ، أحكام الجنائز: ص/ 67 ، أحمد: 228/6 ، ابن ماجة كتاب ما جاء فى الجنائز: باب ما جاء فى غسل الرجل امرأته ، دارمي: 37/1 ، بيهقي: 396/3 ، دارقطني: 74/2]
➋ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :
لو استقبلت من أمري ما استدبرت ما غسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا نسائه
”اگر مجھے اپنے اس معاملے کا پہلے علم ہو جاتا کہ جس کا مجھے تاخیر سے علم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہی غسل دیتیں ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1196 ، أبو داود: 3141 ، كتاب الجنائز: باب فى مستر الميت عند غسله ، ابن ماجة: 1464 ، حافظ ابن حجرؒ نے اسے صحيح كها هے۔ تلخيص الحبير: 472/3 ، حافظ بوصيريؒ نے بهي اسے صحیح كها هے۔ مصباح الزجاجة: 474/1]
➌ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ غسل دیں ۔
[دار قطني: 79/2 ، شيخ محمد صجی حلاق نے اسے حسن كها هے۔ التعليق على سيل السلام: 335/3]
➍ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا ۔
[دارقطني: 79/2 ، ترتيب المسند للشافعي: 206/1 ، الحلية لأبي نعيم: 43/2 ، بيهقي: 396/3 ، شيخ محمد صبحي حلاق نے اسے حسن كها هے۔ التعليق على السيل الجرار: 685/1]
➎ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو غسل دیا ۔
[بيهقى: 397/3 ، امام بهقيؒ نے اسے ضعيف كها هے۔ التعليق على السيل الجرار للحلاق: 685/1 ، شيخ البانيؒ فرماتے هيں كه امام بیهقي نے اسے ضعيف كها هے ليكن اس كے شواهد بهي ذكر كيے هيں۔ والله اعلم التعليقات الرضية على الروضة الندية: 430/1]
(شوکانیؒ ) تمام صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا (کے اس عمل) پر کوئی انکار نہیں کیا تو یا اجماع (کی مانند ) ہے۔
[نيل الأوطار: 676/2]
(جمہور ) اسی کے قائل ہیں۔
(ابو حنیفہؒ) مرد اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا ، حتٰی کہ اگر خاوند کے سوا غسل دینے کے لیے کوئی اور نہ ہو تو پھر بھی اسے غسل نہ دے بلکہ تیمّم کر دے تا ہم بیوی اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے۔
[المغنى: 461/3 ، الحاوى: 461/3 ، الأم: 472/1 ، بدائع الصنائع: 304/1 ، المبسوط: 71/2 ، حاشية الدسوقى: 408/1 ، نيل الأوطار: 676/2]
(راجح) بلاشبہ گذشتہ صیح احادیث جمہور کے موقف (یعنی میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں) کو تربیچ دیتی ہیں۔
(شوکانیؒ ) اسی کے قائل ہیں۔
(صدیق حسن خانؒ ) اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔
(ابن حزمؒ ) یہی موقف رکھتے ہیں۔
(امیر صنعانیؒ) اسی کو برحق گردانتے ہیں۔
(البانیؒ) اسی کے قائل ہیں ۔
[السيل الجرار: 344/1 ، نيل الأوطار: 677/2 ، الروضة الندية: 407/1 ، المحلى بالآثار: 405/3 ، سبل السلام: 742/2 ، أحكام الجنائز: ص/ 67]