مصیبتوں پر صبر کی فضیلت اور حدیث کی درجہ بندی

سوال

"العلماء” کے پلیٹ فارم سے صبر پر ایک حدیث نشر کی گئی:

"يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ الْبَلَاءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالْمَقَارِيضِ”

"روزِ قیامت جب مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جزا دی جائے گی تو عافیت میں رہنے والے تمنا کریں گے، کاش! دنیا میں ہماری کھالیں قینچیوں سے ادھیڑ دی جاتیں”

[سنن الترمذي: 2402]

ایک بھائی نے اس حدیث کے بارے میں شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحقیق ارسال کی، جس میں انہوں نے کہا:

"إسناده ضعيف، سليمان الأعمش وأبو الزبير عنعنا، وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني وغيره”
(الترمذی: 2402، تقدما: 169، 10، المعجم الكبير للطبراني: 12829، 12/182)

جواب از فضیلۃ العالم خضر حیات حفظہ اللہ

یہ حدیث سنن الترمذی (حدیث: 2402) میں مروی ہے۔ اگرچہ بعض محدثین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے، جیسا کہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے کیا، لیکن اس کے باوجود:

➊ حدیث کے معانی کی تائید دیگر احادیث سے ہوتی ہے:
یہ مفہوم دیگر احادیث سے بھی ثابت ہے کہ قیامت کے دن مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو بڑا اجر دیا جائے گا، اور عافیت میں رہنے والے اس پر حسرت کریں گے۔

➋ شیخ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق:
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی مختلف طرق اور شواہد کو جمع کیا ہے۔
اپنی کتاب "السلسلة الصحيحة” (حديث: 2206) میں اسے "حسن لغیرہ” قرار دیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ ہر روایت انفرادی طور پر ضعیف ہو، مگر متعدد ضعیف روایات کے مجموعے سے مفہوم تقویت پا کر "حسن لغیرہ” کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔

➌ دیگر اہل علم کا موقف:
متعدد معاصر اہل علم نے بھی اس حدیث کے سلسلے میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے حکم پر اعتماد کیا ہے۔
بالخصوص اس لیے بھی کہ یہ معنی کئی دیگر احادیث میں بھی بیان ہوا ہے۔

خلاصہ

حدیث "يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ…” کی بعض اسناد ضعیف ہیں جیسا کہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بیان کیا۔
لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ اور دیگر اہل علم نے اس حدیث کے مجموعی شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے اسے "حسن لغیرہ” قرار دیا ہے۔
اس لیے اس حدیث کو فضائل اور ترغیب کے باب میں بیان کرنا جائز ہے۔
واللہ اعلم

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1