مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مجرم کی مدد یا پردہ پوشی کے احکام

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

مجرم کو عدالت سے چھپا کر رکھنے یا اس کی بھاگنے یا چھپنے میں مدد کرنا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ» [المائدة: 2]
’’اور نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“
لہٰذا کسی کے لیے گناہ گار یا چیرہ دست کی اس کے گناہ یا اس کی چیرہ دستی اور زیادتی میں مدد کرنا جائز نہیں، خواہ وہ جو کوئی بھی ہو۔ اس ظالم، چیرہ دست اور مجرم کی بھاگنے یا اس کو چھپانے میں مدد کرنا جائز نہیں، مگر یہ کہ اس میں کوئی مصلحت ہو، مثلاًً اس مجرم سے پہلے ایسا کوئی کام سرزد نہ ہوا ہو یا بظاہر وہ اچھا آدمی ہو تو ایسی حالت میں ہم یہاں کہہ سکتے ہیں کہ ایسی صورت میں اس کی پردہ پوشی کرنا مستحب ہے۔ جب ہمیں یقین ہو کہ وہ اچھا ہو جائے گا یا غالب گمان ہو کہ وہ سیدھی راہ پر چل پڑے گا اور توبہ کرے گا، لیکن جو فساد اور بگاڑ میں مشہور ہو اور اس میں اچھائی کا گمان نہ کیا جاسکے تو ایسے شخص کی پردہ پوشی کرنا جائز نہیں اور یہ عمل اس فرمان مصطفی کے متعارض نہیں کہ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2442 صحيح مسلم 12699/38]
اس سے مراد وہ ہے جس کی پردہ پوشی میں کوئی مصلحت ہو لیکن جس کی پردہ پوشی اس کو برائی میں شیر کر دے اور چیرہ دستی میں مزید سرکش کر دے تو ایسی حالت میں اس پر پردہ ڈالنا جائز نہیں۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 10]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔