فحاشی کو پھیلانے والوں کی مذمت قرآن، حدیث اور اجماع صحابہ کی روشنی میں
تحریر: قاری اسامہ بن عبدالسلام

فحاشی کو پھیلانے، اس میں مبتلا ہونے اور اس پر مذمت نہ کرنے والوں کی سخت مذمت – قرآن، حدیث اور اجماع صحابہ کی روشنی میں

➊ فحاشی کو پھیلانے والوں کی مذمت – قرآن کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دینے والوں کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے:

وَالَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلْفَـٰحِشَةُ فِى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ: "جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔”
(سورۃ النور: 19)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو لوگ فحاشی کو عام کرتے ہیں، اس کا پرچار کرتے ہیں یا اس کی ترویج میں مدد دیتے ہیں، ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی دردناک عذاب۔

➋ زنا اور بے حیائی کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے

اللہ تعالیٰ نے فحاشی کی تمام اقسام سے دور رہنے کا حکم دیا ہے:

وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلزِّنَىٰٓ إِنَّهُۥ كَانَ فَـٰحِشَةًۭ وَسَآءَ سَبِيلًۭا
ترجمہ: "اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت بُرا راستہ ہے۔”
(سورۃ الإسراء: 32)

یہاں "قریب نہ جاؤ” کہہ کر ہر اُس چیز سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو فحاشی اور زنا کی طرف لے جائے، جیسے فحش مواد، غلط صحبت، اور بے پردگی۔

➌ فحاشی میں مبتلا ہونے والوں کے لیے شدید وعید – حدیث کی روشنی میں

نبی کریمﷺ نے فحاشی میں مبتلا لوگوں کے انجام کے بارے میں سخت احادیث ارشاد فرمائیں:

➊ فحاشی کرنے والے کو اللہ سخت ناپسند فرماتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ”
"بے شک اللہ فحش گو اور بے حیا لوگوں کو ناپسند کرتا ہے۔”
(ترمذی: 2002)

➋ بدکاروں کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائے گا
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"وَالزُّنَاةُ فِي تَّنُّورٍ أَوْقَدَ عَلَيْهِمْ النَّارُ”
"زنا کاروں کو ایک تنور (بھٹی) میں رکھا جائے گا، جہاں ان پر آگ بھڑکائی جائے گی۔”
(بخاری: 7047)

یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فحاشی اور زنا کرنے والوں کے لیے آخرت میں سخت عذاب ہوگا۔

➍ فحاشی پر خاموش رہنے والوں کی مذمت

جو لوگ فحاشی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، وہ بھی گناہ میں شریک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ”
ترجمہ: "جو کوئی تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر یہ نہ کر سکے تو زبان سے روکے، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔”
(مسلم: 49)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص فحاشی کو دیکھ کر خاموش رہتا ہے اور اس کے خلاف کچھ نہیں کرتا، تو وہ ایمان کے کمزور درجے پر ہے۔

➎ اجماع صحابہ – فحاشی کے خلاف سخت موقف

صحابہ کرامؓ نے ہمیشہ فحاشی، بے حیائی اور زنا کے خلاف سخت موقف اپنایا:

➊ حضرت عمرؓ نے فحاشی پھیلانے والوں کو سخت سزائیں دیں
جب حضرت عمرؓ کے دور میں کوئی بے حیائی پھیلانے کی کوشش کرتا تو آپؓ اسے سخت سزائیں دیتے، تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور اسلامی معاشرہ پاکیزہ رہے۔

➋ حضرت علیؓ کا زانیوں کے بارے میں سخت فیصلہ
حضرت علیؓ نے فرمایا: "اگر میں کسی کو زنا کرتا ہوا پاؤں تو اسے سخت سزا دوں گا، تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔”

نتیجہ

فحاشی کو فروغ دینے والا دنیا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہے۔
جو لوگ فحاشی میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ اللہ کی ناراضگی اور سخت عذاب کا سامنا کریں گے۔
جو لوگ اس برائی کے خلاف نہیں بولتے، وہ بھی اس گناہ میں شریک ہیں۔
اسلامی تاریخ میں صحابہ کرامؓ نے ہمیشہ فحاشی کے خلاف سخت اقدامات کیے۔
ہم سب پر لازم ہے کہ فحاشی کے خلاف آواز اٹھائیں، اپنے گھروں اور معاشرے کو اس فتنے سے بچائیں، اور دوسروں کو بھی اس سے روکیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1